چَشمِ تَر میں نہ رَھی ٫ بات وہ پہلے جیسی
اے غمِ جاں ٫ یہ زیاں دِل کا زیاں ٫ ھے کہ نہیں؟
❞نَصیر تُرابی❝
فرمان حضرت سیدنا شیخ عبد القادرجیلانیؒ
اے صاحبزادے اپنے عمل پر غرور نہ کر اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے تم پر لازم ہے اللہ سے خاتمہ بالخیر کا سوال کیا کرو اور یہ کہ اللہ تجھے اپنی طرف محبوب ترین (اعمال) کے ساتھ اٹھائے اور ایمان پر موت نصیب کرے۔
(الفتح الربانی ، ص 186)
اب مجھ میں عام سی گفتگو کرنے کی بھی توانائی نہیں رہی
اب تو سادہ سی بات چیت بھی مجھے تھکا دیتی ہے۔ کبھی کبھی خواہش ہوتی ہے کہ خاموش رہ سکوں، بغیر اس کے کہ کوئی یہ سمجھے کہ مجھے کوئی مسئلہ ہے یا میں اب اُس کی موجودگی نہیں چاہتا۔
بظاہر زندگی اپنے معمول پر رواں ہے مگر روح میں بہت دور کہیں ایک ایسی ویرانی اتر چکی ہے جسے نہ لفظوں میں سمیٹا جا سکتا ہے نہ راتوں کی خاموشی میں بھلایا جا سکتا ہے۔
شور کے اس دور میں اصل خوبصورتی خاموشی سے آگے بڑھنے، دوسروں سے نہیں خود سے مقابلہ کرنے اور دکھاوے سے نہیں کردار سے جینے میں ہے۔
حبس زدہ شام کے سناٹے میں ٹھہری ہر اذیت کے احساس پر چیخو، یہاں تک کہ تم قوتِ گویائی سے محروم ہو جاؤ '
اک زخم مجھ کو چاہئے میرے مزاج کا
یعنی ھرا بھی چاہئے،گہرا بھی چاہئے
کیا ہے جو ہوگیا ہوں میں تھوڑا بہت خراب
تھوڑا بہت خراب تو ہونا بھی چاہئے
جواد شیخ
