qUrAyShI Mohd Slmn (@qms3510) header
qUrAyShI Mohd Slmn (@qms3510) profile picture

https://nitter.gq/t.co/maayOFcgDH @juipakofficial @MoulanaOfficial @JUI_DMCGR1 @teamJUIswat

Kingdom of Saudi Arabi
Joined March 2020
qUrAyShI Mohd Slmn retweeted
اس ملک میں وفاداری کا عجیب معیار بنا دیاگیا ہے اگر آپ طاقتوروں کی خواہشات کے مطابق چلیں تو وفادار لیکن اگر ان کے فیصلوں سے اختلاف کریں تو وطن سے محبت کے باوجود غدار۔ آپ سو مرتبہ پاکستان سے وفاداری کا اظہار کریں لیکن اگر آج کی اسٹیبلشمنٹ کی پیروی نہ کریں اور ان کی خواہشات کے تابع نہ ہوں تو آپ کی تمام وفاداریاں مشکوک۔ نگریز کے خلاف جنگ لڑنا وطن سے وفاداری تھی لیکن آج طاقتور حلقوں کے فیصلوں سے اختلاف کرنا غداری سمجھا جاتاہے۔ آخر وطن سے وفاداری کا معیار کب اور کیسے بدل گیا؟ حکمرانوں کی دولت، اثاثوں اور اچانک بدلتی معاشی حیثیت پر سوال کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ سیاست میں آنے والے چند لوگ پورے ملک کے بڑے صنعتکار کیسے بن جاتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ کچھ اور ہے اور بحث کا رخ کہیں اور موڑ دیا جاتاہے۔ اصل سوالات سے توجہ ہٹاکر غیر متعلقہ معاملات کو موضوع بنادیا جاتاہے۔ تاکہ عوام بنیادی مسائل پر غور ہی نہ کرسکیں۔ #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
2
2
76
اسلام آباد: جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام مفتی محمود کانفرنس سے قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا مکمل خطاب
17
232
24
485
10,107
میرے نوجوانو! جمعیۃ طلباء اسلام کے پروانو! مجھے یاد ہے کہ چند سال قبل جمعیۃ طلباء اسلام کے زیر اہتمام اسی اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں مفتی محمود کانفرنس منعقد ہوئی تھی، جس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم جناب میاں شہباز شریف صاحب تھے۔ لیکن آج میں شہباز شریف صاحب کو اس قدر بے بس دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسلام آباد میں واقع پاک چائنہ فرینڈشپ سینٹر میں بھی آپ کے اجلاس کے انعقاد کی اجازت نہیں دلوا سکے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب،5 نومبر – at Islamabad, Pakistan
11
208
21
411
9,210
دنیا چاہتی ہے کہ ہم چائنا کا راستہ روک لیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ ہم یہاں قبائلی پہاڑوں میں یہاں پر سرمایہ کاری کریں۔ اور ان کو دعوت دینے میں گیا تھا؟ امریکہ کے اوول ہاؤس میں پریزیڈنٹ ٹرمپ کو ہمارے پہاڑوں کے معدنیات کے نمونے میں نے پیش کیے تھے؟ نمونے تم پیش کرتے ہو، ترغیب تم دلا رہے ہو، تمہارا آپس میں ایک معاملہ ہے،،، قوم کے سامنے رکھو یہ چیزیں۔ ہم کسی کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں، یہ بھی غلط ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جائے۔ ہم امریکہ کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، لیکن معاملے میں شفافیت ہونی چاہیے، معاہدات میں شفافیت ہونی چاہیے، قوم کے سامنے تمام شرائط رکھی جائیں، کن شرائط پر معاہدہ ہوا ہے، ہمارے ملک کے منافع کا تعین ہو، ان کے منافع کا تعین ہو، مقامی آبادی کے منافع کا تعین ہو۔ چوری چھپے ۔۔۔۔۔۔۔اب کہتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کے خلاف بات نہ ہوتی تو پھر تو ایمرجنسی صرف فاٹا میں ہونی چاہیے تھی، یہ نیچے اضلاع میں کیوں ہوئی؟ اب مجھے بھی پھر کچھ کہنا پڑ رہا ہے، کیا کریں ۔۔۔۔۔ یہ اسمگلنگ کے راستے ہیں، اس لیے وہاں ایمرجنسی ہے۔ بہت سے قبائلی نوجوان یہاں ہوں گے جن کے علاقوں میں ہفتے میں دو دن کرفیو ہوتا ہے، ہوتا ہے نا دو دن؟ تو پانچ دن دہشت گردی نہیں ہوتی وہاں پر؟ پانچ دن دہشت گرد کہیں چلے جاتے ہیں، غاروں میں چھپ جاتے ہیں اور صرف دو دن باہر آتے ہیں، تو پھر آپ ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہوتے ہیں؟( تو یہ کرفیو کس لیے لگائی جاتی ہے؟ ہمیں کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد آ رہے ہیں، گھروں میں بند رہو، باہر مت آؤ، ہم لڑ رہے ہیں، وہ پتا چلا کہ وہاں سے ٹرک گزر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں نہ معاہدہ پر اعتراض، نہ کسی کی سرمایہ کاری پر اعتراض، یہاں سے اگر مال نکلتا ہے تو جائز راستے سے آئے نا، تو جائز راستے ہم نے بند کیے ہیں، افغانستان کے ساتھ ہماری بندش ہے، تو چوری کے راستوں سے مال تو آ رہا ہے۔ ہمارے محصولات میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو ٹیکس کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ ادا کرو، اس سے ملک چلتا ہے۔ اب اگر ہم حکمران ہوتے ہوئے اس طرح کی کارروائیاں کریں گے کہ پتا نہیں اپنے منافع کے لیے تم نے کون سے چوری کے راستے بنا لیے ہیں اور قوم کے خزانے کی پرواہ نہیں ہے، عوام کی تمہیں پرواہ نہیں ہے۔ ہم قوم کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کی نظر گوادر پر ہے، تم نے گوادر کو وفاق کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بلوچستان کا حق بنتا ہے۔ ساحلی علاقہ جو بلوچستان کا حق بنتا ہے، تمہاری اس پر نظریں ہیں کہ کس طرح کوسٹل ایریا کو وفاق کی طرف کیا جائے، ہم ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صوبہ سندھ میں جزیرے ہیں، جن کے منافع کے حق دار سندھ کے عوام ہیں، تم ان پر قبضہ کر رہے ہو اور وفاق کے کنٹرول میں لے رہے ہو۔ ظاہر ہے، جب ایک دفعہ آئینی طور پر یہ ساری چیزیں صوبوں کے عوام کے حق قرار دیے جا چکے ہیں، آپ اس طریقے سے اس پر قبضہ کریں گے؟ یہ تو قومی امانت ہے، تم اتنی بڑی خیانت کے مرتکب ہو اور ہمارے پیچھے لگ گئے ہو، گھر کا نقشہ پاس نہیں کیا، فضائی ڈرون ویڈیوز بنائے جا رہے ہیں، گھر معلوم کیا جا رہا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
40
349
49
892
31,600
ہم اس ملک میں جھک کر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم اس ملک میں باعزت شہری کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ کامران مرتضیٰ صاحب کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ افغانی ہیں، وہ تو کشمیری ہے اور یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کشمیر سے آئے ہیں اور وہاں کوئٹہ میں سیٹل ہوئے ہیں۔ اس سے بھی عجیب بات یہ کہ حافظ حمدللہ صاحب کا بیٹا فوج میں بھرتی ہوا، اس کے بیٹے کا فوج میں کمیشن ہو گیا، بیٹا فوج میں کمیشن لے رہا ہے اور باپ کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانی ہو، تم پاکستانی نہیں ہو، اس کو کہتے ہیں اندھیر نگری۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
27
260
35
526
11,851
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب حکومت نے طلبہ اور اساتذہ، دونوں کو اپنے اجتماعات منعقد کرنے سے روک دیا، مولانا فضل الرحمٰن یہ ہے حکمرانوں کی نظر میں تعلیم، طالب علم اور استاد کی قدر و منزلت، مولانا فضل الرحمان کون پالیسیاں بنا رہے ہیں کون فیصلے کر رہا ہے یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے، مولانا فضل الرحمٰن حکومت اپنے اقدامات سے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن یہ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف یا ملکی نظام کے خلاف؟ ان اقدامات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا الحمدللہ! 34 سال سے سیاست کر رہا ہوں، آج تک کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا، مولانا فضل الرحمٰن 34 سالہ سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں، ختمِ نبوت کے معاملے میں ایک مرتبہ عدالت گیا، مولانا فضل الرحمٰن ملک میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے ہم بڑے بدعنوان لوگ ہیں، مولانا فضل الرحمٰن میری کردار کشی کے لیے نوٹس اچھالے جا رہے ہیں، میڈیا میرا اصل مؤقف بھی قوم کے سامنے لائے احتساب کے ادارے احتساب نہیں، انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے؟ سیاست میں آئے اور آج پورے ملک کے بڑے سرمایہ کار بن گئے، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں؟ مقدمات بھی چلے، سزائیں بھی ہوئیں، قید و بند بھی ہوئی، لیکن وفاداری کا اعلان کرتے ہی سب کچھ دھل جاتا ہے میرے خاندان، جماعت کے اہم ذمہ داروں اور کاروباری ساتھیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ہم دباؤ کے عادی ہیں، اپنے حق کی آواز کسی صورت نہیں روکیں گے کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے، مولانا فضل الرحمٰن تعلیم اور تربیت دونوں ضروری ہیں، تعلیم کے بغیر اندھیرا اور تربیت کے بغیر انسانیت نامکمل ہے دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن دینی مدارس صرف مولوی نہیں، دین کی تعلیم اور انسانی زندگی کی رہنمائی کرنے والے علماء پیدا کرتے ہیں علمائے دین انبیاء کے وارث ہیں، ان کا مقصد روپیہ پیسہ کمانا نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی ہے شریعت کا اولین تقاضا غلامی سے نجات اور جبر کے سامنے سر نہ جھکانا ہے حکمرانوں نے اپنے مفادات کے لیے قانون سازی کی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات آج تک نظرانداز کی جا رہی ہیں اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، اس کا اپنا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام بھی ہے قرآن کا تصور آزادی، معاشی خوشحالی اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود ہے آج وفاداری کا معیار وطن سے محبت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے ہمارا دعویٰ کچھ ہے اور میڈیا پر بحث کسی اور چیز پر ہو رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن میڈیا نوٹس اچھالنے کے بجائے ہمارا اصل مؤقف اور ملک کا مسئلہ قوم کے سامنے لائے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ مولانا فضل الرحمٰن دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باوجود دہشت گردی بڑھ رہی ہے، آخر ان اقدامات کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟ کیا قبائلی علاقوں میں آپریشنز کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے یا معدنی ذخائر پر قبضہ؟ ہمارے پہاڑوں کے معدنی ذخائر، ساحل اور جزائر کس کے حوالے کرنے کی تیاری ہو رہی ہے؟ صوبوں کے وسائل پر قبضہ اور این ایف سی ایوارڈ میں کمی کی کوششیں ہو رہی ہیں فاٹا انضمام کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، دس سال بعد خود اس فیصلے کو غلط قرار دیا جا رہا ہے احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، یہ احتساب کے ادارے نہیں ہیں جمعیت علمائے اسلام تمہاری بنائی ہوئی جماعت نہیں، ہم انگریز کے خلاف آزادی کی تحریک کا تسلسل ہیں ہمیں اشتعال دلانے کے حربے پہلے بھی ناکام ہوئے، آئندہ بھی ناکام ہوں گے پاکستان ہمارا ہے، ہم اس کے دفاع، اس کے نظام اور اس کی امانتوں کا دفاع کریں گے تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے، مولانا فضل الرحمٰن ہمیں دباؤ میں لا کر اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کرایا جا سکتا، ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں صوبوں کے وسائل، معدنی ذخائر، سمندری ساحل اور جزائر عوام کی ملکیت ہیں قوم کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کے حقوق اور وسائل پر فیصلے قبول نہیں کریں گے ہمیں مطمئن کرو، ہماری تشویش دور کرو، قوم کے تحفظات کا جواب دو، مولانا فضل الرحمٰن
