Hum'mal (@HummalBaluch) header
Hum'mal (@HummalBaluch) profile picture
Ketch
Joined October 2013
Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)Photo by Hum'mal (@HummalBaluch)
Bahria Town Karachi was built on Indigenous communities’ ancestral lands, grazing grounds, rain-fed farms, villages, rivers and mountains. Now, historic routes connecting local settlements face closure or entry fees...1/3 #IndigenousRights #BahriaTownKarachi
3
27
1
61
1,885
Eight-year-old Fatima Al-Bayouk, the sole survivor of her family after an Israeli bombing destroyed their home in late 2023, was killed by Israeli gunfire in Deir Al-Balah, central Gaza.
305
8,310
230
22,422
241,532
Hum'mal retweeted
پختونخوا میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر جس طرح غریبوں کے ان ریڑھیوں، چھوٹے سٹالز اور سڑک کنارے لگی روزی روٹی کی جگہوں کو تاراج کیا جا رہا ہے، اس سے یہ سوال پھر ذہن میں ابھرتا ہے کہ عوام کے لیے سیاسی نمائندہ قوتوں کا وجود کیوں ضروری ہے؟ ریاستی بیوروکریسی اور انتظامیہ کا بنیادی فریم ورک آج بھی کالونیل (نوآبادیاتی) اصولوں پر قائم ہے، جہاں عام شہری کو "رعایا" اور خود کو "حاکم" سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی کو ووٹ کا خوف نہیں ہوتا، اس لیے ان کی قانون کی بالا دستی کی پرفارمنس بلڈوزر جسٹس کی صورت تباہی پھیرتی ہے دراصل سیاسی نمائندہ قوتیں ریاستی انتظامیہ اور عوام کے بیچ بفر (Buffer) کا کام کرتی ہیں جو ننگی طاقت کے بے دردی سے استعمال سے روکتی ہیں اس نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے کراچی کے بلدیہ ٹاؤن (سعید آباد) کے ایک بند کباب ریڑھی والے کا سیاسی ادراک اور معاشی حساب کتاب دیکھنا کافی ہے ایم کیو سے مائنس الطاف کے بعد جب بلدیاتی انتخابات ہوئے اور وسیم اختر میئر بنے، تو میں نے اس بن کباب کی ریڑھی والے سے پوچھا: "تم نے کسے ووٹ دیا؟" اس نے جواب دیا: "ایم کیو ایم کو۔" میں نے مسکرا کر کہا: "کیوں؟ ان کا تو نظام بکھر چکا ہے، الطاف حسین مائنس ہو چکے ہیں، آپس میں لڑائیاں ہیں۔" اس کا جواب انتہائی سادہ مگر آنکھیں کھول دینے والا تھا: "سرکار ہمارے پاس اور چوائس کیا ہے؟" اس نے اپنی مثال سے بات واضح کی: "جب یہاں ایم کیو ایم کا یونٹ پوری طرح متحرک تھا، تو ہر روز یونٹ سے ایک لڑکا آتا تھا اور 20 روپے کی پرچی پکڑاتا تھا اکثر جان پہچان کا ہوتا، ہم بیس روپے پکڑا کر ایک آدھ گالی بھی نکالتے کہ یہ لے بین چود پکڑ اس سب کا مہینے کا کل 600 روپیہ بنتا تھا، چھوٹی عید پر فطرانہ، بڑی پر کھال ساتھ تھی ان سب کے بدلے میں فائدے کیا تھے؟ پولیس تنگ نہیں کرتی تھی، ایکسائز اور بلدیہ والے ٹانگ نہیں اڑاتے تھے، ہم سکون سے سڑک کنارے ریڑھی لگا کر اپنی روزی روٹی کما لیتے تھے، رات دیر سے گھر جاتے تو پولیس کا ڈر نہیں تھا. اب جب سے وہ سسٹم ختم ہوا ہے، حالات بہت خراب ہیں، وہ دیکھو، سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی ہے؛ یہ روز کے 100 سے 150 لے جاتے ہیں، کبھی کھانے پینے کی صورت میں، تو کبھی کیش، ہفتہ وار بھتے کی صورت میں تھانے الگ 1000 سے 1500 رقم بھجوانی پڑتی ہے۔ اور پھر بھی کچھ ہفتے بعد ریونیو والوں کے ساتھ سرکار کا ٹرک آتا ہے، ریڑھی اٹھا کر لے جاتا ہے، جسے چھڑوانے کے لیے پانچ چھ ہزار الگ بھرنے پڑتے ہیں مہینے کا حساب لگاؤں تو 8 سے 10 ہزار روپیہ سرکاری محکموں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب آپ بتائیں! دن کے چند سو کمانے والے کے لیے وہ 600 روپے دے کر تحفظ پانا اچھا تھا، یا ایم کیو ایم کے ختم ہونے کے بعد بیوروکریسی اور سرکاری محکموں کے رحم و کرم پر رہ کر 10 ہزار لٹانا اچھا ہے؟" پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کا تیرہ سالہ بندوبست کیا ٹوٹا ہے، سرکاری انتظامیہ کی چاندی ہوگئی ہے، پہلے مرحلے میں انتہائی ظالمانہ آپریشن، پھر شاید سودے بازی ہو اور ریٹ طے ہو جائے. کالونیل ذہنیت سب کو سوٹ کرتی ہے، بس سیاسی بندوبست کسی حد تک عوامی بارگیننگ کی گنجائش بڑھا دیتی ہے، اسی لیے صاح. لوگ اور بابو صاحبان کو سخت ناپسند ہے #Pakhtunkhwa #Karachi #Colonialism #GovernorRaj
9
54
7
90
9,216
16 year old fisherman, Muhammad Musa Abu Jiab, was attempting to fish near Gaza's legal coast when the occupation naval gunfire martyred him.
91
1,847
41
4,502
32,846
The unlawful arrest of ANP Balochistan President @AsgharAchakzaii exposes the state’s design for managing Balochistan, where speaking for one’s people comes at a price. Asghar Khan has already received the dead bodies of his father, brother and cousin. How much more must he pay?
2
13
68
2,860
اصغر خان اچکزئی کا عدالت میں ضمانت منسوخی کے بعد میڈیا سے خطاب، کارکنوں کو پُرامن رہنے کی ہدایت عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے چمن کی عدالت میں اپنی ضمانت منسوخ ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری اقدار اور انصاف کی فراہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری جدوجہد کسی تصادم یا محاذ آرائی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ آج جس مقدمے میں ہماری ضمانت منسوخ کی گئی، اسی مقدمے کے مدعی نے گزشتہ روز عدالت میں حلفاً بیان دیا تھا کہ ان کی اصغر خان اچکزئی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، بلکہ وہ انہیں اپنے علاقے کا محترم مشر سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول، مدعی نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اصغر خان اچکزئی کے خلاف ان کے نام سے درج ایف آئی آر سے نہ ان کا اور نہ ہی ان کے خاندان کا کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں توقع تھی کہ عدالت ان حقائق اور مدعی کے بیان کی روشنی میں اس مقدمے کا جائزہ لے گی، تاہم توقعات کے برعکس ہماری ضمانت منسوخ کر دی گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونا اور ہر شہری کو منصفانہ قانونی عمل کا حق ملنا جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اے این پی بلوچستان کے صدر نے کہا کہ ہماری سیاست ہمیشہ پُرامن جدوجہد، جمہوری اصولوں اور آئین کی بالادستی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ہم نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا ہے اور آئندہ بھی اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ متعلقہ ادارے تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور ہمدردوں کو ہدایت کی کہ وہ پُرامن رہیں، کسی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور جذبات میں آ کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے کے خلاف کسی قسم کے احتجاج یا ہڑتال سے گریز کیا جائے اور انتظامیہ و پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔ اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی اصل طاقت ان کا شعور، نظم و ضبط، جمہوری طرزِ عمل اور پُرامن جدوجہد ہے۔ ہم کسی کے خلاف محاذ آرائی نہیں چاہتے، بلکہ اپنے آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے اصولوں کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں، بلکہ آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری روایات کے استحکام اور انصاف کے حصول کے لیے ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ حق و سچ کی فتح ہوگی اور ہم اپنی سیاسی جدوجہد پُرامن اور جمہوری انداز میں جاری رکھیں گے۔ #AsgharKhanAchakzai |#AwamiNationalParty |#ReleaseAsgharKhanAchakzai
