Pinned Tweet
قالَ النبی ﷺ:
تم میں سے جو شخص بھی منکَر (برائی) دیکھے تو:
(1) وہ بدل دے اُسے اپنے ہاتھ سے،
(2) اگر اتنی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے (اُسے بدل دے)،
(3) اگر اِس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل سے (اُسے بدلنے کی تدبیر، منصوبہ بندی، عزم کرے)، اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے.
مسلم 177
السلام علیکم،
واٹس ایپ پر قرآنی آیات کا مطالعہ کرنے کے لئے ہمارا WhatsApp چینل سبسکرائب کریں، اور قرآنی آیات اپنے حلقوں میں بھی شیئر کریں. جزاکم الله خیرا
whatsapp.com/channel/0029Vb2…
قالَ النبی ﷺ:
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں:
(1) سلام کا جواب دینا،
(2) مریض کی عیادت کرنا،
(3) جنازے کے ساتھ چلنا،
(4) دعوت قبول کرنا،
(5) چھینک پر (اَلحمدُلله کے جواب میں) يَرحمُکَ الله کہنا.
بخاری 1240
(مسلم 5650؛ ابوداؤد 5030؛ ماجہ 1435؛ احمد 8378، 10979؛ مشکوٰۃ 1524)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ:
"ظالم سلطان (بادشاہ) یا ظالم امیر (حاکم) کے سامنے عدل و انصاف کی بات (حق کی بات) کہہ دی جائے."
ابوداؤد 4344
(ترمذی 2174؛ ماجہ 4011؛ نسائی 4214؛ مسند احمد 19033، 19035؛ مشکوٰۃ 3705)
حضرت سہل ؓ سے روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے."
اور آپ ﷺ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں کے بیچ تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی.
بخاری 5304، 6005
(مسلم 7469؛ ترمذی 1918؛ ابوداؤد 5150؛ مشکوٰۃ 4952)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اے الله! میں دو کمزوروں کی حق تلفی کرنا سختی سے ممنوع قرار دیتا ہوں:
(1) یتیم، اور
(2) عورت.
ماجہ 3678
(مسند احمد 9664؛ حاكم 211؛ السلسلة الصحيحة 1938)
رسول الله ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا، اور انہوں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ:
1) بیشک مسلمان کے سوا جنت میں کوئی اور داخل نہیں ہوگا، اور
2) بیشک الله اپنے دین کی خدمت و مدد کسی فاجر (گنہگار) شخص سے بھی کرا لیتا ہے.
بخاری 3062، 6606
(مسلم 305؛ مشکوٰۃ 5892)
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، کہا: آپ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہوکر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا:
1) اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے، سونا اُس کے لائق نہیں،
2) میزان کو اوپر اٹھاتا اور نیچے کرتا ہے،
4) دن کا عمل رات کو، اور
4) رات کاعمل دن کو اُس کے حضور پیش کیا جاتا ہے.
مسلم 447
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جس نے کہا:
رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ،
وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ،
وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا
تو جنت اُس کے لئے واجب ہو گئی.
(ترجمہ: میں الله کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوں).
ابوداؤد 1529
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اے ابوسعید! جو شخص:
1) الله کے رب ہونے،
2) اسلام کے دین ہونے، اور
3) محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوگیا،
اُس کے لئے جنت واجب ہوگئی.
مسلم 4879
(نسائی 3133؛ مشکوٰۃ 3851)
جناب نافع ؒ فرماتے ہیں:
ایک دن حضرت ابنِ عمرؓ نے بیت اللہ، یعنی کعبہ، کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے کعبہ! تم کتنی زیادہ عظمت والے ہو، اور تمہاری حرمت کتنی عظمت والی ہے، لیکن اللہ کے نزدیک ایک مؤمن کی حرمت تم سے بھی زیادہ عظمت والی ہے.
ترمذی 2032
(ماجہ 3932؛ حبان 5763)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
بیشک الله نے مجھے حکم دیا ہے، الله نے مجھ پر وحی فرمائی ہے کہ تم سب تواضع اور انکساری اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرے.
مسلم 7210
(ابوداؤد 4895؛ ماجہ 4179؛ مشکوٰۃ 4898)
تواضع اور انکساری = Being humble
قالَ النبی ﷺ:
1) راتوں میں سے صرف شبِ جمعہ کو قیام کے لئے خاص نہ کرو،
2) اور نہ دنوں میں سے صرف جمعہ کے دن کو روزہ کےلئے خاص کرو، سوائے اس کے کہ جمعہ کا دن تم میں سے کسی کے (معمول کے) روزے رکھنے کے دنوں میں آجائے.
مسلم 2684
(احمد 28057؛ حاكم 1172؛ حبان 3612، 3613؛ مشکوٰۃ 2052)







