Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
🔥 گورنمنٹ سے ، محسن نقوی سے ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور باقی اداروں سے ارجنٹ اپیل ہے کہ اس ظلم کو روکیں
🔥اس آرمی بیک گراؤنڈ رکھنے والی بہن کی فریاد سنو 🙏۔ ان کا نام سید مریم ہے اور ان کے بھائی کو سوسائٹی کے فرعون رانا عبید نے پولیس کی کا بھیروں کے ساتھ مل کر جھوٹے توہین مذہب کے کیس میں بھجوایا ہوا ہے اور پچھلے 5 دنوں سے انکے بھائی کو اغوا کیا ہوا ہے ۔
@MohsinnaqviC42 @KhawajaMAsif @MaryamNSharif @OfficialDGISPR @BBCUrdu @arynewsud @geonews_urdu
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
منافقت کا دوسرا نام!
پروگرام مں کچھ اور، عدالت میں کچھ اور.
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
پتہ نہیں کیا وجہ ہے کہ راؤ عبد الرحیم کی گاڑی اغوا میں اور ان کی سم قتل میں استعمال ہوتی ہے۔
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
اِس ساری بھونڈی گُفتگو میں تمہارے گند اُگلنے والے منہ سے ایک لفظ بھی عثمان وڑائچ کے سوال کے جواب میں نہیں نکلا۔۔۔
تُم ہو کون؟؟؟
تمہاری اوقات کیا ہے کہ سینٹ کمیٹی جیسا فورم تمہیں فراہم کیا جائے؟؟؟
ایوان بالا کیا اتنا گِر چُکا ہے کہ ایک غلیظ پروپیگینڈسٹ کو مدعو کرے!!!!
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
"فیکٹ فوکس سٹوری (پارٹ#3)
📍 یہی نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی بدنام زمانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے بھی وکیل بنے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر وہ اسی کہانی کے دوسرے کردار اور لشکر جھنگوی کے اہم رہنما راؤ حبیب الرحمان کے وکیل بھی بنے۔
📍جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ایک انتہا پسند مذہبی ایکٹیوسٹ ہیں، جواپنے مقاصد کے حصول کیلیے پہلے وکیل بنے اور پھر شدت پسند حلقوں میں اپنے کنکشنز استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تک بن گئے۔ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے نظریاتی اور روحانی باپ ہیں ۔"
کاپی_پیست || کریڈٹ @VictimsofB_Gang
Replying to @VictimsofB_Gang
فیکٹ فوکس سٹوری (پارٹ#3)
📍 یہی نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی بدنام زمانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے بھی وکیل بنے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر وہ اسی کہانی کے دوسرے کردار اور لشکر جھنگوی کے اہم رہنما راؤ حبیب الرحمان کے وکیل بھی بنے۔
📍جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ایک انتہا پسند مذہبی ایکٹیوسٹ ہیں، جواپنے مقاصد کے حصول کیلیے پہلے وکیل بنے اور پھر شدت پسند حلقوں میں اپنے کنکشنز استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تک بن گئے۔ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے نظریاتی اور روحانی باپ ہیں ۔
📍 جب 2022 میں بلاسفیمی گینگ کے سربراہ راؤ عبدالرحیم کے خلاف عبداللہ شاہ کا قتل کیس اسلام آباد پولیس نے حل کر لیا تو یکدم جسٹس چودھری عبدالعزیز نے لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی کے بنچ سے سنسنی خیز اور مشکوک احکامات جاری کرنا شروع کر دیے، ایف آئی اے کے افسران کی بیانات کی حد تک کھچائی شروع کر دی، ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ میں ایمرجنسی بنیادوں پر "بلاسفیمی سیل” قائم کرنے کے انتہائی مضحکہ خیز احکامات جاری کیے۔
📍بالکل اسی لمحے ایف آئی اے افسران مقتول عبداللہ شاہ کے والد عامر شاہ کے خلاف بھی توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ درج کر کے اسے پیغام دے چکے تھے کہ اب انکی اور انکے باقی دو بچوں کی زندگی راؤ عبدالرحیم کے خلاف اپنے مقتول بیٹے عبداللہ شاہ کا مقدمہ قتل واپس لینے پر ہی منحصر ہے اور اسی صورت میں عامر شاہ کا نام توہین رسالت کے مقدمے سے نکل سکتا ہے۔ یوں جسٹس چودھری عبدالعزیز کی سربراہی میں چلنے والے نیٹ ورک کے ذریعے بلاسفیمی گینگ کو مسلسل اور مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا رہا۔
