تم لاکھ بجھاؤ چراغِ حوصلہ میرا
میں مسکرا کے اندھیروں کو مات دوں گا
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
Subhanuddin retweeted
سیاسی بصیرت، خارجہ امور کا تجربہ اور عالمی حالات سے واقفیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے سیاسی سفر کے نمایاں پہلو ہیں۔ انہیں محض ایک روایتی سیاستدان سمجھنا درست نہیں۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
Subhanuddin retweeted
سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کا کھیل بہت ہو چکا۔ کبھی مسلم لیگ کو استعمال کیا، کبھی پیپلزپارٹی کو، کبھی کسی اور جماعت کو۔ اب قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے جمہوری اداروں کو مضبوط کرو۔ #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
Subhanuddin retweeted
ہم اس ملک میں جھک کر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم اس ملک میں باعزت شہری کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں۔
کامران مرتضیٰ صاحب کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ افغانی ہیں، وہ تو کشمیری ہے اور یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کشمیر سے آئے ہیں اور وہاں کوئٹہ میں سیٹل ہوئے ہیں۔
اس سے بھی عجیب بات یہ کہ حافظ حمدللہ صاحب کا بیٹا فوج میں بھرتی ہوا، اس کے بیٹے کا فوج میں کمیشن ہو گیا، بیٹا فوج میں کمیشن لے رہا ہے اور باپ کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانی ہو، تم پاکستانی نہیں ہو، اس کو کہتے ہیں اندھیر نگری۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
Subhanuddin retweeted
کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروقؓ سے سوال ہو سکتا تھا اور ان کا احتساب ہو سکتا تھا تو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا کیوں نہیں؟
ہم کہتے ہیں کہ بالکل احتساب ہونا چاہیے، لیکن فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں ایک اسلامی اور عادلانہ نظامِ انصاف تھا، جہاں حکمران خود کو قانون کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں انصاف کے تقاضے سیاسی مفادات اور مقتدرہ کی مرضی سے بالاتر ہیں؟
اگر حکمران واقعی عوام کو جواب دہ ہیں تو پھر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی کردار کشی کیوں کی جاتی ہے؟ احتساب صرف سیاستدانوں کا ہوگا یا مقتدر قوتیں بھی اس کے دائرے میں آئیں گی؟
ہمیں پرویز مشرف کا معاملہ بھی یاد ہے، جو عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باوجود ملک سے باہر دبئی چلے گئے۔ تب قانون کی گرفت کہاں تھی؟
ہم احتساب کے مخالف نہیں، لیکن احتساب سب کا ہونا چاہیے، صرف سیاسی مخالفین کا نہیں۔
حضرت عمر فاروقؓ کے عدل کی مثالیں دینے والو! پہلے ملک میں حضرت عمرؓ جیسا نظامِ انصاف تو قائم کرو، پھر احتساب کی بات کرنا۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
Subhanuddin retweeted
شریعت کا اولین تقاضا غلامی سے نجات اور جبر کے سامنے سر نہ جھکانا ہے۔ یہی آزادیِ فکر کی اصل روح ہے۔
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب
#لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
Subhanuddin retweeted
مختصر !!
اپنے محبوب قائد مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ چٹان بن کر کھڑے رہیں گے،
مولانا جہاں پسینہ بہائیں گے، ہم وہاں اپنا خون اور جان نچھاور کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے.
ان شاءاللہ
#لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
#اہم_اعلان
جے یو ائی ضلع مردان کے مجلس عمومی کا دستوری اجلاس انشاء اللہ کل بروز اتوار ظہر 1:00 بجہ بمقام حجرہ حاجی کشور خان گوجر گڑھی مردان میں منعقد کیا گیا ہے۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
Subhanuddin retweeted
دنیا چاہتی ہے کہ ہم چائنا کا راستہ روک لیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ ہم یہاں قبائلی پہاڑوں میں یہاں پر سرمایہ کاری کریں۔ اور ان کو دعوت دینے میں گیا تھا؟ امریکہ کے اوول ہاؤس میں پریزیڈنٹ ٹرمپ کو ہمارے پہاڑوں کے معدنیات کے نمونے میں نے پیش کیے تھے؟ نمونے تم پیش کرتے ہو، ترغیب تم دلا رہے ہو، تمہارا آپس میں ایک معاملہ ہے،،، قوم کے سامنے رکھو یہ چیزیں۔
ہم کسی کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں، یہ بھی غلط ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جائے۔ ہم امریکہ کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، لیکن معاملے میں شفافیت ہونی چاہیے، معاہدات میں شفافیت ہونی چاہیے، قوم کے سامنے تمام شرائط رکھی جائیں، کن شرائط پر معاہدہ ہوا ہے، ہمارے ملک کے منافع کا تعین ہو، ان کے منافع کا تعین ہو، مقامی آبادی کے منافع کا تعین ہو۔
