
PUNJABI, RAJPUT ⚔️ , #WarisPunjabDeتیرا وَسےکعبہ سوھنیا میرا وَسدا رہوے پنجاب
Pakistan
Joined October 2012
- Tweets104K
- Following274
- Followers5.6K
- Likes64.1K
پورے دومہینے کے واقفے کیںعد آج پِھر اباجی نے طبیعت صاف کی الحمدللہ فار دِس اچیومنٹ۔
اس دفع اباجی کا بار بار دُہرائے جانیوالا سوال رہا کہ۔ " تُوں چاہندا کی ایں ؟"
ہر بار میرا جواب بھی ایک ہی رہا " کُج وی نئ جی "
Asad Rana retweeted
یہ ہے کہ پروپیگنڈا کیسے کام کرتا رہا اور اسے کسی نے چیلنج نہیں کیا!
حقیقت:
بدنامِ زمانہ اسلم اچو عرف تکاری اسلم نے ریحان نامی 22 سالہ نوجوان بیٹے کو خودکش مشن پر بھیجا، جو ذہنی طور پر غیر مستحکم تھا۔
ریحان بلوچ نے اگست 2018 میں دالبندین میں چینی انجینئروں پر خودکش حملہ کیا، جس میں وہ خود واحد ہلاک ہونے والا شخص تھا۔
حملہ آور اپنے ہدف سے چوک گیا کیونکہ اس نے سینڈک کاپر-گولڈ منصوبے کے 18 چینی انجینئروں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔
بی ایل اے نے حسبِ معمول اپنی روایتی پروپیگنڈا حکمتِ عملی کے تحت اس لڑکے کے حملے کے پورے سفر کو ریکارڈ کیا، ماں کی طرح گلے لگانے سے لے کر اس کے اپنے والد کے اسے خودکش بم کی جیکٹ پہنانے تک۔
انہوں نے اسے خود کو دھماکے سے اڑاتے ہوئے بھی ریکارڈ کیا، جس سے چند درختوں کو نقصان پہنچا اور قریب ہی 3-4 بکریاں ہلاک ہوئیں۔
بلوچ علیحدگی پسندوں نے اس عمل پر اسلم اچو کو ایک افسانوی شخصیت قرار دیا، ایسا شخص جس نے اس جدوجہد کے لیے اپنے بیٹے تک کی قربانی دے دی جسے وہ قومی آزادی کی جدوجہد کہتے ہیں۔
کہانی میں نیا موڑ۔
ریحان اسلم اچو کا حقیقی بیٹا نہیں تھا، بلکہ دراصل اس کی بیوی یاسمین کا سابقہ شادی سے بیٹا تھا۔
افسوسناک بات یہ تھی کہ ریحان ذہنی طور پر غیر مستحکم تھا اور درحقیقت ادویات لے رہا تھا۔ اسلم کی حیاتیاتی اولاد عائشہ اسلم تھی، جو اب 27 سال کی ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ جرمنی میں خوشگوار زندگی گزار رہی ہے۔
اسلم اپنی بیٹی کو خودکش حملے کی تربیت نہیں دینا چاہتا تھا، وہ ایسا کیوں کرتا جب وہ کسی اور کے بیٹے کو آسانی سے استعمال کر سکتا تھا اور آخرکار ایک باپ کی حیثیت سے اس کا سہرا بھی اپنے سر لے سکتا تھا؟
آج اسلم اچو جہنم میں سڑ رہا ہے لیکن اپنے وطن میں، اس نے ایک ایسے افسانوی باپ کے طور پر نام کمایا ہے جس نے مزاحمت کے لیے اپنے 'حقیقی' بیٹے کی قربانی دی۔
مروت جیسے کُتے کو وقت پے زہر نہ ڈالا جائے تو وہ آتے جاتے شُرفاء پے بھونکنے لگتا ہے ٬ اسی لیئے اُسکا علاج کر رہا ہوں ۔
Replying to @He_TheWolf
نسلی غلام لگتا ہے مروت صاحب نے خوب مرچیں لگائیں ہے کل سے کتے کے طرح بھونکتا رہتا ہے😃😃😃
افغانڈو مہاجر بچہ پاکستان میں مفت پڑھتا ہے اور اُسی ریاست کو گالیاں بکتا ہے٬ ریاست کی اکثریت کو گالی گلوچ کرتا ہے ۔ منشیات بیچتا ہے٬ جیکٹ پہن کے پھٹتا ہے٬ قتل وغارت کرتا ہے اسمگلنگ کرتاہے۔
فرق ہے بہت فرق ہے دونوں بچوں میں ٬ ایک مِصری ہے ایک رشین مِکس بریِڈ ہے نمک حرام ہے
Asad Rana retweeted
A soulful lyrical Journey 🩷
Some melodies don't just reach your ears; they travel straight to the soul, awakening emotions words could never express.
