وڈھ اور کچھی میں مقامی افراد کی جانب سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ بی ایل اے کی کارندے عوامی املاک کو نقصان پہنچارہے ہیں
گزشتہ دنوں ایک عوامی سہولت کے لئے تعمیر کیے گئے پُل کو بھی تباہ کیا تھا
سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بی ایل اے کے کارندوں کے خفیہ ٹھکانوں کا پتہ لگایا اور کارروائی کرکے مجموعی طور پر 9 کارندوں کو ہلاک کردیا،خفیہ ٹھکانے تباہ کردیے۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ڈھابے پر کام کرنے والے یتیم بچے منیر احمد سمیت پانچ بہن بھائیوں اور ان کی والدہ کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا لی۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ نے منیر احمد سے ملاقات کی اور پانچوں بہن بھائیوں کے تعلیمی اداروں میں داخلے اور رہائش کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے ذاتی خرچ پر بچوں کے لیے موسم سرما کے کپڑوں کی خریداری بھی کروائی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
#balochistan
نوشکی میں بی ایل اے کی جانب سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پر حملہ کیا گیا ہے،طالبات کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی،طالبات کی مزاحمت پر بی ایل اے کے بزدل کارندے 3 طالبات کو زخمی کرکے فرار ہوگئے۔
عینی شاہدین کے مطابق بی ایل اے کے کارندے طالبات کو تعلیم سے دوری اختیار کرنے اور پہاڑوں پر جانے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے۔
بلوچستان اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے کی قرار داد پیش کی تو پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن سمیت کسی جماعت کو تکلیف نہیں ہوئی لیکن جمیعت علمائےاسلام کے ارکان کو بڑی تکلیف ہوئی،مجھے ان کی حالت پر بہت رحم آیا،مولانا ہدایت الرحمان
یہ وہی پہاڑ ہیں جہاں آنے کا چیلنج ماہرنگ بلوچ دیا کرتی تھی،فورسز کو للکارا جاتا تھا کہ اِن پہاڑوں تک رسائی نہیں،نہ ہی آسکتے ہیں۔آج وہاں فورسز کے جوان تو موجود ہیں لیکن ماہرنگ کے ساتھی بشیر زیب اور اللہ نذر کہیں نظر نہیں آرہے
بلوچستان میں کہیں بھی دہشتگردوں کی نقل و حرکت محفوظ نہیں ہے،ہر جگہ وہ نگرانی میں آجاتے ہیں اور پھر جب کارروائی ہوتی ہے تو فرار کی کوشش کرتے ہیں جو ناکام ہوجاتی ہے اور مارے جاتے ہیں۔
گوادر کے عوام نے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے سوشل میڈیا مواد سازی کی منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنادیا ہے۔
معمول سے ہٹ کر عوام باہر نکلے ہیں،معمولات زندگی رواں دواں ہیں،کہیں دہشتگردوں کا ڈر نظر نہیں آرہا۔
تربت سے تعلق رکھنے والی اس خاتون نے پریس کانفرنس کرکے بتایا ہے کہ اُس کا بھائی تعلیم کے حصول کے لئے گھر سے گیا تھا لیکن بعد میں لاپتہ ہوگیا،پھر پتہ چلا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں شامل ہوچکا ہے۔
بی ایل اے ایسے ہی بلوچ نوجوانوں کو نشے پر لگاکر گمراہ کرکے بلوچ شناخت کو داغدار کررہی ہے،اُن کی نسل کو تباہی کے دہانے پر لیکر جارہی ہے،لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ بلوچ عوام اس کے خلاف اب باقاعدہ کھڑے ہوچکے ہیں۔
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟تینوں ریاستوں نے بغیر کسی ملٹری ایکشن کے الحاق نامے پر دستخط کیے،کسی قسم کی دھمکی بھی نہیں دی گئی،خان آف قلات تو اپنی سوانح حیات میں لکھ کر گئے ہیں کہ وہ قائداعظم کو سونے میں توُلتے تھے،معروف تاریخ دان حسن جعفری کی زبانی
بی ایل اے کے کارندے جہاں بھی چھپے ہوتے ہیں سیکیورٹی فورسز کے پاس ایسی ٹیکنالوجی اور وسائل ہیں کہ انہیں تلاش کرلیتے ہیں،مستونگ میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا جہاں بی ایل اے کا خفیہ ٹھکانہ تباہ کردیا گیا اور 3 کارندوں کو ہلاک کردیا گیا
آپ پنجگور کے اس بچے کی گفتگو سنیں آپ کی روح کانپ اٹھے گی۔
نابالغ بچوں کو ٹک ٹاک سے بی ایل اے نے ورغلایا،اپنے پاس پہاڑوں پر لیکر گئے،جنسی استحصال کیا گیا،بلیک میل کیا گیا،خود کش،چوری ڈکیتی پر مجبور کیا گیا۔
