دن 48۔
24 گھنٹے پہلے میرے خاندان نے خبردار کیا تھا۔ میری والدہ @DrUzma_KhanPK کے دل کا والو تبدیل ہو چکا ہے، کوٹ لکھپت جیل میں ان کا بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے، اور انہیں کوئی علاج نہیں دیا جا رہا۔
تب سے اب تک نہ جیل کی طرف سے کوئی اطلاع، نہ حکام کی طرف سے کوئی جواب، اور نہ ہی کوئی ماہرِ امراضِ قلب۔
میری والدہ اور میری خالائیں @Aleema_KhanPK اور @Noreen_KhanPK، جن کی عمریں تقریباً 70 سال ہیں، 48 دن سے ایک نظربندی قانون کے تحت بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔ ان کے بھائی @ImranKhanPTI قیدِ تنہائی میں ہیں اور ان کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچ چکا ہے۔
ریاست نے انہیں قید کر رکھا ہے۔ ان کی صحت کی ذمہ دار بھی ریاست ہے۔
انہیں ان کے ماہرِ امراضِ قلب سے ملنے دیں۔ ان پر الزام لگائیں یا انہیں رہا کریں۔
#FreeImranAndFamily
منگنی، شادی، طلاق، خلع یہ لوگوں کا ذاتی معاملہ ہے۔ جتنا اس تماش بین قوم کو لوگوں کی نجی زندگی پر تبصرے کرنے کا چسکا ہے، اتنا فوکس ظلم، ناانصافی اور اپنے حقوق پر ہوتا تو آج بھیڑ بکریوں کی طرح نہ رہ رہے ہوتے۔
صنم جاوید کی خلع کو چھوڑیں، اپنی کیڑے مکوڑوں والی زندگی پر فوکس کریں۔
چاچو نے الیکشن جیتنے کے طریقے بتائے تو تھے مگر ایک تو امریکہ میں ویلج آفیسرز نہیں ہیں دوسرا وہ لوگ نہ بریانی کھاتے ہیں اور نہ ہی قیمے والا نان۔ پھر ٹرمپ کو ووٹ کیسے ملتے
اسے اردو میں ًشلجم اور مقامی زبان میں ”گونگلوں“ کہتے ہیں جبکہ انگلش میں کہتے ہیں Turnip۔ یہ ایک سبزی ہے
خوامخواہ ناراض ہونے کی ضرورت نہیں
نوٹ : یہ ایک سیاسی پوسٹ ہے
انتہائی تشویشناک اور فوری!! کوٹ لکھپت جیل میں قید میری والدہ @DrUzma_KhanPK کے بارے میں میری خالہ روبینہ خان کا بیان:
"مجھے کوٹ لکھپت جیل کے اندر سے غیر رسمی ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ میری بہن عظمیٰ خان کا بلڈ پریشر بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور انہیں کوئی طبی علاج نہیں دیا جا رہا۔ یہ قدرتی نہیں ہے۔ اپنے باقی بہن بھائیوں کی طرح ان کا بلڈ پریشر بھی ہمیشہ موروثی طور پر کم سے نارمل رہا ہے۔ خاندان کو جیل حکام کی جانب سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کے دل کا والو تبدیل ہو چکا ہے اور ان کی صحت پہلے ہی نازک ہے۔ انہیں فوری طور پر کسی ماہرِ امراضِ قلب کو دکھایا جانا چاہیے۔"
– روبینہ خان
یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ میری والدہ کے دل کا والو تبدیل ہو چکا ہے اور ان کا بلڈ پریشر بغیر کسی علاج کے بڑھ رہا ہے۔ حکام انہیں فوری طور پر ان کے اپنے ڈاکٹر سے ملنے دیں۔
@UNHumanRights @UN @amnesty @amnestysasia @hrw @HRCP87
🖤Muhammad Jamil🇵🇰🇦🇪 retweeted
شہر کو خون میں ڈوبا نہیں دیکھا جاتا
اے خدا اب یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا
نوشی گیلانی
🖤Muhammad Jamil🇵🇰🇦🇪 retweeted
🚨 انتہائی تشویشناک اور فوری توجہ طلب!!
