عبدالباسط retweeted
ہم اپنے حق کی آواز روک دیں، یہ نہیں ہوگا۔ہمیں مطمئن کرو، قوم کی تشویش کو دور کرو۔
اس وقت کوئی سیاسی جماعت نہیں بول رہی ہے، کوئی قوم پرست نہیں بول رہا، سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اس ماحول میں ایک ہی آواز ہے۔وہ جمع
اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اکیلے ہیں۔ اکیلے نہیں ہیں۔ اگر ہم نے کال دیدی، تو پھر قوم آئے گی، کسی کی محتاج نہیں ہوگی۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
عبدالباسط retweeted
ڈیجیٹل میڈیا کی معرکہ آرائی میں میدان ایک بار پھر نظریہ کے ساتھ دل و جان سے ڈٹ جانے والوں کے ہاتھ رہا
یہ آج ابھی رات نو بجے تک کی ٹرینڈنگ ۔۔۔۔
ایک طرف کروڑوں روپے کا بجٹ، تفریحی دورے، بڑی تنخواہیں
دوسری طرف
نظریاتی رضاکار
مفت کے مجاہد
اپنے قائد کے سچے پیروکار
اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے
مد مقابل نے جو نالائق بھرتی کیے ہوئے ہیں ان پر مزید رقم ضائع نہ ہی کریں تو اچھا ہوگا
#مولانا_مرد_قلندر
#نہ_چھیڑملنگاں_نوں
#قوم_بیدار_رہےگی
@juipakofficial
@MoulanaOfficial
عبدالباسط retweeted
پتا نہیں انکو 30-40 سال کے بعد یاد آگیا ۔فلانا نوٹس ،فلانا نوٹس ۔۔
کہا گیا کہ 20 ہزار میرے مدارس ہیں ۔۔اتنے رجسٹرڈ ہیں اتنے نان رجسٹرڈ ہیں۔۔جیسے میں نے کوئی مدرسہ اسمگل کیا ہو ۔۔
مولانا فضل الرحمان
عبدالباسط retweeted
کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر فاروقؓ سے سوال ہو سکتا تھا اور ان کا احتساب ہو سکتا تھا تو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا کیوں نہیں؟
ہم کہتے ہیں کہ بالکل احتساب ہونا چاہیے، لیکن فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں ایک اسلامی اور عادلانہ نظامِ انصاف تھا، جہاں حکمران خود کو قانون کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں انصاف کے تقاضے سیاسی مفادات اور مقتدرہ کی مرضی سے بالاتر ہیں؟
اگر حکمران واقعی عوام کو جواب دہ ہیں تو پھر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی کردار کشی کیوں کی جاتی ہے؟ احتساب صرف سیاستدانوں کا ہوگا یا مقتدر قوتیں بھی اس کے دائرے میں آئیں گی؟
ہمیں پرویز مشرف کا معاملہ بھی یاد ہے، جو عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باوجود ملک سے باہر دبئی چلے گئے۔ تب قانون کی گرفت کہاں تھی؟
ہم احتساب کے مخالف نہیں، لیکن احتساب سب کا ہونا چاہیے، صرف سیاسی مخالفین کا نہیں۔
حضرت عمر فاروقؓ کے عدل کی مثالیں دینے والو! پہلے ملک میں حضرت عمرؓ جیسا نظامِ انصاف تو قائم کرو، پھر احتساب کی بات کرنا۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
عبدالباسط retweeted
خیبر ایجنسی جمرود میں مسلم لیگ ن کے ایک پٹواری گورنر راج کے حق میں دلائل دے رہے تھے کہ پیچھے سے سوزوکی وین نے ٹکر ماری۔😁
عبدالباسط retweeted
میرا احتساب لیتے ہو جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، تم بتاو تمہیں پیٹ میں پہاڑ پڑے ہوئے ہیں اس کا کیا کریں ، مولانا فضل الرحمن
عبدالباسط retweeted
پاکستان ہمارا ہے، ہم اس کے دفاع، اس کے نظام اور اس کی امانتوں کا دفاع کریں گے،تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے، ہمیں دباؤ میں لا کر اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کرایا جا سکتا، ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں، صوبوں کے وسائل، معدنی ذخائر، سمندری ساحل اور جزائر عوام کی ملکیت ہیں، ہمیں مطمئن کرو، ہماری تشویش دور کرو، قوم کے تحفظات کا جواب دو، مولانا فضل الرحمان
عبدالباسط retweeted
آج وفاداری کا معیار وطن سے محبت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے،انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے، میڈیا نوٹس اچھالنے کے بجائے ہمارا اصل مؤقف اور ملک کا مسئلہ قوم کے سامنے لائے، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ مولانا فضل الرحمٰن
عبدالباسط retweeted
میری کردار کشی کے لیے نوٹس اچھالے جا رہے ہیں، میڈیا میرا اصل مؤقف بھی قوم کے سامنے لائے، احتساب کے ادارے احتساب نہیں، انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں، حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے؟سیاست میں آئے اور آج پورے ملک کے بڑے سرمایہ کار بن گئے، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں؟ مولانا فضل الرحمان
عبدالباسط retweeted
آپکی جنگ حق کے خلاف ہے آپکی جنگ عزت کے خلاف ہے ۔۔آپکے اقدامات ریاست کے خلاف ہیں ۔۔پاکستان ہمارا ہے اور اس کا ہم دفاع کریں گے ۔تمہارے یہ سارے حربے خس و خاشاک ہو جائیں گے ۔۔
۔ مولانا فضل الرحمان
عبدالباسط retweeted
پتا نہیں انکو 30-40 سال کے بعد یاد آگیا ۔فلانا نوٹس ،فلانا نوٹس ۔۔
کہا گیا کہ 20 ہزار میرے مدارس ہیں ۔۔اتنے رجسٹرڈ ہیں اتنے نان رجسٹرڈ ہیں۔۔جیسے میں نے کوئی مدرسہ اسمگل کیا ہو ۔۔
مولانا فضل الرحمان
عبدالباسط retweeted
ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟
فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟
دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔
ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟
میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟
شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔
یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔
یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔
جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔
تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔
جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔
اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
عبدالباسط retweeted
آپکی جنگ حق کے خلاف ہے آپکی جنگ عزت کے خلاف ہے ۔۔آپکے اقدامات ریاست کے خلاف ہیں ۔۔پاکستان ہمارا ہے اور اس کا ہم دفاع کریں گے ۔تمہارے یہ سارے حربے خس و خاشاک ہو جائیں گے ۔۔
۔ مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان صاحب کا دو ٹوک پیغام ۔۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
عبدالباسط retweeted
جو آپکو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے، جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وہ وزیرِدفاع بن جاتے ہیں۔ اور جو کہتا ہےکہ ملک بھی میرا اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور ملک میں جلسہ نہیں کرسکتے۔ مولانا فضل الرحمان
عبدالباسط retweeted
ہمارے جماعتی ساتھی ، ماڑی پور ٹاؤن کیماڑی کراچی کے کوآرڈینیٹر قاری محمد لغاری صاحب کی نانی کا انتقال ہوا ہے جس کے باعث وہ سفر پر ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ کریم مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے۔ تمام پسماندگان کو صطر جمیل عطا فرمائے آمین۔
@laghariJui
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
اسے کہتے ہیں ڈینگی بخار کا انجکشن
اور بھی کولہے میں اور ڈاکٹر فصل الرحمٰن کے ہاتھ سے
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
تحریکِ تشدد کا نام نہیں تحریک تسلسل کا نام ہے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ








