
Humans Rights activist #LLM UK 🇬🇧
Kashmir
Joined October 2021
- Tweets28.7K
- Following4.2K
- Followers5.6K
- Likes33.3K
Pinned Tweet
مارخور نے پرانا بازار جودھپور میں بیٹھے را کے آفیسر سدھارت اور خضدار میں مقیم فتنہ الہندوستان کے اسد سبزل کی کال حاصل کر لی۔ کال میں را کا آفیسر سدھارت، سبزل سے غصہ بھی کر رہا ہے اور اس کو کاروائی کرنے کی ہدایت دے رہا ہے
5 ارب کے روڈ اسکینڈل کا حساب شروع! اسد محمود کی دورِ وزارت میں دیے گئے بوگس اور من پسند ٹھیکوں پر نیب نے تحقیقات کی فائلیں کھول لیں۔ اب کسی دھاندلی کا کوئی بچاؤ نہیں
خیبر پختونخوا پولیس نے ہمیشہ اپنے خون سے امن کی آبیاری کی ہے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے شہدا اور غازیوں کا اعتراف محض باتوں سے نہیں بلکہ سیکیورٹی الاؤنس میں 1 ارب 70 کروڑ اور آلات کے لیے 9 ارب روپے جیسے عملی اقدامات سے ممکن بنایا جا رہا ہے
#StrengtheningKPPPolice #PakistanFirst
دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کسی ہفتہ وار شیڈول کے پابند نہیں ہوتے، وہ 24 گھنٹے جاری رہتے ہیں۔ عوام میں بداعتمادی پیدا کرنے کے بجائے سیاست دان اپنی حدود کا احترام کریں۔ اگر سیکیورٹی فورسز سے غیر سیاسی رہنے کا مطالبہ ہے تو سیاست دان بھی قومی سلامتی کو جلسوں کی بھیٹ چڑھانا بند کریں
دین داری یا فلاحی کام کی آڑ میں سرکاری و ذاتی املاک پر قبضہ کرنے والوں کا پردہ چاک! رکن تحفظ حقوق ائمہ کرام کونسل مولانا عرفان اللہ کے مطابق عوامی راستوں پر تجاوزات قائم کرنا بندگانِ خدا پر ظلم ہے۔ اسلام میں ناجائز قبضے کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی شرعی معافی ہے۔
دین داری کے برقعے میں 5 ارب 10 کروڑ روپے کی سڑکوں پر ڈکیتی. سی ایس آر 2014 کے نرخوں کی دھجیاں اڑا کر 427 فیصد زیادہ رقم پر ٹھیکے اپنے من پسند افراد کو بانٹے گئے۔ مولانا ٹبر کے اس اربوں کے روڈ اسکینڈل پر نیب راولپنڈی کا نوٹس اب ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا
عائشہ گلالئی نے مولانا کی اصل حقیقت بے نقاب کر دی! کے پی کے میں گورنر شپ کی ڈیل ناکام ہوئی تو مولوی صاحب ریاست کے خلاف ہو گئے۔ نہ کوئی بزنس نہ ذرائع، پھر بھی اربوں کی جائیدادیں! یہ دین کے نام پر محض ذاتی مفادات اور نفع بخش بارگیننگ کی سیاست ہے۔
کل تک جو سرپرست اور محسن تھا، آج وہی ہدفِ تنقید مفاد پرستی کا ایسا انوکھا فلسفہ کہیں اور نہیں ملے گا۔
یہ گیت پی ٹی آئی کی نفرت انگیز سیاست، دوہرے معیار اور مفاد پرست بیانیے پر ایک کاٹ دار طنز ہے۔ قوم اب اس سیاسی ڈرامے اور منافقت کو اچھی طرح پہچان چکی ہے
راولاکوٹ میں انتشار کی دکان چلانے والوں کا سچ سامنے آ گیا! سردار امان کا قریبی ساتھی عقیل بھارتی چینلز پر بیٹھ کر مودی کے تلوے چاٹ رہا ہے اور ہمارے اداروں کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ دشمن کے پیسوں اور اشاروں پر ناچنے والوں کی وفاداری کس کے ساتھ ہے، اب کسی شک و شبہے سے بالاتر ہے
فضلو کے پیسے کا پجاری ہونے کا سچ نیازی نے کافی عرصے پہلے بیان کر دیا تھا؛ جہاں رقم کی بولی لگے، وہاں سے اس کا من پسند فتویٰ باآسانی خریدا جا سکتا ہے۔
