Official Account of M/o #Planning, #Development & #Special_Initiatives | #PlanningCommission | Govt of Pakistan| Our Mission: Strong Economy Strong Pakistan

Islamabad
Joined August 2013
پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطے کا تسلسل، تجارت اور علاقائی ترقی کے لیے اہم سرمایہ کاری۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے قراقرم ہائی وے کا تقریباً 82 کلومیٹر حصہ زیرِ آب آنے کے پیشِ نظر، شاہراہ کی تعمیرِ نو و بحالی کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری ہیں۔ منصوبے کا مقصد اس اہم تجارتی راستے کو برقرار رکھنا اور دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت اور معاشی تعاون کا تسلسل یقینی بنانا ہے۔ وزارتِ مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے آگے بڑھائے جانے والے منصوبے کے لیے پی ایس ڈی پی اور پاکستان چین حکومتی فریم ورک کے تحت بالترتیب 15 اور 85 فیصد مالی معاونت کا انتظام وضع کیا گیا ہے۔ ای پی سی بِڈنگ دستاویزات تیار ہو چکی ہیں، جبکہ فنانسنگ معاہدے کو حتمی شکل دینے اور خریداری و عملی تعمیر کے مراحل کی تیاریاں جاری ہیں۔ یہ منصوبہ پن بجلی کے بڑے منصوبے کے ساتھ اہم زمینی رابطے کے تحفظ اور مستقبل کی تجارتی ضروریات کو یکجا کرتا ہے۔ #KarakoramHighway #RegionalConnectivity #PakistanChina #PSDP
1
65
When one person steals electricity, it adds to power-sector losses, putting pressure on honest customers and reducing resources available to improve electricity services. Pakistan’s progress also depends on our everyday choices. Use a legal connection. Pay for the electricity you consume. Respect the resources that keep our homes, shops and industries running. Honest citizens help build a stronger national economy. #ZimadarShehri #StopPowerTheft #CivicResponsibility #StrongerEconomy
55
From mountain water to locally generated electricity, the 26MW Shagarthang Hydropower Project, Skardu represents an important investment in Gilgit-Baltistan’s energy future. With a total project cost of Rs 18,374.440 million, the project is designed to harness indigenous water resources and increase hydropower generation. For communities in Skardu, a stronger local electricity supply can support homes, essential services and productive economic activity. Aligned with the Energy & Infrastructure pillar of URAAN Pakistan, the project reflects the Government’s commitment to clean energy and more balanced regional development. #PSDP2026_27 #URAANPakistan #Shagarthang #Hydropower #GilgitBaltistan #CleanEnergy
63
پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی میں بدلنا ہوگا، برآمدات کا فروغ قومی مشن ہے. اسلام آباد میں سی ای او سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں مشکل فیصلوں سے معاشی استحکام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اب اُڑان پاکستان کے تحت ۲۰۳۵ء تک ۱۰۰ ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے حکومت، نجی شعبے اور جامعات کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے پیداواری صلاحیت، معیار اور جدت کو عالمی منڈیوں میں کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ مکمل خطاب
93
Pakistan’s defence and diplomatic achievements must be sustained by an economy strong enough to support them. Planning Minister Prof. Ahsan Iqbal emphasised that the successes place a greater responsibility on us: to accelerate development and make it sustainable. History shows that lasting national strength depends on the economic foundations beneath it. Addressing the High-Level Policy Conclave on “Post US–Iran War: Peace and Economic Dividends for Pakistan,” he identified Pakistan’s inability to build an export-led economy as a fundamental vulnerability. Strengthening productive capacity and expanding exports are therefore essential to turning national achievements into lasting prosperity and economic sovereignty. #URAANPakistan #ExportLedGrowth #EconomicSovereignty
1
97
M/o Planning, Development and Special Initiatives retweeted
🚨BREAKING: Pakistan Earns $56.57 Million From Date Exports to 45 Countries, With UAE Leading Buyers.
