*Abandoned projects*
_Dr Abdul Qadeer Memon_
THE decision by the Sindh government to provide Rs55 billion in direct cash assis-tance for diammonium phosphate (DAP) and urea under the Wheat Growers Support Programme will undoubtedly provide temporary relief to small farmers. However, it also raises a fundamental policy question: why does Sindh repeatedly resort to subsidy programmes while long-promised agro-industrial projects remain abandoned?
In 2004, the government had announced the establishment of #Agricultural_Export_Processing_Zones (AEPZs) in Mirpurkhas, Hyderabad, Sakrand, Naushahro Feroze and Ghotki. These zones were designed to provide collection, grading, processing, packing and cold storage facilities to promote agricultural exports and increase farmers’ incomes. More than two decades later, the Naushahro Feroze #AEPZ lies abandoned, while the fate of the remaining proposed zones remains largely unknown.
In 2020, another initiative — the #Naushahro_Feroze_Agro_Food_Industrial_Park under the Special Economic Zones framework — was announced to promote agro-based industrialisation. Yet, little public information is available regarding its implementation or its current status.
More recently, the Sindh Water and Agriculture Transformation (#SWAT) project, supported by the World Bank, introduced several reforms that are aimed at improving agricultural productivity and value chains. While these objectives are commendable, long-term agricultural transformation cannot depend primarily on recurring cash transfers. Sustainable growth requires investment in processing facilities, cold chains, research, marketing infrastructure, value addition and agro-based industries.
Rather than introducing a new support package every few years, the government should first explain what became of the projects announced in 2004 and 2020. Reviving and completing these initiatives would create permanent employment, strengthen exports, and provide farmers with sustainable income opportunities instead of their seasonal dependence on subsidies. Farmers in Sindh deserve lasting initiatives, not merely temporary relief.
Dr Abdul Qadeer Memon
Naushahro Feroze
Published in Dawn, August 24th, 2026
#SindhIsOne
@CMSindh @TeamChiefSardar
@WBG_Pakistan @WBGPubs
@WorldBankGroup @AgriSindh
@SindhAgri @sindhinfodepart
@dawn_com @ZaraHatKay_Dawn
dawn.com/news/2024941/a…
چار سالن جي اندر....👇
20 لک وارو روسي ٽريڪٽر 70 لک جو ٿي ويو،
2 لک واري گوبل 10 لک جي ٿي وئي
ڀاڻ ڊي اي پي 9 ھزار واري 18 ھزار ٿي وئي
يوريا 25 سئو وارو 48 سئو تي پھتو
هاري جي 200 واري ڪوڏر 2000 جي ٿي وئي
ڊيزل 150 روپيا في ليٽر 400 روپيا في ليٽر ٿي وئي
آبادگار ھارين جي جنس جا اگھ ٽڪي ڌڙي
چار سالن کان سارين جو ريٽ 2200 کان 2700 روپيا في مڻ تي بيٺل آهي، جڏهن ته زمين لاء استعمال ٿيندڙ مشينون ڀاڻ، ڊيزل، زرعي دوائون، مزدوري ۽ ٻين خرچن ۾ ڪيترائي ڀيرا واڌ ٿي چڪي آهي. آخر ڪهڙي شئي آهي جيڪا چئن سالن ۾ ساڳئي ريٽ تي بيٺل آهي...؟
آبادگارن جي محنت ۽ وڌندڙ زرعي خرچن کي نظر ۾ رکندي سارين جو گهٽ ۾ گهٽ اگھ 4000 رپيا في مڻ مقرر ڪيو وڃي، جيئن آبادگارن کي سندن محنت جو جائز معاوضو ملي سگهي cp
@TeamChiefSardar
@SardarM86930180
@AgriSindh
@CMSindh @MuradAliShahPPP @WusatUllahKhan @geonews_urdu
Replying to @PIsmial22482
جناب @BBhuttoZardari آپ نے جو نوشهرو فيروز یونیورسٹی کیلئے 2024 کی الیکشن ورک کے دوران جلسے میں اعلان کیا تھا، اس بات تو دوسال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے، کہاں ہے وہ اعلان شدہ "نوشہروفیروز یونیورسٹی "
@MuradAliShahPPP
نوشہرو فیروز میں صفائی، ڈرینج اور اسٹریٹ لائٹس کا نظام بدترین صورتحال کا شکار! سندھ حکومت آخر کب تک عوامی مسائل سے چشم پوشی کرتی رہے گی؟
میونسپل بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ عوام کو دعوے نہیں، عملی ترقی چاہیے!