20
261
41
515
11,632
دو روز پہلے یہاں اسلام آباد میں طلبہ کا اجتماع ہوا تھا اور آج یہاں اساتذہ کا اجتماع ہو رہا ہے۔ دونوں اجتماعات جہاں منعقد ہونے تھے، وہاں طاقتور قوت نے نہ طلبہ کو جمع ہونے دیا اور نہ اساتذہ کو۔ یہ ہے ان کی نظر میں تعلیم کی قدر و قیمت، یہ ہے ان کی نظر میں طالب علم کا مقام اور یہ ہے ان کی نظر میں استاد کا مقام۔ آپ کو شاید سزا اس بات کی مل رہی ہے کہ آپ کا نظریہ، آپ کا فکر اور آپ کی سوچ کا زاویہ جمعیت علمائے اسلام سے ملتا ہے، اور یہ بھی کہ آپ کے اجتماعات سے فضل الرحمٰن خطاب کرنے والے ہیں۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے کہ کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے، جو کچھ انہوں نے کیا، اس میں حماقت ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں۔ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف، ملکی نظام کے خلاف۔ تو یہ چیزیں انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہیں۔ کون پالیسی بناتا ہے؟ کون فیصلے کرتا ہے؟ یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب،7 نومبر
17
169
22
303
8,108
انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے آج بھی آپ پاکستان کے وفادار بنیں، سو دفعہ وفادار بن جائیں، لیکن آج کی اسٹیبلشمنٹ کی پیروی اگر آپ نے نہ کی اور ان کی خواہشات کے مطابق آپ نے زندگی نہ گزاری تو آپ غدار قرار دیے جاتے ہیں۔ دشمنی بھی کی جاتی ہے، اختلاف بھی کیا جاتا ہے، لیکن بڑے لوگ اس میں بھی وقار رکھتے ہیں۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے اقدامات! آج آپ میڈیا دیکھیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور یہ کیا کہہ رہے ہیں ! امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
13
155
33
297
5,847
ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟ فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟ دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔ ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟ میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟ شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔ یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔ یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔ جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔ تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔ اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
17
339
27
1,087
29,051
پاکستان ہمارا ہے اور اس پاکستان کا ہم دفاع کریں گے، اس کے نظام کا دفاع کریں گے، اس کی امانتوں کا دفاع کریں گے اور تمہارے یہ سارے حربے خس و خاشاک ہو جائیں گے۔ آپ نہیں جانتے، ہم تحریکی لوگ ہیں، ہم مسلسل آگے بڑھتے ہیں۔ تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے۔ کبھی آپ گوادر پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ کبھی آپ بلوچستان کے سمندر اور کوسٹل ایریا پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ کبھی آپ صوبہ سندھ کے جزیروں پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ یہ عوام کے حقوق ہیں۔ یہ سارا کچھ جو ہو رہا ہے دو باتوں کےلئے ہو رہا ہے۔ ایک، صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنا، ان کے معدنی ذخائر، ان کے سمندری ساحل اور ان کے جزائر۔ اور دوسرا، این ایف سی ایوارڈ، جو اس وقت صوبوں کے محصولات کے بڑے حصے کا ذریعہ ہے، ان کو کم کرنے کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ یہ تو ایسی ترامیم ہیں جو متفقہ ہیں؟ یا پاکستان کا آئین متفقہ ہے؟ یا ختمِ نبوت کی ترمیم متفقہ ہے؟ یا اٹھارویں ترمیم متفقہ ہے؟ آپ قوم کے اتفاق کو تباہ کر رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہمیں مطمئن کیا جائے، ہم پر طنز کیے جا رہے ہیں، ہم پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس دباؤ میں آ کر اپنا بیانیہ تبدیل کر دیں گے۔ ہم بھی آپ کے منہ پر یہ مارتے رہیں گے، آپ کی مرضی ہے، آپ جو کچھ کر دیں۔ تمہارے یہ ادارے تمہارے کنٹرول میں ہیں، ان سے ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں۔ وضاحت کے ساتھ انہیں پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ احتساب کے آپ کے ادارے انتقامی ادارے ہیں، یہ احتساب کے ادارے نہیں ہیں۔ اس حوالے سے ہم نے اپنی بات کرنی ہے، دلائل کے ساتھ کرنی ہے۔ ہم کسی سے جھگڑا نہیں کر رہے، تم قوم کے سرمائے کو سمیٹنے کی کوشش کرو، ہم اس وطن کو بچانے کی جنگ لڑیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
8
101
15
174
3,779
ہم اپنے حق کی آواز روک دیں، یہ نہیں ہوگا۔ہمیں مطمئن کرو، قوم کی تشویش کو دور کرو۔ اس وقت کوئی سیاسی جماعت نہیں بول رہی ہے، کوئی قوم پرست نہیں بول رہا، سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اس ماحول میں ایک ہی آواز ہے۔وہ جمع اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اکیلے ہیں۔ اکیلے نہیں ہیں۔ اگر ہم نے کال دیدی، تو پھر قوم آئے گی، کسی کی محتاج نہیں ہوگی۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
11
81
16
177
4,258
جب سے حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور ان کے زیر اثر بے ضمیر، کالے اور لفافہ چینلز مولانا کے پیچھے پڑے ہیں۔ اُس دن سے آج کی کانفرنس تک قائدِ جمعیت مدظلہ العالی اپنے ہر خطاب میں مسکراتے نظر آتے ہیں 🫣 مولانا صاحب کی یہی مسکراہٹ ان کے لیے ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے 💪 وہاں وہ جتنا زور لگاتے ہیں یہاں مولانا صاحب اتنا ہی زیادہ مسکراتے ہیں 😁 #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
3
3
55
qUrAyShI Mohd Slmn retweeted
قائد جمیعت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا اسلام آباد میں قومی تعلیمی کانفرنس سے اہم خطاب @MoulanaOfficial #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
8
11
135
qUrAyShI Mohd Slmn retweeted
دو روز پہلے طلبہ کو اجتماع کی اجازت نہیں دی آج اساتذہ کو روک دیا۔ جس معاشرے میں طالب علم جمع نہ ہوسکے اور استاد اپنی بات نہ کرسکے وہاں تعلیم کی قدر و منزلت کے دعوے آخر کس منہ سے کیے جاتے ہیں؟ کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے۔ طاقت کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو خاموش تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے دلوں سے نظریہ نہیں نکالا جاسکتا۔ جبر ہمیشہ اپنے خلاف نفرت پیدا کرتاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے معلم بناکر بھیجاگیا ہے، مجھے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجاگیا ہے۔ یعنی اسلام میں صرف تعلیم کافی نہیں علم کے ساتھ کردار اور تربیت بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تعلیم نہ ہو تو انسان اندھیروں میں بھٹکتا ہے لیکن تربیت نہ ہو تو علم بھی بے قیمت ہو جاتاہے۔ علم سکہ ہے تو تربیت اس کی کھوٹ اور کھرے ہونے کا معیار ہے۔ محض ڈگری انسان کو باکردار نہیں بناسکتی۔ قومی دھارے میں شامل ہونے کا مطلب کیا صرف اتنا ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ بھی سرکاری ملازمت کے اہل بن جائیں؟ کیا علم کی قدر صرف روزگار سے طے ہوگی؟ دنیا کے علوم انسان کو ایجادات، تحقیق اور ترقی کا راستہ دکھاتے ہیں لیکن وحی کا علم ان علوم کی سمت متعین کرتا ہے قرآن یہ بتاتا ہے کہ کیا جائز ناجائز، کیا حلال اور حرام ہے۔ یہی دونوں علوم کا بنیادی فرق ہے۔ شریعت کی مشکل ترین گزرگاہ کا پہلا تقاضا فَکُّ رَقَبَة ہے۔ یعنی گردن کو غلامی سے آزاد کرانا۔ انبیاء کی تعلیم کا مقصد صرف عبادات نہیں بلکہ انسان کو جبر، غلامی اور ظالمانہ بالادستی سے نجات دلانا بھی ہے۔ #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
4
4
105
آپ سو بار پاکستان سے وفاداری کا ثبوت دیں۔ لیکن اگر آج کی اسٹیبلشمنٹ کی پیروی نہ کریں اور اس کی خواہشات کے مطابق زندگی نہ گزاریں۔ تو آپ کی تمام وفاداریاں بے معنی اور آپ کو سیدھا غدارِ وطن 🤣 #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
10
1
16
300
انہیں پتہ نہیں کہ 40، 30 یا 20 سال بعد فلاں فلاں نوٹس یاد آگئے ہیں 🤣 اب کہتے ہیں کہ فضل الرحمٰن کے 20 ہزار مدارس ہیں 😁 مولوی صاحبان اب آپ فارغ ہیں 🫠 #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
5
6
157
تم ہمیں تنگ کرتے ہو کہ ہم پنجہ آزمائی کر لیں ہم پنجہ آزمائی کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں 💪 لیکن ہم اس ملک کا بھی سوچتے ہیں💯 تمہیں ملک کی کوئی پروا نہیں تمہیں تو صرف اپنے پیٹ کی فکر ہے 🤣 #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
11
2
15
335
وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اکیلے ہیں اکیلے نہیں ہیں اگر ہم نے کال دیدی💯 انشاءاللہ کسی کی محتاج نہیں ہوں گے 💪 #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
7
9
186
تم روز روز ہمیں اشتعال دلا رہے ہو۔ لیکن ہم بھی بڑے تجربہ کار ہیں 💪 #لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس #قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار #الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
17
18
267
qUrAyShI Mohd Slmn retweeted
اپنے ملک کے وسائل، معدنی ذخائر اور صوبوں کے عوام کے حقوق کی بات کرنا آخر کون سا جرم ہے؟ پھر حکمران جواب دینے سے کیوں بھاگتے ہیں؟ نواز شریف کو 10 سال کرپشن کے الزامات میں جیل اور ملک سے باہر رکھا آصف زرداری کو آ8 سال جیل میں رکھا آج دونوں حکمران ہیں۔ پختونخوا میں امن و امان، بلوچستان میں وسائل اور سرمایہ کاری، سندھ میں عوامی حقوق اور کشمیر میں آئینی شناخت کے سوالات اٹھانا ہمارا جرم نہیں، یہ ایک سیاسی، آئینی اور قانونی بیانیہ ہے۔ ایک طرف حافظ حمداللہ کے بیٹے کو پاک فوج میں کمیشن ملتا ہے دوسری طرف باپ کی پاکستانی شناخت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں یہ کیسا نظام ہے جہاں بیٹا پاکستانی اور باپ غیر ملکی قرار پاتا ہے؟ ہم نہ ڈنڈا اٹھائیں گے نہ بندوق نہ اپنی فوج اور پولیس سے لڑنے کی ترغیب دیں گے۔ ہمارا راستہ آئین اور پُرامن جدوجہد ہے مگر اپنے گھر، عزت اور حقوق کے دفاع پر خاموش بھی نہیں رہیں گے۔ @MoulanaOfficial #مولانا_مرد_قلندر #اسمگلر_چوکیدار #نہ_چھیڑملنگاں_نوں #ٹرمپ_کے_یار_ٹھس #قوم_بیدار_رہےگی
7
8
138