2
12
173
1,318
معرکۂ حق کی کامیابی کو معرکۂ ترقی سے مستحکم کرنا ہوگا؛ مضبوط دفاع کی بنیاد ایک مضبوط معیشت ہے۔ وفاقی وزیرِ احسن اقبال نے کہا کہ دفاعی اور سفارتی کامیابیوں نے پاکستان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد کی ہے کہ ان کامیابیوں کو پائیدار معاشی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ دفاعی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے معیشت کا توانا ہونا ناگزیر ہے۔ پاکستان کی معاشی کمزوری کی بنیادی وجہ برآمدات پر مبنی معیشت تشکیل نہ دے پانا ہے۔ ترقی کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ اسے پائیدار بنانے کے لیے برآمدی صلاحیت میں اضافہ قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ اعلیٰ سطحی پالیسی کانفرنس: «امریکہ ایران جنگ کے بعد: پاکستان کے لیے امن اور معاشی ثمرات» @betterpakistan #Pakistan #RegionalPeace #EconomicDiplomacy #USIRANWAR
82
Pakistan’s defence and diplomatic achievements bring a greater responsibility: to build an economy that can sustain its sovereignty. At the High-Level Policy Conclave on “Post US–Iran War: Peace and Economic Dividends for Pakistan,” Planning Minister Prof. Ahsan Iqbal emphasised that international recognition must translate into lasting economic progress. A strong defence rests on a strong economy, while peace creates the conditions for investment, trade and opportunity. His message sets a clear direction: safeguard stability, connect diplomatic credibility with greater market access, and strengthen Pakistan’s capacity to compete globally. Achieving URAAN Pakistan’s $100 billion export target by 2035 is central to turning national resilience into enduring prosperity. #URAANPakistan #EconomicDiplomacy #ExportLedGrowth
75
بھارت نے پاکستان کی معاشی مشکلات کو دفاعی کمزوری سمجھنے کی غلطی کی، مگر پاکستان نے اپنے عزم اور صلاحیت سے یہ اندازہ غلط ثابت کر دیا۔ وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال نے اعلیٰ سطحی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے 2025 میں بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا۔ دوسری جانب، امریکہ ایران تنازع میں کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قیادت اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف ملک کے عالمی تشخص میں ایک مثبت تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلیٰ سطحی پالیسی کانفرنس: «امریکہ ایران جنگ کے بعد: پاکستان کے لیے امن اور معاشی ثمرات» @betterpakistan #Pakistan #RegionalPeace #EconomicDiplomacy #USIRANWAR
119
دوسری جنگِ عظیم کے بعد امن، معاشی تعمیرِ نو اور عالمی نظم و نسق کے لیے قائم کیے گئے ادارے آج اپنی افادیت اور بدلتے تقاضوں سے مطابقت کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں جامع اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ عالمی نظام میں بڑھتا عدم استحکام اور خطے میں پھیلتی کشیدگی پاکستان کے لیے بروقت پالیسی تیاری اور مؤثر سفارت کاری کی اہمیت بڑھا رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا ایران اور خلیجی خطے کی جانب پھیلاؤ سنگین مضمرات رکھتا ہے۔ ان حالات میں علاقائی امن کا تحفظ اور بدلتی عالمی صورتِ حال کا درست ادراک، پاکستان کے ترقیاتی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال گول میز کانفرنس: «امریکہ ایران جنگ کے بعد: پاکستان کے لیے امن اور معاشی ثمرات»
84
بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کی تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کو کیسے تحفظ دیا جائے؟ وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت گول میز کانفرنس میں علاقائی امن، امریکا ایران تنازع کے معاشی اثرات اور پاکستان کی آئندہ پالیسی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات اور ماہرین نے بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کے ساتھ پائیدار معاشی پیش رفت ضروری ہے۔ اُڑان پاکستان کا ہدف 2035 تک 100 ارب ڈالر کی برآمدات ہیں۔ اس کے لیے زیادہ پیداوار، مسابقتی مصنوعات، نئی منڈیوں تک رسائی اور مؤثر معاشی سفارت کاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ #AhsanIqbal #URAANPakistan #RegionalPeace #EconomicDevelopment #ExportLedGrowth #Pakistan
