Pinned Tweet
ماں کائنات کا وہ خوبصورت ترین رشتہ ہے جس کے بغیر زندگی کے رنگ ادھورے ہیں۔ یہ وہ ہستی ہے جو صرف ایک لفظ نہیں بلکہ پوری کائنات کی وسعتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ اسلام میں ماں کے مقام اور مرتبے کو جس بلند سطح پر رکھا گیا ہے، اس کی مثال کسی دوسرے مذہب یا تہذیب میں نہیں ملتی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی، اس کی ماں نے اسے تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھا..." (سورہ لقمان: 14)
ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ اگر وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں "اُف" تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکنا، بلکہ ان سے نرمی اور عزت سے بات کرنا۔
آقا کریم ﷺ نے فرمایا: "جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے" (مسند احمدبن حمبل)۔ یعنی ماں کی خدمت اور فرماں برداری ہی انسان کو جنت تک لے جاتی ہے-
ماں وہ ہستی ہے جو خود تکلیف سہہ کر اپنے بچوں کو راحت پہنچاتی ہے۔ ماں کی دعا وہ ڈھال ہے جو اولاد کو ہر بلا اور مصیبت سے محفوظ رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام ماؤں کو سلامت رکھے- اور ہمیں ان کا فرمانبردار بنائے۔ اور جن کی والدہ دنیا فانی سے رخصت ہو گئی - انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے- اور ان کی قبر کو تا حد نگاہ وسیع کرے- ٹھنڈک نصیب کرے- آمین۔
کوئ سمجھاۓ یہ کیا رنگ ہے میخانے کا -!
آنکھ ساقی کی اٹھے—! نام ہو پیمانے کا -!
چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے -!
راستہ بھول نہ جاوں - کہیں میخانے کا -!
تیری یادیں تری چاہت تری فرقت ترا غم
تو نے بخشے مجھے رونے کے بہانے کیا کیا
یاد ماضی نے مجھے جب بھی ستایا ہے ظفرؔ
ایک لمحے میں سمٹ آئے زمانے کیا کیا
میں کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں -!
کیا بگاڑے گی انجمن میرا -!!
ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے -!
درد سر بن گیا -!! بدن میرا -!!
@Naeemkh13793605 @Saqiflance
ایک گمنام بستی میں انسان لوگوں کو خوش کرنے کےلیے اپنی حدود اکثر بھول جاتا ہے- لوگوں کی خوشی کی خاطر انسان وہ سب کچھ کرتا ہے جو اس کے مزاج اور ضمیر کے خلاف ہوتا ہے- ایسی حالت میں انسان اکثر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے- اور ایسا منظر ہمیں ہر روز دیکھنے کو ملتا ہے- وجہ صرف اتنی ہے- کہ انسان ظاہری چمک ، جھوٹی تسلیاں، اور جھوٹی تعریفوں کو سچ سمجھ لیتا ہے-
جس دوستی میں اپنی انا اور عزت کو توڑنا پڑے، وہ دوستی نہیں بوجھ ہے۔ایسی جگہ اور ایسے شخص کے شہر کو خیرباد کہہ دینا ہی سکون قلب کی واحد راہ ہے۔ خلوص دینا ظرف کی بات ہے، لیکن نااہل لوگوں کو دینا نادانی ہے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون -
نادان جوانی کا زمانہ گزر گیا-!
اب ا گیا بڑھاپا سدھر جانا چاہیے-
بیٹھے رہو گے دشت میں کب تک حسنؔ رضا
جینا اگر نہیں ہے تو مر جانا چاہیئے
آخری عمر کا عشق بھی—! اللہ کی پناہ- 😊
To all my true friends here who have stood by me, shown me kindness, and supported me through the years. This song is dedicated to each and every one of you. Stay blessed ..
معاشرے میں سفید پوش اور مسکین افراد کا اصل اثاثہ ان کی خود داری اور عزتِ نفس ہوتی ہے۔ جب بھی اللہ تعالی آپ کو کسی کی دستگیری اور معاونت کی توفیق عطا فرمائے، تو مدد کا عمل اس قدر خاموشی اور راز داری سے سرانجام دیں کہ اس شخص کی غیرتِ نفس مجروح نہ ہو اور کبھی آپ کے سامنے اس کی نظریں ندامت سے نہ جھکیں۔
یاد رکھیے، آپ کا ہر عمل صرف اور صرف رضاۓ الٰہی کے حصول کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ اپنی بڑائی اور برتری کا دِکھاوا۔ اگر اللہ تباک وتعالی نے آپ کو مال و وسعت سے نوازا ہے تو یہ آپ کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ اللہ رب العزت کا خاص فضل اور احسان ہے۔ بلاشبہ، جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ اسی کا دیا ہوا عطیہ ہے۔انسان خالی ہاتھ ایا - اور اپنے دونوں ہاتھ خالی لے کر رخصت ہو جاۓ گا-