📍یہی نہیں جب ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم کی قیادت میں چلنے والا بلاسفیمی گینگ چند ہنی ٹریپنگ والی لڑکیوں اور اس وقت کے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ کے ملازمین کے ساتھ مل کر نوجوان بچوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسا رہا تھا، عین اسی وقت راؤ عبدالرحیم ایک درخواست لے کر جسٹس چودھری عبدالعزیز کی عدالت میں گئے کہ ایف آئی اے سائیبر کرائمز ونگ کے ملازمین کی ملازمت کو مستقل کیا جائے کیونکہ بہت بڑی بڑی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
📍جسٹس چودھری ایکٹیوژم کے اس لیول پر تھے کہ انہوں نے راؤ عبدالرحیم کے کہنے پر بطور جج لاہور ہائیکورٹ یہ حکم بھی جاری کر دیا۔
📍پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ کی رپورٹ آئی تو بلاسفیمی گینگ اسے بھی لے کر لاہور ہائیکورٹ میں اسی من پسند جج کے پاس پہنچ گیا۔ مگر کسی وجہ سے کچھ عرصے کیلیے جسٹس چودھری کا تبادلہ ملتان بنچ ہو گیا۔ اس پر بلاسفیمی گینگ نے بھی معاملے کی پیروی روک دی۔
📍 بعد ازاں جسٹس چودھری ملتان سے واپس آئے تو راؤ عبدالرحیم نے پھر سے درخواست کی پیروی کی نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ درخواست واقعی جسٹس چودھری کی عدالت میں لگ گئی۔ اور اس مرتبہ بھی جوڈیشیل گاؤن پہنے ایک ایکٹیوسٹ جسٹس چودھری عبدالعزیز نے بلاسفیمی گینگ کی درخواست قبول کرتے ہوئے اسپیشل برانچ کی رپورٹ کی بنیاد پر اس گینگ کے خلاف اداروں کو سخت ایکشن لینے سے روک دیا۔ اگرچہ یہ حکم بعد میں قائم نہ رہ سکا۔
(جاری ہے 👇)
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
کتنے گھر اجاڑ دیئے ان کالی بھیڑوں نے 🐉
@SenatorMumtaz
@AllamaRajaNasir
@AbidSherAli
@SyedAliZafar1
@SMasroorAhsan
@Anny_Marri
@AkMashal
@PoonjoM
@BBCUrdu
@BBC
@BBCWorld
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @SenatorMumtaz
@SenatorMumtaz
@AllamaRajaNasir
@AbidSherAli
@SyedAliZafar1
@SMasroorAhsan
@Anny_Marri
@AkMashal
@PoonjoM انسانی حقوق کی کمیٹی اب بلاسفیمی گینگ کے قصائی قیصر راجہ کواپنا سٹیج دے رہی ہے جو کہ مسلمانوں کو اپنی مخالفت میں قادیانیت کا ٹیگ لگا کر انکی زندگیاں خطرے میں ڈالتا ہے 🔥 👇
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
بریکنگ نیوز
ٹرانسجینڈر / خواجہ سرا کمیونٹی کو ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر چیرنے کی دھمکیاں دینے والا یہ شخص سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو کیا جا رہا ہے۔
@SenatePakistan @HRCPakistan @HRCP87 @amnestysasia
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @VictimsofB_Gang
If such radicals are going to be in invited in Senate’s human rights committee, atleast other side should be invited to present their case too @Anny_Marri @FarhatullahB @AbidSherAli
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
یہ تو حد ہی ہو گئی ہے ۔ انسانی حقوق کی کمیٹی انسانی حقوق کے خلاف کام کرنے والے لوگوں کو مدعو کر رہی ہے؟
اس حکومت کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @juipakofficial
یہ کیسا انصاف ہے؟ انسانی حقوق کمیٹی ایسے شخص کو کیوں مدعو کر رہی ہے جس کے کردار، بیانات اور مبینہ سرگرمیوں پر اتنے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں؟
یہ انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک معاملہ ہے کہ ایک طرف انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے شخص کو دعوت دی جا رہی ہے جس پر الزام ہے کہ وہ ایسے گروہوں کی حمایت میں ساتھ ہوتا ہے جن کے حوالے سے بچوں کو مبینہ طور پر پھنسائے جانے، ان کے خلاف مقدمات بننے اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے سنگین خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @VictimsofB_Gang
Agreed. Both sides should be heard. And I’m confident the committee Chair will agree as well.
