Khaled Kiyani retweeted
گورنر شپ کا نذرانہ نہ ملا تو ریاست کے خلاف ہی زہر اگلنا شروع کر دیا! عائشہ گلالئی کا مولانا فضل الرحمٰن پر کرارا وار: "بغیر کسی کاروبار یا ذریعہ آمدن کے اربوں کی املاک بنانا ثابت کرتا ہے کہ یہ سیاست نہیں بلکہ کھلی بارگیننگ اور بلیک میلنگ ہے۔"
Khaled Kiyani retweeted
سیاستدانوں پر تنقید کی دفعہ تو بہترین نکتہ باز بن جاتے ہیں
مگر جب معاملہ اپنے پیٹی بھائی حامد میر کا آیا سب ثبوت سامنے رکھے تو یہ بھائی صاحب بھی اس کے حق میں گواہیاں دے رہے تھے یہ جواب نہی دیا کہ سستے سیکٹر سے مہنگے میں پلاٹ تبدیل کیسے ہوا ؟
روتی ہوئی آواز میں ویڈیو بنائی تھی آنہوں نے
ایک تصویر قائد اعظم کی بھی لگا دیتے تو 🧐 ویوز بہتر ہوتے nitter.gq/pmln_org/status/211832…
Khaled Kiyani retweeted
پاکستانی لوگ بہت مہمان نواز دس اور برائیاں مگر مہمانوں کی بہت عزت کرتے اسی لیے یورپ میں اب لوگ پاکستان جانا چاہتے ہیں ہمارے بچوں کی ڈینش سہیلیاں بھی بہت دفعہ مجھے کہہ چکیں کہ ویزہ لے دیں ہم جانا چاہتی ہیں پاکستان تھوڑی سی سہولیات دے تو صرف اس سے بہت روزگار کھلیں گے انڈیا ٹورازم سے 31 ارب ڈالر کما رہا ہے جبکہ جو جاتا واپسی پر کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے پاکستان کو اس پر توجہ کی ضرورت ہے
Khaled Kiyani retweeted
🚨🚨مریم نواز میرئ جان کو خطرہ ہے میری مدد کریں @MaryamNSharif ( جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دو تاکہ ان بہن جی کو انصاف مل سکے )
گجرخان کی ثانیہ بی بی نے تفسیر عباس سے تیس لاکھ کا پلاٹ لیا اب وہ با قبضہ دے رہا نا پیسے پولیس بھی کاروائی نہی کر رہی ہے کلاشنکوف لا کر دھمکیاں دے رہا کہ مار کر لاش غائب کرے گا پہلے بھی ایک بیوہ کی اپیل میں لگا چکا مگر پولیس اس کو گرفتار نہی کرتی ہے کیا کسی حادثہ کا انتظار ہے @OfficialDPRPP آخر عدالت کے حکم کے باوجود مجرم مفرور کیوں آپ صلح کا دباؤ کیوں ڈال رہے ہیں ؟
آپ سب نیکی سمجھ کر اسے ہر طرف شئیر کریں
مریم صاحبہ یہ پولیس خواتین کو انصاف کیوں نہی دیتی ہے ؟
کچھ عرصہ قبل ایک بیوہ عورت کی ویڈیو لگائی جس کے مکان پر گجرخان میں ایک مقامی غنڈے تفسیر حسین شاہ نے قبضہ کیا وہ بنیادی طور پر قبضہ مافیا ہے پولیس فوری طور پر میری پوسٹ پر آئی کہ ایکشن ہو گیا مگر وہ آج تک آزاد ہے اب ایک اور خاتون نے اسی تھانے میں درخواست دی کہ اس کے پلاٹ پر بھی قبضہ ہے آخر اس بندے کو کب گرفتار کریں گے مریم صاحبہ کہتی کہ خواتین میری ریڈ لائن تو پولیس پھر صرف سوشل میڈیا کی حد تک کیوں ایکٹو اصل کاروائی کیوں ُنہی کرتے ہیں ؟
Khaled Kiyani retweeted
محترم ذیشان موری صاحب
آپ ٹرمپ کے انے پر لڈیاں ڈالیں رہے تھے
ابوٹیریان بشری مانیکا سمیت لطیف کو تقریب حلف برداری میں پہنچا رہے تھے