67
عالمی کشیدگی کے پاکستان کی تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر ممکنہ اثرات کا بروقت جائزہ اور پیشگی پالیسی تیاری قومی اہمیت کی حامل ہے، تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور امن کے ثمرات کو معاشی مواقع میں بدلا جا سکے۔ اسی تناظر میں وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت ’’امریکا ایران تنازع کے پاکستان پر اثرات: قیامِ امن اور معاشی استحکام کے لیے پالیسی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر کانفرنس منعقد ہوئی۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی بے یقینی کے دور میں پاکستان کے استحکام کا تحفظ، برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کا فروغ بنیادی ترجیحات ہیں۔ پاکستان کے پُرامن سفارتی کردار کے معاشی ثمرات حاصل کرنے کے لیے جغرافیائی سیاست کے ساتھ جغرافیائی معیشت پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ معاشی خودمختاری کا راستہ برآمدات میں اضافے سے گزرتا ہے۔ پاکستان خطے میں استحکام کا زریعہ ہے اور اس استحکام کو پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بنانا قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر کا مکمل خطاب #AhsanIqbal #URAANPakistan #EconomicDevelopment #ExportLedGrowth #usiranwar
2
255
Federal Minister Prof Ahsan Iqbal highlights the Government’s commitment to inclusive development under the leadership of Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif. Public institutions, including PIMS, provide speech and language therapy services. Alongside professional support, fair access to education and employment helps people who stutter participate with confidence and dignity. On International Stuttering Awareness Day, we urge public and private institutions to promote respectful classrooms, inclusive workplaces and equal opportunities, advancing the SDG commitment to leave no one behind. #InternationalStutteringAwarenessDay #LeaveNoOneBehind #InclusiveDevelopment #SDGs #Pakistan
1
1
88
Every shipment carrying “Made in Pakistan” carries a promise. When we are honest about our products, check their quality and deliver on time, buyers gain a reason to return. Repeat orders support jobs and help build a national brand the world can trust. Keep the promise. Earn the trust. Grow Pakistan’s exports. #MadeInPakistan #BuildTrust #ExportQuality #PakistanExports #ResponsibleBusiness #ZimadarShehri
73
تربیلا سے توانائی کا نیا باب, صاف بجلی، روزگار اور معاشی ترقی کی جانب اہم قدم۔ تربیلا پانچواں توسیعی پن بجلی منصوبہ ٹنل نمبر 5 کے ذریعے قومی نظام میں مزید 1,530 میگاواٹ صاف اور قابلِ اعتماد بجلی شامل کرے گا۔ یہ منصوبہ پاکستان کے آبی وسائل سے توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سرپرستی، پی ایس ڈی پی کے تعاون اور آبی وسائل ڈویژن کی نگرانی میں واپڈا منصوبے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ عالمی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے مالی تعاون سے زیرِ تعمیر اس منصوبے نے ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور مقامی کاروبار و معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا ہے۔ #Tarbela #Hydropower #CleanEnergy #PSDP #MinistryOfPlanning
1
1
231
The Establishment of Stroke Intervention & Expansion of Critical Care Facilities at PIMS (2024–27) is designed to strengthen specialised stroke intervention and critical-care services at Pakistan Institute of Medical Sciences, Islamabad. With a total project cost of Rs 7,220.956 million, this initiative can help improve access to timely, specialised treatment for critically ill patients, supporting medical teams when rapid diagnosis, intervention and intensive care are most urgently needed. Aligned with the Equity, Education, Health & Population pillar of URAAN Pakistan, the project reflects the Government’s priority of strengthening public healthcare institutions and making advanced care more accessible to people. Because in a medical emergency, timely care can make all the difference. #PSDP2026_27 #UraanPakistan #PIMS #StrokeCare #CriticalCare #PublicHealth #Islamabad
