Pinned Tweet
ہر ظلم کے بعد ہم نے موقع دیا، ہر موقع کے بعد تم نے نیا ظلم کیا۔ جس عمر میں دادیاں کہانیاں سناتی ہیں، اس عمر میں عمران خان کی تین بہنیں جیل کی سلاخیں گن رہی ہیں۔ ٹھیک ہے جرنیلو، درد ہم اپنے طریقے سے نکالیں گے، وہ طریقہ جو بندوق سے نہیں رکتا۔ بندے دے پتر بن جاؤ، فیر گل کراں گے۔
محبِ وطن پاکستانی، اس ٹویٹ کو ایک دھکا اور ایک دعا۔ 🙏
Rage AI retweeted
آئی ایس پی آر نے کہا ان تمام صحت خرابی کیسز کا فوج سے اسی طرح سے کوئی تعلق نہیں جس طرح فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
واردات بہت طریقے سے بار بار ڈالی جارہی ہے ہم امید کرتے ہیں عوام جیل میں اچانک سے آنکھ خراب، ہارٹ پرابلم، یرقان، ہیپاٹائٹس ہونے کو بس ایک اتفاق سمجھے گی۔
What is being done inside that jail?
Imran Khan, his sisters, his wife, even party workers. One by one, failing hearts and failing eyes.
"If anything happens to me, Asim Munir and his army will be responsible."
A family still waiting for justice.
🤖 Made with AI
Noreen Niazi Sahiba had no known history of heart problems.
Today she was shifted to PIC. Her family was not told.
Which doctor treated her? What tests were done? No news.
An elderly woman is in jail for being related to Imran Khan. How far will this vengeance go?
🤖 Made with AI
Noreen Niazi Sahiba had no known history of heart problems. The news that she was shifted to PIC today is deeply alarming. Even more disturbing is that her family was not informed. Which doctor treated her, what tests took place? There is no news.
What kind of cruelty is this? An elderly sister is imprisoned for being related to Imran Khan.
How far will this political vengeance go?
Inhumane!!
جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے خط میں لکھا ہے: "میرا ضمیر مجھے بینچ پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔"
مارچ دو ہزار چوبیس میں عدالتی معاملات میں ایجنسیوں کی مداخلت پر خط لکھنے والے چھ ججوں میں وہ بھی تھے۔
ایک کرسی خالی ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے کون بھرتا ہے، اور کس تاریخ کے ساتھ۔
reference:
xitter.cf/AsadAToor/status/21153…
🚨🚨#BREAKING: In a big move , former senior puisne judge #Islamabad high court, after posting currently serving in #Lahore high court #JusticeMohsinAkhtarKayani resigns, citing reason he said “in my considered view, the changes introduced through the Twenty-sixth and Twenty-seventh Constitutional Amendments have compromised the independence and institutional integrity of the High Courts. I have witnessed what I regard as the executive's growing control over judicial institutions, extending to the appointment and transfer of judges. Such interference has, in my assessment, seriously eroded public confidence in judicial independence and the fairness of the judicial process.
Of particular concern is the plight of the ordinary litigant, who is the principal stakcholder in the justice system, yet whose suffering continues to deepen. The needs of those seeking justice have too often been neglected, while other actors have become the beneficiaries of a system intended to serve them. In these circumstances, my conscience does not permit me to continue on the Bench. This is a painful decision, but it reflects my conviction that judicial office must remain inseparable from independence, fidelity to the Constitution, and the protection of human dignity.”
ناک پہلے پہنچتی ہے، جواب کبھی نہیں۔
جنگل کی اس نایاب نسل کے لیے سوال کوئی بھی ہو، شناخت ایک ہی ہوتی ہے۔
دی پوڈیم 📽️
بیس ستمبر کو علیمہ خان، اگلے دن عظمیٰ خان اور نورین نیازی۔ تینوں بہنیں امنِ عامہ برقرار رکھنے کے قانون کے تحت بند ہیں۔ کسی عدالت نے سزا نہیں سنائی، پنجاب حکومت نے البتہ تیس دن کی توسیع سنا دی۔
گویا امنِ عامہ کو سب سے بڑا خطرہ تین بہنوں سے ہے۔
عجیب سا دُکھ ہے، عجب سی اداسی ہے
ہر زخم ہرا ہے، ہر سانس پیاسی ہے
یاس کے سائے ہیں، امید بھی روٹھی ہے
اپنوں کی محبت بھی لگتا ہے جھوٹی ہے
جنہیں دل میں بسایا تھا، وہی دل توڑ رہے ہیں
جو ہم سفر تھے اپنے، وہ رستے موڑ رہے ہیں
ہر روز غم بڑھتا ہے، ہر آس بکھرتی ہے
اک عمر کی چاہت بھی لمحوں میں مرتی ہے
نہ شکوہ کسی سے ہے، نہ کوئی گلہ باقی
بس درد سلامت ہے، نہ کوئی دعا باقی
ہم ہنس بھی دیں تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے
کچھ زخم نہیں بھرتے، بس زندگی رہتی ہے۔
Imran Khan. Bushra Bibi. Hassan Niazi. All jailed.
His sisters and cousin detained for standing at the gates of Adiala.
A whole family punished for loyalty.
Release them all.