نواز لیگی ٹوئٹس اور خصوصا احسن اقبال کے پرانے ٹوئٹ پہنچا رہے تھے
اور آپ شاید بھول گئے کہ بائیڈن کے جانے پر ٹرمپ کو حقیقی والد درجہ پر فائز کر چکے تھے
Khaled Kiyani retweeted
گروک @grok رضی دادا کی بات کی تصدیق کرو ۔ کیا افغانیوں کو ترک سلطان محمود غزنوی نے ڈنڈے کے زور پر مسلمان کیا تھا؟
ویسے حرکتیں تو افغانیوں کی آج بھی ابوجہل جیسی ہیں
اس پورے خطے میں اگر کوئی قوم بزور شمشیر مسلمان ہوئی ھے تو وہ پختون قوم ھے جسے ترک سلطان محمود غزنوی کی شمیشر نے مسلمان کیا۔ کشان سلطنت کے زمانے سے پختون قبائل بودھ اور پھر ہندو (Shivite hinduism) دھرم کو اپنی مزہبی پہچان بنا چکے تھے۔ محمود کے زمانے میں پختون قبائل پنجاب کے راجہ جے پال کی رعایا تھے جس کی سلطنت کابل تک پھیلی ہوئی تھی۔ محمود کی پہلی جنگ دفاعی تھی جب کابل سے ستلج تک پھیلی ہوئی پال سلطنت کے راجہ جے پال نے غزنوی کی باجگزار چھوٹی سی ریاست پر حملہ کیا تو اس کی بھاری بھرکم فوج کے بیشتر جنگجو پختون ہی تھے۔ اس جنگ میں غیر متوقع کامیابی کے بعد محمود نے پشاور پر حملے سے قبل پہلے انہی پختون قبائل کی اچھی طرح بیخ کنی کی یہاں تک کہ ان کی غالب اکثریت نے اسلام قبول کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ پختون ایلیٹ کے وہ عناصر جنہوں نے مسلم شناخت قبول کرنے سے انکار کیا وہ پنجاب کے میدانوں میں اتر آئے اور پہلے سے موجود ہندو کھتری سرسوت برہمن اور اروڑہ زاتوں میں شامل ہوگئے۔ یہی وجہ ھے کہ مغربی پنجاب کے ہندو اپنے رنگ روپ میں باقی سارے ہندوستان کے ہندووں سے مختلف ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ھے کہ جدید بھارتی ریاست نے جس کی قومی پالیسیوں میں مغربی پنجاب سے آئے ہندووں اور سکھوں کا اثر بہت زیادہ ھے 1947 سے ہی پاک دشمن افگان قوم پرستی اور پختون نسل پرستی کے فروغ کو اپنی اہم ترین پالیسی بنا رکھا ھے۔ بھارتی توسیع پسندوں کی جانب سے پختونوں کے ساتھ اپنے ڈی این اے کے اشتراک اور طالبان کی پختون نسل پرست قیادت کی جانب سے اس دعوے کی توثیق بھی اسی تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ ھے
یادش بخیر ترک سلطان محمود غزنوی نے جے پال کے جارحانہ حملے میں کامیاب دفاع کے بعد اپنی فوجی مہمات کو پختونوں کی بیخ کنی تک محدود رکھا۔ لیکن عباسی خلیفہ کے کہنے پر اسے قرامطیوں کی سرکوبی کے لیے ملتان آنا پڑا۔ اور وہ بھی اس وقت جب چھوٹے بڑے راجاوں نے ان قرامطیوں کی سرپرستی ختم کرنے کے مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان دو وجوہات کی بنا پر جدید ہندو قوم پرست اور ایرانی توسیع پسند دونوں ترک سلطان محمود غزنوی کے دشمن ہیں۔ اور کچھ جاہل بھی پین انڈین اور ایرانی قوم پرستوں کے زیر اثر محمود کے خلاف ہزیان بکنے لگتے ہیں
Khaled Kiyani retweeted
تین نسلیں، دہلی سے سمجھوتے اور کشمیریوں کا لہو.
