Pinned Tweet
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين وخاتم النبيين، سيدنا، وقرة أعيننا محمد، وعلى آله وأصحابه أجمعين، وعلى من تبعهم بإحسان إلى يوم الدين.
مرحبا اے موسمِ سرما!
تیری راتوں میں قیام آسان اور تیرے دنوں میں روزہ رکھنا آسان!
-(حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے ماخوذ؛ لطائف المعارف)
فتحِ #AbdulElSayed
دنیا میں سیاہ و سفید اکثر کچھ نہیں ہوتا، زندگی کے بہت سے حصے سرمئی / grey ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی واضح اور ایسی ٹھوس ہیں کہ ان میں یا سیاہ ہوتا ہے یا سفید، بیچ میں کوئی چیز نہیں ہوتی اور اگر ہوتی ہے تو کئی بار وہ چیز سیاہ سے بھی بد تر کہلائی جاتی ہے۔ مثلاً سیاہ کفر ہے تو سفید ایمان اور اس کے بیچ کی چیز نفاق۔
ایمان و کفر ہی کا دوسرا نام حق و باطل ہے۔
دنیا میں ایک طرف حق ہے، یعنی اللہ کا دین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی وحی اور نظامِ شریعت۔ دوسری طرف باقی سب باطل ہے؛ وہ مکہ کا قدیم مشرکانہ نظام ہو یا اس زمانے کی ایرانی آتش پرستی یا رومی عیسائیت یا گمراہ بنی اسرائیل کا طرز... یا یونان کے توہم پرست عقائد، فلسفے یا جدید جمہوریت کے اساسی نظریات۔ آج کی دنیا دیکھیے تو آج بھی روشن و واضح، طاہر و مطہر نظامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے یا اس کو قائم کرنے کی کوششیں یا پھر اُنہی قدیم شرکیات کی جدید شکلیں، جن میں مشہور چیز مغرب کا سیکولرازم ہے، جو کبھی رائٹ کی طرف جھکتا ہے تو کبھی لیفٹ کی طرف۔
اسی سیکولرازم کا نیا چہرہ امریکی ریاست مشیگن سے منتخب ہونے والا وہ ڈیموکریٹ امید وار ہے جو اپنا نام "عبد الرحمن محمد السید" بتاتا ہے اور اپنی فتح پر "الحمد للہ" کا ورد کر رہا ہے۔
عبدول السید کی فتح کو مسلمانوں کی فتح سمجھنے سے قبل صرف ایک لحظے کو رک کر امریکہ و امریکی نظام کو سمجھ لیجیے، اس آئین کی بنیادی بنیادی باتیں جان لیجیے (اگرچہ یہ باتیں کسی مسلمان کے سامنے بیان کرتے ہوئے عجیب سا محسوس ہو رہا ہے، لیکن کیا کیجیے کہ اگر ہم عبدول السید کی فتح کو وما النصر الا من عند اللہ اور نصر من اللہ وفتح قریب کہہ رہے ہوں):
1. حاکمیتِ اعلیٰ (Sovereignty): امریکی آئین کی بنیاد عوامی حاکمیت پر ہے، یعنی اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں یعنی خدائے واحد نہیں۔
2. مذہب اور ریاست کی علیحدگی: امریکی آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) ریاست کو کسی مذہب کے قیام یا سرکاری مذہب کے نفاذ سے روکتی ہے اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ یعنی تثلیث پرست عیسائی اور نفس پرست یہودی، ایک سیکولر ملحد و دہریہ اور ایک کلمہ گو برابر ہیں اور اللہ کی شریعت جس کا قیام فرض ہے، امریکی شریعت کے حساب سے اس شریعتِ الٰہی کا نفاذ غیر قانونی ہے۔
اسی آئین پر عبدول السید حلف اٹھائے گا۔
ہم سادہ لوح دین داروں سے اچھا تو پاکستانی دیسی سیکولر فواد چودھری ہے جس نے عبدول السید کی فتح کو سیکولر ازم کی فتح قرار دیا۔
بے شک یہ سیکولر ازم کی فتح ہے، باطل کی فتح اور اہلِ حق اس فتحِ باطل کو خدائے واحد کی نصرت سے عنقریب مٹی میں ملا دیں گے!
