Salar Sultanzai retweeted
Another son forced on to social media & into politics by this venal Pakistani regime …
No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
لیڈر تو تین سال سے جیل میں تھا اب انکی بےگناہ بہنیں پہلے جیل اور اب ہسپتال کی آئی سی یو پہنچ گئی ہیں۔ اور ہماری یہ اوقات ہے کہ ہم دعا اور بددعا کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!
جنوبی ایشیاء میں سیاست واحد شعبہ ہےجہاں "نااہلی" واحد اہلیت ہے۔ اور اہلیت سب سےبڑی خامی۔ بھٹوکوبےضررچیف چاہیےتھاتوآٹھویں نمبرکےضیاءکولےآیا۔ ضیاء کوبےضرروزیراعظم چاہیےتھاتوجونیجوکاانتخاب کیا۔ موجودہ وزیراعظم ایک درخشاں مثال ہیں۔
آپ کے لیے ہمت و استقامت کی دعا ہے نیازی صاحب۔ اللہ آپکے پیاروں کی حفاظت کرے۔ آمین۔
عمران خان کی بہن نورین نیازی کی طبیعت خراب، کوٹ لکھپت جیل سے پی آئی سی منتقلی:
""جیو نیوز کے مطابق، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو دل میں تکلیف کے باعث فوری طور پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے ابتدائی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ نورین نیازی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نظربند ہیں۔""
عمران خان کی بہن نورین نیازی طبیعت بگڑنے پر کوٹ لکھپت جیل سے ہنگامی طور پر دل کے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ دو دن سے ان کی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں گردش کر رہی تھیں۔ ایک اطلاع دل کی تکلیف کی ہے، جبکہ دوسری کے مطابق ان کا بلڈ پریشر چند دنوں سے مسلسل بلند تھا۔
کوٹ لکھپت جیل میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران چار قیدیوں کی پُراسرار اموات کی اطلاعات کے پس منظر میں یہ خبر اہلِ خانہ کے لیے مزید اضطراب کا باعث ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق، وہاں نظربند عمران خان کی تینوں بہنوں، نورین نیازی، علیمہ خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو اب تک کسی فیملی ممبر یا وکیل سے نہیں ملوایا گیا۔ ظلم کی انتہا، اس حالت میں بھی نورین نیازی کو اسی جیل میں قید اپنے اکلوتے بیٹے، حسان خان نیازی، سے نہیں ملوایا گیا ، نہ ہی بیٹے کو ماں کی طبیعت بگڑنے اور ہسپتال منتقلی کی اطلاع دی گئی، نہ ان کی دونوں بیٹیوں کو آگاہ کیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ لاہور کی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری نے پی آئی سی کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایک گھریلو خاتون، وہ بھی بیمار حالت میں ،سے ایسا خوف کہ ہسپتال کے سینکڑوں کی تعداد میں ہسپتال اندر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں! شنید ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور بھی بنفسِ نفیس ہسپتال میں موجود ،کیا دل کے عارضے میں مبتلا نظربند خاتون کے فرار کا اندیشہ ہے؟
یہی مملکت:
بنوں جیل: 15 اپریل 2012، علی الصبح 384 قیدی فرار ہوئے۔😂
ڈیرہ اسماعیل خان جیل: 29 اور 30 جولائی 2013 کی درمیانی رات 253 قیدی فرار ہوئے۔😂
احسان اللہ احسان: 11 جنوری 2020 کو فوجی حصار کو توڑ کر فرار ہوگیا😂
مگر ایک بیمار خاتون کے لیے اس قدر مستعدی، اتنے پہرے اور ایسا حصارکہ دودھ کی جلی ریاست۔