مولوی کے بدلتے بیانات اور اقتدار کی ہوس ایک ہی انسان، تین مختلف روپ۔
اپوزیشن ہیں ہوں تو مذہب کا کارڈ، اقتدار کی بارگیننگ ہو تو آئینی ترامیم کی ڈیلیں، اور میڈیا کے سامنے مظلومیت کا ڈراما! یہ ڈبل اسٹینڈرڈز اب قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں
دعوے بلین ٹری کے اور عمل سرسبز وادیوں کو قبرستان بنانے کا، عمران خان نے قوم کو سبز باغ دکھا کر ٹمبر مافیا کی جیبیں بھریں۔ میڈیا پر اربوں درختوں کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے دور میں اصلی جنگلات لٹتے رہے۔ اس کھلی نوسربازی کا حساب اب قوم مانگتی ہے۔
#بلین_ٹری_ڈرامہ
دشمنوں کے لیے واضح پیغام: ہماری دفاعی لکیر اور تیاری ناقابلِ تسخیر ہے
ایس ایس جی تربیلا میں جوانوں کے اعلیٰ معیار، پیشہ ورانہ قابلیت اور جذبے کی تعریف۔ ملک کی سرحدی اور داخلی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ہر محاذ پر سرحدوں کا دفاع مضبوط ہے
#FieldMarshalAsimMunir #SSGTarbela
ایران بارڈر تجارت سے لے کر عثمان بادینی اور ٹھیکیداروں کو نشستیں بیچنے تک، مولانا ٹبر کے کرتوت سامنے آ گئے. جو خود کو "حق پرست" کہتے تھے، ان کے اپنے اندر اربوں کی منڈی لگی ہوئی تھی۔ اداروں کو اس کھلی بدعنوانی کا فوری حساب لینا ہوگا
دین کے نام پر ڈیلیں، بے نامی جائیدادیں اور کریڈٹ کارڈز کی سیاست اب نہیں چھپے گی. سینیٹرز اور ٹھیکیداروں پر پلنے والا نیٹ ورک اب نیب و ایف آئی اے کی زد میں ہے۔ مظلومیت کے کارڈ کے بجائے اپنے گارڈز اور رشتیداروں کی بے نامی جائیدادوں کا حساب دیں.
#مولانا_کرپشن_اسکینڈل
الیکشن میں بھائی، بیٹے اور سالے اتار کر جمہوریت کے گانے گانے والوں کا اصل چہرہ ننگا ہو چکا ہے. دین کی آڑ میں خاندانی جاگیرداری چلانے والا یہ مافیا اب عوام اور قانون کی عدالت میں بے نقاب ہے.
#فضل_کا_خاندانی_مافیا
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
سات کروڑ کے بدلے مخصوص نشست: فضل الرحمان کی لڑائی کا اصل راز #ڈیزل_کو_شکست 🚨🚨
یہ پاکستان کی سیاست کا وہ منفرد کیس ہے جو نہ صرف قانون کی عدالت میں لڑا گیا بلکہ اخلاقیات اور سیاسی ایمانداری کی عدالت میں بھی کھل کر سامنے آ گیا۔
صدف احسان جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئیں۔ الیکشن کمیشن نے انہیں نوٹیفائی کیا، عدالتوں نے بار بار ان کی حیثیت تسلیم کی، اور آج وفاقی آئینی عدالت نے بھی جمعیت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔ مگر فضل الرحمان اور ان کی جماعت نے دو سال سے زیادہ عرصے تک اسی خاتون کو “اجنبی”، “نامعلوم” اور “پارٹی سے باہر کی شخصیت” قرار دے کر ہٹانے کی کوشش جاری رکھی۔
سوال یہ ہے کہ جب صدف احسان خود جمعیت سے تعلق رکھتی ہیں تو پھر مولانا کی یہ لڑائی کیوں؟
جواب صاف ہے۔ صدف احسان کے مقابلے میں جس خاتون کو مخصوص نشست پر لانا مقصود تھا، اسی نشست کے عوض "کامران مرتضیٰ" سات کروڑ روپے ایڈوانس وصول کر چکے تھے۔ پیسے وصول ہو چکے تھے، وعدہ ہو چکا تھا، اور اس لیے مولانا ڈیزل صدف احسان کو ہٹا کر اپنی پسندیدہ خاتون کو لانا چاہتے تھے۔ جب عدالت نے ان کے خلاف فیصلہ دے دیا تو وہی لوگ جو خود کو دین و سیاست کے محافظ سمجھتے ہیں، آج خود اخلاقی طور پر بے نقاب ہو گئے۔