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
نفرت اور تعصب کا پرچار کرنے والے ایک دین فروش کو پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بطور ماہر مدعو کرنا نہایت افسوسناک اور تشویش ناک ہے۔ انسانی حقوق کی کمیٹی سے تو یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ رواداری، مساوات اور بنیادی انسانی آزادیوں کی پاسداری کرے گی، نہ کہ نفرت اور تعصب کو فروغ دینے والوں کو ماہرین کے طور پر پیش کرے گی۔
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
🔥انسانیت کے دشمن شدت پسند قیصر راجہ قصائی کو بلانے سے اچھا ہے کہ انسانی حقوق کی کمیٹی اپنے آپ کو آگ لگا لے
یہ وہی قصائی راجہ ہے جو کہ بلاسفیمی گینگ کا کتا ہے جس نے انجینئر محمد علی مرزا کی زندگی خطرے میں ڈالی جھوٹا پروپیگینڈا کر کے اور بچوں کو جھوٹے بلاسفیمی کیسز میں روند ڈالا
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
A member of Blasphemy Business Group is being invited to Senate Human Rights committee. What a sad state of affairs
#StopBlasphemyBusiness
@AbidSherAli @CMShehbaz @OfficialDGISPR
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @EUPakistan
@EUPakistan Watch how Blasphemy Business Gang celebrateing on the death plenty of christian man , Even though no body knows who trapped Him and how He got trapped but this Blasphemy Business Gang is lair everyone knows .
🚨 سام سنگ کا تو مجھے پتہ نہیں مگر ایپل تو سیب ہوتا ہے ۔سنئیے اور سر دھنیئے ۔
6 لوگوں کی زندگی برباد کرنے اور سزائے موت دلوانے والا انپڑھ بابا سعید۔۔۔ 👇
📍 دو دن قبل سپریم کورٹ نے قیصر ایوب نامی ایک کرسچیین لڑکے کی سزائے موت برقرار رکھی ۔ کیس سوشل میڈیا کا تھا اور مدعی تھا بابا سعید آف تلہ گنگ جو کہ جاہل گنوار ہے جس کو سوشل میڈیا کی الف ، ب ، تک نہیں پتہ
📍اس سے قبل اسلام آباد سیشن کورٹ سے جج افضل مجوکاا نے بھی کچھ کیسز میں سزائے موت دی تھی ۔ ایک کیس میں مدعی تھا یہی بابا سعید ۔
📍 👈جب بات سوشل میڈیا ایپس اور موبائل فونز کی ہوئی اور مدعی بابا سعید سے جج نے سوشل میڈیا اور ایپس کا پوچھنے کے بعد سوال کیا کہ آپ سام سنگ Samsung اور ایپل Apple 🍏 📱 کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟؟
تو جانتے ہیں بابا سعید نے کیا جواب دیا تھا..؟؟؟
👈بابا سعید کا جواب تھا کہ سر سام سنگ کا تو مجھے پتہ نہیں مگر ایپل تو سیب 🍏 ہوتا ہے ۔
📍 اسی بابا سعید نے راولپنڈی میں ہی ایک اور کیس بنایا ہوا ہے وہ کیس اور اس بابے کے دیگر سارے کیسز بھی سوشل میڈیا شئیرنگ کے ہیں اور بابا جی کو سوشل میڈیا اور ایپس اور موبائلز کا ککھ نہیں پتہ پھر بھی بابا جی مدعی ہیں ہے اور سزائے موت کا رقص جاری ہے۔۔ ہے نا کمال کی بات ۔۔
📍اسی ان پڑھ گنوار بابا سعید نے چھ لوگوں اور ان کے خاندانوں کی زندگی برباد کی ہے اور جن میں سے 2 بری بھی ہوچکے ہیں ۔
📍ذیل میں دو سزائے موت کے فیصلوں کی ویڈیوز دی جارہی ہیں جس میں شیراز فاروقی ویڈیوز میں کمنٹری کرتے ہوئے خود بتاریا ہے کہ مدعی بابا سعید ہے اور سب کو مبارک ہو اور یہ لوگ خوشیاں منا رہے ہیں Celebrate کر رہے ہیں پھولوں کے ہار ایک دوسرے کو پہنا رہے ہیں ۔ بھلا ان زومبیز کو پھولوں سے کیا کام ؟ موت دے کر پھول بانٹنا ۔۔۔ !!!!!