عمران خان کا سیاسی خوف ریاست کے اعصاب پر اس حد تک سوار ہے کہ اسکی بہن کی علالت بھی اہلِ خانہ کو اطلاع دینے اور ملاقات کرانے کے بجائے پہرے بڑھانے پر توجہ مرکوز کہ ریادت خوفزدہ ہے۔
کوٹ لکھپت جیل جس میں پچھلے چند ہفتوں دوران چار قیدیوں کی پُراسرار موت کی خبریں آ چکی ہوں، وہاں کسی عزیزہ کی بیماری کی اطلاع اہلِ خانہ میں سے کسی کو نہ دینا اور میڈیا کے ذریعہ معلوم ہونا ، گھر والوں پر کیا قیامت ڈھاتا ہے، اس کا اندازہ بالم نہیں کر سکتا؟ اقتدار کی لالچ اعر نشہ وقتی تسکین کے سامنےآئین ، اقدار، جان، رشتے اور بنیادی حقوق سب بے وقعت ہیں؟
اے سہل اقتدار! اپنا انجام دیوار پر لکھا دیکھو پڑھو۔ آج شاید دکھائی نہ دے تو بھی تاریخ کا حساب مٹ نہیں جاتا۔ اللہ مجھے اتنی زندگی دے کہ ظلم کرنے والوں کو اپنے کیے کا حساب دیتے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔ پہلوں کا ہم سب دن دھاڑے دیکھ چکا ہوں، ماضی میں بُرے انجام کو پہنچنے والوں کے نام نہیں لیتا کہ پھر بات ذاتیات تک جا پہنچے گی۔
جب مشرف کے خلاف نعرہ بلند ہوا، مکیا تیرا شو، تب جنرل مشرف کے تب وہم وگمان میں نہ ہو گا کہ 2008 اور وفات تک اُن پر کیا بیتنے وسلی تھی۔
باقی رہے نام اللہ کا۔۔
Salar Sultanzai retweeted
عمران خان کی بہن نورین نیازی کی طبیعت خراب، کوٹ لکھپت جیل سے پی آئی سی منتقلی:
""جیو نیوز کے مطابق، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کو دل میں تکلیف کے باعث فوری طور پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے ابتدائی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ نورین نیازی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نظربند ہیں۔""
عمران خان کی بہن نورین نیازی طبیعت بگڑنے پر کوٹ لکھپت جیل سے ہنگامی طور پر دل کے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ دو دن سے ان کی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں گردش کر رہی تھیں۔ ایک اطلاع دل کی تکلیف کی ہے، جبکہ دوسری کے مطابق ان کا بلڈ پریشر چند دنوں سے مسلسل بلند تھا۔
کوٹ لکھپت جیل میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران چار قیدیوں کی پُراسرار اموات کی اطلاعات کے پس منظر میں یہ خبر اہلِ خانہ کے لیے مزید اضطراب کا باعث ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق، وہاں نظربند عمران خان کی تینوں بہنوں، نورین نیازی، علیمہ خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو اب تک کسی فیملی ممبر یا وکیل سے نہیں ملوایا گیا۔ ظلم کی انتہا، اس حالت میں بھی نورین نیازی کو اسی جیل میں قید اپنے اکلوتے بیٹے، حسان خان نیازی، سے نہیں ملوایا گیا ، نہ ہی بیٹے کو ماں کی طبیعت بگڑنے اور ہسپتال منتقلی کی اطلاع دی گئی، نہ ان کی دونوں بیٹیوں کو آگاہ کیا گیا۔
اطلاعات ہیں کہ لاہور کی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری نے پی آئی سی کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ایک گھریلو خاتون، وہ بھی بیمار حالت میں ،سے ایسا خوف کہ ہسپتال کے سینکڑوں کی تعداد میں ہسپتال اندر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں! شنید ہے کہ ڈپٹی کمشنر لاہور بھی بنفسِ نفیس ہسپتال میں موجود ،کیا دل کے عارضے میں مبتلا نظربند خاتون کے فرار کا اندیشہ ہے؟
یہی مملکت:
بنوں جیل: 15 اپریل 2012، علی الصبح 384 قیدی فرار ہوئے۔😂
