Pinned Tweet
تحریک انصاف میں بغاوت یا حق پرستی؟
کتنے ممبران نے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کی؟
علی امین اور سلمان اکرم راجہ کا جھگڑا کیوں؟
youtu.be/tNiPpQ-3zLQ
کرک لتمبر پولیس حملے میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین شہید ہوگئے
ایس ایچ او تھانا لتمبر افضل اعوان نے بھی جام شہادت نوش کیا جبکہ واقعے میں سی ٹی ڈی اہلکار کاظم اوربی ڈی یو اہلکار امجد بھی شہید ہوگئے، پولیس
وزیراعظم طویل عرصہ بعد پشاور کے دورہ پر پہنچ گئے
خیبر پختونخوا کے لئے اربوں کے میگا پیکیج کے اعلان کا امکان
گورنر راج کا گورننس روڈ میپ پلان بھی جاری کیا جائیگا
خیبر پختونخوا میں گورنر راج
ممبران کابینہ کے بعد کلیم سعید سے بھی سرکاری گھر خالی کروا لیا گیا
کلیم سعید کی والدہ جسمانی معذور ہیں جنہیں گود میں اٹھا کر گھر سے بے دخل کیا گیا
ان کیساتھ بدتمیزی بھی کی گئی اور سامان گھر سے نکالا گیا
کلیم سعید ٹی ایم اے کبل میں سکیل 9 کے ٹیکسیشن آفیسر ہیں اور سابق وفاقی وزیر مرادسعید کے بھائی ہیں
مذکورہ گھر ان سے نگران دور میں بھی خالی کروایا گیاتھا
کلیم سعید کینسر کے مریض اور زیر علاج ہیں
اقبال آفریدی نے جو کچھ پارلیمانی پارٹی وٹس ایپ گروپ میں گزشتہ دو ہفتوں میں کہا ہے اگر وہ قیادت سن لیتی تو شائد معاملات اور حالات مختلف ہوتے
اور اگر وہ سب سامنے آگیا تو سوشل میڈیا نے اسے بھی غدار بنا دینا ہے
خیبر پختونخوا اسمبلی پہلے ہی صوبہ ہزارہ کی متفقہ قرارداد منظور کرچکی ہے
باقی آئینی ماہرین بتا سکتے ہیں کہ اسمبلی سے دوبارہ منظوری درکار ہے یا نہیں
سہیل رشید پروگرام شرکاء کو ٹھیک ٹھیک سمجھا رہے ہیں کہ شوق سے صوبے بنائیں مگر حضوراس کیلئے خیبرپختونخواہ اسمبلی بحال کرنا پڑے گی
@SohailRashid8
علی امین زیادہ بولے ہیں یہ ناقابل قبول ناقابل برداشت ہے انہیں جواب مل جائیگا
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ
علی امین گنڈاپور زرا کم سمجھتے ہے یا دیر سے سمجھتے ہے،اُنکی گفتگو ناقابل برداشت ہے اور اسکا جواب اُنکو مل جائے گا۔ سلمان اکرام راجہ
@MalickViews @salmanAraja @AliAminKhanPTI #PTI
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا متفقہ اعلامیہ
21 اکتوبر 2026
خیبر پختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مختلف اہم سیاسی، آئینی اور انتظامی امور پر تفصیلی غور و خوض کے بعد درج ذیل فیصلے اور مطالبات سامنے آئے
1۔ مذاکراتی عمل میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کی نمائندگی
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے اس امر پر زور دیا کہ ہر حکمتِ عملی اور مذاکراتی عمل میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ اس مقصد کے تحت گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں اکثریتی رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ان کے تجربے کی بنیاد پر مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کی جانب سے نمائندہ نامزد کرکے شامل کیا جائے۔
2۔ صوبائی وزیرِ اعلیٰ اور صوبائی قیادت سے متعلق ابہام کی وضاحت
صوبائی پارلیمانی پارٹی کے گزشتہ اجلاس کے حوالے سے پیدا کیے گئے غلط ابہام کی تصحیح اور وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ آئینی طور پر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ روز کے اجلاس میں نہ کوئی بات چیت کی گئی اور نہ ہی کوئی غور و خوض ہوا۔ مزید برآں، ان آئینی و تنظیمی عہدوں سے متعلق نہ تو قانونی اور آئینی طور پر کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔
3۔ مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیان اور ٹویٹ پر تشویش
صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے حوالے سے مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف جناب سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان اور ٹویٹ پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف جناب بیرسٹر گوہر علی خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ مزید برآں، مطالبہ کیا گیا کہ جناب سلمان اکرم راجہ اپنے بیان کو واپس لیتے ہوئے اس پر صوبائی پارلیمانی پارٹی سے معذرت کریں۔
4۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت اور رہنماؤں کی بازیابی کا مطالبہ
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کی منتخب، دو تہائی اکثریت رکھنے والی صوبائی حکومت کے خلاف ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرکے شبِ خون مارا گیا، جو ایک غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم خان سواتی، صوبائی وزراء، اراکینِ صوبائی اسمبلی (ایم پی ایز)، اراکینِ قومی اسمبلی (ایم این ایز)، پارٹی عہدیداران اور کارکنوں کے اغوا اور گرفتاریوں کے واقعات پر شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کیا۔ پارلیمانی پارٹی نے قرار دیا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایک صوبے کی دو تہائی اکثریت رکھنے والی منتخب حکومت کے وزیرِ اعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کا اغوا ایک شرمناک عمل ہے، جو جمہوری اقدار اور آئینی روایات کے منافی ہے۔