عوامی نمائندگی کے نام پر کشمیریوں کو بیروزگاری، فوجی آپریشنز اور ظلم کی دلدل میں دھکیل کر عبداللہ خاندان اپنی شاہانہ زندگیاں گزار رہا ہے۔ عام کشمیری گن پوائنٹ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ یہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ تاریخ کشمیری عوام کے اس عظیم دھوکے کو کبھی معاف نہیں کرے گی
Khaled Kiyani retweeted
خارجی اور سود خور غفور حیدری
صحافیوں کو "لفافہ" کہنے والے خارجی غفور حیدری پہلے اپنی کمائی کا ذریعہ تو بتا؟؟؟
2016 میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہوتے ہوئے کاغذوں میں صفر آمدن صفر گاڑی اور اسلام آباد کا پلاٹ صرف 5 لاکھ کا دکھایا
دوسری طرف تو اور تیرا آقا خارجی فضل الرحمان کی ہزاروں کنال زمین اور دبئی کی جائیدادیں آڈٹ میں نکل رہی ہیں
ہر کوئی خامد خنزیر جعفر نہیں ہوتا
اگر صحافی لفافے لیتے ہیں تو سود خور خارجی تو کیا لیتا ہے؟؟؟
Khaled Kiyani retweeted
فیلڈ مارشل اگر کبھی ملے تو ان سے ضرور یہ شکایت کرونگا،،
عمران خان کی طرح فضل الرحمان کا بھی دکھ یہی ہے کہ فیلڈ مارشل ان کرائے کے #مذہب_فروش_سیاستدان کو منہ نہیں لگا رہا،،
دوسری تکلیف یہ ہے کہ باقیوں کی طرح یہ فیلڈ مارشل پر فتویٰ بھی نہی لگا سکتا کہ فیلڈ مارشل خود بھی مولانا ہے😌
Khaled Kiyani retweeted
یہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پنجاب حکومت کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت کہ لوگ اپنی وزیر اعلیٰ کا پرتپاک استقبال کر رہے ہیں۔وزیر اعلی کے 100 سے زائد عوامی خدمت کے منصوبوں سے عوام براہ راست مستفید ہو رہے ہیں۔
Khaled Kiyani retweeted
وہ افغانی خاندان جو 20 سال امریکہ کی افغانستان میں مدد کرتے رھے انہیں امریکہ فمیلیوں سمیت اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔۔۔!!!
جب ٹرمپ آیا تو اس نے ان کو نکالنے کی تیاریاں شروع کردی اس وجہ سے افغانیوں نے مختلف طریقوں سے ویزے لینے کی درخواستیں دیں اور ویزے لے لئے ۔۔۔
اب اطلاع ہے کے سوموار کو تقریباً 200 افغان فیملی سمیت پاکستان میں لینڈ کریں گے جنہیں یہاں سے پاکستانی حکومت تورخم بارڈر پر افغان حکومت کے حوالے کرے گی ۔۔
ان میں ایسے افغان بھی شامل ہیں جنہوں نے وہاں "گے" کے طور پر ویزے لئے ۔۔۔ایسے افغان لڑکے زیادہ ڈر میں ہیں ان کا امریکی حکومت کو کہنا اگر ہمیں واپس بھیجا گیا تو افغان سٹوڈنٹ ہمیں معافی نہیں دیں گے اور ہمارا مزید استحصال کریں گے۔۔۔
فیس بک سے منقول
Khaled Kiyani retweeted
شروع شروع میں حامد میر نے ایک زنانہ فیک اکاونٹ بنایا تھا معظمہ جب نون کے سوشل میڈیا والے کچھ کہتے تو وہ اس اکاؤنٹ سے جواب دینے آتے اس کے بعد جب اس کی میرے سے لڑائی ہوئی اس نے وہ لندن والی مشہور گندی عورت بلائی گالیاں دینے اس دفعہ یہ بوٹ چاٹ دادے کا پوترا میدان میں اتارا