#SindhIsOne
@NasirShahOffice
نوشہرو فیروز میں صفائی، ڈرینج اور اسٹریٹ لائٹس کا نظام بدترین صورتحال کا شکار! سندھ حکومت آخر کب تک عوامی مسائل سے چشم پوشی کرتی رہے گی؟
میونسپل بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ عوام کو دعوے نہیں، عملی ترقی چاہیے!
#NewUnitsPublicDebate
Dr A Qadeer Memon retweeted
نوشہرو فیروز میں صفائی، ڈرینج اور اسٹریٹ لائٹس کا نظام بدترین صورتحال کا شکار! سندھ حکومت آخر کب تک عوامی مسائل سے چشم پوشی کرتی رہے گی؟
میونسپل بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ عوام کو دعوے نہیں، عملی ترقی چاہیے!
#NewUnitsPublicDebate
نوشهرو فيروز لاءِ هڪ وڏو اعزاز.
هائير ايڊيوڪيشن ڪميشن (#HEC) پاران پاڪستان جي سمورين يونيورسٽين جي شاگردن کان ورتل نيشنل اسڪلز ڪامپيٽنسي ٽيسٽ (#NSCT) ۾ اڻ مڪمل فيڪلٽي ۽ پرووائيس خان خالي "سيد الهندو شاھ سب ڪيمپس يونيورسٽي آف سنڌ نوشهروفيروز" جي آء ٽي #IT شعبي شاگرد زين العابدين 100 مان 97 مارڪون حاصل ڪري پهرين پوزيشن حاصل ڪري ورتي اهي.
ملڪ جي 188 يونيورسٽين جي 33 هزار كان وڌيڪ آئي ٽي جي شاگردن حصو ورتو جن پر سند يونيورستي جي شاگرد زین العابدين طرفان بهريون نمبر حاصل ڪري نوشهروفيروز ۽ سنڌ يونيورسٽي لاء هڪ وڏو اعزاز حاصل ڪيو.
اين العابدين جي اهڙي شاندار ڪاميابيءَ تي سنڌ يونيورسٽيءَ جي سينٽ هال ۾ هڪ پروقار تقريب ٿي.
صدارتي خطاب ۾ سنڌ يونيورسٽي جي وائيس چانسلر ڊاڪٽر فتح محمد مري پوزيشن ماڻيندڙ شاگرد زين العابدين کي مبارڪباد ڏيندي چيو ته محنت ۾ ئي عظمت آهي ۽ ميرٽ ۾ ئي اعزاز آهي .
@MuradAliShahPPP
@BBhuttoZardari
@geonews_urdu
Replying to @KarachiTimes123
facebook.com/share/v/19kpsZX…
یہ ہے غجب کہانی ایک گرلز کالج کی
Replying to @KarachiTimes123
ابھی تو گورنمنٹ کالج بھریاروڈ کی کہانی آپ نے نہیں دیکھی ہوگی، بڑی تباہی کی ہے وہاں پر
پ پ پ چيئرمين ٽائون ميونسپل ڪميٽي نوشهروفيروز جي #3 سالن جي ڪارڪردگي هڪ نظر ۾!
