حالانکہ اس کے تین بھائ خود مشرف کے دور میں حیدرآباد سے بلا کر اے آر وائ ، حنگ اور ڈان وغیرہ میں لگائے گئے تھے
آپ نے بھی گانوں کا لنک لگا دیا - اتفاق سے آج سارا دن بالی وڈ کے گانوں کے کلپ مختلف اکاؤنٹس لگاتے رہے، حالانکہ میں نے پہلے کبھی ان اکاؤنٹس کو نہیں سنا - کلپ یو ٹیوب کے بھی نہیں تھے - فلمی گانے بھی بہت اچھے تھے - بعض پورے پانچ چھ منٹ کے تھے
Once again - Pakistani Dramas and Pakistani music is projecting its soft power.
youtu.be/jGU5jhmOslg
بالکل صحیح تجزیہ ہے آپ کا جسے ایمان کے درجہ پر فائز کیا ہوا ہے، اب یقین محکم بھی ضروری ہے اور عمل پیہم بھی کردیا تو آنے والے سیٹ اپ میں شاید آپکو وزارت اطلاعات مل جائے - بائ دی وے بہت خطرناک کالے ڈالوں والا تجزیہ ہے
سارا مضمون ہی بے معنی رہ جاتا ہے جب آپ بھٹو کو مکھن سے بال کی طرح خارج کر کے ہر کسی کو دوشی قرار دے رہے ہیں جو بھی ایڈمنسٹریٹو غلطیاں تھیں، الیکشن تو ہوئے، لیکن بھٹو نے نیا پاکستان کا نعرہ لگایا - پھر الیکشن سات سال تک نہیں کرائے - اگر اقتدار دے دیا جاتا تو تمام منافرت ختم ہوجاتی
سانحہ مشرقی پاکستان کی ذمہ داری جنرل یحی پر ڈالی ضرور جاتی ہے مگر اس نے صرف فصل کاٹی تھی۔ سارے بیج فیلڈ مارشل ایوب خان نے بوئے تھے۔ یہ دوسرا دور ہے جب باقی پاکستان کے کونے کونے میں ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فساد کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔
سب کے سامنے۔
صرف ایک آدمی بچا ہے، صرف ایک، جو اس بھڑکتی آگ کو آج بھی اپنے سینے پر جھیل سکتا ہے لیکن دوسری طرف بغاوت پر اترے ایک سرکاری ملازم کے ذاتی خوف، اقتدار کے لالچ، اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس آدمی کو جیل ڈالا ہوا ہے۔
قومی ریاست کی قومی فوج سمیت تمام قومی اداروں کے سر پر بندوق رکھ کے پوری ریاست کو ایک غیر منتخب، سات پردوں میں چھپے فرد کے پیروں پر کامیابی سے گرا دیا گیا ہے۔
آج بھی وہی ہو رہا ہے بلکہ ماضی سے کہیں زیادہ۔
ظاہر ہے نتیجہ وہی نکل سکتا ہے جو ماضی میں نکلا لیکن تب پچھتانے اور ماتم کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
درحقیقت اس خونخوار تماشا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک ہمیں قائد اعظم نے بنا کر دیا تھا موجود جغرافیے پر بستی قوم نے آزادی کی جنگ لڑ کے اسے حاصل نہیں کیا، وہ لڑائی ہندوستان میں لڑی گئی تھی۔
۴۷ کا فساد بھی ہجرت کے وقت ہوا تھا، آزادی کی جنگ کا نتیجہ نہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ آج ریت کی طرح یہ ملک ہاتھوں سے پھسل رہا ہے اور قوم تماشائی ہے کیونکہ اسے بنانے میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جیسے باپ کی دولت اور خود کی کمائی میں فرق ہوتا ہے۔
اگر آج اس قیدی یا آخری امید کو مار ڈالا جائے اور جغرافیہ آخر کار تبدیل ہو جائے توپھر بھی سوائے ماتم کے اور کچھ نہ ہو گا۔ کسی کو سزا نہ ملے گی اور ذمہ دار باقی ماندہ ملک، شاید پنجاب، کے پرچم میں لپیٹ کر توپوں کی سلامی کے ساتھ دفن کیے جائیں گے۔
جو قوم اپنے ملک کی حفاظت نہ کر سکے اس کے ساتھ قدرت کیا کرتی ہے یہ کوئی راز نہیں۔
