سمیر بلوچ retweeted
پی ٹی آئی غلط اور ملک دشمن
جے یو آئی غلط اور ملک دشمن
پختون قوم پرست غلط اور ملک دشمن
بلوچ غلط اور ملک دشمن
کشمیری غلط اور ملک دشمن
۔۔۔۔۔ وطن کی خاک سے ہم کو تو پیار تھا لیکن
وطن کے چند ٹھیکیداروں نے غدار لکھ دیا۔۔۔۔۔
سمیر بلوچ retweeted
Pakistan: under a military-backed cabinet, jail staff again barred Imran Khan from family and lawyers a day after a brief counsel visit — the first in 7 months. Isolating a political prisoner flouts fair trial and democracy. Free him. #HumanRights
independent-pakistan.com/new…
But Unfortunately.
the man who foresaw this future is today held in solitary confinement by Pakistan's establishment."
@SadiqKhan
@NYCMayor
@AbdulElSayed
In 2008 Imran Khan addressed the idea of Muslim representation in Western politics
Yet today,the dream come true but
The tragedy, however is that the man who foresaw this future is today held in solitary confinement by Pakistan's establishment
@AbdulElSayed
@NYCMayor
@SadiqKhan
2008 میں عمران خان نے مغربی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے بات کی تھی۔ کئی دہائیاں پہلے شاید بہت سے لوگ اس تصور کا مذاق اڑاتے اور عمران خان کی بات کو سنجیدگی سے نہ لیتے۔
لیکن آج وہی خواب حقیقت بنتا نظر آ رہا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص نے اس مستقبل کا تصور پیش کیا تھا، اسکو آج پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے قید تنہائی کی زندگی دے رکھ ہے
سمیر بلوچ retweeted
Pakistan: elected KP chief minister Sohail Afridi has been missing since governor's rule on 11 Oct. The Peshawar High Court has sent petitions on him and other PTI lawmakers to a larger bench. Hiding them is enforced disappearance. Free them. #HumanRights dawn.com/news/2041837
سمیر بلوچ retweeted
نرگسیت کی علمبردار پنجاب کی نوٹنکی تھیف منسٹر کی مقبولیت کا قصہ بھی الف لیلی کی کسی جادوئی داستان سے کم نہیں!
غلہ منڈی کے افتتاح پر ڈھور مویشیوں کے بجائے ایک بیس سالہ لڑکی ملاقات کو پہنچ گئی۔ آٹوگراف کے جنون میں ہجوم چیر ڈالا، لیکن پرچی لکھ کر دینے والا جزبات کے دھارے میں بہہ کر لڑکی سے ہجوم کو چیرا لگوا گیا تو اس معصوم کے دونوں ہاتھ زخمی ہو گئے، خون بہنے لگا اور لڑکی کانپنے لگی!
بس اب یہی کسر باقی تھی کہ زکوٹا جن بھی آٹوگراف لینے قطار میں کھڑا نظر آتا!
A Brave Journalist I have Ever seen
Stay strong
@shaziazeshan
جرنلزم کیا ہوتی ہے کوئی اس سے سیکھے ظالم کے خلاف کھڑا ہونا اور ظلم کے خلاف بولنا ہی سب سے بڑا جہاد ہے
مریم ڈائن نے جو معصومیت کا نقاب پہنا ہے اس کو اتار پھینکا ہے
@shaziazeshan
سمیر بلوچ retweeted
An appeal for humanity, from a son.
#FreeImranKhan
سمیر بلوچ retweeted
The radio silence and complete isolation of my father is unbearable.
Let us speak to him. Let us know he’s alive. Have some humanity.
Free Imran Khan.
سمیر بلوچ retweeted
No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
سمیر بلوچ retweeted
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
One of my Favorite Batsman and a Phenomenal Player but Unlucky Captain 💔
Love From Pakistan 🇵🇰
@Harry_Brook_88
Uff Shah Saahab 💔
@SMQureshiPTI
وفا کا پیکر نائب کپتان شاہ محمود قریشی ۔۔۔ وفا کے رستے کا ہر مسافر گواہی دے گا کہ تم کھڑے تھے!
#ReleaseSMQ
سمیر بلوچ retweeted
Pakistan’s foreign policy is heading towards disaster. We now live in a neighbourhood where none of our neighbours trust us. As Afghanistan and India deepen ties with an anti-Pakistan agenda, we have failed to safeguard Chinese investments while undermining relations with Iran at others’ behest. Soon, even the US and the GCC will see through our empty promises, photo ops and endless overcommitments.