ٽائون ميونسپل ڪميٽي نوشهروفيروز جي آفيس ۾ داخل ٿيندڙ رستي جي حالت ڏسي توهان اندر واري
آفيس جو بخوبي اندازو ڪري سگهو ته ڇا ان آفيس ۾ شهري ڪم ڪار لاءِ ايندا هوندا؟
@BBhuttoZardari
@MuradAliShahPPP
@SyedNasirHShah
@KarachiTimes123
@ZiaLanjar
غریب کسانوں کے نام پر تقریباً ایک ارب خرچ، کچن گارڈننگ اسکیم کٹس کہاں گئیں؟
کسانوں کے لیے کچن گارڈننگ کٹس خریدی گئیں، مگر تقسیم کا ریکارڈ غائب
محکمہ زراعت سندھ کے ماتحت ڈائریکٹر جنرل آن فارم واٹر مینجمنٹ سندھ، حیدرآباد کا کارنامہ
99 کروڑ 97 لاکھ خرچ، آڈٹ پوچھتا رہا، کٹس کہاں گئیں؟
غریب خواتین کسانوں کے نام پر خرچ، شناختی ریکارڈ تک غائب
ایک ارب کی اسکیم، نہ مستحقین کا پتا، نہ کٹس کا
کٹس کی خریداری کے بل موجود، مگر قیمتوں کا حساب غائب
سرکاری خزانے سے ادائیگیاں، مگر جی ایس ٹی کٹوتی کا ریکارڈ غائب
کروڑوں کی خریداری، نامکمل انوائسز اور ٹھیکیداروں کی تفصیلات بھی نامکمل
بول نیوز کو آڈٹ رپورٹ کی کاپی موصول ہوگئی
رپورٹ:اظہار سومرو، سینیئر انویسٹیگیٹو جرنلسٹ
@WBG_Pakistan @WorldBankSAsia @WBG_Poverty
@TeamChiefSardar
@MuradAliShahPPP
Dr A Qadeer Memon retweeted
سندھ کی سیشن عدالتوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان کا مذاق بنا لیا
جیکب آباد میں 2015 میں اپنے سگے بھائی ایڈوکیٹ وقار عُمرانی اور بھابی کے قتل کیس کی پیروی کرنے والی ایڈوکیٹ صنم عمرانی کو درخواست کے باوجود عدالت سے پولیس کا تحفظ نہ ملا اور 2018 میں اسکو بھی قتل کر دیا گیا، اسکے بعد مقتولہ وکیل کی چھوٹی بہن نایاب عُمرانی نے اپنی بہن کے قتل کیس میں 164 کا بیان ریکارڈ کروایا اور جیکب آباد سے اسلام آباد آ گئی اور یہاں سپریم کورٹ نے جولائی 2018 میں سو موٹو نوٹس لیا، آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان نے طلبی پر ایک مرکزی ملزم کے سوا باقی پانچ لوگوں کو گرفتار کیا جو مقتول خاندان کے سوتیلے بھائی اور بہنوئی تھے۔
جب آخری ملزم بھی گرفتار ہو گیا تو وجہ قتل جائداد بتائی گئی۔ سپریم کورٹ میں جائداد کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی جسکے مطابق گرفتار شدہ ملزمان ان جائدادوں پر قابض تھے جس پر پانچ سال کے دوران مقتول خاندان کے لواحقین کو قبضہ واپس دلایا گیا۔ اب مسئلہ زمین پر کاشت کرنا تھا اور پھر زمینوں کی فروخت بھی مشکل ہو گئی کیونکہ ڈی پی او کے مطابق ملزمان مقامی با اثر لوگ تھے۔ 2015 میں قتل ہونے والے بھائی اور بھابی کے قتل کے ملزمان گواہان نہ ہونے کے باعث پہلے ضمانت پر باہر آئے اور پھر 2019 میں ہائی کورٹ سے بری ہو گئے۔
اب نایاب عُمرانی اپنی بہن کے قتل کیس کی پیروی کر رہی ہے اور مقدمہ ٹرائل کی اسلام آباد منتقلی کی درخواست پر سپریم کورٹ اپنے کراچی بنچ کو اسکا فیصلہ کرنے کے لئیے بھیج دیتی ہے، کراچی بنچ پر بیٹھے ججز نے ٹرائل کو جیکب آباد سے حیدر آباد منتقل کر دیا اور وجہ ویڈیو لنک کی سہولت کا جیکب آباد میں نہ ہونا بتائی گئی، اب نایاب عُمرانی جان کو خطرے کے باعث سپریم کورٹ کی خصوصی اجازت سے اسلام آباد سے ہی ٹرائل میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوتی رہی، اب اسلام آباد کی ای کورٹ کے ذریعے نایاب عُمرانی نے جو بیانات حیدرآباد کی ماڈل فوجداری عدالت کے جج اشفاق مغل کے سامنے ریکارڈ کروائے تو وہاں جج حقائق کے برعکس غلط تاریخیں ریکارڈ کرتا رہا جس پر اسلام آباد کے فوکل جج افضل مجوکہ اور طاہر سپرا بار بار حیدر آباد کے جج کو غلط بیان ریکارڈ کرنے پر غصہ بھی کرتے رہے جسکی ویڈیو سپریم کورٹ کے ججوں نے بھی دیکھی۔