میری خالہ روبینہ خان کا کوٹ لکھپت جیل میں قید میری والدہ، @DrUzma_KhanPK، کے حوالے سے بیان:
’’مجھے غیر رسمی ذرائع سے کوٹ لکھپت جیل کے اندر سے یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ میری بہن عظمٰی خان کا بلڈ پریشر بھی مسلسل بڑھ رہا ہے اور انہیں کوئی طبی علاج فراہم نہیں کیا جا رہا۔ یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ اپنے دیگر بہن بھائیوں کی طرح ان کا بلڈ پریشر بھی ہمیشہ موروثی طور پر کم سے نارمل سطح پر رہا ہے۔
اہلِ خانہ کو جیل حکام کی جانب سے کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے دل کے والو کی تبدیلی کا آپریشن ہو چکا ہے اور ان کی صحت کی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ انہیں فوری طور پر ماہر امراضِ قلب (کارڈیالوجسٹ) کو دکھایا جانا چاہیے۔‘‘
— روبینہ خان
Critical & urgent!! My aunt Rubina Khan's statement about my mother, @DrUzma_KhanPK, held in Kot Lakhpat jail:
"I have received information from inside Kot Lakhpat jail, through informal sources, that my sister Uzma Khan's blood pressure is also shooting up and she is not receiving any medical treatment. This is not natural. Like her other siblings, her blood pressure has always been genetically low to normal. The family has received no information from jail authorities. She had a heart valve replacement and her condition is vulnerable. She should be seen urgently by a cardiologist."
– Rubina Khan
This is very serious. My mother has a replaced heart valve and her blood pressure is rising with no treatment. The authorities must let her see her own doctor immediately.
@UNHumanRights @UN @amnesty @amnestysasia @hrw @HRCP87
Critical & urgent!! My aunt Rubina Khan's statement about my mother, @DrUzma_KhanPK, held in Kot Lakhpat jail:
"I have received information from inside Kot Lakhpat jail, through informal sources, that my sister Uzma Khan's blood pressure is also shooting up and she is not receiving any medical treatment. This is not natural. Like her other siblings, her blood pressure has always been genetically low to normal. The family has received no information from jail authorities. She had a heart valve replacement and her condition is vulnerable. She should be seen urgently by a cardiologist."
– Rubina Khan
This is very serious. My mother has a replaced heart valve and her blood pressure is rising with no treatment. The authorities must let her see her own doctor immediately.
@UNHumanRights @UN @amnesty @amnestysasia @hrw @HRCP87
جوانی میں موت دور دکھائی دیتی ہے، بڑھاپے میں قریب، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں کے درمیان فاصلہ کسی کو معلوم نہیں
شہباز شریف نے ٹرمپ کو سلوٹ مار کر کہا تھا کہ دنیا کو اپ جیسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے امریکہ کی پڑھی لکھی باشعور عوام نے ٹرمپ کو اٹھا کر کوڑے میں پھینک دیا
جب عدالتیں حکومت کی ہو جائیں، تو ہر درخواست کا فیصلہ سنے جانے سے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔
جبر کا تجزیہ | نمبر 3: عدالتوں کو خاموش کرو
فلپائن، ستمبر 1972۔ صدر فرڈینینڈ مارکوس مارشل لا نافذ کرتے ہیں، اور سب سے پہلے گرفتار ہونے والوں میں اپوزیشن سینیٹر نینوئے اکینو بھی ہیں، جنہیں عام طور پر مارکوس کا جانشین سمجھا جا رہا تھا۔ اکینو اپنی رہائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں، مگر 1974 میں عدالت مارشل لا اور ان کی حراست دونوں کو درست قرار دے دیتی ہے۔ تین سال بعد ایک فوجی کمیشن انہیں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت سنا دیتا ہے۔
