Pinned Tweet
کچھ کیفیات کا تسلسل بھی جہنم سے کم نہیں ہوتا. انسان چھٹکارا پانے کے لیے جتنے ہاتھ پاؤں مارتا ہے, اتنا ہی ان میں جکڑا جاتا ہے.
N.khalil retweeted
وحشت دل کے اشاروں پہ چلے ہیں برسوں
یوں بھی ہم عقل کی آنکھوں میں کھلے ہیں برسوں
اپنی مرضی سے بھی دو چار قدم چلنے دے
زندگی ہم تیرے کہنے پہ چلے ہیں برسوں۔۔۔۔
If there's life beyond this one
I'll search the skies, I'll chase the sun
I'll find you there , where love's remade
Where shadows fade, and hearts aren't frayed
" ہماری قوم میں بدتہذیبی، بکواس اور طنز میں فرق سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے"
بالکل درست بات
تھوڑا سا اضافہ یہ کہ بات کہنے کا انداز بھی میٹر کرتا ہے۔ چہرے کے نقوش بگاڑ کر بات کرنے سے آپ کی بکواس ، بکواس شریف نہیں ہو جایا کرتی۔
اس کے لچر پن اور بدتمیزی کو عورتیں صرف عورت ہونے کی وجہ سے دفاع کر رہی ہیں. جو یہاں تمکنت جیسے خواجہ سرا کی باتوں کی شدید مذمت کرتے ہیں وہ مفتی طارق کے انداز و بیان کی بھی مذمت کرتے ہیں. لیکن صرف ایک بندے کے غلط انداز یا بات کے جواب پر تمنکت جیسی بےہودہ بدزبان کو ہیرو بنانا کہ مفتی طارق مسعود پسند نہیں تو ان میں اور مفتی میں فرق کہاں رہتا ہے؟ ہماری قوم میں بدتہذیبی بکواس اور طنز میں فرق سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے.
N.khalil retweeted
قدیم پیڑ ہوں اور منجمد چٹان میں ہوں
عجیب کرب سے گزرا ہوں سنگ ہوتا ہوا
#سعودعثمانی
N.khalil retweeted
ہم دونوں کا عہد ہوا تھا ایک زبان ہی بولیں گے
تم بولو کیا مطلب سمجھوں یک طرفہ خاموشی کا
💔
اے شجرِ حیاتِ شوق, ایسی خزاں رسیدگی؟
پوشش برگ و گل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں نہیں
#جون
N.khalil retweeted
William gamborg X SurTaal Kids Band
Follow our official page
Krishan Nagar Lahore
#foryou #fyp #surtaal #surtaalkidsband
N.khalil retweeted
اَیہُّاالنّاس چلو کوہ ِ ندا کی جانب
کب تک آشفتہ سری ہو گی نئے ناموں سے
تھک چکے ہو گے خرابات کے ہنگاموں سے
ہر طرف ایک ہی انداز سے دن ڈھلتے ہیں
ہر طرف ایک ہی انداز سے دن ڈھلتے ہیں
لوگ ہر شہر میں سائے کی طرح چلتے ہیں


