Moinuddin Shami retweeted
#محمد_الضيف
شہداء کی یاد منانا اور ان کے ساتھ ہونے کی آرزو کرنا یہ بڑے عظیم کام ہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ عظیم و عزیم کام ان شہداء کی وراثت کو سنبھالنا، ان کے روشن کیے چراغوں کو جلائے رکھنا اور ان کا ظاہری و معنوی اسلحہ تھامنا ہے۔
#محمد_الضيف
شہداء کی یاد منانا اور ان کے ساتھ ہونے کی آرزو کرنا یہ بڑے عظیم کام ہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ عظیم و عزیم کام ان شہداء کی وراثت کو سنبھالنا، ان کے روشن کیے چراغوں کو جلائے رکھنا اور ان کا ظاہری و معنوی اسلحہ تھامنا ہے۔
Moinuddin Shami retweeted
په سیمه کې د قومپالنې یوه نوې څپه را الوتلې ده.
له یوې خوا د پښتنو د قومپالنې څپه ده چې له ځان سره یې د سیمې ځینې دینداره اشخاص هم په مخه کړي دي. هغوی د بریتانیا، روسیې او امریکا د ماتې لامل د پښتونولۍ پر بنسټ ولاړ افغانیت ګڼي؛ او له همدې امله پېښور او کابل د یوه هېواد برخې ګڼي.
له بلې خوا «چړدا پنجاب» (ختیځ، یعني هندي پنجاب) او «لِیهندا پنجاب» (لوېدیځ، یعني پاکستانی پنجاب) ته ګډ پنجاب ویل کېږي. او داسې انګېرل کیږي چې «امرتسر» او «لاهور» د یوه تمدن برخه دي؛ د چا خبره، موږ هم الو ګوشټ (غوښه او کچالو) خورو او هغوی هم الو ګوشټ خوري.
قومپالنه که افغاني وي او که پنجابي؛ دواړه زهر دي، هلاکت دی.
افغانانو ته چې عزت ور په برخه شوی، نو د جهاد او د محمدي دین صلی الله علیه وسلم د اقامت له امله ور په برخه شوی او (د جهاد) په دې سفر کې پنجابیان هم ورسره اوږه په اوږه شریک پاتې شوي دي.
همدا رنګه پنجاب چې له «چړدا پنجاب» څخه جلا شو، نو د لا إله إلا الله پر بنسټ جلا شو.
نه مو افغانیت ګډ دی، نه پنجابیت. زموږ ترمنځ ګډ او مشترک خو یوازې د «لا إله إلا الله محمد رسول الله» مبارکه کلمه ده!
په سیمه کې د قومپالنې یوه نوې څپه را الوتلې ده.
له یوې خوا د پښتنو د قومپالنې څپه ده چې له ځان سره یې د سیمې ځینې دینداره اشخاص هم په مخه کړي دي. هغوی د بریتانیا، روسیې او امریکا د ماتې لامل د پښتونولۍ پر بنسټ ولاړ افغانیت ګڼي؛ او له همدې امله پېښور او کابل د یوه هېواد برخې ګڼي.
له بلې خوا «چړدا پنجاب» (ختیځ، یعني هندي پنجاب) او «لِیهندا پنجاب» (لوېدیځ، یعني پاکستانی پنجاب) ته ګډ پنجاب ویل کېږي. او داسې انګېرل کیږي چې «امرتسر» او «لاهور» د یوه تمدن برخه دي؛ د چا خبره، موږ هم الو ګوشټ (غوښه او کچالو) خورو او هغوی هم الو ګوشټ خوري.
قومپالنه که افغاني وي او که پنجابي؛ دواړه زهر دي، هلاکت دی.
افغانانو ته چې عزت ور په برخه شوی، نو د جهاد او د محمدي دین صلی الله علیه وسلم د اقامت له امله ور په برخه شوی او (د جهاد) په دې سفر کې پنجابیان هم ورسره اوږه په اوږه شریک پاتې شوي دي.
همدا رنګه پنجاب چې له «چړدا پنجاب» څخه جلا شو، نو د لا إله إلا الله پر بنسټ جلا شو.
نه مو افغانیت ګډ دی، نه پنجابیت. زموږ ترمنځ ګډ او مشترک خو یوازې د «لا إله إلا الله محمد رسول الله» مبارکه کلمه ده!