ہم لوگ اس قابل نہیں تھے کہ ہمیں کوئی ملک ملتا یا قومی ریاست ملتی۔ اس کو کھو کر ہی ہم سمجھ پائیں گے کہ کیا نعمت تھی جسے گنوا دیا، وہ اس لیے کہ باقی بچے ملک کے ہرجانب سینے میں لیے انتقام لیے بپھرے ہوئے دشمن ہوں گے۔ اسے کوئی سمندری بندرگاہ میسر نہ ہو گی اور پہاڑوں سے آتے پانی پر اس کا کوئی کنٹرول نہ ہو گا۔ وہ اس لیے کہ ہر جانب پہاڑوں پر بستے اور ساحلوں والے مشترکہ دشمن کی وجہ سے دوست ہوں گے اور ہماری فصلیں کوڑے کے بھاؤ بکیں گی۔
جن کے خیال میں بھارت واپس گود میں اٹھا لے گا تو ایسا ہونے کا چانس بہت کم ہے۔
رہا ایٹم بم تو وہ چلا کر خود کشی تو ہو سکتی ہے لیکن بچایا کچھ نہیں جا سکتا۔
پچاس سال سے کم عرصے میں آدھا ملک چلا گیا باقی کے سو سال بھی پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔
افسوس قائد اعظم ، نہ ہم آپ کو بچا سکے نہ آپ کے گھر کی عزت آپ کی بہن کو، نہ آپ کے ملک کو۔ آپ نے غلط قوم پر زندگی ہار دی، جیسے ایک قیدی آج پھر وہی غلطی دہرا کر موت کا انتظار کر رہا ہے، اگر آپ نے گاندھی جی کی پورے ہندوستان کے وزیراعظم بننے کی پیشکش قبول کر لی ہوتی تو شاید نہرو مان جاتا اور آپ عزت سے دنیا سے رخصت ہوتے اور موجودہ پاکستانی علاقوں میں یوں آگ نہ لگی ہوتی۔
There's a new version of this post
Earthman Journalist retweeted
FROM THE SILVER SCREEN TO ISLAM: THE INSPIRING STORY OF INDIAN ACTRESS MONICA, NOW KNOWN AS M.G. RAHIMA! ☪️❤️
She was once known as Monica, a South Indian actress who appeared in more than 70 films. She had fame, recognition, and a promising career in the entertainment industry.
But in 2014, she made a life-changing decision: she embraced Islam and adopted the name M.G. Rahima.
What makes her story particularly inspiring is the reason she gave for her decision.
She made it clear that she did not embrace Islam for love or money. Rather, she was drawn to the principles and teachings of Islam.
In her own words:
"I didn't convert for the reason of love or money. I like Islamic principles, so I converted to Islam."
She also announced that she would no longer act in films, choosing to leave her acting career behind following her decision.
Her father, Maruthi Raj, supported her decision, and she expressed gratitude for his support.
ALLAHU AKBAR! ☝️❤️
Her journey reminds us that guidance can reach anyone, regardless of their background, fame, or circumstances.
Allah says in the Qur'an:
﴿فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾
"So whoever Allah wants to guide, He expands his breast to Islam." (Qur'an 6:125)
🤲 O Allah, keep Sister Rahima steadfast upon Your Deen, increase her in Imaan, bless her with goodness in this life and the Hereafter, and make us all steadfast upon Islam until our final breath. Aameen.
May Allah guide every heart searching for the truth.