مگر چار دن سے مدعا ایک ہی ہے سب رسیدیں مانگ رہے ہیں اور حامد میر میدان سے فرار ہے
Khaled Kiyani retweeted
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ سی پی او گوجرانوالہ کا انٹرویو سنا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ گوجرانوالہ پولیس میں تعینات کرپٹ افسران کو نازک تھاں پر ٹھڈے مار کر نوکری سے برخاست کیا گیا تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں تعینات ایک سابق ایس ایچ او کو اشتہاری فرار کروانے پر نوکری سے چلتا کیا اور لاء اینڈ آرڈر کے حوالہ سے منشیات فروشی جیسے سنگین جرائم کو گراف تھلے ٹر گیا ہے اور راشی پولیس اہلکاروں کا بھی صفایا جاری ہے اور اس شخص کے بارے میں عوامی اطلاع یہی ہے کہ نہ سفارش مانتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا دباؤ اوراس کی بنیادی وجہ صرف ایک ہے کہ سردار غیاث بقلم خود انتہائی ایماندار افسر ہے جس کو پنجاب حکومت نے یہ سنیا دیا ہے کہ جرائم کی سرکوبی ہونی چاہیے اور اس بگڑے تگڑے شہر کو گز کی طرح سیدھا کرنا ہے اور یہی وجہ ہے پاء پالک چودری کو اپنے ضلع میں اپنا پسندیدہ افسر چاہئے تاکہ انکے سیاسی معاملات حل ہوتے جائیں اور اب جب دال نہیں گل رہی تو سالک چودری پنجاب حکومت پر تبرے بازی کررہا ہے
Khaled Kiyani retweeted
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی اٹک آمد، عوامی خدمت کا سفر جاری۔ ❤️
#MaryamNawazInAttock
یوتھ میڈیا ٹیم
Khaled Kiyani retweeted
اٹک میں مریم نواز شریف کی آمد، عوام سے محبت اور خدمت کے رشتے کی عکاس۔
#MaryamNawazInAttock
یوتھ میڈیا ٹیم
Khaled Kiyani retweeted
مریم نواز شریف کی قیادت میں ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کا عزم۔
#MaryamNawazInAttock
YMT Punjab
Khaled Kiyani retweeted
عمران خان کا حامی ہو اور مجوسی ہو اور حرامی نہ ہو اور یہ ہو ہی نہیں سکتا
کیونکہ جمی ورک نے ایک فیک تصویر اپلوڈ کی ہے اور اس کے عین تھلے ایک کمیونٹی نوٹ بھی لگا ہے جس میں بتلایا گیا ہے کہ یہ “ کُوڑا “ گٹے جوڑ کر جھوٹ بول رہا ہے
لیس لسوڑے دی ۔۔۔۔
اصل میں امن کا راستہ یہی ہے۔۔۔۔تہران آ کر بیعت کی جائے۔ مرحبا حبیبی!
Readers added context they thought people might want to know
غير صحيح؛ إذ جرى التلاعب بالمشاهد كالعادة باستخدام الذكاء الاصطناعي "Google Gemini" في إنتاجها. x.com/No_Rumors/stat…
هيئة مكافحة الإشاعات
Khaled Kiyani retweeted
منجی کا ترٹ گیا ہے پاؤا خبر
اور ناظرین تریک انصاف آج جس طرح حرامد میر کو چوم چوم کر چاٹ رہی ہے ابھی کل تک یہی جماعت حرامد میر کو ملک دشمن مودی کا یار قرار دے رہی تھی
صدیق جان تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ۔۔
Khaled Kiyani retweeted
🚨 حامد میر کا گلبرگ گرینز میں چھ کنال کا فارم ہاؤس: ثبوت ،دستاویزات، مبینہ فوائد اور چند اہم سوالات!
