Pinned Tweet
اس دنیا میں جنت مدینہ❤️
میرا مدینہ تمام شہروں کا سردار💚
اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا محمد ﷺ
حدیث نبوی ﷺ retweeted
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد
حدیث نبوی ﷺ retweeted
جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
(سورۃ الشوری : 42)
رسول اللہ ﷺ نے ( حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت) فرمایا:
مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ اس (کی بددعا) اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ (یا رکاوٹ) نہیں ہوتا۔
(صحیح البخاری : 2448)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اہل ایمان میں سب سے بڑھ کر کامل ایمان والا وہی ہے جو اخلاق میں سب سے بڑھ کر ہو ۔
(سنن ابوداؤد : 4682)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے
اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے ،
1/2
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”سچا اور امانت دار تاجر ( قیامت کے دن ) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا“۔
(جامع ترمذی : 1209)
علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ :
جب جھگڑا كرنے والے تمہارے پاس آئیں تو ان كا فیصلہ اس وقت تك نہ كرو جب تك پہلے كی بات سننے كے بعد دوسرے كی بات نہ سن لو۔ جب تم ایسا كرو گے تو تمہارے لئے فیصلہ كرنا واضح (آسان) ہو جائے گا
(السلسلۃ : 1592)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” ہر نبی کو ایک دعا حاصل ہوتی ہے ( جو قبول کی جاتی ہے ) اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں ۔“
(صحیح بخاری : 6304)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کیا تمہیں بڑے بڑے ( کبیرہ ) گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں؟
صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں؟
اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا :
اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا
(جامع ترمذی : 2301)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مؤذن (حضرت بلال ؓ ) نے ظہر کی اذان دی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
کہ ٹھنڈا کر، ٹھنڈا کر، یا یہ فرمایا کہ انتظار کر، انتظار کر، اور فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو،
1/2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ایک کتا کسی کنوئیں کے گرد گھوم رہا تھا۔ قریب تھا کہ وہ پیاس سے مر جائے گا۔ اچانک اُسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا۔ اُس نے اپنا موزہ اُتارا اور اُس سے پانی نکال کر کتے کو پلا دیا۔
1/2
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
”یہ دونوں ( حسن رضی الله عنہ اور حسین رضی الله عنہ ) میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے“۔
(جامع ترمذی : 3769)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
جس نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی ، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
(ابن ماجہ : 143)
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت حسن ؓ پیدا ہوئےتو ان کا نام حمزہ رکھا ، جب حضرت حسین ؓ پیدا ہوئے تو اس کے چچا کے نام پرجعفر رکھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور کہا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان دونوں ناموں کو بدل دوں ،میں نے کہا:
1/2