#RevertJourney #Islam #Alhamdulillah
Earthman Journalist retweeted
BREAKING: Israeli president Herzog gives the mandate for forming a new government to Gadi Eisenkot
ہر دور میں ایک نہ ایک ایسا ہوتا ہے جسکے اندر آرمی چیف بولتا ہے، ہارون رشید جنرل کیانی کے بیڈ روم میں بیٹھے رہتے تھے موجودہ دور میں منیب فاروق کے پاس سامری جادوگر کا گولہ ہے جس میں سے وہ چیف کے خیالات، جذبات، غصہ کو پڑھ کر میڈیا کو سنا دیتے ہیں -
سالک صاحب نے اپنی گفتگو ميں کہا کہ انکے پاس ثبوت نہيں ہے تو اس میں معافی منگوانے والی کون سی بات ہے - ایک بندہ جب کہے کہ مبینہ کرپشن ہے اس کا مطلب اس نے کسی کو مجرم نہیں کہا - در گذر بہترین ہتھیار ہے - کم سے کم دشمن بنانا عقلمندی کا تقاضا ہے
سالک صاحب نے اپنی گفتگو ميں کہا کہ انکے پاس ثبوت نہيں ہے ايسا سُنا ہے۔انہيں اپنی بات پر معذرت کرنی چاہيۓ يا پھر فيس کريں
اگر آپ پرويز الہی صاحب کو بہترين وزيراعلی قرار دينا چاہتے ہيں تو بتائيں کہ انکے دور ميں کتنے بچوں کی ہارٹ سرجری ہوئيں،کتنے نئے کارڈيالوجی ہسپتال يا سرکاری کينسر ہسپتال شامل ہوئے پنجاب ميں،کتنے ہزار کلوميٹر سڑکيں تعمير ہوئيں۔جس حکومت کے اشتراک ميں وزيراعلی بنے انہوں نے 50 لاکھ گھر بنانے تھے کتنے خاندان اپنے گھروں ميں آباد کيۓ
یہ شارٹیج کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ جن کا کنٹرول ہے انکی اپنا پیٹ بھرنے کی ٹیکٹکس دکھائ دے رہی ہیں - آٹے کی کمی قومی سطح پر نہیں ہے - ایسا پیپل پارٹی کے دور میں جب راشن کارڈ سسٹم بنا تھا ایسا ہی ہوا تھا
صدر، لاہور میں دس کلو آٹے کا تھیلا دکاندار شناختی کارڈ کا نمبر لکھ کر 1100 روپے کا دے رہے اور اگلا تھیلا آپ کو 8 دن بعد ملے گا۔ کھلا آٹا من مانی قیمتوں پر جتنا مرضی خرید لیں۔ ابھی چار سال پہلے پرویز الہی کی وزارت اعلیٰ میں بھی ایسا کچھ ہوا تھا۔ لیکن یقینا" وہ حرام شارٹیج تھی اور موجودہ شارٹیج بلکل حلال ہے.
بہت اچھا تبصرہ ہے -
میری اُردو اب ٹھیک نہیں ہو سکتی لیکن عاصم مُنیر پہلا جرنیل ہے جس کو میں اُنکے تمام پیش رو جرنیلوں سے بہتر سمجھتا ہوں۔ البتہ جو کُچھ اس وقت کُچھ کھرب پتی اور اُنکے ہم نوالہ پیر ا شوٹُر وزراہ پظاہر اس سسٹم کو ٹھیک کروانے کے نام پر لیکن دراصلی مریم نواز اور بلاول کے خوف سے کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس دوغلے پن کو میں ہر گز سپورٹ نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہتا ہُوں کہ اگر فائلیں تیار ہیں تو وہ چاہے مولانا کے بارے میں ہوں، زرداری کے یا کسی بھی سیاستدان کے بارے میں ہوں ،پُورے پاکستان کے سامنے فوری طور پر شفاف طریقے سے لائی جائیں ۔ بجائے اس کے کہ یہ فائلیز سودے بازی کے لئے استعمال ہوں۔ میں ہائبریڈ نظام کو بھی آئین کے خلاف سمجھتا ہُوں۔ ویسے اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ حکُومت وقت کے ساتھ ایک پیج پر رہیں ۔ مولانا پر جس قسم کی یلغار ہورہی ہے اُس سے یقینی طور پر شکُوک پیدا ہوتے ہیں ، ایک اور بات مولانا نے کبھی پشتونوں کو پاکستان کے خلاف نہیں اُکسایا ہے یہ کام اسٹیبلشمنٹ کی ٹاؤٹ پارٹیاں پشتونوں کو ہی نُقصان پہنچانے کے لئے کرتی رہی ہیں ۔یہ ہی وہ پارٹیاں ہیں جو انتہائی کرپٹ رہی ہیں اور ان سے یہ کرپشن کروانے والے کون ہیں ؟ اُن سے آپ مُجھ سے زیادہ اچھی طرح واقف ہیں!!!!!!
در حقیقت غریب کیلئے کرپشن ہی حقیقی جمہوری نظام ہے - چائے کی پیالی سے لیکر کیش تک ہر وہ کام منٹوں میں ہو جاتا ہے جس پر بیوروکریسی اور عدلیہ برسہا برس بیٹھے رہتے ہیں - ایک کام کے پٹواری نے دو لاکھ مانگے نہیں دئے تو وہی کام عدالتوں میں 4 سال سے دھکے کھا رہا ہے اور 15 لاکھ لگ چکے ہیں
چوھدری اعتزاز احسن نے قلم کار کو بتایا کہ ان کے اٹلی سے کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔
مہمان کہنے لگے کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں ریاست کے تمام ستون تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ادارے نہیں بچے۔ سب الٹ چکا ہے۔
تو پھر یہ جو بھی رائج نظام ہے۔ یہ گر کیوں نہیں رہا۔ اسکو ، کس نے سنبھالا ہوا ہے۔ جو گرنے نہیں دے رہا۔
اعتزاز احسن نے ہنستے ہوئے کہا کہ نظام کو کرپشن نے سنبھالا ہوا ہے۔ اس کے بینیفیشری اس نظام کو گرنے نہیں دے رہے۔۔
اس لیے میاں جاوید لطیف صاحب کو چاہیے کہ "وہ کرپشن کے خلاف بات نہ کریں وگرنہ سب کچھ ہی گر جائے گا"😂😂😂😂
قلم کار تو چوھدری اعتزاز احسن کی اس بات سے اتفاق کرتا ہے۔آپ اتفاق کرتے ہیں یا نہیں کرتے اس پر تبصرہ ضرور کر سکتے ہیں۔
صرف بیٹھا نہیں ہوں سائے میں
میں ہی!!! دیوار کا سہارا ہوں
خالد علیگ
وطن عزیز کے حالات یہ ہیں کہ مولانا کے خلاف ہرزہ سرائ، الزامات، اعضائے خبیثہ کے بارے میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری اور اسکا بجٹ اتنا زیادہ ہے کہ ٹاپ انوسٹیگیٹو جرنلسٹ سے لیکر چوتھے درجے کے صحافی بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو بیتاب ہیں، منتظر رہیں عنقریب مزید گندگی پھیلائ جائے گی
Earthman Journalist retweeted
Exclusive: The right-wing activist Laura Loomer has been paid by private clients to make political posts on social media without publicly disclosing the payments, according to a former Trump campaign aide and others familiar with the arrangements. wapo.st/4BPQbL5
Earthman Journalist retweeted
The future her mother represented was an NRO engineered civilian facade for dictatorship, serving US imperial interests in the Middle East during the WOT. Add to that the entrenched corruption, nepotism and feudal oppression in Sindh. The historical record is extensive on this!
حفیظ اللہ نیازی، وڑائچ کے مضامین کے بعد اب چڑیا کے مطابق جو نئے بلیو پرنٹ بن رہا ہے اس میں مریم کو فارغ کرکے محسن نقوی یا شہباز کو فارغ کر کے محسن نقوی لگایا جائے گا - ن کا کردار گاؤں کے چوہدری کے سامنے مراثی والا ہے -ہو سکتا ہے نقوی فیلڈمارشل بن جائے؟
Earthman Journalist retweeted
When BJP govt changed the name of Ilahabad to Prayagraj, the Hindus popularised a myth to justify that erasure of Muslim heritage.
They claimed that Ilahabad was an ancient Hindu city and that Akbar merely changed its name.
In reality, ancient Prayag occupied an area of no more than 3 square miles. Prayag continued to exist after the establishment of llahabad Sarkar (a division which encompassed the size of several modern districts). Even when the name changing occurred, Prayag also continued to exist under Allahabad district and even had a major railway junction bearing its name.. tens of times larger in size than the ancient Prayag.
This man is doing exactly the same.
Karna Subarna still exists, and the ancient capital of Gauda was not even as large as modern Karna Subarna. Meanwhile, Murshidabad, established by Nawab Murshid Quli Khan, was an entirely different and geographically distant place, covering a much larger area, comparable to several modern districts combined.



















