مری قبیلے کی انتہائی بااثر شخصیت جسٹس محمد نواز مری کو 7 جنوری سن 2000 ہزار جمعے کے روز قتل کیا گیا ۔ ان کے بھتیجے شاہ جمال مری نے نواب خیر بخش مری اور اس کے پانچ بیٹوں کو نامزد کیا ۔ 12 جنوری کو نواب خیر بخش مری کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اسی روز بالاچ مری کو الہام ہوا کہ وہ ناراض بلوچ ہیں اور بلوچوں کو حقوق میسر نہیں ہیں اس لئے انہوں نے ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھالئے ۔
نواز مری کا تعلق مری قبیلے کی بجارانی شاخ سے تھا ان کا نواب خیر بخش مری سے پرانا تنازعہ تھا ۔ دراصل دسمبر 1991 میں بجارانی مریوں نے نواب خیر بخش مری کی قبائلی قیادت کو چیلنج کیا۔ بجارانی عمائدین نے ایک جرگے کے بعد حکومت کو اپنے علاقوں میں تیل کی تلاش کی دعوت دی، جبکہ خیر بخش مری اس کے سخت مخالف تھے۔ اس سے دونوں شاخوں کے درمیان زمین، سرداری کے اختیارات اور قدرتی وسائل پر تنازع مزید بڑھا۔
جسٹس نواز مری بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر جج تھے۔ ان کے بڑے بھائی جسٹس خدا بخش مری بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور بلوچستان کے گورنر رہ چکے تھے، جبکہ چھوٹے بھائی میر محبت خان مری صوبائی وزیر تھے۔
جسٹس نواز مری کی بطور چیف جسٹس بلوچستان تقرری ہوچکی تھی اور افتخار چوہدری کی فروری میں مدت پوری ہونے پر انہوں نے حلف اٹھانا تھا ۔ لیکن 7 جنوری 2000، جمعہ کے روز، صبح تقریباً دس بجے کوئٹہ کی زرغون روڈ پر سینٹ فرانسس گرامر اسکول کے قریب نامعلوم نقاب پوش حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ان کے جسم پر چار گولیاں لگیں۔
ان کے قتل کیس میں خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادوں بالاچ مری، حیربیار مری اور گزین مری کے نام بھی واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔
پولیس نے نواب خیر بخش مری کو 12 جنوری 2000 کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا۔ 13 جنوری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے پر ان کا دس روزہ پولیس ریمانڈ منظور ہوا۔ اپریل 2000 میں بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی کیونکہ اس مرحلے پر استغاثہ کے الزامات کو سنجیدہ سمجھا گیا تھا۔
خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے دوبارہ منظرعام پر آئی اور اس نے بم دھماکوں، تخریب کاری اور راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا شروع کی۔ اور اس کا سرخیل تھا بالاچ مری ۔
جنوری 2000 کی گرفتاری کے بعد نواب خیر بخش مری تقریباً اٹھارہ ماہ قید رہے اور جولائی 2001 میں ضمانت پر رہا ہوئے۔
یہاں تک کہ بالاچ مری سے مزاکرات ہوئے ۔ نرمی دکھائی گئی ۔ اس کو بلوچستان اسمبلی کا رکن تک بنادیا گیا ۔ لیکن بالاچ مری نے جب حلف اٹھایا تو اس نے پاکستان کے آئین کی وفاداری کا حلف لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ بلوچ وطن کا وفادار رہے گا ۔
حلف اٹھانے کے اگلے روز بالاچ مری نے ایک بار پھر پہاڑوں کا رُخ کرلیا ۔
Junaid Baloch retweeted
یہ یورپ نہیں ہے بلوچستان کا دل تُربت ہے ۔ تربت تاریخی طور پر ریاستِ مکران کا دارالحکومت رہا ہے اور آج بھی اسے مکران ڈویژن کا سب سے اہم شہر مانا جاتا ہے۔
مشہور لوک داستان "سسی پنوں" کے کردار پنوں کا تعلق تربت سے ہی تھا۔ یہاں آج بھی "میری قلات" موجود ہے جسے پنوں کا قلعہ کہا جاتا ہے۔
تربت کو بلوچی زبان، ثقافت اور اکیڈمک سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز تسلیم کیا جاتا ہے۔
تربت اپنی بہترین معیار کی کھجوروں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں کھجور کے وسیع باغات موجود ہیں اور یہاں ایک بڑا ڈیٹ پروسیسنگ پلانٹ بھی ہے۔