مختصر یہ کہ نایاب کے اسکی بہن کے قتل کے ٹرائل میں دیا گیا تمام بیان بظاہر حیدر آباد کی عدالت نے غلط طور پر ریکارڈ کر کے کیس کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ ایسے ہی مشکوک بیان پر جب ملزمان کے وکیل نے جرح کی تو اس دوران بھی نایاب کے جوابات کو غلط طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ حیدر آباد کی عدالت میں درخواست کی گئی کہ کیس ریکارڈ کو ویڈیو ریکارڈ کیساتھ دیکھ کر ٹھیک کیا جائے مگر درخواست مسترد ہوئی جسکو ہائی کورٹ سندھ میں چیلنج کیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ چیف جسٹس کے بنچ نے ویڈیو دیکھے بغیر ملزمان کے وکیل کو سن کر بیانات کے ریکارڈ کو درست قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ میں اپیل ہوئی تو سماعت جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے بتایا کہ بیانات ریکارڈنگ کی تمام ویڈیوز دستیاب ہیں مگر ٹرائل کورٹ نے چھ مہینے تک سپریم کورٹ میں ریکارڈ ہی نہیں بھیجا۔
سپریم کورٹ میں سختی کے بعد پراسیکیوٹر جنرل نے ویڈیو پیش کر دی۔ ویڈیو چلائی گئی تو سندھ کے ججوں کی غلطیاں عیاں ہو گئی۔ پھر سپریم کورٹ نایاب عُمرانی کے حق میں ایک تفصیلی فیصلہ دیتی ہے جسکے مطابق ویڈیو دیکھ کر بیانات درست کئیے جانے تھے۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم لیکر حیدر آباد ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جاتا ہے، نایاب کا وکیل گواہ ( نایاب) کی موجودگی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ضروری قرار دیتا ہے مگر ٹرائل کورٹ کا جج یوسف ملک یہ درخواست رد کر دیتا ہے۔ اور جب سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق تمام بیانات کا میمورنڈم بن گیا تو اس پر گواہ کے دستخطوں کی ضرورت متعلق درخواست بھی رد کر دی گئی۔ پھر حیدر آباد کی ٹرائل کورٹ کے جج یوسف ملک نے یہ انکشاف کیا کہ جرح کی ویڈیوز گم گئی ہیں۔ یہ ویڈیو اسلام آباد کی ای کورٹ عدالت نے اس شرط پر فراہم کرنے کی حامی بھر لی کہ یہ ریکارڈ صرف حیدر آباد کی ٹرائل کورٹ کو طلبی پر دیا جا سکے گا ۔
مگر اس پر حیدر آباد کی ٹرائل کورٹ نے اسلام آباد ای کورٹ سے ریکارڈ منگوانے کی درخواست مسترد کر دی ۔ گذشتہ دن ٹرائل کورٹ کے جج محمد یوسف ملک نے نایاب کے وکیل کو گیارہ نومبر کو اپنے حتمی دلائل دینے کی آخری مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں سرکار کے وکیل (جو چار پانچ بدل چکے اور جو بظاہر ملزمان کیساتھ رہے) کو سن کر فیصلہ سنا دینگے۔گذشتہ روز سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ اسوقت سندھ ہائی کورٹ میں نایاب کی مقتولہ بہن ایڈوکیٹ صنم عمرانی کیس میں چار اپیلیں بلاجواز زیر التوا ہیں۔
Replying to @shafiburfat
تاريخي رڪارڊ توهان جي دعويٰ کي وڌيڪ وضاحت طلب بڻائي ٿو.
10 آڪٽوبر 1917ع تي بالشويڪ سينٽرل ڪميٽيءَ جي اجلاس ۾ هٿياربند بغاوت جي تياريءَ واري لينن جي قرارداد 10 ووٽن جي حمايت ۽ 2 مخالفت سان منظور ٿي. زينوويف ۽ ڪامينيف مخالفت ڪئي هئي.
تنهنڪري اهو چوڻ درست نه ٿيندو ته ان ڏينهن پارٽيءَ جي اڪثريت لينن جي مخالفت ۾ هئي. قيادت جي اندر اختلاف ضرور هئا، پر آخري فيصلي ۾ اڪثريت لينن جي موقف جي حمايت ڪئي.
