V E T R È (@Vetre) header
V E T R È (@Vetre) profile picture

Sadness Winters Roads

Quantum World
Joined September 2026
Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)Photo by V E T R È (@Vetre)
یہ گرد بیٹھ جائے تو معلوم کرسکوں آنکھیں نہیں رہیں کہ تماشا نہیں رہا
1
1
52
رائیگانی کا وہ عالم ہے کہ یوں لگتا ہے میرے حصے میں خسارے بھی نہیں آئیں گے ایسے چھوڑیں گے ترا شہر کہ ہم اس کی طرف گردش وقت کے مارے بھی نہیں آئیں گے
2
3
80
یعنی ترتیبِ کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کرکے
1
2
70
سارے ڈر بس اسی ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار یار کھو جائے تو پھر کون سا ڈر بچتا ہے
2
3
130
جتنا ہوا سے بند قبا کھل گیا تیرا ہم لوگ اس قدر بھی کسی سے کہاں کھلے محسن کی موت اتنا بڑا سانحہ نہ تھی اس سانحے پہ بال تیرے رائیگاں کھلے
2
1
65
کوئی کندھا دکھ کو ختم نہیں کرتا لیکن رونے میں آسانی ہوتی ہے
2
5
118
زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے عہدِ کم ظرف کی ہر بات گوار ہ کر لیں
2
6
107
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
3
91
ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا کسی نے خط نہیں کھولا ہمارا
1
1
36
بچھڑنے والے تجھے کس طرح بتاؤں میں کہ یاد آنا نہیں تیرا آنا بنتا ہے
1
3
122
ساقی درِ میخانہ ابھی بند نہ کرنا شاید مجھے جنت کی ہوا راس نہ آئے
2
2
118
چلو کہ ہم بجھے بجھے سے گھر کا مرثیہ کہیں وہ چاند تو اتر گیا حویلیوں کی اوٹ میں
2
91
پھر اسی رہ گزار پر شاید ہم کبھی مل سکیں مگر شاید جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھر بھی اے دوست غور کر شاید اجنبیت کی دھند چھٹ جائے چمک اٹھے تری نظر شاید
23
میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں
1
3
124
ہوائے دشت مجھے اب تو اجنبی نہ سمجھ کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے
1
4
108
میرے جسم و جاں میں تیرے سوا نہیں اور کوئی بھی دوسرا مجھے پھر بھی لگتا ہے اس طرح کہ کہیں کہیں کوئی اور ہے
1
3
99
مالِ مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید وحشتِ دل سرِ بازار لئے پھرتی ہے
1
6
121
تجھ کو کیا علم تجھے چاہنے والے کچھ لوگ کس قدر سخت ندامت سے تجھے دیکھتے ہیں
3
10
232
آج پندارِ تمنا کا فسوں ٹوٹ گیا چند کم ظرف گلے نوک زباں تک پہنچے
1
3
98
خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو
2
113