حامد میر صاحب نے صحافیوں پر خفیہ اداروں سے مالی فوائد حاصل کرنے اور ان کے ایجنڈے کے مطابق لکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اگر صحافت میں مالی مفادات، ادارہ جاتی تعلقات اور مراعات سوالات اٹھانے کا موضوع ہیں، تو پھر یہی اصول ہر صحافی پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
حامد میر صاحب اس وقت مبینہ طور پر تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے چھ کنال کے فارم ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب دستاویزات پر چند اہم سوالات سامنے آتے ہیں، جن کے جوابات عوام کے سامنے آنے چاہییں۔
معاملہ کیا ہے؟
گلبرگ گرینز، اسلام آباد میں واقع سول خفیہ ایجنسی انٹیلجنس بیور کی ہاوسنگ سوسائٹی ہےدستیاب دستاویزات کے مطابق، حامد میر صاحب نے 12 مار 2014 کو چھ کنال کا ایک فارم ہاؤس پلاٹ الاٹ ہوا ، جو سیکٹر ڈی میں واقع تھا۔ یہ سیکٹر نسبتاً غیر آباد بتایا جاتا ہے۔
بعد ازاں، عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں، 23 ستمبر 2022 کو مبینہ طور پر یہ پلاٹ سیکٹر ڈی سے منتقل کرکے سیکٹر اے میں کر دیا گیا۔ سیکٹر اے کو سوسائٹی کا اہم اور مہنگا علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں اعلیٰ فوجی افسران کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ اسی علاقے کے قریب سابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی رہائش گاہ ہے
اس معاملے میں درج ذیل سوالات کے جواب ضروری ہیں:
1۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینے کی بنیاد کیا تھی؟
حامد میر صاحب، اگر آپ خود کو اصول پسند اور آزاد صحافت کا علم بردار سمجھتے ہیں، تو ایک ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ کنال کا پلاٹ خریدنے کی ضرورت اور اس کی بنیاد کیا تھی، جس کا تعلق خفیہ ایجنسی سے ہے؟ کیا یہ پلاٹ عام کمرشل یا اوپن مارکیٹ خریداری کے ذریعے حاصل کیا گیا، صحافیوں کے کسی مخصوص کوٹے کے تحت ملا، یا کسی خصوصی رعایت یا تعلق کی بنیاد پر حاصل ہوا؟ اگر کوئی خصوصی کوٹا یا رعایت تھی، تو اس کی شرائط کیا تھیں؟
2۔ پلاٹ کی اصل قیمت اور منی ٹریل کیا ہے؟
یہ پلاٹ کس قیمت پر خریدا گیا؟ خریداری کے وقت اس کی سرکاری اور مارکیٹ ویلیو کیا تھی؟ ادائیگی کس ذریعے سے کی گئی، اور کیا اس کی مکمل مالی دستاویزات اور منی ٹریل موجود ہیں؟ اگر آج اس فارم ہاؤس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے، تو اس مالیت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا؟ پلاٹ کی قیمت اور اس پر تعمیرات کی لاگت کو الگ الگ واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
3۔ سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقلی کیسے ہوئی؟
یہ اس معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ سیکٹر ڈی اور سیکٹر اے کی زمین کی قیمت، محلِ وقوع اور اہمیت میں نمایاں فرق بتایا جاتا ہے۔ یہ فرق تقریباً ایسا ہے جیسے اسلام آباد میں کسی شخص کا پلاٹ آئی ٹین سے منتقل کرکے ایف 6 مارگلہ روڈ میں دے دیا جائے۔
اگر پلاٹ واقعی سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقل کیا گیا، تو اس منتقلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ کیا یہ معمول کی پالیسی کے تحت ہوئی یا کسی خصوصی منظوری سے؟ کیا دونوں سیکٹرز کے درمیان قیمت کے فرق کی ادائیگی کی گئی؟ کیا اس منتقلی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری، بورڈ کی کارروائی اور دیگر ضروری دستاویزات موجود ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہی سہولت عام الاٹیز کو بھی دستیاب ہے، یا یہ کسی خاص فرد کے لیے خصوصی رعایت تھی؟
4۔ مختلف ادوار میں مبینہ فوائد اور طاقت ور حلقوں سے تعلقات کی وضاحت کیا ہے؟
حامد میر صاحب، آپ کے ناقدین آپ اور آپ کے خاندان کے مختلف فوجی ادوار میں مبینہ فوائد اور سرکاری اداروں سے وابستگیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:
* آپ کی اہلیہ مشرف دور میں پی ٹی وی سے وابستہ تھیں، اور آپ کی بیٹی کے بھی موجودہ دور میں پی ٹی وی پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان تقرریوں یا مواقع کی نوعیت اور بنیاد کیا تھی؟
* آپ کے بھائی نگران حکومت کے دور میں وزیر بنے۔ ان کی تقرری کا پس منظر کیا تھا؟
* آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ جنرل قمر جاوید باجوہ سے طویل ملاقاتیں کرتے اور انہیں مشورے دیتے تھے، حتیٰ کہ ایک ملاقات آٹھ گھنٹے جاری رہنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقصد کیا تھا؟
* ان تمام معاملات کی روشنی میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے کسی دور میں کسی قسم کی خصوصی رعایت، سہولت یا فائدہ حاصل کیا؟
آزادیٔ صحافت کا تقاضا صرف دوسروں سے سوال کرنا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اٹھنے والے جائز سوالات کا جواب دینا بھی ہے
