6
29
3
131
5,631
Tomorrow marks six months since my brother, Dad Shah Baloch, was taken before our eyes, and we hold the state and the CTD accountable for answering where he is. Six months. Tell us under what law can a citizen be taken away, and his facebook.com/share/p/1CciNe1… #ReleaseDadShahBaloch
46
11
81
2,824
Hum'mal retweeted
عمر چیمہ صاحب کی اس ٹویٹ اور ان کے قائم کردہ بیانیے پر، بلوچستان کے تناظر میں چند سوالات: پہلا، چیمہ صاحب! جب بلوچستان 1954 سے پاکستان کی صنعتی و زرعی ترقی کے لیے 99 فیصد گیس فراہم کر رہا تھا اور کوئٹہ کو گیس دریافت کے 30 سال بعد دی گئی، تو اپنے ہی قدرتی وسائل پر حق مانگنا اور اس معاشی ناانصافی پر بات کرنا "خود ترسی" ہے یا آئینی و معاشی حق کا تقاضا؟ دوسرا، بلوچستان کے ذخائر کو اوگرا کے بننے سے پہلے بغیر کسی سائنسی پیمانے (BTU) اور انتہائی ارزاں نرخوں پر بیچ کر رائلٹی اور گیس ڈیولپمنٹ سرچارج سے محروم رکھا گیا، تو کیا یہ محض شہریوں کا نفسیاتی عارضہ ہے جسے آپ کے موٹیویشنل خطبات سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، یا یہ ریاستی پالیسیوں کی سٹرکچرل ناکامی ہے؟ تیسرا، آپ قومی حقوق کی جدوجہد کرنے والے رہنماؤں پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں، لیکن جب وفاقی اور مرکزی جماعتیں دہائیوں تک صوبوں کو ان کا این ایف سی حصہ، پانی کے حقوق، یا این ایف سی کا تین فیصد حصہ نہیں دیتیں، تو لوگوں کا اپنے مقامی بیانیے پر اعتماد کرنا ایک طبیعی سیاسی ردِعمل ہے یا محض ووٹ بٹورنے کا ڈرامہ؟ چوتھا، اصلاح کی ضرورت ان اقوام کو ہے جو دہائیوں سے سیکیورٹی آپریشنز، معاشی استحصال اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا شکار ہیں، یا پھر اسلام آباد اور پنڈی کے اس مرکزی ڈسکورس کو، جو ساختی ناانصافیوں کا ملبہ مظلوم قومیتوں کی "اخلاقی حالت" پر ڈال کر وفاقی اداروں کو جواب دہی سے مبرا کر دیتا ہے؟
خود ترسی ایک بیماری ہے اسکا شکار افراد خود اصلاحی کیطرف مائل نہیں ہوتے انہیں دوسروں پر غصہ اور اپنے آپ پر ترس آتا ہے وہ اپنی زندگی میں جاری ناآسودگی کا ذمہ دار ہمیشہ دوسروں کو تصور کرتے ہیں اسی خودترسی کو قوم پرست راہنماؤں نے فروغ دیا ہے انہیں ووٹوں سے غرض ہے ناں کہ عوام کی اصلاح سے، اسکے برعکس وہ لوگ جو دوسروں کا مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے اصلاح کیطرف مائل ہوتے ہیں وہ دن بدن بہتری کیطرف مائل ہوتے ہیں اور وہی لوگ ترقی کرتے ہیں
9
57
2
93
4,823
Your autonomy means nothing if it comes at the expense of ours.
4
6
30
643
One year on Israeli killing of my third son Ibrahim.. RIP
1,159
3,467
54
15,277
119,865
میرے بیٹے غلام حیدر کو 12 مارچ کو مشرقی بائی پاس، کوئٹہ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے تفتیش کے بہانے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کیا۔ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، بے قصور ہے تو فوری رہا کیا جائے۔ بی بی شاہ نور کی التجا #EndEnforcedDisappearances
1
26
39
1,770
Syria/Syrian Kurds: Protests continue in Qamishlo, demanding the right to education in Kurdish.