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
جج صاحب👨⚖️
: بابا جی، یہ کونٹینٹ آپ نے کہاں دیکھا؟ کونسا ڈیوائس تھا ؟ samsung پر یا Apple ؟
گینگ کا بابا جی🎅🏽: Samsung کا تو پتا نہیں، Apple سیب ہوتا ہے
حالات یہ ہے جناب 👨⚖️
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
یہ صرف ایک کیس نہیں، بیانیہ بنانے کا کھیل ہے!
ذرا غور کیجیے: قیصر احمد راجہ اور حسن معاویہ کی آڈیوز/تصاویر میں والدین کو ایک خاص انداز میں گائیڈ کیا جاتا ہے، پھر انہی والدین کی بتائی ہوئی باتوں کو کاٹ چھانٹ کر سوشل میڈیا پر ایک مختلف تاثر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
لیکن جب بعد میں خود والدین کے انٹرویوز سامنے آتے ہیں تو ان کی بات اس بیانیے سے مختلف دکھائی دیتی ہے اور وہ خود وضاحت کرتے ہیں کہ ہم نے جو بات انہیں بتائی تھی، اسے آگے بدل کر پیش کیا گیا۔
تو سوال یہ ہے:
اگر سچ آپ کے ساتھ ہے تو مکمل آڈیو کیوں نہیں؟ مکمل انٹرویو کیوں نہیں؟ اصل سیاق و سباق کیوں نہیں؟
کسی کے الفاظ کا ایک حصہ کاٹ کر، مذہبی جذبات کو ابھار کر اور پھر اسے سوشل میڈیا پر ’’حقیقت‘‘ کے طور پر پھیلانا عوام کو معلومات دینا نہیں—عوام کی رائے بنانا ہے۔
اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اگر ان مقدمات میں واقعی بے گناہ مسلمانوں کو جھوٹے الزامات میں پھنسایا گیا ہے تو اصل توجہ ان متاثرین کو انصاف دلانے پر ہونی چاہیے، نہ کہ ایک تیار کردہ بیانیے کے ذریعے سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرنے پر۔
مکمل ویڈیو دکھائیں۔ مکمل آڈیو سنائیں۔ مکمل سچ سامنے لائیں۔
کیونکہ کٹے ہوئے کلپس سے بیانیہ تو بنایا جا سکتا ہے، سچ نہیں۔
#انصاف #سچ
#FakeBlasphemyCases
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
عنوان: سینکڑوں نوجوانوں کو ایک ہی مبینہ طریقۂ واردات کے ذریعے پھنسائے جانے، اغوا، تشدد اور مقدمات قائم کروانے کے الزامات کی مکمل تحقیقات ?