ڈیرہ اسماعیل خان جیل: 29 اور 30 جولائی 2013 کی درمیانی رات 253 قیدی فرار ہوئے۔😂
احسان اللہ احسان: 11 جنوری 2020 کو فوجی حصار کو توڑ کر فرار ہوگیا😂
مگر ایک بیمار خاتون کے لیے اس قدر مستعدی، اتنے پہرے اور ایسا حصارکہ دودھ کی جلی ریاست۔
عمران خان کا سیاسی خوف ریاست کے اعصاب پر اس حد تک سوار ہے کہ اسکی بہن کی علالت بھی اہلِ خانہ کو اطلاع دینے اور ملاقات کرانے کے بجائے پہرے بڑھانے پر توجہ مرکوز کہ ریادت خوفزدہ ہے۔
کوٹ لکھپت جیل جس میں پچھلے چند ہفتوں دوران چار قیدیوں کی پُراسرار موت کی خبریں آ چکی ہوں، وہاں کسی عزیزہ کی بیماری کی اطلاع اہلِ خانہ میں سے کسی کو نہ دینا اور میڈیا کے ذریعہ معلوم ہونا ، گھر والوں پر کیا قیامت ڈھاتا ہے، اس کا اندازہ بالم نہیں کر سکتا؟ اقتدار کی لالچ اعر نشہ وقتی تسکین کے سامنےآئین ، اقدار، جان، رشتے اور بنیادی حقوق سب بے وقعت ہیں؟
اے سہل اقتدار! اپنا انجام دیوار پر لکھا دیکھو پڑھو۔ آج شاید دکھائی نہ دے تو بھی تاریخ کا حساب مٹ نہیں جاتا۔ اللہ مجھے اتنی زندگی دے کہ ظلم کرنے والوں کو اپنے کیے کا حساب دیتے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔ پہلوں کا ہم سب دن دھاڑے دیکھ چکا ہوں، ماضی میں بُرے انجام کو پہنچنے والوں کے نام نہیں لیتا کہ پھر بات ذاتیات تک جا پہنچے گی۔
جب مشرف کے خلاف نعرہ بلند ہوا، مکیا تیرا شو، تب جنرل مشرف کے تب وہم وگمان میں نہ ہو گا کہ 2008 اور وفات تک اُن پر کیا بیتنے وسلی تھی۔
باقی رہے نام اللہ کا۔۔
جودوست میرصاحب کاجمہوری کرداراجاگرکررہےوہ یہ کیوں بھول جاتےہیں کہ میرصاحب نےاپنےبھائی کو2022کےپنجاب کےاس سول مارشلائی نگران حکومت کاحصہ بنوایاجس حکومت میں خان پرقاتلانہ حملہ ہوا، زمان پارک پرحملہ ہوا، زلےشاہ اوردیگرکارکنوں کاقتال ہوا۔ کون تھااس حکومت کاترجمان؟
حامد میر صاحب نے باقاعدہ جس طرح پی ڈی ایم کے جلسوں میں شرکت کرکے، اور انہوں نےاور سلیم صافی نے جس شدمد سے، بلکہ نواز اور زرداری سےبڑھ کر جس طرح عمران خان حکومت کے خلاف کیمپئین کی؛ میرے خیال میں اس کیمپئین نے ریجیم چینج کی سازش میں اہم کرداراداکیا۔ ریجیم چینج کےبعد پاکستان جس طرح بربادی کی کھائیوں میں گرا، اس مناسبت سےقوم کو حامد میر اور سلیم صافی کا کرداربالکل فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
RT @KhanShershah: For the past few hours, we have been receiving deeply concerning reports circulating on social media that my aunt, @Noree…
چوہدری صاحب آپ تجزیہ کار بھی رہے ہیں، سیکریٹری انفارمیشن بھی رہے ہیں، وزیراطلاعات بھی رہے ہیں۔ آپکو اچھی طرح معلوم ہے کہ بہترین پروپگنڈا 9 بےضرر سچ کے ساتھ ایک بدترین زہریلا جھوٹا بہتان ملانے سے بنتاہے۔ ان جمہوروں نے ملک و ملت کی خدمت کی یاطاقتوروں کی یہ آپ اچھی طرح جانتےہیں۔
لوگ انکو "رانی آپا" کہتے ہیں۔ چہرے پر مدرانہ معصومیت کھوٹ کھوٹ کر بھری ہے۔ بھائی اور بیٹا تین سال سے پابند سلاسل ہیں۔ اڈیالہ جاتے واٹر کینن، شیلنگ ہوتی تو آنکھوں میں ہلکے سے موتی چمکتے لیکن منہ سے گلہ نا کرتی۔ مہینے سے زائد سے بےگناہ جیل میں ہیں اور اب دل میں تکلیف کیوجہ سے ہسپتال لےگئے ہیں۔ اللہ ظالموں کو برباد کر!
Salar Sultanzai retweeted
Rangers firing straight into unarmed citizens at Zaman Park as if they are attacking an enemy force on the battlefield.