چوری چھپے ۔۔۔۔۔۔۔اب کہتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کے خلاف بات نہ ہوتی تو پھر تو ایمرجنسی صرف فاٹا میں ہونی چاہیے تھی، یہ نیچے اضلاع میں کیوں ہوئی؟ اب مجھے بھی پھر کچھ کہنا پڑ رہا ہے، کیا کریں ۔۔۔۔۔ یہ اسمگلنگ کے راستے ہیں، اس لیے وہاں ایمرجنسی ہے۔ بہت سے قبائلی نوجوان یہاں ہوں گے جن کے علاقوں میں ہفتے میں دو دن کرفیو ہوتا ہے، ہوتا ہے نا دو دن؟ تو پانچ دن دہشت گردی نہیں ہوتی وہاں پر؟ پانچ دن دہشت گرد کہیں چلے جاتے ہیں، غاروں میں چھپ جاتے ہیں اور صرف دو دن باہر آتے ہیں، تو پھر آپ ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہوتے ہیں؟(
تو یہ کرفیو کس لیے لگائی جاتی ہے؟ ہمیں کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد آ رہے ہیں، گھروں میں بند رہو، باہر مت آؤ، ہم لڑ رہے ہیں، وہ پتا چلا کہ وہاں سے ٹرک گزر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں نہ معاہدہ پر اعتراض، نہ کسی کی سرمایہ کاری پر اعتراض، یہاں سے اگر مال نکلتا ہے تو جائز راستے سے آئے نا، تو جائز راستے ہم نے بند کیے ہیں، افغانستان کے ساتھ ہماری بندش ہے، تو چوری کے راستوں سے مال تو آ رہا ہے۔ ہمارے محصولات میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو ٹیکس کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ ادا کرو، اس سے ملک چلتا ہے۔
اب اگر ہم حکمران ہوتے ہوئے اس طرح کی کارروائیاں کریں گے کہ پتا نہیں اپنے منافع کے لیے تم نے کون سے چوری کے راستے بنا لیے ہیں اور قوم کے خزانے کی پرواہ نہیں ہے، عوام کی تمہیں پرواہ نہیں ہے۔
ہم قوم کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کی نظر گوادر پر ہے، تم نے گوادر کو وفاق کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بلوچستان کا حق بنتا ہے۔ ساحلی علاقہ جو بلوچستان کا حق بنتا ہے، تمہاری اس پر نظریں ہیں کہ کس طرح کوسٹل ایریا کو وفاق کی طرف کیا جائے، ہم ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
صوبہ سندھ میں جزیرے ہیں، جن کے منافع کے حق دار سندھ کے عوام ہیں، تم ان پر قبضہ کر رہے ہو اور وفاق کے کنٹرول میں لے رہے ہو۔ ظاہر ہے، جب ایک دفعہ آئینی طور پر یہ ساری چیزیں صوبوں کے عوام کے حق قرار دیے جا چکے ہیں، آپ اس طریقے سے اس پر قبضہ کریں گے؟ یہ تو قومی امانت ہے، تم اتنی بڑی خیانت کے مرتکب ہو اور ہمارے پیچھے لگ گئے ہو، گھر کا نقشہ پاس نہیں کیا، فضائی ڈرون ویڈیوز بنائے جا رہے ہیں، گھر معلوم کیا جا رہا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
Subhanuddin retweeted
حالات کی سختیاں آئیں، جھیل گیا
حریف مسلسل بولتا رہا، سہہ گیا
دوست حریف بنے، برداشت کیا
اپنے چھوڑ گئے، جما رہا
کردار پہ وار ہوئے، کھاتا رہا
جان پہ حملے ہوئے، ڈٹا رہا
کیا کچھ نہیں ہوا اور نہیں کیا اس مولوی کے ساتھ، لیکن فضل الرحمن تھا، فضل الرحمن ہے اور فضل الرحمن رہے گا۔
تاریخ ان کو ایک جرنیل کے طور پر پیش کرے تو بھی اوراق پر جچے گا
تاریخ اگر ان کو ایک مدبر اور قائد کے طور پر پیش کرے تو بھی بجا ہوگا
تاریخ اگر ان کو کسی محدث یا مفسر کے طور پر پیش کرے تو بھی لاکھوں نظاروں کا ثبوت ساتھ درج ہوگا
تاریخ اگر ان کو مربی کے طور پر پیش کرے تو بھی لاکھوں دلائل کتاب کے ورق ورق پر مزین ہونگے۔
پاکستانی سیاست تو کیا عالمی سیاست بھی ایسے سیاست دان کو پیدا نہیں کرسکے گی
مولوی کا یہ کمال ماننا پڑے گا کہ سامنے جو آیا جی بھر کر بولا، نازیبا بھی بولا اور غلط بھی بولا، سیدھا ذات پہ حملہ آور ہوا اور کردار کشی کیا، قید و بند جیسے اعصاب شکن مراحل سے گزر ہوا لیکن جیسے تھا ویسے رہا بلکہ اس سے بڑھ کر آیا
اس وقت بھی جن حالات کا سامنا مولوی کو ہے ان حالات میں بھی یہ حَسین مسکراہٹیں برقرار ہیں تو حریف جان لے کہ مولوی کا تمھارے ہتھکنڈے کچھ بگاڑ نہیں سکتے ورنہ بعض سیاسی لیڈران تو ایسے مواقع پر خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی اور صحت خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں 😜
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
Subhanuddin retweeted
یہ ہے ان کی نظر میں تعلیم کی قدر و قیمت، یہ ہے ان کی نظر میں طالب علم کا مقام اور یہ ہے ان کی نظر میں استاد کا مقام۔ آپ کو شاید سزا اس بات کی مل رہی ہے کہ آپ کا نظریہ، آپ کا فکر اور آپ کی سوچ کا زاویہ جمعیت علمائے اسلام سے ملتا ہے، اور یہ بھی کہ آپ کے اجتماعات سے فضل الرحمٰن خطاب کرنے والے ہیں۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
یہ ایک مرد قلندر ہے۔۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ




