اڄوڪي روزاني عوامي آواز ۾ شايع ٿيل منهنجو ڪالم
”ڪيٽي بندر: سنڌ جي زمين تي بندرگاهه، پر ڪمائي ۽ اختيار ڪنهن جا؟“
ڊاڪٽر عبدالقدير ميمڻ
ڪيٽي بندر جي ترقي، ڊيپ سي پورٽ ۽ پرڏيهي سيڙپڪاريءَ جي مخالفت نه، پر اسان جو سوال آهي ته سنڌ جي زمين تي ٺهندڙ بندرگاهه جا اختيار، آمدني ۽ معاشي فائدا ڪنهن کي ملندا؟
ڪراچي پورٽ ۽ پورٽ قاسم جي وفاقي انتظام واري تجربي کي نظر ۾ رکندي، سنڌ کي ڪيٽي بندر بابت پنهنجا حق اڳواٽ قانوني طور محفوظ ڪرڻ گهرجن. زمين جي مالڪي، بندرگاهه جو انتظام، آمدنيءَ ۾ سنڌ جو حصو، مقامي ماڻهن لاءِ روزگار ۽ مهاڻن جا حق ڪنهن به معاهدي کان اڳ واضح ٿيڻ گهرجن.
سنڌ حڪومت کي گهرجي ته منصوبي جا معاهدا، قانوني حيثيت ۽ آمدنيءَ جي ورڇ جو فارمولو عوام ۽ سنڌ اسيمبليءَ آڏو رکي.
#KetiBunder #SindhRights #SindhIsOne
@MuradAliShahPPP
@SindhGovt1
Awami Awaz Epaper – Sindhi Newspaper share.google/i4BBG1sjpJmSwGq…
آئين ۾ صوبن کي قدرتي وسيلن جي گڏيل ۽ برابر مالڪيءَ جو حق ڏنو ويو آهي، پر عملي طور انهن وسيلن بابت فيصلا ڪرڻ جو اختيار ڪنهن وٽ آهي؟
سنڌ جي تيل ۽ گئس تي گڏيل مالڪيءَ جو مطلب رڳو ڪاغذي حق نه، پر پاليسي سازي، انتظامي ڪنٽرول ۽ فيصلا سازيءَ ۾ به برابر شرڪت آهي.
وسيلن مان فائدو هڪ طرف، فيصلا ڪرڻ جو اختيار ٻئي طرف—اهو وفاقي نا انصافی ناهي!؟
Asad-ul-Mulk جو هيءُ اهم مضمون ضرور پڙهو.
dawn.com/news/2041298/letat-…
#SindhIsOne #Article172 #18thAmendment
‘L’état, c’est moi’
(I am state)
The Constitution guarantees provinces joint and equal ownership of natural resources. But who actually holds the power to make decisions about these resources?
For Sindh, joint ownership of oil and gas must mean more than a constitutional provision on paper. It must ensure equal participation in policymaking, administrative control and decision-making.
A system in which one side controls the decisions while the other merely shares the resources is not federal justice.
An important article by Asad-ul-Mulk. Worth reading.
#SindhIsOne #Article172 #18thAmendment
@MuradAliShahPPP
@zamirghumro @ShaziaAttaMarri
dawn.com/news/2041298/letat-…
Replying to @Saeed_Sangri @sharjeelinam
20 سالن کان پوء به پ پ پ وارن کان هيء طالب سولنگي وارڊ نمبر 14 جو روڊ نه ٺهيو، انشاء الله اسين ٺهرائي سندن منهن تي برف لڳائينداسين
بڑا عذاب ہے #Ps_33
@MuradAliShahPPP
ضلع نوشہرو فیروز کے بھریا روڈ کی تباہ حال مرکزی سڑک سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کا ثبوت ہے، عوام کو دعوے نہیں، پکی سڑکیں چاہئیں!
#PublicNeedsAnswers #ReformsForBetterServices
سنڌ جي وحدت، ساحلن، وسيلن، پاڻي، ناڻي ۽ مڪمل صوبائي خودمختياريءَ لاءِ سمورين سياسي، قومي، وفاقي، سماجي، واپاري، هاري ۽ مزدور تنظيمن کي هڪ گڏيل، مستقل ۽ نتيجاخيز جدوجهد جي ضرورت آهي.
سنڌ جي موجوده سياسي صورتحال ۾ هڪ بنيادي سوال اسان سڀني جي سامهون آهي ته ڇا سنڌ جا قومي حق حاصل ڪرڻ لاءِ ضروري آهي ته سڀئي سياسي ڌريون پهرين پنهنجي نظرياتي اختلافن کي ختم ڪن، يا اهي پنهنجا اختلاف برقرار رکندي به سنڌ جي گڏيل مفادن لاءِ هڪ گڏيل جدوجهد ڪري سگهن ٿيون؟
(ڊاڪٽر عبدالقدير ميمڻ)
#SindhIsOne
Awami Awaz Epaper – Sindhi Newspaper share.google/Cn7XQeXFSBhUU53…










