Pinned Tweet
حضرت علی کوفے کے یتیم بچوں سے فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی تمہیں یتیم ہونے کا طعنہ دے تو اسے کہنا میں یتیم نہیں ہوں
میرے بابا کا نام علی ابنِ ابو طالب ہے🫀✨🫶
میں کبھی کبھار
تمہیں احساس دلاؤں گی کہ
مجھے تم سے محبت ہے
اور پھر کبھی
اس احساس سے منجمند ہو جاؤں گی
بلکل سرد
محبت سے خالی
تم کیا یاد رکھ پاو گے ؟؟
میری محبت میں گزارے چند دن !!؟؟
یا
میرے جذبوں پہ اترا سردپن ؟؟؟
شاید سردپن
روح میں اتر جانے والا
مردہ کر دینے والا
ستارہ سحر☕ retweeted
تخیل بہترین پناہ گاہ ہے جس میں ہم اپنی مرضی کے لوگوں کیساتھ جیسے چاہتے ہیں رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ستارہ سحر☕ retweeted
ہماری روحیں بوڑھی ہو گئیں اور ہماری عقلیں بھٹک گئیں گویا ہم نے ایسی عمریں جی لی ہیں جن کے لیے ہم تیار ہی نہیں تھے۔
ستارہ سحر☕ retweeted
اتنی اداس کیوں ہو_؟؟
کیونکہ پتے جھڑ رہے ہیں_!!
خالی ہو جانے کا خوف ہے_؟؟
نہیں!
بس یہ ڈر ہے کہ کہیں اندر کا صحرا پھر کبھی ہرا نہ ہو سکے_!!
"پاگل!
شاخیں پرانے بوجھ سے خالی نہ ہوں تو
نوخیز پتوں کو نکلنے کا اذن کیسے ملے گا_؟؟
جھڑنے دو
یہ زوال نہیں_ بہار کا پہلا دستک نامہ ہے_"
✍🏻
ستارہ سحر☕ retweeted
کبھی کبھی لگتا ہے جیسے کسی بھی چیز کا کوئی معنی نہیں ہے، ہمارا وجود فضول ہے، اور ایک بیکار شے کہ جو محض اس کائنات کا بوجھ بڑھا رہا ہے،،،!!!
مجھ جیسا انسان
کبھی درد کا عادی نہیں ہو پاتا
وہ ہر بار یہی امید لے
کر کسی احساس
کسی شخص
یا کسی رشتے
کے قریب جاتا ہے کہ
شاید اس مرتبہ دنیا ذرا مہربان ہوگی
مگر پھر وہی امید
اسے زخمی کر دیتی ہے
شاید میری سب سے بڑی کمزوری
یہی ہے کہ میں ہر بار
دنیا سے نرمی کی توقع کر لیتی ہوں
ستارہ سحر☕ retweeted
ٹاپک:-پاکستان کانظام تعلیم اور درپیش مسائل
آج گفتگوبہترین اورفکری رہی جہاں تعلیمی مسائل کاذکر ان پرکام کرنےمسائل دور اورحل کرنےکے بارےگفتگورہی
تعلیم ریڑھ کی ہڈی ہے اگروہاں مسئلہ ہوگاتو پوری قوم لڑکھڑئےگی
شاندارلوگوں کی شمولیت کارآمدسپیس رہی
تمام لوگوں کی شرکت کابہت شکریہ
اپنے رشتے داروں کی وجہ سے کبھی بھی اپنے خوابوں کی قربانی مت دے کیونکہ جب بات ان کی اپنی اولاد پہ آئے گی تو ہر چیز جائز ہو جائے گی ۔
ستارہ سحر☕ retweeted
پاکستان کا تعلیمی نظام !
کون سا تعلیمی نظام بہتر ہوتا ہے مخلوط یا غیر مخلوط !
سوال کو درست کرو !
کیا مطلب ؟
سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا اس ملک میں تعلیمی نظام موجود ہے !
تو کیا تعلیمی نظام موجود نہیں ہے ؟
ہاں مخلوط اور غیر مخلوط تو بعد کا قصہ ہے پہلے تعلیم تو ہو !
بچے اسکول جا رہے ہیں کالج جاتے ہیں یونیورسٹی جاتے ہیں تعلیم حاصل کرنے ہی تو جاتے ہیں !
پھر اسکول جانے والے سارے بچے ایک جتنا کیوں نہیں سیکھ پا رہے ہیں ؟
وہ تو اسکول پر ہے نا کہ وہ کس اسکول میں پڑھ رہے ہیں !
یہ ہی تو بات ہے جب کوئی نظام بنایا جاتا ہے تو اس میں نظم و ضبط کے ساتھ سب کچھ ایک پلیٹ فارم پر آتا ہے لیکن یہاں تو سب کا الگ پلیٹ فارم ہے تو پھر خود بتاؤ کیا کوئی تعلیمی نظام موجود ہے !
پھر اس کے علاوہ کیا موجود ہے ؟
جس کے پاس طاقت ہے وہ اپنا نظام بنا لیتا ہے !
تم اب مشکل باتیں کر رہے ہو!
نہیں یہ بہت آسان باتیں ہیں شروع سے سمجھاتا ہوں جس تعلیمی نظام کی تم بات کر رہی ہو اس کو چلانے والوں کی خود کی ڈگریاں جعلی ہیں فقط یہ ہی نہیں ان کے اپنے بچے اس تعلیمی نظام سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے کبھی نظر نہیں آئیں گے یہ تعلیمی نظام خوراک کی کمی کا شکار ہے اور اسکی خوراک چوری کر لی جاتی ہے کرپشن کر کے دھوکا دے کر اور یہ سالوں سے چلتا آرہا ہے !
