Ramananda Sengupta retweeted
🔥 SALUTE TO THIS CHACHA! 🇮🇳👏
He gave Pakistanis in Mecca a fitting reply! 🎯🔥
A man of courage, a voice of conviction—he proved that truth needs no shouting, just the guts to speak it! 🇮🇳💪🔥
Ramananda Sengupta retweeted
Protests against the oppression of Pakistan military regime continue in Kashmir POJK even after 140 days.
The chants are growing louder than ever!
People across Pakistan are fed up with the military regime oppression.
Voices of anger and complaints against the regime are being heard from every corner of Pakistan.
Ramananda Sengupta retweeted
کیا بھارت کو فرقہ وارانہ خانہ جنگی کا سامنا ہو سکتا ہے؟
ترکیہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک فرقہ وارانہ بحران بھڑکا سکتا ہے اور پھر اقوامِ متحدہ کی سفارت کاری کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کو اس قدر طاقتور بنا سکتا ہے کہ وہ ملک کو مزید تقسیم کر دیں۔
مائیکل روبن | دی سنڈے گارڈین، 25 اکتوبر 2026
اصل مضمون (انگریزی): sundayguardianlive.com/opini…
پاکستانی اور ترک اسلام پسند بیانیے میں ہمیشہ سے یہ زیریں لہر موجود رہی ہے کہ کسی بھی بھارتی مسلمان کو غیر مسلم حکمرانی میں نہیں رہنا چاہیے۔ 6 اگست 2019 کو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے ”ہندوستان کے مسلمانوں کو تعصب اور نسل پرستی سے پاک ایک الگ وطن دینے کے لیے دو قومی نظریے کی حمایت کی تھی۔“ خان تقسیم کے ذکر پر ہی نہیں رکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک دن ”بھارت صرف ہندوؤں کا ملک ہو گا۔“
16 اپریل 2025 کو پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اعلان کیا: ”ہمارے آباؤ اجداد سمجھتے تھے کہ ہم زندگی کے ہر ممکن پہلو میں ہندوؤں سے مختلف ہیں… ہم دو قومیں ہیں، ہم ایک قوم نہیں ہیں۔“
جہاں پاکستان کے سابقہ بیانیے کا بیشتر حصہ کشمیر پر مرکوز تھا، وہیں حالیہ برسوں میں، جیسے جیسے پاکستان کا اتحادی ترکیہ زیادہ اسلام پسند خارجہ پالیسی کی طرف مڑا ہے، پاکستان اور ترکیہ نے کشمیر سے آگے کے فرقہ وارانہ عزائم کا عندیہ دیا ہے۔
25 ستمبر 2019 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ترکیہ اور پاکستان کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے نفرت انگیز تقریر سے متعلق فورم میں صدر رجب طیب ایردوان نے سوال کیا: ”بھارت میں ہم ان مسلمان نوجوانوں کا دفاع کیسے کریں گے جنہیں محض گائے کا گوشت کھانے پر کوڑے مارے جا رہے ہیں، گنڈاسوں سے پیٹا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ موت کی سزا سنائی جا رہی ہے؟“
محض پانچ ماہ بعد اپنی ہی سیاسی جماعت کے نوجوان کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ایردوان نے ہندو حکمرانی میں رہنے والے مسلمانوں کی حالت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: ”بھارت ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں قتلِ عام کا دور دورہ ہے۔ کیسا قتلِ عام؟ مسلمانوں کا قتلِ عام۔ کون کر رہا ہے؟ ہندو۔“
ترکیہ کا سرکاری پریس اس سے بھی زیادہ زہریلا ہے۔ ایردوان کے پسندیدہ اخبار اور ان کے رجیم کے غیر سرکاری ترجمان ”ینی شفق“ کے ایڈیٹر ابراہیم قاراگل نے 29 اپریل 2025 کو لکھا: ”اگر چین اور ترکیہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں… تو بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔“ انہوں نے مزید لکھا: ”مغلیہ سلطنت، سلجوق، عثمانی، سب اس جنگ میں شامل ہوں گے!“ 8 مئی 2025 کو ”ینی شفق“ نے ترک سرکاری ٹیلی وژن کی اردو سروس کے سربراہ اور ممتاز پاکستانی کالم نگار فرقان حمید کا ایک مہمان اداریہ شائع کیا، جس کے مطابق بھارت ”اقلیتوں کے لیے ناقابلِ رہائش بن چکا ہے۔“ اگلے دن کالم نگار ہلال کاپلان نے ”صباح“ میں لکھا: ”بھارت میں کچھ عرصے سے مسلمانوں کی ایک بے نام نسل کشی جاری ہے…“