یہ ہے بی ایل اے کا اصل چہرہ جو بلوچ حقوق کے نام پر بلوچ شناخت اور نسل کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔
بلیدہ کا سلمان نشے کا عادی تھا،بی ایل اے ایسے شکار تلاش کرتی ہے،سلمان کو بھی بی ایل اے نے شارٹ لسٹ کیا اور آہستہ آہستہ اپنے چُنگل میں پھنسایا،نشے کا مزید عادی بنایا اور اب پہاڑوں پر لے گئے ہیں۔
جیسے ہی کسی بلوچ نوجوان کو گمراہ کرکے پہاڑوں پر لیکر جاتے ہیں دوسری جانب بی وائے سی جیسے پلیٹ فارمز سے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کرکے پروپیگنڈہ شروع کردیا جاتا ہے۔
لیکن آج تربت پریس کلب میں سلمان کے والد نے بتایا ہے کہ اُس کے بیٹے کو بلوچ شناخت کے دشمن گمراہ کرکے پہاڑوں پر لے گئے ہیں،میرا اب اُس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
گوادر میں بی ایل ایف کے حملوں کو ناکام بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا،10 دہشتگرد ہلاک۔
کل رات گوادر میں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی کوشش کی گئی
عوامی مقامات،املاک کو نقصان پہنچایا گیا،آگ لگائی گئی،گاڑیاں جلائی گئیں،ایک مقامی بلوچ شہری کو بھی شہید کردیا۔
سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ایک خاتون خودکش حملہ آور جو دھماکہ کرنے میں ناکام رہی اُس سمیت 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،تاہم سیکیورٹی فورسز کا کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
مقامی بلوچ عمائدین نے کہا ہے کہ حملے میں بی ایل ایف کی جانب سے بلوچ خاتون کو زبردستی استعمال کرنا بلوچ خواتین کی حرمت پر حملہ اور اُن کا کھلم کھلا استحصال ہے۔
🚨گوادر سمیت بلوچستان کے مختلف حصوں سے والدین نے اپنی بچیوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹس درج کرائی تھیں،کل گوادر حملے میں بی ایل ایف نے خود سامنے آنے کی بجائے خواتین کو سامنے کیا،ویڈیوز میں ایک دو لڑکیوں کو بندوق کیساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ وہی لڑکیاں ہیں جن کے والدین نے رپورٹس درج کرائی تھیں کہ ان کی بیٹیاں ذہنی تناؤ کا شکار تھیں،الجھن کا شکار تھیں،انہیں کسی قسم کی بلیک میلنگ کا سامنا تھا یا پھر وہ کسی پروپیگنڈے کا شکار ہوچکی تھیں۔
بی وائی سی کے زیادہ تر اجتماع گوادر میں ہوتے تھے،کوئٹہ چھوڑ کر گوادر میں دھرنے دیے جاتے تھے،آج اُن دھرنوں کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بلوچ بچیاں استحصال سہہ کر بندوق پکڑ کر بی ایل ایف جیسے گروہ کی معاونت کررہی ہیں
گوادر میں بی ایل ایف کے حملے کو ناکام بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن میں مزید 7 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔
بی ایل ایف نے کل گوادر میں دو چار حملہ آور بھجوائے،جنہیں سیکیورٹی فورسز نے موقع پر ہلاک کردیا،جبکہ دوسری جانب افغانستان میں کسی نامعلوم مقام پرپروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے لئے مواد سازی کی گئی۔
کسی خالی کمپاؤنڈ میں ویڈیو شوٹنگ کی گئی،یہ کیسا مقابلہ چل رہا ہے جس میں دوسری جانب سے فائرنگ ہی نہیں ہورہی؟کوئی جوابی فائرنگ ہی نہیں کررہا؟
اپڈیٹ
دہشتگردوں نے کُل 4 مقامات پر حملہ کیا جسے ناکام بنادیا گیا،حملے میں بارود سے بھری گاڑی بھی استعمال کی گئی لیکن دہشتگرد کسی ایک بھی ٹارگٹ پر کامیاب نہ ہوسکے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین سے زائد دہشتگرد مارے گئے۔
البتہ بلوچ مزدوروں اور ٹرک ڈرائیوروں کا نقصان ضرور کرکے فرار ہوئے ہیں دو مزدوروں اور ایک ٹرک ڈرائیور کو شہید کرگئے ہیں اور ان کے ٹرک جلادیے
آج جیوانی میں بی ایل ایف کے کارندوں نے بلوچ املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جسے ناکام بنادیا گیا ہے،بی ایل ایف کے تین کارندے ہلاک کردیے گئے ہیں
یہ کنٹینر بلوچ عوام کی روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی ترسیل کرتے ہیں،بی ایل اے کے کارندے گن پوائنٹ پر اِن کنٹینرز کو روک کر لوٹ مار کررہے ہیں