ہماری حکومت کبھی نہیں ٹھیک ہوسکتی نا ؟
ہماری عوام بھی ٹھیک نہیں ہے پگلی کیا تم دیکھتی نہیں ہو کہ اس عوام نے امیروں کے اسکول الگ بنا ڈالیں ہیں اور غریبوں کے اسکول الگ خود بتاؤ کیا اس طرح ملک یکساں ترقی کر سکتا ہے فقط یہ ہی نہیں بلکہ غیر معیاری نصاب ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ سب ہماری کتابوں میں موجود ہے جو شاید کسی مشہور دیوملائی کتاب میں بھی موجود نہ ہو ہم اور ہمارا نصاب موجودہ دور کے مطابق چل ہی نہیں رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے قابل بچے نوجوان ضائع ہو رہے ہیں کیونکہ وہ بہت پیچھے رہ چکے ہیں !
یہ کس طرح سہی ہوگا ؟
ویسے ہی جیسے ترقی یافتہ ممالک نے نظام کو صحیح کیا ہے ہر اسکول میں یکساں ایک جیسا نصاب ہونا چاہیے !
لیکن کوئی او لیول پڑھنا چاہتا ہے تو کوئی اے لیول اور اکثر جگہ خود کے بورڈ بھی بنائے ہوئے ہیں !
پھر ایسے لوگوں سے کہا جائے کہ جس نے جو پڑھنا ہے وہ وہاں جا کر پڑھے ملک میں ایک ہی وفاقی نصاب ضروری ہے تاکہ تمام بچوں کی یکساں ذہنی نشونما ہو !
اس سے تعلیمی نظام میں بہتری آئے گی ؟
ابھی تو ایک مسئلہ بتایا ہے ابھی اور مسائل باقی ہیں !
وہ کیا کیا ہیں ؟
ہمارے اساتذہ کی کام چوری جو بچوں کو نصاب سمجھانے کے بجائے بس رٹا لگواتے ہیں اس سے بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پروان نہیں چڑھتی ہے ماں باپ بچوں کو اساتذہ کے حوالے کر کے سمجھتے ہیں حق ادا ہوگیا اور استاتذہ فیس کے بدلے بچوں کو پاس کر دیتے ہیں اور یہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو انکو معلوم پڑتا ہے کیسے انکا روشن مستقبل ان کے اپنوں کے ہاتھوں تباہ ہوا ہے !
ماں باپ کب بچوں سے لاپرواہ ہیں تم نے دیکھا نہیں ہے کیا کہ بچوں کے مارکس کی انکے کئیریر کی کتنی فکر ہوتی ہے !
نہیں انکو بس اپنے ناک کی اور انا کی فکر ہوتی ہے کہ کہیں انکا بچہ پڑوسی کے بچے سے کم مارکس نہ لائے اور سب سے بڑی زیادتی بچے کو اسکی مرضی کا کئیریر نہیں رکھنے دیتے ہیں جس چیز میں بچے کی دلچسپی ہے ہی نہیں وہ چیز کوئی بچہ بھلا کیسے پڑھ سکتا ہے !
اگر استاد اچھا ہو تو بچہ پڑھ جاتا ہے !
پاکستان میں بس دس فیصد استاد اپنی کمائی حلال کر رہے ہیں اور باقیوں کو تو بس پہلی تاریخ کا انتظار ہوتا ہے کہ کب انکو انکی ہڈحرامی کی کمائی ملے اور اس میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بعد میں ان بچوں اور ان کے ماں باپ کے دماغوں سے کھیلتے ہیں اسکی مثال ہر جگہ ملے گی !
مطلب ؟
کہیں کوئی ایم کیٹ کی تیاری کروا رہا ہوگا کہیں کوئی ای کیٹ کی تو کہیں کوئی آئی ایس بی ، دیکھو پگلی یہ سب پیسوں اور وقت کا ضیاع ہے !
لیکن بہتر مستقبل کیلئے یہ ضروری بھی تو ہے !
یہ ضروری ہے تو ریگولر نصاب میں شامل کیا جائے نا ایک بچہ جو شروع سے اسکول جا رہا ہے کالج جا رہا ہے پھر وہ اس قابل کیوں نہیں بن پا رہا ہے کہ وہ آگے کی پڑھائی کیلئے ٹیسٹ کلئیر کرے اسکو کیوں ایکسٹرا ٹیوشنز کی ضرورت پڑ رہی ہے بس اسکی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو فقط مخصوص زبان کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور باقی سب بھول بیٹھے ہیں !
لیکن حکومت ۔۔۔!
یار پگلی تم پھر حکومت پر آ گئی ہو حکومت اگر کرپشن سے پاک ہو بھی جائے اور یکساں نصاب ہو بھی جائے پھر بھی تعلیمی نظام تب تک بہتر نہیں ہوگا جب تک ہر شہری کو اپنی زمہ داری کا احساس نہیں ہوگا !
اور یہ احساس کیسے ہوگا ؟
آگاہی اور تعلیم دے کر !
کیا مطلب !
مطلب بس خاموشی ہے کیونکہ کوئی قدم اٹھانا ہی نہیں چاہتا !
عباس
#متاعِ_دل