دنیا کا سب سے خوبصورت کرکٹ اسٹیڈیم بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں واقع ہے، جسے سرکاری طور پر سینیٹر محمد اسحاق بلوچ کرکٹ اسٹیڈیم کہا جاتا ہے۔ ایک طرف کوہِ باطل کے بلند و بالا چٹانی پہاڑ، دوسری طرف سنہری ریت کے ریگستانی میدان اور تیسری طرف بحیرۂ عرب کا نیلا سمندر اس کی خوبصورتی کو دنیا بھر میں بے مثال بناتے ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے خود اس کی تصاویر شیئر کر کے دنیا کو چیلنج کیا تھا کہ اس سے زیادہ حسین و جمیل اسپورٹس وینیو دکھایا جائے۔
اس اسٹیڈیم کی تعمیر کا آغاز 1998 میں ہوا جبکہ اس کا باقاعدہ افتتاح 2020 میں کیا گیا، اور یہاں پہلا نمائشی میچ فروری 2021 میں کھیلا گیا۔
بلوچستان کی اصل پہچان یہ بیٹیاں ہیں ۔ جو کتاب کی بات کرتی ہیں ۔ تعلیم کی بات کرتی ہیں ۔ یہ بچیاں بلوچستان کا مستقبل ہیں اور یقیناً بلوچستان کا مستقبل بہت روشن ہے ۔
Junaid Baloch retweeted
سردار اختر جان مینگل کے حوالے سے ایک ایسا انتہائی چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے ملکی سیاست اور مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ وہی ہوا جس کا سب سے زیادہ ڈر تھا۔ اختر مینگل نے تمام ریڈ لائنز کراس کر دیں۔
ذرائع کے مطابق اختر مینگل کے حالیہ جلسے میں نہ صرف پاکستان کا قومی ترانہ پڑھنے سے روک دیا گیا، بلکہ اس کی جگہ مبینہ طور پر ایک مخصوص کالعدم تنظیم سے منسوب نظم کو چلوایا گیا۔
اگرچہ مقامی سطح پر یہ نظم ہر بلوچ شہری سنتا ہے اور یہ خالصتاً کسی ایک تنظیم کا ترانہ نہیں ہے، لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اختر مینگل صوبائی نہیں، بلکہ نیشنل لیول کی سیاست کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ایک ایسی سیاسی قیادت جو ملکی پارلیمان کا حصہ رہی ہو، اس کے جلسے میں
قومی ترانے پر پابندی لگانا اور اسے روکنا کس ایجنڈے کا حصہ ہے؟
جلسے کے پنڈال میں پاکستانی پرچم لہرانے کی اجازت نہ دینا کیا معنی رکھتا ہے؟
یہ وہ سنگین سوالات ہیں جن پر اب عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ لوگ اب کھل کر یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا اختر مینگل پاکستان کو اپنی ریاست تسلیم بھی کرتے ہیں یا نہیں؟
قومی دھارے کی سیاست کا لبادہ اوڑھ کر اس طرح کا رویہ اختیار کرنا ریاست کے خلاف ایک بڑے بیانیے کو جنم دے رہا ہے، جس پر اب شدید ردعمل کی لہر دوڑ گئی ہے۔
Junaid Baloch retweeted
22 سالہ تھلیسیمیا مریض کی چیف منسٹر بلوچستان سے گزارش!
تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے کوئٹہ میں قائم تھیلیسیمیا سٹی سینٹر امید اور زندگی کی نئی کرن بن رہا ہے. یہاں مریضوں کو کون سی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومتِ بلوچستان نے صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے ہیں؟
جانیئے وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں ۔
ذرا رکیں۔ یہ کوئٹہ ہے۔
ویڈیو دیکھ کر اگر آپ کو کسی یورپی اسپتال کا خیال آیا تو ایک بار پھر دیکھیے۔ یہ مناظر کوئٹہ کے تھیلیسیمیا سٹی سینٹر کے ہیں۔ یہاں مریضوں کو علاج کی جدی ترین اور بہترین سہولت مل رہی ہے، وہ بھی پوری عزت اور احترام کے ساتھ۔
بلوچستان کا ذکر ہو تو ٹی وی پر پہاڑ اور بندوقیں فوراً نظر آتی ہیں۔ کوئٹہ میں مریضوں کا علاج کیسے ہو رہا ہے، یہ دکھانے کی باری کب آتی ہے؟
یہ بھی بلوچستان ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بلوچستان کو خبروں میں کتنی جگہ ملتی ہے؟
nitter.gq/VofBalochistan/status/…
22 سالہ تھلیسیمیا مریض کی چیف منسٹر بلوچستان سے گزارش!
تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے کوئٹہ میں قائم تھیلیسیمیا سٹی سینٹر امید اور زندگی کی نئی کرن بن رہا ہے. یہاں مریضوں کو کون سی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومتِ بلوچستان نے صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے ہیں؟
جانیئے وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں ۔
بلوچستان سے گولی چلنے کی خبر فوراً سرخی بن جاتی ہے۔ پنجگور میں دو دن کے اندر 1767 کتابیں فروخت ہو جائیں تو اس خبر کو کتنی جگہ ملتی ہے؟
کتاب میلے کے بتائے گئے اعداد کے مطابق، دو دن میں دس لاکھ روپے سے زیادہ کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ ذرا سوچیے، پنجگور میں لوگ کتاب خریدنے آئے، اپنی پسند کی کتاب ڈھونڈی اور اس پر پیسہ خرچ کیا۔ یہ بھی بلوچستان کی خبر ہے۔
بلوچ نوجوان کا ذکر ہو تو اس کے ہاتھ میں صرف بندوق نہیں ۔ کتاب بھی دیکھیے۔
پنجگور کے کتاب میلے نے دکھایا کہ جب کتاب تک رسائی ملتی ہے تو اسے خریدنے اور پڑھنے والے بھی موجود ہیں۔
بلوچستان حکومت کا شاندار اقدام ۔ صحت دہلیز ایپ کے زریعے گھر گھر علاج کی سہولت پہنچادی گئی ۔ بلوچ عوام گھر بیٹھے اپنا آن لائن علاج کراسکتے ہیں ۔ لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوگا ۔
Junaid Baloch retweeted
بلوچستان پورے پاکستان میں بازی لے گیا ۔ گھر بیٹھے آن لائن علاج کی سہولت متعارف کرادی گئی ہے ۔ اب گھر بیٹھے لوگ بلوچی زبان میں ڈاکٹرز کو اپنی مسئلہ بتاتے ہیں اور علاج کرارہے ہیں ۔
بی ایل اے نے ایک اور بجلی کا ٹاور تباہ کردیا ہے ۔ جس سے قریبی علاقوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق مقامی بلوچ آبادی میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور لوگوں نے بشیر زیب اور رحمان گل کو بدعائیں دی بھی دی ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ حقوق کے نام پر پہاڑوں پر جانے والے ہی آج بلوچ عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے منجھو شوریٰ میں بی ایل اے کے کارندوں نے مبینہ طور پر بجلی کے ٹرانسمیشن ٹاور کو نقصان پہنچا کر قریبی علاقوں کی بجلی کی فراہمی متاثر کر دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر بنیادی سہولیات کو تباہ کرنا کون سی جدوجہد ہے؟ جن علاقوں میں شہریوں کو پہلے ہی بجلی، پانی اور گیس جیسی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے، وہاں موجود انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا عوام کے حقوق کی جنگ نہیں بلکہ انہی حقوق پر ڈاکا ہے۔
بلوچستان کی عوام کیلئے بڑی خوشخبری ! کوئٹہ کے باچا خان اسپتال کو 30 بیڈز سے 50 بیڈز پر اپگریڈ کردیا گیا ہے ۔ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اپگریڈیشن سے عوام کو بہت زیادہ سہولت ملے گی ۔
سول اسپتال کوئٹہ میں دو سال بعد لیپرو سکوپک سرجری کی سہولیات بحال ہوگئی ہیں ۔ صحت کے شعبے میں بلوچستان حکومت نے نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔
Junaid Baloch retweeted
کوئٹہ میں صحت کی سہولیات کی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت!
باچا خان ہسپتال کو 30 بستروں سے اپ گریڈ کرکے 50 بستروں پر مشتمل کر دیا گیا ہے، جہاں بچوں کا علاج، امراضِ نسواں، تشخیصی خدمات، ایمرجنسی اور دیگر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔اس ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور عوام کیلئے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں مزید جانیئے اس خصوصی ویڈیو میں۔
Junaid Baloch retweeted
خاران میں صحت کی سہولتوں کا نیا انداز!
اب شہری بلوچی زبان میں صحت ایپ کے ذریعے آن لائن ڈاکٹرز سے رابطہ کر کے گھر بیٹھے طبی مشورے حاصل کر رہے ہیں
زبان کی آسانی، ٹیکنالوجی کی سہولت اور صحت کی بروقت رہنمائی بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کا ایک ایسا قدم جو علاج کی سہولت کو عوام کے مزید قریب لا رہا ہے
بلوچستان صحت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ خاران کے شہری صحت ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے ڈاکٹروں سے رابطہ کر رہے ہیں اور بلوچی زبان میں طبی مشورہ لے رہے ہیں۔ شاید بلوچستان پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں پر یہ ہورہا ہے ۔
نواب ثناء اللہ زہری بلوچستان کے وزیر اعلٰی رہے ہیں لیکن آج بھی ان کا آبائی علاقہ زہری بلوچستان کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ لیکن ان کیساتھ صدر مملکت سے زیادہ پروٹوکول ہوتا ہے۔ کروڑوں کی گاڑیاں قافلے کا حصہ ہوتی ہیں۔ اگر صرف وہ گاڑیاں بیچ کر زہری پر لگادی جائیں تو زہری کراچی کا بحریہ ٹاؤن بن جائے گا۔
اگر اختر مینگل کے جلسے میں پاکستان کا قومی ترانہ بجانے اور پاکستانی پرچم لہرانے سے روکا گیا ہے تو اختر مینگل کو صاف بتانا چاہیے کہ یہ پابندی کیوں لگائی گئی اور کس کے حکم پر؟
بات ترانے اور جھنڈے سے آگے جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آپ پاکستان کو اپنی ریاست تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟
اگر کرتے ہیں تو اپنے جلسے میں اسی ریاست کے پرچم پر اعتراض کیوں؟
اور اگر تسلیم نہیں کرتے تو پھر اسی ریاست کے آئین اور قانون کی آپ کے نزدیک کیا حیثیت ہے؟










