سو کالڈ غیرت
Replying to @the_x_celebrity @fizimughal
بیس سال کے لڑکے کو کیا موت پڑ گئی تھی کہ ماں کو شادی سے منع کر رہا تھا ، خود بھی شادی کرتا اور ماں کی جان چھوڑ کر چلا جاتا
ماں نے بچے جوان کر کے سوچا ہو کہ اب اپنا بڑھاپا کے سہارا کسی کو بنا لوں قانون شریعت مرد اور عورت دونوں کو اجازت دیتی ہے اور اس خبیث نے بہنیں کس لیے قتل کی؟
درست کہا
لیکن یہاں مرد کی حاکمیت کاخلاصہ یہی ہے کہ عورت اگربیوی ہےتوبس مفت کامال ہے، مارو پیٹو ذلیل کرو، اور بچے بھی پیدا کرو وگرنہ طلاق کا تمغہ دےکربٹھادو
نفرت ہے ایسی منافقت سے جہاں میاں بیوی کے رشتے میں مرد اندھے ہوں اور ماں بہن کے رشتے میں انکو سارےجہاں کےحقوق یادآ جائیں
اللہ نے مرد کو حاکم اس لیے نہیں بنایا کہ عورت کو اپنی مردانگی سے ہی مرعوب کرتا رہے
گھر والوں کو خوش کرنے کے لیے بیوی کو تھپڑ مار یہ سیکھائے کہ میری بیوی حاضر ہے آپ بھی یہ سلوک کرسکتے ہیں
بیوی کے جہیز کی چیزیں پوچھے بغیر استعمال کریں ٬ جب دل چاہے کمرے میں آئیں
پھر ایسی بیوی کی شوہر کے گھر والوں کی نظر میں بھی دو کوڑی کی عزت نہیں ہوتی لیکن وہ بچوں کی خاطر سب برداشت کرتی ہے
لیکن کہتے ہیں نا خون اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے یہی اولاد جوان ہو کر پھر وہی رویہ دہراتی ہے بہوئیں بھی پھر ساس کی عزت نہیں کرتیں
اور وہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ان پر بوجھ بنتی جاتی ہے
Adult Society By RuthlessZQ
😂🤣
آپکی بات سے اختلاف کر لیا تو آپکا خیال بدل گیا اب میرے شعور اور تعلیم کے بارے؟
فائین
مجھے یہاں کسی پر بھی اپنی تعلیم یا شعور ثابت بھی نہیں کرنا، نا ہی ہر ایک کے خیال کو درست ثابت کرنے کے لیے اپنی رائے بدل سکتی ہوں میں 😂
خان صاحب اور انکی فیملی اہم ہے اس وقت
اس پر بات کریں
انکی زندگیوں کو خطرہ ہے
خدارا اس پر آواز اٹھائیں
یہ کوئی نا کوئی دوسرے قصے ڈال کر اصل مقصد سے ہٹا دیتے ہیں لوگوں کو
کاش سو کالڈ مردوں کو سمجھ آ جائے یہ بات
جو ہر ایسی پوسٹ پر کود جاتے ہیں خود کو فرشتہ ثابت کرنے
بھئی تم ہو گے فرشتہ، تو رہو سائیڈ پر
تمھاری اخلاق کردار کی گواہی تو ہم مانگ ہی نہیں رہے
جن مردوں کو یہ سن کر آگ لگ جاتی ہے کہ مرد عورتوں پر ظلم کرتے ہیں، مرد rapist ہوتے ہیں، مرد زیادتی کرتے ہیں۔ اور پھر یہ بحث کرنے لگتے ہیں کہ ہم تو ایسے نہیں ہیں۔
تو بھائی جی اگر آپ ایسے نہیں ہیں تو پھر سمجھ لیں کہ یہ بات آپکے لیے نہیں کی گئی۔ ایویں ہر بات کو پرسنل نہیں لے لینا چاہیے۔ اور اگر صرف یہ بات سنکر آپ گالم گلوچ پر اُتر آتے ہیں تو اپنے رویے پر غور کریں۔
جو عورتیں ان مظالم کے خلاف بولتی ہیں انکو بول لینے دیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ سب ہوتا ہے، ہوتا رہا ہے، اور کیاہی اچھا ہو کہ کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی مرد اپنے رویوں کو بدل لے۔
😂🤣
When your ladies work in kitchen and coming with the smell of ginger garlic
Talk about that
You man behave like
منافق
Replying to @Zari094
Bint e adam and happy for what she said about your father brother who earning bread doing hard work for 14 hours and coming back smeling like diesel petrol.. talk to wall
کامل انسان تو کوئی بھی نہیں ہے
نا ہی عمیرہ نے ایسا کہا ہے کہ ابوبکر کامل ہے
یہ تو لوگوں کی رائے ہے
پڑھنےدیکھنےوالوں کا نظریہ ہے
دوسرا لکھاری کالکھاکردار آپ ایسےڈسکس کررہےجیسےوہ کوئی جیتاجاگتاانسان ہے
وہ کردار باربار اپنی بیوی سےیہ بھی توکہہ رہاہے کہ جس بات پرپردہ ہے،اسےرہنےدو
عمیرہ احمد کا جدید پیرِ کامل
’درِ نجات‘ میں ابوبکر کا کردار کسی طور بھی کامل نہیں ہے۔ اس کردار میں کئی تضادات اور غیر حقیقی پہلو ہیں جنہیں نظرانداز کرنا مشکل ہے۔
ایک طرف ابوبکر اپنی بیوی زریاب کے سوالات کو مسلسل نظرانداز کرتا ہے، موضوع بدل کر گفتگو سے نکل جاتا ہے اور ایک مہذب انسان کی طرح بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے اسے ذہنی اذیت میں مبتلا رہنے دیتا ہے۔ اپنی نیند کو اس قدر اہمیت دیتا ہے کہ نیند کا متاثر ہونا گویا کوئی اٹل اصول ٹوٹنے کے مترادف ہے۔ سامنے ایک پریشان، ذہنی طور پر مضطرب اور روتی ہوئی عورت ہے، لیکن وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ کر سو جاتا ہے۔
