Pinned Tweet
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا مہنگائی کی شرح 44 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے پر اظہار تشکر
وزیرِ اعظم کی مہنگائی کی ماہ ستمبر میں سالانہ شرح 6.9 فیصد ہونے پر حکومت کی معاشی ٹیم کی پزیرائی
اگست 2024 میں 34 ماہ میں پہلی مرتبہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد آئی
ستمبر 2024 میں گزشتہ 44 ماہ میں مہنگائی کی کم ترین شرح، 6.9 فیصد ریکارڈ کی گئی
اللّٰہ کے فضل و کرم سے عوام سے کئے گئے عہد کی پاسداری میں کامیابی ملنا شروع ہو گئی۔ وزیرِ اعظم
مہنگائی کی شرح 6.9 فیصد ہونے سے عام آدمی کو ریلف ملے گا۔ وزیرِ اعظم
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی متواتر کمی سے عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔ وزیرِاعظم
شرح سود کم ہونے سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ وزیرِاعظم
مہنگائی کی شرح کو 2025 تک 7 فیصد تک لانے کے ہدف کا 2024 میں ہی حصول قابل ستائش ہے۔ وزیرِاعظم
پہلے دن سے عوامی ریلیف کیلئے اقدامات کو اولین تریجیح بنایا۔ وزیرِاعظم
پاکستان کے ڈیفالٹ کی خواہش کرنے والوں کا منصوبہ ناکام ہوا۔ وزیرِاعظم
پوری قوم نے گزشتہ برسوں میں ایک گروہ کی نااہلی کی وجہ سے مشکلات کاٹیں۔ وزیرِاعظم
ملکی معیشت مستحکم، سفارتی تعلقات مضبوط اور عام آدمی کی خوشحالی کا سفر شروع ہوچکا۔ وزیرِ اعظم
آئی ایم ایف پروگرام کے اجراء سے معیشت میں مزید استحکام آئے گا۔ وزیرِ اعظم
پاکستان کی ترقی کا سفر 2018 میں جہاں رکا تھا، وہیں سے دوبارہ شروع ہو چکا۔ وزیرِ اعظم
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chairs a review meeting regarding promotion of cashless economy.
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس
کیش لیس معیشت کا فروغ حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، وزیر اعظم
پورے ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے انفراسٹرکچر کے قیام کے حوالے سے کام تیزی سے جاری ہے، بریفنگ
15 نومبر 2026 سے بذریعہ چیک آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی ادائیگیاں ختم کی جا رہی ہیں، بریفنگ
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی پاکستانی برآمدات کے فروغ، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی میں اضافے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سمیت مقامی صنعتوں کو برآمدتی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان TDAP کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منظوری
ان میں ادارے کے دائرۂ کار کو آٹھ بنیادی افعال تک محدود کرنا، بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی تنظیمِ نو، علاقائی نیٹ ورک کو مؤثر بنانا،ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت کا استعمال جبکہ کارکردگی جانچنے کیلئےقابلِ پیمائش اشاریوں اور آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزے کا نظام متعارف کرانا شامل ہے۔