ستم ظریفی یقیناً یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل میں مسلمانوں کو ان ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقوق حاصل ہیں جن پر ان کے ہم مذہب مسلمان حکمران ہیں۔ فریڈم ہاؤس کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں اسرائیل کا اسکور سینیگال اور البانیہ سے، جو اعلیٰ درجے کی مسلم اکثریتی ریاستیں ہیں، تین پوائنٹ زیادہ ہے۔ فریڈم ہاؤس کے تجزیہ کار تاریخی طور پر بھارت کے بارے میں غیر منصفانہ حد تک مخاصمانہ رویہ رکھتے آئے ہیں، لیکن فریڈم ہاؤس بھی تسلیم کرتا ہے کہ بھارت انڈونیشیا اور کسی بھی عرب ملک سے کہیں زیادہ روادار اور جمہوری ہے، پاکستان اور ترکیہ کا تو ذکر ہی کیا، جن کا اسکور الجزائر اور عراق کے برابر ہے۔
منیر اور ایردوان کی شکایات میں مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دونوں رواداری کی ضد ہیں۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو اس میں بڑی مسیحی اور ہندو اقلیتیں تھیں اور یہاں تک کہ بڑے مسیحی اور ہندو تہواروں کو قومی تعطیلات کا درجہ دیا جاتا تھا۔ آج ریاست کی اکسائی ہوئی منظم خونریزی (پوگروم) اور توہینِ مذہب کے قوانین کے بدنیتی پر مبنی اطلاق کے نتیجے میں بہت سے مسیحی اور ہندو ملک سے بھاگ چکے ہیں۔ اور پاکستان، بھارت میں خالصتان تحریک کی حمایت تو کرتا ہے، مگر پاکستانی پنجاب میں سکھ برادریوں کے خاتمے کا ذکر تک نہیں کرتا۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور تقریباً دنیا کے سب سے متنوع ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ نہ صرف ہندوؤں بلکہ جینیوں، سکھوں، بہائیوں اور زرتشتیوں کی سب سے بڑی آبادی والا ملک بھی ہے؛ مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ بھارت کی مسیحی آبادی آسٹریلیا کی پوری آبادی سے زیادہ ہے۔ یہاں 270 سے زائد ایسی زبانیں ہیں جن میں سے ہر ایک کے کم از کم 10,000 مادری زبان بولنے والے ہیں، اور 700 سے زیادہ نسلی گروہ آباد ہیں۔ زیادہ تر شہری بھارت سے غیر متزلزل وفاداری رکھتے ہیں اور اسے ایک کثیر النسلی، کثیر المسالک ملک کے طور پر قبول کرتے ہیں۔
بہت عرصے سے بھارتی حکام یہ فرض کیے بیٹھے ہیں کہ یہ رویہ ناقابلِ تغیر ہے، لیکن پاکستان اور ترکیہ دونوں میڈیا، سوشل میڈیا اور اپنی حمایت یافتہ تنظیموں اور خیراتی اداروں کے ذریعے اب کھلے عام انتہا پسندی، فرقہ وارانہ شکایات اور حقِ حکمرانی کے زعم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
بیسویں صدی کے اواخر میں ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بیرونی حملہ تھا۔ چین نے اکسائی چن ہتھیا لیا، پاکستان نے کشمیر کے تقریباً 30 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا۔ دیگر جگہوں پر شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر حملہ کیا، شمالی ویتنام نے جنوبی ویتنام کو ضم کر لیا، ترکیہ نے قبرص کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا اور عراق نے کویت پر حملہ کیا۔ اکیسویں صدی میں شورش اور بے قاعدہ جنگ اتنا ہی بڑا خطرہ ہیں۔ جب روس نے کریمیا پر حملہ کیا تو اس نے پہلے بے قاعدہ جنگجوؤں کو استعمال کیا۔ بالٹک ممالک تسلیم کرتے ہیں کہ روس ان کی روسی بولنے والی اقلیتوں سے رابطے کر رہا ہے اور انہیں اکسا رہا ہے، اور ان کا خیال ہے کہ کسی بھی بڑے حملے سے پہلے جعلی پرچم (فالس فلیگ) والے بحران اور تخریب کاری کی ایک مہم سامنے آئے گی۔ ترکیہ بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک فرقہ وارانہ بحران بھڑکا سکتا ہے اور پھر اقوامِ متحدہ کی سفارت کاری کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کو اس قدر طاقتور بنا سکتا ہے کہ وہ ملک کو مزید تقسیم کر دیں۔ اب جبکہ ایردوان اپنے سابق وزیرِ خارجہ اور یورپ میں سلامتی و تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کے موجودہ سیکرٹری جنرل فریدون سنیرلی اوغلو کو اقوامِ متحدہ کا اگلا سیکرٹری جنرل بنوانے کے لیے زور لگا رہے ہیں، یہ خطرہ حقیقی ہے۔