یہ معاملہ کسی ایک نوجوان یا کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک ایسے منظم طریقۂ واردات سے متعلق ہے جس میں سینکڑوں نوجوانوں کو ایک ہی انداز میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اطلاعات اور متاثرہ افراد کے بیانات کے مطابق تقریباً چار سے پانچ سو نوجوانوں کے معاملات میں مبینہ طور پر ایک جیسا پیٹرن سامنے آتا ہے۔
مبینہ طور پر ہر معاملے میں ایک ہی طرز کی چیٹ، ایک ہی نوعیت کا رابطہ اور ایک ہی انداز میں نوجوان کو پہلے اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ ایک لڑکی کے ذریعے نوجوان سے رابطہ کیا جاتا ہے، اسے دوستی اور گفتگو کے ذریعے قریب لایا جاتا ہے، پھر اسے کسی گروپ میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گروپ میں مبینہ طور پر ایسا مواد ڈالا جاتا ہے جسے بعد میں اسی نوجوان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔
اس کے بعد مبینہ طور پر نوجوان سے کہا جاتا ہے کہ گروپ میں کیا ہوا، اس کی تفصیل بتاؤ یا متعلقہ مواد بھیجو۔ نوجوان جب وہ مواد بھیجتا ہے تو اس کے اسکرین شاٹس لیے جاتے ہیں اور پھر اسے ملاقات کے لیے بلایا جاتا ہے۔
یہاں سب سے اہم اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ الزام صرف ایک واقعے کا نہیں۔ مبینہ طور پر چار، پانچ سو نوجوانوں کے ساتھ تقریباً یہی ایک ہی طریقہ دہرایا جاتا ہے: ایک ہی طرز کی لڑکی، ایک جیسی چیٹ، ایک جیسا گروپ، ایک جیسا مواد، ایک جیسا رابطہ، ایک جیسی ملاقات اور پھر ایک جیسا الزام۔
مبینہ طور پر ملاقات کے بعد نوجوان کو ایسے افراد کے پاس لے جایا جاتا ہے جو پہلے سے وہاں موجود ہوتے ہیں۔ الزام ہے کہ وہاں اسے قابو میں کیا جاتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس سے مبینہ طور پر ایسے اعترافات کروانے کی کوشش کی جاتی ہے جو اس کے اصل مؤقف کے خلاف ہوتے ہیں۔
مزید یہ الزام بھی سامنے آتا ہے کہ نوجوان کا موبائل فون اور دیگر اشیاء قبضے میں لے لی جاتی ہیں۔ اس کے بعد موبائل فون، اکاؤنٹس، چیٹس اور گروپس میں ہونے والی سرگرمیوں کی مکمل فرانزک جانچ انتہائی ضروری ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ تعین کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ متعلقہ مواد کس وقت، کس ڈیوائس سے اور کس شخص نے پوسٹ یا فارورڈ کیا۔
اس معاملے میں ایک اور انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ اگر مختلف نوجوانوں کے خلاف تقریباً ایک جیسا مواد، ایک جیسی چیٹ اور ایک جیسا طریقۂ کار سامنے آ رہا ہے تو کیا یہ محض اتفاق ہے، یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک موجود ہے؟
مزید برآں، مبینہ طور پر جو لوگ اس پورے گروہ یا طریقۂ کار کے مخالف ہوتے ہیں، ان کے معاملات میں بھی ایک ہی وکیل یا ایک ہی قانونی ٹیم کا سامنے آنا اور مختلف نوجوانوں کے مقدمات میں ایک جیسا قانونی پیٹرن نظر آنا بھی مکمل تحقیقات کا متقاضی ہے۔
اگر سینکڑوں مختلف نوجوانوں کے معاملات میں:
ایک ہی نوعیت کی چیٹس،
ایک ہی لڑکی یا اسی طرز کا رابطہ،
ایک ہی قسم کے گروپس،
ایک ہی نوعیت کا مواد،
ایک ہی انداز میں ملاقات کے لیے بلانا،
ایک ہی طرز کے الزامات،
ایک جیسا قانونی طریقۂ کار،
اور ایک ہی یا منسلک افراد/وکلاء کا بار بار سامنے آنا
ثابت ہوتا ہے، تو یہ محض انفرادی واقعات نہیں رہتے بلکہ ایک مبینہ منظم نیٹ ورک اور منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں، جس کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
@CMShehbaz @BBCUrdu @OfficialDGISPR @HamidMirPAK






