70
M/o Planning, Development and Special Initiatives retweeted
ضلع موسیٰ خیل، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان محمد لقمان جعفر کا یہ محبت بھرا پیغام سن کر دل کو دلی خوشی اور طمانیت ہوئی۔ یونیورسٹی آف نارووال سے انگلش لٹریچر میں ڈگری مکمل کر کے وہ اور ان کے ساتھی نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان کے تمام صوبے ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے طلبہ کو اپنے مہمان کی طرح سمجھا ہے اور ان کے لیے ہاسٹل و تعلیمی سہولیات کو اولین ترجیح بنایا ہے تاکہ کسی بھی طالبعلم کو پردیس کا احساس نہ ہو۔ لقمان اور ان کے ساتھیوں کو گریجویشن پر دلی مبارکباد؛ مجھے پختہ یقین ہے کہ یہی باہنر اور تعلیم یافتہ نوجوان آگے چل کر بلوچستان کے مسائل حل کریں گے اور ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ #UniversityOfNarowal #BalochistanYouth #HigherEducation #YouthEmpowerment #InspirationalStory #EducationForAll #URAANPakistan
13
29
631
برآمدی لاگت میں کمی اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک بروقت رسائی کے لیے حکومت اڑان پاکستان کے تحت سڑکوں، ریلوے، بندرگاہوں اور فضائی کارگو کو ایک مربوط ترسیلی نظام سے منسلک کرنے کا کام آگے بڑھا رہی ہے۔ دسویں قومی اقتصادی مشن برائے انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ احسن اقبال نے متعلقہ وزارتوں کو کارگو خدمات کی کارکردگی اور باہمی رابطہ بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ ان کوششوں کا مقصد برآمدکنندگان کو ایسی خدمات فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ عالمی خریدار تک اپنی مصنوعات تیزی اور قابلِ اعتماد انداز میں پہنچا سکیں۔ بہتر ترسیل سے خریدار کا اعتماد مضبوط کرنے، نئے آرڈرز حاصل کرنے اور 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کی جانب پیش رفت میں مدد ملے گی۔
1
1
3
162
’’آئی ایم ایف پر انحصار سے مستقل نجات کے لیے آئندہ 10 برسوں میں برآمدات کم از کم 100 ارب ڈالر تک پہنچانا ہوں گی۔ یہ ہدف بلند ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ ملکی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر، استحکام برقرار رکھ کر اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرکے پاکستان یہ منزل حاصل کر سکتا ہے۔‘‘ پروفیسر احسن اقبال اڑان پاکستان کے دسویں قومی اقتصادی مشن کے تحت «انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس کی مسابقت» کے موضوع پر گول میز اجلاس سے خطاب۔
1
2
4
159
ایک برآمدی آرڈر صرف کارخانے میں تیار نہیں ہوتا؛ اس کی کامیابی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب مصنوعات مقررہ وقت پر عالمی خریدار تک پہنچ جائیں۔ اس سفر میں سڑک، ریل، بندرگاہ اور فضائی کارگو کے درمیان رابطہ کمزور ہو تو تاخیر بڑھتی ہے۔ تاخیر سے اضافی اخراجات ہوتے ہیں، کاروبار کا سرمایہ پھنستا ہے اور خریدار اگلا آرڈر کسی دوسرے ملک کو دے سکتا ہے۔ اڑان پاکستان کا دسواں قومی اقتصادی مشن، «انٹرماڈل کنیکٹیوٹی اور لاجسٹکس»، اسی پورے ترسیلی سفر کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ وفاقی وزیرِ پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کو کارگو خدمات کی کارکردگی اور باہمی رابطہ بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی۔ واضح اہداف اور قابلِ پیمائش کارکردگی کے اشاریوں کے ذریعے مشن کی پیش رفت جانچنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کا معیشت سے براہِ راست تعلق ہے: بہتر ترسیل کاروباری لاگت کم کرنے اور خریدار کا اعتماد بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔ زیادہ آرڈرز سے پیداوار اور روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، جبکہ زیادہ برآمدات ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مؤثر لاجسٹکس، پاکستان کو آئندہ 10 برسوں میں کم از کم 100 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف تک پہنچانے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔
1
2
69