مسلمانوں کو انتہا پسندی اپنانے پر اکسانا ان کی انتہا پسندی ختم کرنے (ڈی ریڈیکلائزیشن) سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ بھارت 1980 کی دہائی میں اس کی ایک ریہرسل دیکھ چکا ہے جب خالصتان تحریک نے پورے بھارت میں دہشت گردی کی بارش کر دی تھی؛ اگر بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کا دسواں حصہ بھی پاکستانی اور ترک آن لائن انتہا پسندی کے اثر میں آ گیا تو بھارت کو ایسی خانہ جنگی کا سامنا ہو گا جو بدترین صورت میں اس کے وجود کے لیے خطرہ بن جائے گی اور زیادہ امکان یہ ہے کہ ربع صدی یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک بھارت کی معیشت اور سرمایہ کاری کو مفلوج کر دے گی۔ بدقسمتی سے بھارت کی حکومت اور اشرافیہ کے حلقوں میں بہت سے لوگ پاکستان اور ترکیہ کی نظریاتی رسائی اور اپنے فرقہ وارانہ مقاصد برآمد کرنے کی خواہش کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ بھارت اپنے ہی خطرے پر سو رہا ہے۔
مائیکل روبن واشنگٹن ڈی سی میں مڈل ایسٹ فورم کے ڈائریکٹر برائے پالیسی تجزیہ اور یوسانس فاؤنڈیشن کے ممتاز فیلو ہیں۔
Hey @Afridi81852204, have the soiled pajamas of your leaders dried yet after they scurried to return Abhinandan safely after the tea party in 2019?
Have the soiled pajamas of your leaders dried yet after they scurried to return Abhinandan safely after the tea party?
Thank you for taking time out to share your thoughts on why Europe is burning, Dr @gsachdevajnu. Am truly grateful.
The Gist 📹 | Why Europe’s Leaders Are Losing the Streets
Watch @Ramananda speak with Prof Gulshan Sachdeva, Centre for European Studies, JNU
@gsachdevajnu @JNU_official_50 @nitingokhale
stratnewsglobal.com/the-gist…
Ramananda Sengupta retweeted
India-Lithuania: A New Strategic Partnership?
Watch @Huma_Siddiqui speak with Diana Mickevičienė, Ambassador of Lithuania to India
Tune in to The Gist on 25 October at 11 AM IST
@DMickeviciene @LTEmbassyDelhi
Ramananda Sengupta retweeted
The Gist 📹 | India Must Reject Any Unbalanced US Trade Deal
@Ramananda talks to Ajay Srivastava, Founder, Global Trade Research Initiative
@ajaydgft @GTRI_official @nitingokhale
youtu.be/y3e50ggeTvs?si=34am…
Ramananda Sengupta retweeted
مولا ہمیں یہ دن دکھا ..!
مریم نواز : "یہ اُن بگڑے ہوئے ، استثنی والے اور مغرور تمغوں والے لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت ، تمغے ، فیلڈ مارشل کے عہدے کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔
بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور، فرعون، یزید کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، استثنی ، اثر و رسوخ یا سیاسی یا سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔"
Dr @YukteshwarKumar, telling it like it is.
Cyber Fraud Or Another Western Double Standard? stratnewsglobal.com/ai/cyber… via @StratNews Global
Ramananda Sengupta retweeted
Replying to @Alamer_Abha
Are you guys trying to glorify and rent an army to hide behind ? Our army may look strong on paper but this is the only army which has never won a war and crown to surrender 200,000 soldiers resulting in loss of half of its country and population to the enemy!! So good luck!!
