M🗽 retweeted
9 مئی کی تیاریاں پورے زور و شور پر!
بندوقیں ہاتھ میں لیکر گھومنے والے یہ منشیات فروش اور سمگلروں کے گماشتے جیسے ہی کسی فوجی پوسٹ سے گزریں گے۔ وہاں فائرنگ کریں گے
پھر جوابی فائرنگ کے بعد گولی کیوں چلائی والا ڈرامہ شروع ہوجائے گا۔
یہ دیکھ لیں، ثبوت سب کے سامنے ہیں
M🗽 retweeted
Technoligiya
Great idea of exercise while scratching an itch. #CountryLife #RuralVibes #LifeHacks #Trending
M🗽 retweeted
What about mental health of imaginator ? nitter.gq/Shaista235678/status/2…
M🗽 retweeted
پشاور کی خاتون شہری شفق عامر نے کپڑوں کے مشہور برینڈ 'کھاڈی' سے سات ہزار روپے کے کپڑے خریدے۔ جب وہ بل ادا کرنے لگیں تو دیکھا کہ بل میں تیس روپے شاپنگ بیگ کے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ شفق نے کہا کہ اس بیگ پر آپ کے برانڈ کا لوگو و نام لکھا ہوا ہے، جس سے مشہوری آپ کے برانڈ کی ہوگی، اسکی قیمت میں کیوں ادا کروں؟ بتایا گیا کہ کمپنی کی پالیسی یہی ہے۔ یہ 20 دسمبر 25ء کی بات ہے۔
شفق نے اس پر 'کھاڈی' کو لیگل نوٹس بھجوا دیا، جسکا جواب تو دیا گیا لیکن کمپنی اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ شفق نے بالآخر کھاڈی کے خلاف پشاور کی کنزیومر کورٹ میں شاپر کے 30 روپوں کی واپسی کے علاوہ خطیر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا۔
جواب میں کھاڈی نے موقف اختیار کیا کہ قانون کہیں نہیں کہتا کہ شاپر فری دیا جائے۔ انکا شاپنگ بیگ ماحول دوست مٹیریل سے تیار کیا جاتا ہے، جس پر خاصی لاگت آتی ہے، یوں وہ اس کی قیمت وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ کپڑوں کے دیگر عالمی برینڈز بھی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ یہ بیگ تشہیر کی غرض سے نہیں بلکہ اس پر اسے دوبارہ استعمال کرنے کا پیغام لکھا ہوا ہے۔ خاتون کو ایک مفت پلاسٹک کا شاپر پیش کیا گیا تھا، مگر انہوں نے خود کاغذی بیگ کا مطالبہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اسکی قیمت ادا کرنی ہوگی، جس پر انہوں نے اپنی مرضی سے اسے خریدا۔ لہٰذا 30 روپے کی رسید پر اتنا خطیر ہرجانے کا دعویٰ محض انہیں ہراساں کرنا ہے۔
کنزیومر کورٹ کے جج نصراللہ خان گنڈاپور نے کل 16 ستمبر 2026ء کو کیس کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کھاڈی نے سات ہزار کے کپڑوں کی فروخت اور بیگ کے عوض 30 روپے اضافی وصول کرنے کا خود اعتراف کیا جو رسید سے بھی ثابت ہے۔ عام طور پر کوئی بھی کسٹمر جب کسی دکان سے خریداری کرتا ہے، تو وہ جائز طور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ خریدا گیا سامان اسے بغیر کسی اضافی قیمت کے کسی بیگ میں رکھ کر دیا جائے گا۔ بصورتِ دیگر دکاندار کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاہک کو ایک عام (بغیر برانڈ لوگو والا) شاپر مفت فراہم کرے۔
کھاڈی ایک مشہور برانڈ ہے اور جو بیگ انہوں نے 30 روپے میں فروخت کیا، اس پر انکے برینڈ کا نمایاں لوگو موجود تھا۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ برینڈ اپنے نام کی تشہیر کے لیے جو بیگ استعمال کر رہا ہے، اسکی قیمت بھی وہ خود اپنے صارفین کی جیب سے وصول کر رہا ہے۔ کھاڈی نے نہ صرف اضافی رقم لی بلکہ اس بیگ کو اپنی تجارتی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا۔ یہ عمل قانون کی نظر میں سراسر غلط ہے اور تحفظِ صارفین قانون کے تحت واضح طور پر ایک "غیر منصفانہ تجارتی عمل" ہے۔
شاپنگ بیگ کی مد میں ناجائز لیے گئے 30 روپے کے علاوہ سائلہ کو ذہنی اذیت اور مقدمہ بازی کی زحمت کے ازالے کے لیے 25 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کیے جائیں۔ اس غیر منصفانہ تجارتی عمل پر مزید 25 ہزار روپے بطور جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کروائے جائیں۔
عدالت نے ان احکامات کے ساتھ شفق عامر کی کمپلینٹ منظور کر لی۔
M🗽 retweeted
لاہور میں ہر طرف خوشی جشن عید کا سماں۔۔۔۔
#BasantWithCMMaryam
#PunjabRevivesBasant
#BasantReturnsInPunjab
M🗽 retweeted
Jummah Mubarak and Good Morning 🌙✨
May Allah grant you peace, endless barakah, and fulfill every prayer in your heart. 🤲✨
#JummahMubarak #BlessedFriday
M🗽 retweeted
یوتھیالوجی
عمران خان کی ٹک ٹاکرز کو ماہانہ پچیس ہزار دینے کی پالیسی درست تھی لیکن مریم نواز کی علماء کو ماہانہ پچیس ہزار دینے کی پالیسی غلط ہے؟
M🗽 retweeted
Your afternoon is what you make of it. Choose to make it inspiring, productive, and positive.
Good Afternoon friends 🌞
پچھوا ڑے پر لگایا جانے والا 💉 انجکشن بازو پر کیوں نہیں لگ سکتا؟میں نے یہ نوٹ کیا ہے کہ مرد ڈاکٹر عورتوں کے ذیادہ پچھواڑے پر ہی لگاتے ہیں اور مردوں کے بازو پر۔ ایسا کیوں؟
مجھے تو لگتا یے کہ مردصرف ٹھرک جھاڑنے کے لیے عورتوں کے پیچھے لگاتے ہیں۔
آپ لوگ اس بات کو کیسے دیکھتے ہیں؟؟