Moinuddin Shami retweeted
خطے میں قوم پرستی کی ایک نئی صورتِ حال پیدا ہے۔
ایک طرف ایک ایسا پشتون قوم پرستی کا narrative (بیانیہ) ہے جو خطے کے بعض متدین حضرات کو بھی ساتھ بہا کر لے جا رہا ہے۔ وہ پشتون قوم پرستی پر مبنی افغانیت کو برطانیہ و روس و امریکہ کی شکست کا سبب قرار دینے لگ جاتے ہیں۔ پشاور و کابل کو ایک ہی ملک کا حصہ اس سبب قرار دیتے ہیں۔
دوسری طرف چڑھدا پنجاب (مشرقی یعنی ہندوستانی پنجاب) اور لہندا پنجاب (مغربی یعنی پاکستانی پنجاب) کو سانجھا پنجاب کہا جا رہا ہے۔ امرتسر اور لاہور کی ایک ہی تہذیب ہے کہا جا رہا ہے، بقولِ شخصے ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں وہ بھی آلو گوشت کھاتے ہیں۔
قوم پرستی افغانی ہو یا پنجابی؛ دونوں ہی زہر ہیں، ہلاکت ہیں۔
افغانوں کو عزت ملی ہے تو جہاد کے سبب اور اقامتِ دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب اور اس سفر میں ان کے ساتھ پنجابی بھی شانے سے شانہ ملا کر شریک رہے۔
اور لہندا پنجاب جو چڑھدے پنجاب سے الگ ہوا تو لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر۔
نہ ہماری افغانیت سانجھی ہے، نہ پنجابیت۔ سانجھا ہے تو بس لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ!
خطے میں قوم پرستی کی ایک نئی صورتِ حال پیدا ہے۔
ایک طرف ایک ایسا پشتون قوم پرستی کا narrative (بیانیہ) ہے جو خطے کے بعض متدین حضرات کو بھی ساتھ بہا کر لے جا رہا ہے۔ وہ پشتون قوم پرستی پر مبنی افغانیت کو برطانیہ و روس و امریکہ کی شکست کا سبب قرار دینے لگ جاتے ہیں۔ پشاور و کابل کو ایک ہی ملک کا حصہ اس سبب قرار دیتے ہیں۔
دوسری طرف چڑھدا پنجاب (مشرقی یعنی ہندوستانی پنجاب) اور لہندا پنجاب (مغربی یعنی پاکستانی پنجاب) کو سانجھا پنجاب کہا جا رہا ہے۔ امرتسر اور لاہور کی ایک ہی تہذیب ہے کہا جا رہا ہے، بقولِ شخصے ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں وہ بھی آلو گوشت کھاتے ہیں۔
قوم پرستی افغانی ہو یا پنجابی؛ دونوں ہی زہر ہیں، ہلاکت ہیں۔
افغانوں کو عزت ملی ہے تو جہاد کے سبب اور اقامتِ دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب اور اس سفر میں ان کے ساتھ پنجابی بھی شانے سے شانہ ملا کر شریک رہے۔
اور لہندا پنجاب جو چڑھدے پنجاب سے الگ ہوا تو لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر۔
نہ ہماری افغانیت سانجھی ہے، نہ پنجابیت۔ سانجھا ہے تو بس لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ!
ona «Hörmət» adının verilməsi, sonra hicabın «dörd metrlik parça» və «çadır» adlandırılması, ardınca isə onu çıxarmaq səfəri...
Dərdimi kimə deyim, bağrımı kimə yarım?!...
2/2
#AzerbaycandaBasörtüsüZulmü
Azərbaycan kimi dünyəvi bir ölkədə hicablı azyaşlı qızların göz yaşları, iman və həya duyğuları...
Digər tərəfdə isə Pakistan kimi İslam ölkəsində hicabın təhqir hədəfinə çevrilməsi,
1/2
آذربائیجان جیسے سیکولر ملک میں حجاب والی کم عمر بچیوں کے آنسو اور ان کا جذبۂ ایمان و حیا۔
دوسری طرف پاکستان جیسے اسلامی ملک میں حجاب کو تحقیر کا نشانہ بنانا، نام حرمت رکھنا اور پھر اس میں حجاب کو چار میٹر اور ٹینٹ کہنا اور پھر اس کو اتارنے کا سفر۔
دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں..