کبھی کسی کو گالی دینے پر اس قدر تنقید نہ ہوئی ہو گی جتنی اس وضاحت پر۔ کوئی کہتا ہے لفافہ مل گیا کوئی کہتا ہے ڈنڈا۔ مینڈک کو اپنا جوہڑ ہی دنیا دکھائی دیتا ہے۔
میرے لاہور کے کرشن نگر، چوہان روڈ، اقبال ٹاؤن، سمیت دنیا بھر سے جانے کہاں کہاں سے پرانے محلے داروں، کالج فیلوز، رشتہ داروں تک نے ای میلز کر ڈالیں کہ ایسا کیوں کیا ؟
مختصر اتنا کہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں مل کر، کتنا بھی چاہیں نہ میرا کچھ سنوار سکتے ہیں نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ مجھے ان سے خوف ہے نہ ہی لالچ، نہ ہی ذاتی شکوہ۔
بھونکتے کتے کیا سمجھتے ہیں کہ مجھے انہوں نے نوکری نہیں دی اس لیے میں خلاف ہو گیا ؟
سچ یہ ہے کہ ان دونوں نے بہت کوشش کی تھی، نگران کابینہ میں میرا نام دیا، ان کا باس نہیں مانا۔ پھر مجھے مریم بی بی نے بلا کر پرویز رشید اور مریم اورنگزیب کے سامنے اپنا ترجمان مقرر کیا اور کابینہ اجلاس میں بٹھا دیا، وہ غریب اور کیا کرتی ؟ اسے اجازت نہیں ملی کیونکہ اس نظام کے مالکان کو پتہ تھا کہ میرے جیسا آدمی اگر ہو گا تو انکو بار بار یاد دلائے گا کہ لیڈر وہ ہیں، فوجی ٹرک سے اترو، جو ان کے باس کو قبول نہیں تھا۔ یہ دونوں بے بس تھے، اسی لیے ان کو صرف نوکر لگانے پڑے۔ یہ معذرت اس لیے کی تھی کہ مجھے نواز شریف سے کوئی ذاتی شکوہ نہیں اگر ہے تو صرف یہ کہ کیوں سب کچھ اتنا سستا بیچ دیا ؟ صرف اس لیے کہ گڑیا کو وزیر اعظم بنانا ہے ؟ عزت سے بھی تو بن سکتی تھی۔ اس کے پاس وقت ہے، زندگی ہے۔ نواز شریف اور عمران خان ہم عمر ہیں۔ مریم کے پاس ابھی وقت تھا۔ تھوڑا انتظار کر لیتے، خواجہ سعد والی بات کہ عصر کے وقت روزہ توڑ دیا ؟ ہم نے آب حیات تو نہیں پیا ہوا۔ نو فروری کو مان لیتے کہ شکست نہیں شکست فاش ہوئی ہے، اگر نہیں تو حکومت لے کر پہلا حکم جاری کرتے کہ تمام سیاسی قیدی رہا، ناجائز قبضہ گیروں کی ایسی تیسی پھر جاتی ۔
اب کیا ملا ہے ؟ فیصل واوڈا جیسے بندے سے ذلیل ہونا ، داؤد ایڈووکیٹ سے گالیاں کھانا ؟ اور وہ ادھیڑ عمر موٹی قبض کی مریض عورت جو بتاتی ہے کہ لال مفلر پیلی شرٹ پہن کر آپ عمران خان کا سحر توڑیں گے ؟ اس سے بہتر کسی عزت دار خاتون سے شادی نہ تھی ؟ کیا خدا نخواستہ ہم سب کے آخری رسول اور فطرت کا کہنا غلط ہے اور شیطانی رواج درست ؟
عمران خان مسکرا رہا ہے ، تاریخ میں، دلوں میں ، عوام کی آنکھوں میں صرف ایک نام ہے اور وہ عمران خان ہے۔ اپنا سب کچھ کھو کر بے عزت نوکری لے لی اور قوم کو خان لے اڑا۔ ایسی بے بس نوکری پر لعنت بھیج کر آج بھی قوم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ایک ہو سکتے ہیں تو اب یہ لیڈ مریم نواز لے۔ آج بھی ممکن ہے حوصلہ کرے ، ڈر خوف نکالے۔ رنگ بازیاں نہیں چل رہیں نہ چلیں گی۔ اور کتنا وقت برباد کرنا ہے ؟
اس ظالم نظام کے خلاف قوم کے ساتھ مریم کھڑی ہو جائے تو مستقبل ہے ورنہ قبر تیار ہے اور کتبہ ہو گا اس مرحوم پارٹی کی قاتل اس کی اپنی لیڈر تھی۔
چند دن ہوئے میاں نواز شریف کے حوالے سے ایک ذاتی پوسٹ لکھی جو کسی صورت مناسب نہ تھی۔ وہ بے جا اور بے ادبی تھی۔ چند گھنٹے بعد ہی اسے ڈیلیٹ کر دیا تھا، اور جہاں جہاں وہ تحریر پہنچ چکی ہے وہاں سے بھی اپنی بات واپس لیتا ہوں۔
تعلقات رہیں یا نہ رہیں، حیا اور شائستگی کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ میں اس تحریر پر کسی دلیل یا جواز کے بغیر شرمندہ ہوں اور میاں صاحب اور ان کے چاہنے والوں سے معذرت چاہتا ہوں۔
ایک بار پھر معذرت۔ یہ قصہ میری طرف سے تمام ہوا۔
سرکاری حاجن اب تمارا عورت کارڈ والا ڈرامہ نہیں چلے گا
@asmashirazi






















