میرے یعقوب کو ملنا نہیں کُرتا میرا
اور یہ حد ھے اُسے صبر بھی آ جائے گا
تخت اور دستِ زلیخا سے رھوں گا محروم
میں وہ یوسف ھوں جسے بھیڑیا کھا جائے گا
#اردوقومی_زبان
لوگ تو لوگ ہیں،، لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں ۔۔۔۔
ایک ہم ہیں،،، اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں۔۔۔!!!
#اردو_شاعری
#اردوـزبان – at Rawalpindi, Pakistan
اندر گھٹن تھی اور.... موافق نہ تھی ہوا
کتنی اذیتوں میں مرے جسم و جاں رہے..
میں نے تو وحشتوں میں گزاری تمام عمر
مجھ سے بچھڑ کے اتنے برس,, تم کہاں رہے۔!!
#اردو_زبان
#اردو_شاعری
#اردوقومی_زبان – at Rawalpindi, Pakistan
اتنا کامل خالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پن تھا کہ!
کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ میں بھی نہیں ۔.!!
#اردوقومی_زبان
#اردو_شاعری
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو،،،
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔۔!!
#اردوقومی_زبان
#اردوـشاعری
اپنی بھوک پر اتنا قابو ضرور رکھیں کہ،،،،
دوسروں کی خوشیاں کھانے کی نوبت نہ ائے۔۔۔۔۔!!!!
#اردو
#اردوقومی_زبان
کمال ہوتے ہیں وہ لوگ،،،،،
جو اپ کی اواز سے،،،
اپ کی خوشی اور دکھ کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔۔۔۔۔!!!!
#اردوقومی_زبان
#اردو
تمھارے شہر کی مٹی لگی تھی پاؤں میں،،،،
ھمارے گاؤں کے رستے٫ خوشی سے پاگل ہیں۔!!
#اردوقومی_زبان – at Rawalpindi, Pakistan
نیک کوئی بھی نہیں ہے،،، یہاں۔۔!!
بس خدا نے،،، عیب چھپا رکھے ہیں!!
#اردوقومی_زبان
یہ بھی اذیت ہے کہ۔۔۔ مسافر کو اگر
گھر پہنچ کے بھی لگتا ہے۔۔۔ کہ گھر جانا ہے ۔۔!
#اردوقومی_زبان – at Rawalpindi, Pakistan
عجیب قسم کی نعمت ھے خوش لباسی بھی ۔۔۔
یہ خامیاں بھی چھپاتی ھے اور اداسی بھی ۔۔۔!!
#اردوقومی_زبان
Rafi Satti retweeted
ایک بلوچ لڑکی کا بھارت کو یوم آزادی مبارک کہنے کا انوکھا اور دلچسپ انداز ۔۔وڈیو وائرل ہوگئی۔
وضاحتوں سے دور رہ کر جئیں۔۔۔۔!
اگر کوئی بولے کہ اپ برے ہیں۔۔۔۔
تو کہنا حد سے زیادہ۔۔۔۔!!!
#اردوقومی_زبان
#اردو_شاعری – at Pakistan
Rafi Satti retweeted
💥 اگر کبھی اللہ نے مجھے موقع دیا تو میں کسی ماں کو یہ ذلت محسوس نہیں ہونے دوں گی۔" 💔🥹
کہتے ہیں بڑھاپا صرف جسم پر نہیں اترتا...
کبھی کبھی وہ انسان کی خاموشیوں میں بھی گھر بنا لیتا ہے۔
راولپنڈی کے ایک پرانے سے محلے میں، بازار کے اوپر والی منزل پر ایک مختصر سا فلیٹ تھا۔ اس کی چھوٹی سی بالکونی میں ہر صبح ایک سفید بالوں والی خاتون اپنے گملوں سے باتیں کرتی تھیں۔ پودینے کی خوشبو، تلسی کے پتے، دو گلاب اور ایک ضدی سا ٹماٹر کا پودا... یہی ان کی دنیا تھی۔
پورا محلہ انہیں سعیدہ آنٹی کہتا تھا۔
عمر اسی برس۔
شوہر کو بچھڑے برسوں بیت چکے تھے، اور اکلوتا بیٹا روزگار کے سلسلے میں دبئی جا بسا تھا۔ ہر مہینے رقم آ جاتی، مگر تنہائی کبھی بینک اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوتی۔
ان کی زندگی میں ایک عادت ایسی تھی جو کبھی نہ بدلی۔
ہر اتوار صبح، وہ اسی سپر اسٹور جاتیں۔
وہی راستہ...
وہی ٹوکری...
وہی چیزیں...
چائے، ڈبل روٹی، دال، سوپ کے پیکٹ...
اور آخر میں ایک ڈیری ملک چاکلیٹ۔
یہ چاکلیٹ ان کی کمزوری نہیں تھی...