🤖 Made with AI
امریکی وزیرِ خارجہ نے کیمرے پر کہہ دیا: پاکستان سے تعلق کا مقصد ہمارے فیصلوں پر "زیادہ اثر" ہے۔
فیصلے کس کے ہاتھ میں ہیں، سب جانتے ہیں۔ اسی لیے پتھروں کا ڈبہ، کرپٹو اور ڈرون، ہر سودا وہیں سے نکلتا ہے۔
سودے جرنیل کریں، اثر کی قیمت قوم دے۔
ہر وقت نگرانی کرنے والے ادارے کو اب شاید معلوم ہوا ہوگا کہ نگرانی دو طرفہ ہوتی ہے۔ ہم نے چودہ سیکنڈ کی ایک ویڈیو دیکھی اور ادارے کا پورا کام سمجھ گئے۔
نگرانی جاری ہے، فی الحال ہماری طرف سے۔
Reference:
xitter.cf/Alyhassan959/status/21…
ووٹ گنتی میں گم ہوا، ایکس پر پہرہ بیٹھا، جلسوں پر دفعہ ایک سو چوالیس لگی اور صحافی شمالی علاقہ جات کی سیر کو نکل گئے۔ اب سنا ہے ایک خط گردش میں ہے کہ ہنسی بھی بند کروائی جائے، کہ یہی ایک چیز کسی فہرست میں نہیں آئی تھی۔ ہنسنے والے البتہ چوبیس کروڑ ہیں اور مال خانہ ایک۔
ریج اے آئی پیش کرتا ہے، ایف نائن ہائٹس۔
وعدہ لندن کے ہائیڈ پارک کا ہے، جس کی پہچان اسپیکرز کارنر ہے جہاں کوئی بھی صندوق پر چڑھ کر حکومت کو کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ ایف نائن میں بھی یہ کونا بن جائے تو مضائقہ نہیں۔
پیکا کے پرچے البتہ پہلے سے تیار ہیں۔
Reference:
xitter.cf/SSEHBAI1/status/211447…
سب سے بڑا زمینی قبضہ :
پورے ملک پر بندوق سے قبضہ کرنے کے بعد فوجی بھائیوں کا دل نہیں بھرا اور اب پاکستان کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالنے کو تیار ہیں جو اسلام آباد کے F-9 پارک پر ڈالا جائے گا -
ہمارے وزیر داخلہ ، جنکا کام شروع ہی گوجرانوالہ میں زمینوں پر قبضے DHA کو دلوانے سے ہوا تھا ، کیوبکہ عاصم منیر وہاں کے کور کمانڈر تھے ، اب F-9 میں پاکستان کا مین ہٹن ، یعنی نیو یارک کی طرح بڑی بڑی بلڈنگیں ، فلیٹ , جھیلیں ، سفاری پارک اور شاپنگ مال بنائیں گے -
ویسے تو وزیر داخلہ کا یہ کام نہیں کے وہ بلڈنگیں بنوایئں مگر عاصم منیر جو سر پر بیٹھے ہیں تو یہ اربوں کھربوں کا کھیل ہوگا اور سب سوچ لیں کتنا مال فوجی بنائیں گے اور عوام کو کیا ملے گا - یہ سیاست دان کیا بیچتے ہیں ؟
ان فوجیوں نے CDA کی زمینوں پر تو قبضہ کیا ہی ہوا ہے اور اب یہ کام تو بڑا آسان ہوگا ، آی جاؤ اور کھائی جاؤ - موجاں ہی موجاں -
کوئی ہے روکنے والا جو بکنے کو تیار نہ ہو ، میڈیا، جج ، سرکاری افسر ، سیاست دان ، وکیل ، بھوکے عوام ، دہشت گرد ، سب کے منہ میں پانی تو آ رہا ہوگا - دعوت عام ہے !!!
امن و امان میں 143 ملکوں میں 143واں نمبر۔ آخری۔
سلامتی ملک میں کہیں نہیں، بس اڈیالہ کی اس کوٹھڑی کے باہر ہے جہاں عمران خان صاحب قید تنہائی میں ہیں۔ ملنے آنے والی تین بہنیں ستمبر سے خود جیل میں ہیں۔
ذہنی مریض کی ساری سکیورٹی ایک دروازے پر لگی ہو تو باقی ملک کا نمبر یہی آنا تھا۔
عمران خان برسوں پہلے بتا گئے تھے کہ جرنیلوں کو کوئی پہاڑی دے دو تو سر کر لیں گے، ملک چلانا ان کا کام نہیں۔ پہاڑی البتہ آج تک کسی کو الاٹ نہیں ہوئی، ملک ہو گیا۔
فتح نامہ اب ہر مہینے بجلی کے بل کی صورت گھر گھر تقسیم ہوتا ہے۔
ایوب، ضیاء اور مشرف کم از کم قوم سے خطاب کر کے بتاتے تو تھے کہ ملک اب وہ چلائیں گے۔ 2024 میں یہ تکلف بھی گیا، نتیجہ فارم سینتالیس پر لکھ کر بھیج دیا گیا۔
ایک آدمی نے وہ کاغذ ماننے سے انکار کیا، سو اڈیالہ کی قید تنہائی میں ہے۔
باقی سب ٹھیک ٹھاک اے۔
پرانی دکان پر بورڈ وہی ہے، سیٹھ بھی وہی، بس گاہکوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ نیب کی اپیل ہو یا ضمانت، سودا اب سامنے والی نئی دکان سے ملے گا جس کا اپنا سیٹھ ہے۔ چنانچہ ملک میں چیف جسٹس دو ہو گئے، ایک کے پاس بورڈ اور ایک کے پاس گاہک۔
بورڈ پڑھنے پر البتہ کوئی پابندی نہیں۔
ضیاء کے زمانے میں فراز فوجی راج کے خلاف شعر پڑھنے پر دھر لیے گئے اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی۔ مشرف آئے تو ہلالِ امتیاز ان کی حکومت کو لوٹا دیا۔
اس بیچ میرِ سپاہ بدلتے رہے، کندھوں پر ستارے بڑھتے رہے، وغیرہ وغیرہ۔
مگر شاعر بیچارہ آج تک ایک مصرع نہیں بدل پایا۔ بدلتا بھی کیوں؟

