اللہ نورین آپا کو مکمل صحتیاب کرے اور ظالموں کو شرم کی توفیق ہو جنہوں نے 70 سالہ خواتین کو بغیر کسی قصور کے بلاجواز جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔
حامد میر صاحب نے باقاعدہ جس طرح پی ڈی ایم کے جلسوں میں شرکت کرکے، اور انہوں نےاور سلیم صافی نے جس شدمد سے، بلکہ نواز اور زرداری سےبڑھ کر جس طرح عمران خان حکومت کے خلاف کیمپئین کی؛ میرے خیال میں اس کیمپئین نے ریجیم چینج کی سازش میں اہم کرداراداکیا۔ ریجیم چینج کےبعد پاکستان جس طرح بربادی کی کھائیوں میں گرا، اس مناسبت سےقوم کو حامد میر اور سلیم صافی کا کرداربالکل فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
7 ستمبر کو پورا زرداری خاندان ملک چھوڑ کرجاچکاتھا۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کو تڑیاں لگارہی تھی۔ ادی فریال ٹالپور بھی گرج رہی تھی۔ تبصرہ کار کہتے کہ زرداری راحیل شریف دور میں بھی ڈیڈھ سال بیرون بیٹھا اور پارٹی سے مزاحمت کروائی۔ ہم خوش کہ چلو یہ ٹرائیکا ٹوٹا، اب تھوڑی سپیس ملےگی۔ خان کا علاج، خاندان، ڈاکٹرز اور رہنماوں کی رسائی تو مزاکرات سے پہلے مل جانی۔ خان ایک مہینہ ڈیڈھ آرام کرلیگا، انکی صحت ٹھیک ہوجائیگی۔ خاندان کو تھوڑا سکون مل جائیگا۔ شاید دیگر اسیران کو بہتر ریلیف ملے۔ ہم صبح اٹھے تو ہماری طرف سے "ایسی کی تھیسی" والی تقریریں ہوچکی تھی۔ اس وقت بھی ہاتھ جوڑیں کہ وقت ہے فیصلوں میں ابھی۔ آپ انکو آپس میں لڑنے دیں۔ اپنے لیڈر کا علاج کرائیں۔ بیچ میں مزاکرات چلتے رہیں۔ نہیں سمجھ آئی تو خان صاحب خود منع کردینگے۔ جلدی کیا ہے؟۔ خیر جلدبازی ہوئی۔ دھواں دار تقریریں ہوئی۔ اگلے شاید واپس زرداری کے پاس گئے کہ آجاو سائیں واپس۔۔۔ آپ کی دو سن لینگے دو سنا دینگے۔ ادھر تو اتنی جلدی تھی کہ اتنا انتظار نا کیا کہ ہمیں ہی استعمال کرکے دو کام نکلوا لیتے۔ زرداری واپس آیا اور ٹرائیکا پھر متحد ہوگیا۔ بتاو پھر اب کیا زرداری کے ہی گورنر کا ہمارا صوبہ نا ملا؟ یا وہ سب مل کر ہمیں چھپیڑیں نہیں کروا چکے؟ گورنر راج نافظ، وزیراعلی اغواء، اسپیکر اغواء، صوبائی صدر اغواء، بیس پچیس ایم این ایز، ایم پی ایز اغواء، سینکڑوں ورکرز اندر اور خان صاحب کی بہنیں اندر۔۔۔
اب پھر گزارش کرتے ہیں ہاتھ جوڑ کر۔۔۔اب دوسری چلانگ میں جلدی نا کرو۔۔۔ بول دو کہ لیڈر کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہسپتال شفٹ کرو، بہنوں کو رہا کرو۔ ڈاکٹرز کی رسائی دو، سیاسی رفقاء کی رسائی دو۔ انکے سامنے معاملات رکھنے دو۔ عمران خان نے آپ دوستوں کو یہ طاقت بطور امانت دی ہے۔ اسکو عقل اور اخلاص دونوں کے زریعے استعمال کرکے عمران خان اور پاکستان کےلیے فائدہ لائیں۔ ان تک معاملات پہنچائیں۔ پھر آگے انکی مرضی۔