یہ حربہ کیوں کام کرتا ہے:
– عدالتی فیصلہ ایک من مانی حراست کو قانون کا لبادہ پہنا دیتا ہے
– ہر مسترد درخواست اگلے قیدی کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں
– حکومت کو اپنا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ وہ بس اتنا کہہ دیتی ہے کہ عدالت فیصلہ دے چکی ہے
یہ حربہ کیوں ناکام ہوا:
– اکینو ٹوٹنے سے انکاری رہے۔ انہوں نے سات سال سات ماہ جیل میں گزارے، جن میں سے کچھ عرصہ قیدِ تنہائی میں، اور 40 دن کی بھوک ہڑتال کی۔ دو دل کے دوروں کے بعد انہیں علاج کے لیے امریکہ جانے کی اجازت ملی، اور تین سال بعد، یہ خبردار کیے جانے کے باوجود کہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے، وہ واپس منیلا آ گئے۔ 21 اگست 1983 کو انہیں ایئرپورٹ پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
– ان کی بیوہ کوری، جو کبھی کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہی تھیں، 1986 کے انتخابات میں مارکوس کے مقابلے میں کھڑی ہوئیں۔
– مارکوس نے خود کو فاتح قرار دیا اور نتیجہ ماننے سے انکار کر دیا۔ الیکشن کے اپنے کمپیوٹر ٹیکنیشن دھاندلی میں مدد دینے کے بجائے کام چھوڑ کر چلے گئے، اور لاکھوں لوگ منیلا کی سڑکوں پر نکل آئے۔ چار دن بعد مارکوس ملک سے فرار ہو گئے، اور کوری اکینو صدر بن گئیں۔
کسی عدالت نے نینوئے اکینو کو آزاد نہیں کیا۔ ان کے خاندان اور ان کے لوگوں نے کیا۔
جب عدالتیں خاموش ہو جائیں تو عوام کو اٹھنا پڑتا ہے۔ آمر ہمیشہ عوام سے اس سے کہیں زیادہ ڈرتا ہے جتنا عوام اس سے ڈرتے ہیں۔ ہم 25 کروڑ ہیں۔ ہمیں اپنی طاقت کا احساس کرنا ہوگا۔
آپ نے یہ حربے کہاں دیکھے ہیں؟
#FreeImranAndFamily
🖤Muhammad Jamil🇵🇰🇦🇪 retweeted
مریم نواز کو سیکھنا چاہئے کہ طلبا کے سامنے کیسے اور کیا گفتگو کرنی ہے۔! بے وقوفوں کی طرح “میں میں میں،مجھ سے پیار ، سو سویٹ، پپی ، جپھی ، خون والے ہاتھوں کے سستے ڈراموں کے بجاۓ کوئی عقل کی بات سمجھانی چاہئے ۔
When the courts belong to the regime, every petition is decided before it is heard.
ANATOMY OF OPPRESSION | No. 3: Silence the courts
The Philippines, September 1972. President Ferdinand Marcos declares martial law, and among the first people arrested is opposition senator Ninoy Aquino, the man widely expected to succeed him. Aquino petitions the Supreme Court for his freedom, but in 1974 the court upholds both martial law and his detention. Three years later, a military commission sentences him to death by firing squad.
Why it works:
– A court ruling turns an arbitrary detention into something that looks like law
– Every rejected petition tells the next detainee that there is no point in trying
– The regime no longer has to defend itself, because it can simply say the courts have spoken
Why it failed:
– Aquino refused to break. He spent seven years and seven months in prison, part of it in solitary confinement, and went on a 40-day hunger strike. After two heart attacks he was allowed to go to the United States for surgery, and three years later, warned that he could be killed, he flew back to Manila anyway. He was shot dead at the airport on 21 August 1983.
– His widow, Cory, who had never held public office, stood against Marcos in the 1986 election.
– Marcos declared himself the winner and refused to accept the result. The election's own computer technicians walked out rather than help rig the count, and hundreds of thousands of people poured onto the streets of Manila. Four days later, Marcos fled the country, and Cory Aquino became president.
