غرور حسن کا صدقہ کوئی جاتا ہے دنیا سے
کسی کی خاک میں ملتی جوانی دیکھتے جاؤ
ادھر منہ پھیر کر کیا ذبح کرتے ہو ادھر دیکھو
مری گردن پہ خنجر کی روانی دیکھتے جاؤ
ہوا نہ راز رضا فاش وہ تو یہ کہیے
مرے نصیب میں تھی ورنہ سعیٔ نا معلوم
مری وفا کے سوا غایت جفا کیوں ہو
تری جفا کے سوا حاصل وفا معلوم
کچھ ان کے رحم پہ تھی یوں ہی زندگی موقوف
کہ ان کو راز محبت بھی ہو گیا معلوم
مجھ کو معلوم ہے کیا بیت چکی ہے تجھ پر
میرے چہرے کے سلگتے ہوئے زخموں کو بھی دیکھ
میری آنکھوں پہ مری فکر پہ پابندی ہے
میں اسے چاہوں بھی تو یاد نہیں کر سکتا
تو اسے کھو کے مچل سکتا ہے رو سکتا ہے
اور میں لٹ کے بھی فریاد نہیں کر سکتا
میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموش
اپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے
میرا کمرہ جو مرے دل کی ہر اک دھڑکن کو
سالہا سال سے چپ چاپ گنے جاتا ہے