Syria/Syrian Kurds: 20 vehicles belonging to the Syrian Military Police forces have entered the city of Hasakah. The military police personnel will be stationed at the police station in the Gweiran neighborhood of Hasakah. Around 150 soldiers will be stationed at this base - Nuce TV
18
51
4
318
13,043
ابا واتر کن یار نو بس ایں۔ بی بی تئ بازیں راھچاری ءَ سک نزور تر بیتگ۔پھک ءَ ھلاس انت ۔تئ گندگ ءِ واستہ تلوسگ ءَ انت۔ زوت واتر باتے ۔۔۔ #ReleaseRafiqOman
14
1
38
1,009
My father Rafiq Oman was a honest teacher. He always guided his students to learn and succeed in their life. Is giving education and awareness is crime????? #ReleaseRafiqOman
4
53
10
102
2,685
Hum'mal retweeted
"Jin, Jiyan, Azadi" didn't begin in 2022. Its roots trace back to Kurdish women's organizing within the PKK in the 1980s, the Saturday Mothers' vigils, and Jineolojî theory, before reaching global recognition at Jina Amini's funeral in Saqqez. theamargi.com/posts/the-tran…
3
13
4
51
1,372
Hum'mal retweeted
What the fuck is interior Sindh? Why they have normalised this word containing hateful undertones? They aren't even interested to know which part of Sindh is called what, but never tired of lecturing about 'development'.
This quoted post is unavailable.
2
3
88
سوراب فضائی بمباری کے زخمیوں میں سے ایک اور زخمی خاتون، بی بی سارہ، آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئیں۔ ان کی شہادت اس حقیقت کی ایک اور دردناک گواہی ہے کہ بلوچستان کے عوام صرف ریاستی جبر ہی نہیں، بلکہ میڈیا، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی کی قیمت بھی اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔ جس روز سوراب میں بمباری ہوئی، اسی روز متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر سڑکوں پر آئے تھے۔ ان کے بنیادی مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ زخمیوں کو بہتر اور فوری علاج کے لیے کوئٹہ یا کراچی منتقل کیا جائے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی تو کرائی، مگر عملی طور پر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر دیگر متعلقہ سرکاری ذمہ داران تک، جنہوں نے اس سانحے کے بعد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں غفلت برتی، انہیں اس انسانی المیے کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کی غفلت اور بے حسی انسانی جانوں کے ضیاع کا ایک اہم سبب بن رہی ہے۔ سوراب کے علاوہ قلات اور شعبان میں بھی فضائی بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ دوسری جانب زہری، مولہ، وڈھ، خاران اور مستونگ میں ڈرون حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعات محض الگ الگ سانحات نہیں بلکہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے عسکری تشدد، جبری گمشدگیوں، فضائی حملوں اور جبری بے دخلیوں کے ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان واقعات پر ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا، سیاسی قوتوں، عدلیہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی بھی برقرار ہے۔ ہماری خاموشی اس خونریزی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں، فضائی حملوں، شہری آبادیوں پر تشدد اور جبری بے دخلیوں کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہو چکا ہے۔
3
145
10
227
8,658
فتنه الخوارج اور فتنه الہندوستان کی کھڑکی توڑ کامیابی کے بعد پیشِ خدمت ہے، ناظرین، فتنۃ الپڑوسیصوبَتُن
2
4
87
پڑوسی ملک کو دہشت گردی کے الزام سے بری قرار دینے کا کارنامہ بھی صرف پنجاب کی وزیراعلیٰ سرانجام دے سکتی ہے سندھ، پنجاب یا بلوچستان کا وزیراعلیٰ ایسی بات کردے تو اسکی زندگی عذاب ہو جائے
1,115
5,878
317
16,167
346,527
ڈوب مرو پختونخوا سے دہشتگرد نہیں بلکہ آپ کے فیکٹریوں کے لئے بجلی، پانی، معدنیات ارہے ہیں۔ آپ کی فیکٹریاں ہماری پیدا کردہ بجلی سے چل رہی ہے۔ اور آپ نے جو جہاز خریدہ وہ جو آپ کے ہینڈلرز نے جو ڈالری جنگ مسلط کی ہماری سرزمین پر ان ڈالرز سے خریدہ ہے۔ شرم کرو! لیکن حساب تو ہم لینگے۔
افسوس کی بات ہے کہ مجھے تھریٹ میرے پڑوسی ملک سے کم ہے، لیکن میرے پڑوسی صوبے سے زیادہ ہے، وہاں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
19
32
6
70
3,347