نوٹ: یہ محبت ہے گلہ نہیں ہے 🙏
شاید اگر راجہ صاحب اس وقت جزبات کی بجائے سیاسی انداز سےمعاملات چلاتے توزرداری اتنی جلدی واپس ملک ناآتا اور خان صاحب کی ہسپتال منتقلی، علاج، خاندان، ڈاکٹرز،رہنماوں تک رسائی حاصل ہوجاتی۔شایدہماری لانگ مارچ کےڈیمانڈبھی یہی تھے؟ انہوں نےبغیرمشاورت تقاریرکرڈالی۔ بہت تالیاں ملی۔
جب راجہ صاحب نے سندھ میں نئے صوبوں کی مخالفت کی تھی تو انسے گزارش کی کہ اگر آپکو کسی نے اپروچ کیا ہے توانسے کہیں ہمارے لیڈرکوسپریم کورٹ کےحکم کےمطابق ہسپتال لےجائیں۔ خاندان، ڈاکٹرز،رہنماوں کی رسائی دیں۔ مدعہ انکےسامنے رکھینگے وہ فیصلہ کرینگے۔ اب جودوست حق میں ہیں انسےبھی یہی گزارش ہے۔
"عمران خان تو برداشت کرلےگا۔ آپ نہیں برداشت کرسکینگے۔ میں پھر سے کہتا ہوں جتنا میں کرسکتا تھا میں نے اپنے ملک کےلیے کیا۔ یہ میں احسان نہیں کررہا یہ میرا فرض تھا۔ اللہ نے مجھے اتنا دیا یہ میری زمہ داری تھی میں اپنے ملک کی خدمت کرتا"۔
عمران احمد خان نیازی🤎
Salar Sultanzai retweeted
شانگلہ میں تجاوزات کیخلاف آپریشن کے دوران ایک بچہ جاں بحق، 7 بچے ڈوب گئے۔ انتظامیہ نے آپریشن میں عمارت گرائی، عمارت کی سیڑھی پر بچے کھڑے تھے۔ سیڑھی ٹوٹی، 8 بچے نالے میں گر گئے، ایک دم توڑ گیا
گزشتہ مہینے کی 18 تاریخ کو ایک تھانے کےسامنےسےدوراہگیرتحریک انصاف کےنام پراٹھاکرتھری ایم پی اومیں جیل بھیج دیےگئے۔میں نےایک جاننےوالےسےبات کی کہ میں ایم پی اےکینڈیڈیٹ یاآفس ہولڈرزکانہیں کہتامجھےمعلوم ہےہم زیرعتاب ہیں اورآپ مجبور،وہ ہم عدالتوں سےکرلینگے۔یہ راہگیرچھوڑدیں یہ غریب لوگ ہیں۔ چالیس دن سے بےگناہ جیل ہیں۔ اس شخص کی مہربانی اسنےآگےبات کی ہوگی۔ آگے والوں نےاسکو ڈیڈھ سال پرانا پوسٹربھیج دیاجس میں ان بیچاروں کی میرےساتھ کسی پینافلیکس میں تصاویر تھی۔ میں نےکہابھائی تصاویرتومیری شاید آپکےسابقہ وزیراعظم انوارالحق کاکڑ صاحب کےساتھ بھی ہوں جب وہ ہمارے اتحادی تھے۔ میں کونسا اسامہ بن لادن یا ایمن الظواری ہوں کہ میرے ساتھ جس کی تصویر آگئی آپ نے اسکو گوانتونامےبے بھیجنا ہے؟ دوسرا میں ان بدبخت مخبروں پر حیران ہوں جو کوئٹہ کینٹ کے چاکری میں پارٹی کے لوگوں کا سوشل میڈیا کنگال کر سالوں پہلے کی تصاویر تھما رہے کہ ان پر سختی کرو۔ لوگوں کے گھر بتارہے، آفس ہولڈرز کے نام، والد کے نام بشمول عہدے بتارہے۔ آج ہم مفرور ہونگے، علاقوں سے دور ہونگے۔ ہمارے گھر، خاندان، رشتہ داروں، دوستوں کے ایڈریس اور ٹھکانے لکھواو۔ آج تم نے جو کرنا ہے کرو۔ لیکن وقت تو بدل جاتا ہے۔ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ اور مخبر سے بدتر گالی ہو نہیں سکتی۔ نا اس سے بدتر لعنت ہوسکتی ہے۔ یہ لعنت تمہارے گلے میں ڈالینگے۔ اور حساب کرینگے انشاءاللہ۔
