دوسری طرف یہی ابوبکر عشا، تہجد، تلاوتِ قرآن اور فجر تک جاگتا ہے اور پھر جوگنگ کے لیے نکل جاتا ہے۔ جب زریاب اس سے پوچھتی ہے کہ تم سوتے کب ہو تو جواب دیتا ہے کہ مجھے نیند کا کوئی خاص مسئلہ نہیں، شاید ہی کبھی چھ گھنٹے بھی سویا ہوں۔ تو پھر بیوی کے ساتھ چند لمحے بات کرنے اور اس کے سوالات سننے کے لیے وقت اور برداشت کیوں نہیں؟
ایک طرف زریاب کی ساس اسے رکشے میں اور پیدل بازاروں میں گھماتی ہے تاکہ اسے شلوار قمیض کے لیے مناسب قیمت پر کپڑا خرید کر دے سکے، جسے گھر کی ملازمہ سیتی ہے۔ دوسری طرف جب ابوبکر کو زریاب سے محبت ہونے لگتی ہے اور اس کی انا کا شیشہ ٹوٹتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو کم بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے شوقیہ پانچ لاکھ روپے تک کی شاپنگ کی پیشکش کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس گھر میں ماں کے لیے ایک ڈرائیور تک موجود نہیں، وہاں یہ اچانک فراخ دلی کہاں سے آ جاتی ہے؟
ابوبکر کی ایمانداری کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ کام کے لیے مختص گاڑی کراچی سے حیدرآباد تک ذاتی کاموں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اور جب کبھی ماں سے ابوبکر کی محبت دکھانی مقصود ہو تو ایک قدیم کار چلاتے ہوئے یہ جملہ ضرور سنوا دیا جاتا ہے کہ مہنگی گاڑی ہونے کے باوجود وہ اس گاڑی میں اس لیے گھومتا ہے کہ اس کی ماں نے پیسہ پیسہ جوڑ کر یہ گاڑی لی تھی۔ حالاں کہ پورے ڈرامے میں اس گاڑی کا استعمال بمشکل دو تین مرتبہ دکھایا گیا ہے، وہ بھی صرف اس خوبی کا تاثر قائم کرنے کے لیے۔
ایک ایک ہفتے گھر سے غائب رہنا اور اس بات کی ضرورت محسوس نہ کرنا کہ کوئی اس سے بات کرنا چاہتا ہے، اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہے، اس کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب ایک تعلق کو بہتر بنا سکتے ہیں، یہ سب بھی اسی مثالی کردار کا حصہ ہے۔ تعلق صرف نیت یا محبت کے دعوے سے نہیں بنتا، اس کے لیے وقت، مکالمہ، توجہ اور دوسرے انسان کے احساسات کی قدر بھی ضروری ہے۔
اور دوسری طرف ابوبکر کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو دکھایا گیا ہے کہ محلے کی سوشل ورک سے لے کر پورے سندھ، کراچی اور حیدرآباد کے مسائل، ایلیٹ طبقے کے خاندانوں سے لے کر غریب ترین گھرانوں کے معاملات تک، ہر مسئلے کا حل ابوبکر کے پاس ہے۔ چاہے زامل کے گھر کی ماڈرن لڑکی زریاب ہو یا غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی اس کی بیوی حمنہ، ہر کسی کے لیے ابوبکر ہی نجات دہندہ بن کر سامنے آتا ہے۔
یہ اتفاقات اور کردار کی غیر معمولی خوبیاں اتنی غیر حقیقی ہیں کہ حقیقت سے کوسوں دور محسوس ہوتی ہیں۔
میرا اعتراض ابوبکر کے نیک، عبادت گزار یا مددگار ہونے پر نہیں، بلکہ اس کردار کو کامل انسان کے طور پر پیش کرنے پر ہے۔ عبادت، نیکی اور سماجی خدمت اپنی جگہ، لیکن ایک انسان کی اصل آزمائش اس کے قریبی رشتوں میں ہوتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش ہو، لیکن اپنی زندگی کے سب سے قریبی رشتے کے جذبات، سوالات اور ذہنی اذیت کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے، اسے کامل کیسے کہا جا سکتا ہے؟
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں کردار کی مثالی تصویر اور انسانی حقیقت ایک دوسرے سے جدا ہو جاتی ہیں۔
سونیا خان
اللّہ ہم اتنے بےبس ہیں کہ تیرے سوا کوئی نہیں جس سے التجا کر سکیں
یہ سارے زمینی خدا کیوں اتنے طاقت ور ہیں جب اصل طاقت کا مالک تو ہے
عمران خان صاحب کی صحت سیاست سے ہٹ کر ایک انسانی معاملہ ہے۔ عمران خان بطور قومی ہیرو پاکستانی قوم کے دلوں میں بستے ہیں۔عمران خان صاحب کے بلڈ پریشر کا 192 تک جانا انتہائی خطرناک ہے۔ تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ خان صاحب کی صحت کیلئے آواز بلند کریں۔ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر فی الفور عمل کیا جائے۔ ان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دی جائے اور انکے تمام ٹیسٹ ایسی لیبارٹری سے کروائے جائیں جس پر خان صاحب اور ان کے خاندان کو اعتبار ہو۔
اور کیسے پتا ہو کہ یہ حدیث مستند ہے یس نہیں ؟
#ShiftImranKhantoHospital
شرم کرو بےغیرتوں