🎙️🎼🎵
تو بیلی تے سب جگ بیلی
The non-stop hate directed at Punjabis has awakened us. We see through the false narratives now. Punjabis finally understand the truth: no one is giving us a free ride. Instead, others are constantly taking from our share, leaving the Punjabi people to bear most of the burden.
Asad Rana retweeted
گاؤں کے چوہدری کے کتے سے مراثیوں کا کتا جیت گیا۔
مراثی صبح شام چوہدری کے گھر کے سامنے بھنگڑے ڈالتے۔ چوہدری بہت پریشان تھا کہ کہیں سے کوئی تگڑا کتا ملے اور ان کے منہ بند کیۓ جائیں۔
آخر کار چوہدری کو کتا ملا اور بہت مہنگا ملا۔
چوہدری نے سوچا چلو عزت تو واپس ملے گی۔
میدان سجا ہر عام و خاص کو مدعو کیا گیا اور چوہدری کا کتا جیت گیا۔
چوہدری خوشی خوشی گھر جا رہا تھا کہ سامنے وہی مراثی بھنگڑے ڈالتے ہوۓ آ رہے تھے ۔
چوہدری کو تجسس ہوا کہ میں نے اپنی جمع پونجی ان کو ہرانے میں لگا دی اور یہ بھنگڑے ڈال رہے ہیں
اور جب چوہدری نے ان سے پوچھا کہ میں تو اس لیۓ خوش ہوں کہ بچی کھچی عزت واپس مل گی۔ لیکن تم تو ہار گۓ تم کیوں بھنگڑے ڈال رہے ہو؟
مراثی کہنے لگے
چوہدری صاحب، اسی مراثی آں۔ نچنا ساڈا کم اے، سانو جت ہار نال کی مطلب----ہیں۔۔؟
ایتھے پردیس وچ کدی کدی اپنے پِنڈ دی اپنے شہر دی اپنے پنجاب دی بڑی یاد آندی اے قسمے
تواڈے نال کدی اینج ہویا کہ اپنا پِنڈ اپنا پنجاب بہت شِدت نال یاد آیا ہووے
سارے پردیسی یار اپنا اپنا دسو اج
رَب دی بڑی مہر اے ساڈے پنجاب تے ❣️❤️❣️❤️
Asad Rana retweeted
بہت سے کنوے کے مینڈک جنھوں نے ایک مخصوص دائرے سے باہر جھانک کر دیکھا تک نہیں ہوتا اور وہ اپنی اس مخصوص جگہ کو ہی پوری دنیا سمجھ رہے ہوتے ہیں
یہ ایک چھوٹا بچہ ہے اور پنجاب گھوم رہا ہے
اللہ اسکو خوش رکھے ہن کسی کے خلاف نہیں لیکن وسائل صرف وہی نہیں ہوتے جو آپکے قریب ہوں
علامہ کا شعر اخروٹ کی فرمائش پے
اے دُختر فروشو نسوار خورو رشین مِلس بریڈ کی پیداوارو
ایک دوسرے کے پچھواڑے مارنا چھوڑ دو حرام خورو