پارلیمانی پارٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور مغوی رہنماؤں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ عدالتوں سے بھی اپیل کی گئی کہ ان معاملات میں تاخیری حربوں سے گریز کیا جائے اور فوری قانونی کارروائی کرتے ہوئے مغوی رہنماؤں اور دیگر افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے، تاکہ انہیں انصاف اور قانون کے مطابق اپنے حقوق حاصل ہو سکیں۔
5۔ قائد عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر اسیران کی رہائی کے لیے احتجاجی لائحۂ عمل
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین قائد عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر اسیران کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
پارٹی قیادت اور ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فوری طور پر ایک واضح اور مؤثر احتجاجی لائحۂ عمل دیا جائے، تاکہ موجودہ صورتحال کے خلاف سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو منظم کیا جا سکے۔
6۔ قبائلی اور بندوبستی اضلاع میں غیر آئینی انتظامی ڈھانچے کی مخالفت
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے دہشت گردی کے بیانیے کی بنیاد پر قبائلی اضلاع اور بعض بندوبستی اضلاع میں انتظامی اختیارات کے تحت قائم کیے جانے والے نئے نظام اور اس کے نتیجے میں تشکیل دیے گئے انتظامی ڈھانچے کو متفقہ طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پارلیمانی پارٹی نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ اس معاملے پر قانونی اور سیاسی حکمتِ عملی مرتب کی جائے گی اور دیگر سیاسی جماعتوں و متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر باقاعدہ تحریک چلائی جائے گی۔ مزید برآں، اس انتظامی ڈھانچے کے تحت قائم کیے جانے والے ایریا ریپریزنٹیٹو ڈویلپمنٹ کونسلز (Area Representative Development Councils) کے ذریعے غیر منتخب نمائندوں کو مسلط کرنے کی کوشش کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کیا گیا۔
صوبائی پارلیمانی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے آئینی، جمہوری اور انتظامی حقوق کے تحفظ، منتخب قیادت اور کارکنوں کی بازیابی، قائد عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
جمہوریت کی علمبردار پیپلز پارٹی کا بڑا اقدام
گورنر فیصل کریم کنڈی نے تھری ایم پی او کے تحت اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو تفویض کردئے
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے رپورٹ موصول ہونے پر گرفتاری اور فوری نظر بندی کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر خود کرسکے گا
گورنر فیصل کریم کنڈی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ضلعی سطح پر بروقت اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کیلئے کیا گیا تاکہ انتظامی تاخیر کم ہو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ کاری مضبوط بنائی جا سکے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ تمام ڈپٹی کمشنر ان اختیارات کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں گے
گورنر نے واضح کیا کہ ان اختیارات کا کسی صورت غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
خیبر سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی اور ان کے بیٹے عرفان آفریدی کو گھر سے اغوا کرنے کی اطلاعات
ملگری وکیلان کے بیرسٹر وقار بطور چیف لیگل کونسل ، انصاف لائرز فورم کے صوبائی صدر علی زمان اور مسلم لیگ ق کے انتخاب چمکنی سمیت دو درجن سے زائد وکلاء کو پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ڈی نوٹیفائے کردیا
شہباز گل شہزاد البر قاسم سوری
ان پر پارٹی میں بات ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کو الگ کریں
صوبائی ترجمان پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی
پی ٹی آئی کے تمام پارلیمنٹیرینز عمران خان کے وفادار اور جماعت سے جڑے ہوئے ہیں
سلمان اکرم راجہ
اب ان سب کا کیا ہوگا جو سلمان اکرم راجہ کی ٹوئٹ پر سجدہ شکر بجا لائے اور ایم پی ایز کو غدار قرار دیدیا؟
ایک جانب شفیع جان اور مینا خان سمیت پی ٹی آئی کے 80 سےزائد ممبران اسمبلی روپوش ہیں اپنے گھر تک نہیں جا سکتے وہیں سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے اپنی دوپہر جم میں گزار دی
شکر ہے
کہیں تو پی ٹی آئی کے ساتھیوں کیلئے بھی ریلیف ہے
آج دوپہر جم میں گزاری ہے علی امین کا ردعمل نہیں سنا۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرے ٹوئٹ کا اشارہ کس نے اپنی طرف سمجھا اس کا کسی پارٹی ممبر سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے پارٹی سے باہر کے فیصلہ سازوں کا کہا کہ وہ غیر جمہوری بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ میں نے اس جھوٹے بیانیے کا جواب دیا تاکہ ہمارے غیور ایم پی ایز، ایم این ایز کو علم ہو کہ ہمارا اس جھوٹے بیانیے سے کوئی تعلق نہیں، سلمان اکرم راجہ