Ramananda Sengupta retweeted
HAMID MIR SHOCKING REVELATION!
Supporters of Pakistan military regime in x are being paid PKR 500,000/ 600,000 per tweet.
Military regime is spending nearly half of the taxes collected from its own citizens on propaganda.
Ramananda Sengupta retweeted
I’m an Afghan nationalist, and this is my open message to the entire world.
We have nothing left to lose. For the past 50 years, #Pakistan has trained terrorist groups and sent them into Afghanistan. Our country is full of students from Pakistani madrassas who have damaged our nation. We have lost everything.
Today, we are 40 million Afghans in the heart of Central Asia, holding on to one hope: to see Pakistan’s destruction. Any country, community, or person regardless of religion or background who stands with us against this threat will find us ready to make sacrifices.
We don’t care what we may lose. We want an end to #Pakistan, and the end of Pakistan means peace in the world.
Anyone that tells you the dictatorship of asim munir in Pakistan doesn't take orders from the cia. Just tell them to hear it directly from Marco rubio.
"So, our relationship with Pakistan is not new. It's I think it's just developed in a way that allows us to have, hopefully, more influence over the decisions they make on a variety of topics. "
SECRETARY RUBIO: No country in the world does more to go after terrorism than the United States. It was the United States, under President Trump, that destroyed ISIS in the Middle East. It was the United States that eroded al-Qaeda. It's the United States that went in and eliminated bin Laden. It's the United States that's gone in now, and has unfortunately had to go into, parts of Africa and take on these elements as well. I don't think any country in the world has shown a greater commitment to go after global terrorism than the United States has.
Ramananda Sengupta retweeted
Pak's KPK advisor says Madarsa literature is source of terror. Question for 'Hafiz' Asim Munir- what's causing terror if Madarsa literature is primarily Quran, Hadith & prophet's life?
Ramananda Sengupta retweeted
They reside safely in Canada while advocating for #Khalistan, yet throw a fit when labeled 'Canadian Khalistanis.'
What kind of nonsensical logic is this?
Ramananda Sengupta retweeted
“Despite Pakistan doing boot polish of Donald Trump, India got a better tariff deal from the US than Pakistan” — Ex-Governor of Pak-occupied Sindh
Ramananda Sengupta retweeted
أزعجتني بصراحة هذه الصورة التي نُشرت أمس لاجتماع وزراء خارجية السعودية ومصر وتركيا وباكستان في إسطنبول.
انظروا كيف جلس وزيرا الخارجية التركي والباكستاني في وسط المجلس، بينما جلس الوزيران السعودي والمصري على الطرفين.
قد تكون لهذا الترتيب اعتبارات بروتوكولية، لكنه بالنسبة إليّ يطرح أسئلة عن موقع العرب في هذه الاجتماعات وعن النتائج التي يخرجون بها.
ما الذي قدمته أنقرة وإسلام آباد لأمن السعودية؟
وأين الخطوات الملموسة التي تتجاوز بيانات التضامن وصور اللقاءات؟
أخشى أن تكون تركيا قد وجدت في التصعيد الإقليمي فرصة لعقد المزيد من الاجتماعات واستقطاب وزراء الخارجية.
نجتمع ونتحدث ونناقش، لكن ما الذي يتغير على الأرض؟
وما الذي تقدمه هذه اللقاءات لردع الحوثيين وحماية أمن المملكة؟
تركيا التي تملك صناعة عسكرية وتسوّق مسيّرات «بيرقدار» حول العالم، ما الذي يمنعها من تقديم دعم ملموس يصنع فارقًا؟
القرار العسكري ليس ضغطة زر، بالتأكيد، لكن من حقنا أن نسأل عن المسافة بين قدراتها ومواقفها.
وهل مراعاة العلاقة مع إيران تتقدم لديها على مقتضيات التضامن مع السعودية؟
أتمنى على الأشقاء في المملكة إعادة تقييم الرهان على الموقفين التركي والباكستاني.
الثقة تُبنى بالأفعال، والتحالفات تُختبر وقت الشدة، وقيمة الشريك بما يقدمه حين تحتاج إليه.
الصورة وحدها لا تكشف النيات، لكنها تستدعي السؤال الأهم: أين النتائج؟
ما رأيكم أنتم؟





