Moinuddin Shami retweeted
امیرِ شہر تیرے شیش محلوں سے ہمیں اچھا
وہ اک چھپّر کا حجرہ ہے، درخشاں سب نگینوں میں
احسن عزیز شہیدؒ
(تمہارا مجھ سے وعدہ تھا)
#يوم_الجمعة
#صلى_الله_عليه_وسلم
[آپؐ کے حجرۂ مبارکہ کا ایک تخیلاتی ماڈل جو سیرت کی کتب میں موجود تفصیل کو دیکھ کر بنایا گیا ہے۔]
بقول مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ:
”اگر ایک مسلمان سپاہی کو ایک مسلمان کے قتل اور کورٹ مارشل اور تختۂ دار میں انتخاب کرنا پڑ جائے تو اسے چاہیے کہ کورٹ مارشل اور تختۂ دار کا انتخاب کرے!“
2/2
یہ ہے وہ ایمانی عقیدہ جس کو الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کہتے ہیں۔ وہ ایمانی عقیدہ جو آپ کو قتل گاہ کی طرف کشاں کشاں لے جاتا ہے، لیکن اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف ایک گولی بھی نہیں چلانے دیتا!
یہی کردار مسلم افواج کے سپاہیوں سے آج بھی مطلوب ہے!
1/2
1914ء: سنگاپور میں ہندوستانی مسلمان فوجیوں کو عثمانی سلطنت کے خلاف لڑنے سے انکار کرنے پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
This quoted post is unavailable.
میں سوچ رہا تھا کہ اقامتِ دین کی خواہش رکھنی والی، مفکر ہونے کی دعوے دار، نسبتاً دین کی طرف مائل نئی نسل میں جولانی کی محبت کا سبب کیا ہے؟
اس پر ایک دوست سے بات ہوئی تو اس نے اچھی توجہ دلائی کہ جن کے نزدیک اردگان آئیڈیل ہے تو وہ جولانی کے بھی فین ہو جائیں گے۔
اس پر خیال آیا کہ اس دوست کی بات درست ہے۔ مغرب نے فکر و تفکر کے لیے جو سانچے اور پیمانے مقرر کیے ہیں، ادارے بنانا، ان کو مضبوط کرنا اور ان کے ذریعے ایک ایسی ٹھنڈی میٹھی تبدیلی لانا جو دنیا میں کبھی نہ آ سکی ہے، اس کام یا ڈھکوسلے کے لیے اردگان ایک اچھا گمراہ "رول ماڈل" ہے، نہ رب روٹھے، نہ دنیا چھوٹے!
ایسے میں جو کمی اردگان کے کردار و عمل میں موجود ہے اور اس کے سبب ایسے حضرات و جوانوں کے دل میں جو چبھن سی ہوتی ہے تو اس کا علاج جولانی ماڈل کر دیتا ہے۔ یعنی ٹھنڈی ٹھنڈی تبدیلی کے ساتھ کچھ گرم و پر جوش محنت جو جوانوں کو متاثر کرتی ہے۔
یوں اردگان+جولانی ماڈل کے ذریعے بھائی "ضمیر" کی اچھی تسکین ہو جاتی ہے!
اللہ کسی بندۂ خدا کو موقع دے تو اس جعلی pragmatism اور practicality کی قلعی کھولے اور بتائے کہ practicality سے قبل اللہ کی رضا مطلوب ہے اور اس کے بعد پریکٹیکل راہ وہی ہے جو اردگان نے ذرا سی چل کر اور جولانی نے بہت سفر کے بعد چھوڑ دی۔
ومن اللہ التوفیق!
د شام خاوره!
لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا... (سورۃ الانفال: 37)
”تر څو الله ناپاک له پاک څخه جلا کړي، او ناپاکان یو پر بل سره راټول کړي او ټول یې په یوه ډله کې سره غونډ کړي...“
ټولې ستاینې د هغه الله لپاره دي چې د جهاد او ازموینو له لارې د جهاد د اهل خلکو صفونه هم پاکوي...
اې الله! موږ له تا څخه د خیر په خاتمه سوال کوو، آمین!
ارضِ شام!
لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا... (سورۃ الانفال: 37)
”تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے، اور ناپاکوں کو ایک دوسرے پر جمع کر کے سب کو ڈھیر بنا دے...“
تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو جہاد و آزمائشوں کے ذریعے اہلِ جہاد کی صفوں کو بھی پاک فرماتا ہے...
اے اللہ ہم تجھ سے خاتمہ بالخیر مانگتے ہیں، آمین!