No court ever freed Ninoy Aquino. His family and his people did.
When the courts go silent, the people have to rise. A dictator is always more afraid of the people than the people are of him. There are 250 million of us. We need to realise the power we have.
Where have you seen this playbook?
#FreeImranAndFamily
سلام اُس ذاتِ اقدس پر، سلام اُس فخرِ عالم پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں ہر ایک بنی آدم پر
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْﷺ
وعليکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!🌻🌻
جزاک اللہ خيرا کثيرا سلامتی الہی آمين.🤲
اللہ کريم 💛
السلام و عليکم🌻
صبح بحير🌻
حضورﷺ دھڑکنیں دل کی سلام کہتی ہیں
نثار کرتی ہیں ، چشمان اشکبار ، درود😢🙏
💛 سیّدنا کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم 💛
رب کريم مولا بچتن پاک کے صَدقے مرشد عمران خان اور بشری بی بی کی حفاظت فرمائے الٰہی آمين.🤲
Day 46. My mother @DrUzma_KhanPK and my aunts @Aleema_KhanPK and @Noreen_KhanPK, all around 70, remain in Kot Lakhpat Jail without charge under the MPO.
Today the Federal Constitutional Court ordered the Peshawar High Court to stop hearing MPO detention cases "until further orders". The argument put to it: where the army operates, a High Court cannot interfere.
That court was created by the 27th Amendment – the same amendment that made Field Marshal Asim Munir Chief of Defence Forces and gave him immunity from criminal proceedings for life. @UNHumanRights warned it would "seriously undermine judicial independence".
So the state can detain anyone under the MPO, and the courts may not even hear the challenge. In Lahore, my family's petition was closed on a technicality after their detention was extended by another 30 days. Yesterday, the judge did not even show up for my mother's and aunt's hearing.
This is not the rule of law. It is rule by one man.
Charge them or release them.
#FreeImranKhanAndFamily
انگریزوں نے دو بھائیوں کو ان کی سیاست کی وجہ سے قید کیا۔
پھر ان کی والدہ نے ان کی جگہ لے لی۔
1915 میں، پہلی جنگِ عظیم کے دوران، انگریزوں نے ہندوستان کے دو مقبول ترین مسلمان رہنماؤں، محمد علی جوہر اور شوکت علی، کو عثمانی ترکی کی حمایت میں بولنے اور لکھنے پر حراست میں لے لیا، اور چار سال تک بغیر کسی مقدمے کے قید رکھا۔
جب بیٹے قید میں تھے، ان کی بزرگ والدہ آبادی بانو بیگم، جنہیں سب "بی اماں" کہتے تھے، خود میدان میں اتر آئیں۔ 1917 میں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ سے خطاب کیا، اور پھر پورے ملک کا سفر کیا، تقریریں کیں، چندہ جمع کیا اور لوگوں کو تحریک کے لیے متحرک کیا۔ گاندھی انہیں ماں کہہ کر پکارتے تھے۔
1919 میں بھائی رہا ہوئے، مگر دو سال بعد کراچی میں ان پر بغاوت کا مقدمہ چلا۔ انہوں نے الزام سے انکار نہیں کیا، اور انہیں مزید دو سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
1930 میں لندن کی گول میز کانفرنس میں محمد علی نے انگریزوں سے کہا کہ اگر وہ ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو انہیں یہیں قبر دینی پڑے گی۔ دو ماہ بعد لندن ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔
اس کے سترہ سال بعد انگریز راج ختم ہو گیا۔ 1990 میں پاکستان نے بی اماں کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔
آج @ImranKhanPTI اپنی سیاست کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ ان کی بہنوں نے ان کا مقدمہ اٹھایا، تو ریاست نے انہیں بھی قید کر دیا۔
خاندانوں کو قید کرنے والی سلطنتیں قائم نہیں رہتیں، مگر خاندان یاد رکھے جاتے ہیں۔
کیا یہ حکومت مختلف ثابت ہوگی؟
#FreeImranAndFamily