یہ اس بات کا ثبوت تھی کہ انسان کو اپنی خوشیوں کا آخری چراغ کبھی بجھنے نہیں دینا چاہیے۔
---
اس دن بارش مسلسل برس رہی تھی۔
بازار میں غیر معمولی رش تھا۔ لوگ جلدی جلدی ہفتے بھر کا سامان خرید رہے تھے۔
سعیدہ آنٹی قطار میں خاموش کھڑی تھیں کہ اچانک ان کی نظر اپنے آگے کھڑی ایک نوجوان عورت پر پڑی۔
اس کی گود میں ایک بچی تھی، اور دوسرا بچہ اس کا دوپٹہ پکڑے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا سا خرگوش تھا، جس کی ایک آنکھ غائب تھی۔
شاید وہ کھلونا بھی اپنے مالک کی طرح وقت کے ہاتھوں زخمی تھا۔
عورت نے آٹا، دودھ، انڈے، چاول، بچوں کے ڈائپر اور چند ضروری چیزیں کاؤنٹر پر رکھ دیں۔
کیشیئر نے بل بنایا۔
"چار ہزار آٹھ سو ساٹھ روپے۔"
عورت نے جلدی سے اے ٹی ایم کارڈ نکالا۔
مشین نے انکار کر دیا۔
اس نے دوسرا کارڈ نکالا۔
وہ بھی ناکام ہوگیا۔
قطار میں کھڑے لوگ بے صبری سے اسے دیکھنے لگے۔
عورت نے نظریں جھکا لیں۔
ہونٹ کانپ رہے تھے۔
وہ آہستہ سے بولی،
"بھائی... دودھ اور ڈائپر واپس رکھ دیں... باقی دے دیں۔"
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں میں اترتے آنسو بڑی مشکل سے روک لیے۔
مائیں اکثر اپنے لیے نہیں روتیں...
وہ بچوں کی مجبوری پر ٹوٹتی ہیں۔
---
سعیدہ آنٹی نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔
اپنا کارڈ کیشیئر کی طرف بڑھاتے ہوئے صرف اتنا کہا،
"پورا بل اسی سے کر دیں۔"
عورت گھبرا کر پلٹی۔
"نہیں آنٹی... میں آپ کے پیسے واپس نہیں کر سکوں گی۔"
سعیدہ آنٹی مسکرائیں۔
وہ مسکراہٹ کسی دولت مند کی نہیں...
ایک زخمی دل کی تھی، جو کسی اور کا زخم پہچان گیا تھا۔
انہوں نے آہستہ سے کہا،
"بیٹی... ہر قرض پیسوں سے نہیں اتارا جاتا۔ کچھ قرض آگے بڑھا دیے جاتے ہیں۔"
وہ سامان اٹھا کر خاموشی سے چلی گئیں۔
نہ نام بتایا۔
نہ شکریہ سنا۔
---
راستے بھر انہیں پینتیس سال پرانا ایک منظر یاد آتا رہا۔
وہ بھی کبھی ایسی ہی قطار میں کھڑی تھیں۔
شوہر اچانک انتقال کر گئے تھے۔
گھر میں صرف پانچ سال کا بیٹا تھا۔
جیب میں چند نوٹ کم پڑ گئے تھے۔
لوگ دیکھتے رہے...
کسی نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔
اس دن انہوں نے خاموشی سے اپنے آنسو نگل لیے تھے۔
اور دل میں ایک وعدہ کر لیا تھا...
"اگر کبھی اللہ نے مجھے موقع دیا تو میں کسی ماں کو یہ ذلت محسوس نہیں ہونے دوں گی۔"
اسی رات اس نوجوان خاتون، عائشہ، نے فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی۔
«"آج ایک اجنبی اماں نے میرا راشن خرید دیا۔ انہوں نے میرا نام نہیں پوچھا، میری غربت پر ترس نہیں کھایا، کوئی نصیحت نہیں کی... بس خاموشی سے میرا بوجھ اٹھا لیا۔ میرے بچوں نے آج پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اگر کوئی انہیں جانتا ہے تو بس اتنا کہہ دیجیے گا... میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔"»
یہ پوسٹ چند گھنٹوں میں پورے شہر میں پھیل گئی۔
کسی نے لکھا،
"کیا وہ ہر صبح بالکونی میں پودوں کو پانی دیتی ہیں؟"
دوسرے نے جواب دیا،
"ہاں... وہ سعیدہ آنٹی ہیں۔"
---
اگلے چند دنوں میں ان کے دروازے پر عجیب سی بہار اتر آئی۔
کوئی گھر کا بنا ہوا اچار لے آیا۔
کوئی تازہ پھول۔
کسی نے گرم شال رکھ دی۔
ایک بچے نے اپنی جمع پونجی سے خریدی ہوئی چاکلیٹ رکھ کر صرف اتنا لکھا،
"دادی... یہ آپ کے لیے۔"
ایک نوجوان نے خط بھیجا۔
"آنٹی، آپ کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں غریب بچوں کو مفت ٹیوشن پڑھاؤں گا۔"
ایک نرس نے لکھا،
"آج میں ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بھی ایک اکیلی مریضہ کے پاس بیٹھی رہی... کیونکہ آپ نے یاد دلایا کہ انسانیت کبھی اوور ٹائم نہیں مانگتی۔"
ایک شخص، جو برسوں نشے کی لت سے لڑ رہا تھا، اس نے لکھا،
"مجھے راستے میں ایک پرس ملا تھا۔ پہلے سوچا رکھ لوں... پھر آپ یاد آ گئیں۔ میں نے وہ اس کے مالک کو واپس کر دیا۔"
👇
کردار کے مضبوط لوگ دشمنی بھی اصولوں کے ساتھ نبھانے ہیں ۔۔۔
اختلاف ہو جائے تو عزت نہیں اتارتے،،
راستے جدا ہو جاہیں تو راز نہیں کھولتے،،،
اور رشتی ختم ہو جائے تو کردار نہیں گراتے۔۔۔۔۔۔۔!!!!
#اردوقومی_زبان – at Rawalpindi, Pakistan
سننے والا، بتانے والے کے شعور، مقام اور حالات سے سالوں دور کھڑا ہوتا ہے ۔۔۔۔!!!!
#اردوقومی_زبان








