1971 کی جنگ میں پاکستانی فوج دو سال چار ماہ بھارتی فوج کی قید میں رہی۔ اپریل 1974 میں آخری فوجی بھارت کی قید سے رہا ہو گیا۔
جبکہ عمران خان کی قید کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چُکا ہے۔ یہ قید نے فوجی عدالت کی سزا ہے جو جنگی قیدیوں سے لمبی اور سخت ہو چکی۔
زمہ دار فوج ہے۔
پاکستان میں کوئی بھی مسئلہ آپ کو نظر آئے اس پر
5-why کا اصول لاگو کریں، کھرا فوج کا نکلے گا۔
اسی لیئے مسائل کا حل چاہیئے تو
“حل وہی ہے”
M@ddy Doctor!ne retweeted
عمران خان کی زندگی کیساتھ جو کھلواڑ ہورہا ہے اس کا ذمہ دار صرف عاصم منیر نہیں ہے۔ تازہ حلف اٹھانے والے سیکنڈ لفٹین بھی نوٹ فرما لیں۔ ساری زندگی ہم کمزور اور بے بس نہیں رہیں گے۔
M@ddy Doctor!ne retweeted
بلوچستان میں آپریشن اس لیے نہیں ہورہا کیوں کہ وہ مسلح ہیں اور کشمیر میں اس لیے شروع کردیا گیا ہے کہ وہ نہتے ہیں۔
M@ddy Doctor!ne retweeted
مولانا 8 انچ (بغیر ٹرانسپلانٹ 5 انچ)
نواز شریف 3 انچ
آصف زرداری چار انچ
عمران خان 10 انچ
M@ddy Doctor!ne retweeted
تمہاری بندوق میں اتنی وحشت ہوتی تو سرینڈر کی تصویر بھارتی آرمی چیف کے دفتر میں نہ ٹنگی ہوتی۔ حرامزادو ! غریب پاکستانیوں کے بچے مارنا بند کرو۔
M@ddy Doctor!ne retweeted
ہماری جنریشن کا کوئی بھی بندہ سمجھ جائے گا کہ یہ میم ہے، لیکن یہ بابے ہمیشہ ٹریپ میں آئیں گے اور پھر اپنی اسی مطلق جہالت کے ساتھ سوشل میڈیا پر لیکچر بھی دیں گے۔
Boomers it’s over for you
M@ddy Doctor!ne retweeted
استاد کافر روحانی کی ایک نظم آپ کی نذر کرنا چاہوں گا۔
عرض کیا ہے:
چپکے چپکے کیوں ہو گانڈو
چیخ چیخ مت رو گانڈو
ٹانگی ہے شلوار کہاں
او گانڈو اوہو گانڈو
یا قصے سننے والے
یا پھر قصہ گو گانڈو
تینوں بھی مل سکتے ہیں
اک رنڈی اور دو گانڈو
سو لونڈے ہیں بستی میں
پورے سو کے سو گانڈو
مطلب کی اس دنیا میں
کون کرے کس کو گانڈو
ٹکے ٹکے پر تو نے چدوایا
شرم سے ڈوب مرو گانڈو
گنجی گانڈ نہ ہوجائے
جھانٹیں مت کاٹو گانڈو
اخے خاموشی چالاکی ہے
کوئی بات کرو نہ گانڈو
تم کو کون سمجھ پائے گا
خود سب کو سمجھو گانڈو
کام ہوا گھر کی راہ لو
اب کپڑے بدلو گانڈو
مجھ کو کہنا کچھ بھی نہیں
میری بات سنو او گانڈو
ریڈ پڑی ہے چکلے پر
جلدی سے بھاگو گانڈو
تمہاری ماں چود دوں گا
مجھ سے مت الجھو گانڈو
M@ddy Doctor!ne retweeted
بہن اور بیٹا سنگین صورتحال کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ سیاسی وارث پراعتماد اور پرجوش جیسی بکواس کررہے ہیں۔ قاتلوں کو جپھیاں ڈال رہے ہیں۔ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ پختونخواہ میں حکومت بنانے کا خواب آیا تو اوپر تلے کور کمیٹی کے اجلاس ہوگئے ، صحت اور قید تنہائی پر ایک بھی نہیں ہوا۔
حضرت ابراہیم نے آذر کے بت کدے کے سارے بت توڑ دئیے تھے، لیکن سب سے بڑے بت کو توڑنے کی بجائے اس کے کندھے پر کلہاڑی رکھ دی۔کیونکہ سب سے بڑا بت انسان کے ذہن میں ہوتا ہے جو کلہاڑی سے نہیں، سوال سے ٹوٹتا ہے۔
درویش نے سوال کیا: “کوئی رہ تو نہیں گیا؟”
بنی گالہ کی صفائی شروع۔ بتیاں روشُن کر دی گئیں۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
ٹھنڈی ہوائیں اس لیئے کہ سردیاں آ گئیں۔
بہنوں کی رہائی نہیں ہوئی لیکن خان صاب کو انصاف ملے گا۔
جی جی اور Anthropic کا شیئر 50 ڈالر کا ملے گا۔
M@ddy Doctor!ne retweeted
پاکستان میں جب بھی کوئی ایلیٹ چمکے گا لوگ اسے اس کا پیدائشی حق سمجھیں گے۔ جب بھی کوئی مڈل کلاس اوپر آئے گا حسد میں جل مر جائیں گے۔
یتیم یہو معاشرہ۔
حضرت ابراہیم نے آذر کے بت کدے کے سارے بت توڑ دئیے تھے، لیکن سب سے بڑے بت کو توڑنے کی بجائے اس کے کندھے پر کلہاڑی رکھ دی۔کیونکہ سب سے بڑا بت انسان کے ذہن میں ہوتا ہے جو کلہاڑی سے نہیں، سوال سے ٹوٹتا ہے۔
خان صاب نے فوج سے صرف چند سوال ہی تو کیئے تھے، مسائل کا کھرا فوج تک نکلتا ہے!
M@ddy Doctor!ne retweeted
کیا آپ نے کبھی سنا کہ عمران خان اور انکی بہنوں کی قید تنہائی پر تحریک انصاف کے پے در پے اجلاس ہورہے ہوں؟ کچھ گھاگھ قسم کے لوگ وزارت اعلی کے لیے اور کچھ آئندہ سینٹ انتخابات میں اپنی نشست کے لیے کیسے روز اکٹھے ہوتے ہیں۔
فوج اور تحریک انصاف کی قیادت میں تیزی سے خاتمے کا مقابلہ جاری ہے۔