یہ صرف ایک نشست کا معاملہ نہیں۔ یہ اس طرزِ سیاست کی تصویر ہے جہاں مخصوص نشستیں نظریے، قابلیت یا جماعتی وفاداری کے بجائے ایڈوانس رقم کے حساب سے طے کی جاتی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام جیسی جماعت جو برسوں سے “دین کی بالادستی” کا نعرہ لگاتی رہی ہے، آج خود اس الزام کے سامنے کھڑی ہے کہ اس کے اندر مخصوص نشستیں بھی سودے بازی کا سامان بن چکی ہیں۔
آج عدالت نے انصاف کر دیا۔ مگر عوام کے سامنے یہ سوال کھلا رہ گیا ہے کہ جب جماعت خود اپنی نشست کو پیسوں کے بدلے فروخت کرنے پر تیار ہو تو پھر عوام سے کیے گئے وعدوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
یہ فیصلہ صرف صدف احسان کی فتح نہیں۔ یہ اس سیاست کے خلاف ایک واضح پیغام ہے جس میں نشستیں بیچی جاتی ہیں اور پھر انصاف کو روکنے کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں۔
@ziaurrehman76 @KhawajaMAsif @TararAttaullah @MohsinnaqviC42
@KamranM69045926 @MoulanaOfficial
مخصوص نشست کا تنازع: جے یو آئی کو دھچکا #ڈیزل_کو_شکست
جمعیت اپنی ہی رکن کے خلاف، عدالت نے منہ کی کھانی پڑ گئی۔ خاندانی سیاست کی ایک اور شکست۔
5 نومبر 2026: وفاقی آئینی عدالت نے مخصوص نشست کے تنازعے میں رکن قومی اسمبلی صدف احسان کے خلاف جے یو آئی (ف) اور حنا بی بی کی درخواستیں خارج کر دیں اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ (جسٹس عامر فاروق سمیت) نے درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیں۔
‼️سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ کی تشریح پر عدم اطمینان ظاہر کیا اور معاملے کی ذمہ داری خود جماعت پر ڈال دی۔
‼️مخصوص نشستیں خواتین کی سیاسی نمائندگی کے لیے ہیں یا خاندانی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے؟ یہ سوال اب مزید اہم ہو گیا ہے۔
‼️جمعیت کو پہلے اپنے اندرونی فیصلوں اور امیدواروں کے ساتھ سلوک کا حساب دینا چاہیے۔
‼️خواتین کے حقوق پر بیانات دینا آسان ہے، جب معاملہ اپنی جماعت کی خاتون کی سیاسی نمائندگی کا ہو تو منافقانہ رویہ بھی دیکھا جاتا ہے۔
@ziaurrehman76
@MoulanaOfficial
MARIA SHAH KASHMIRI retweeted
مخصوص نشست کا تنازع: جے یو آئی کو دھچکا #ڈیزل_کو_شکست
جمعیت اپنی ہی رکن کے خلاف، عدالت نے منہ کی کھانی پڑ گئی۔ خاندانی سیاست کی ایک اور شکست۔
5 نومبر 2026: وفاقی آئینی عدالت نے مخصوص نشست کے تنازعے میں رکن قومی اسمبلی صدف احسان کے خلاف جے یو آئی (ف) اور حنا بی بی کی درخواستیں خارج کر دیں اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ (جسٹس عامر فاروق سمیت) نے درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیں۔
‼️سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ کی تشریح پر عدم اطمینان ظاہر کیا اور معاملے کی ذمہ داری خود جماعت پر ڈال دی۔
‼️مخصوص نشستیں خواتین کی سیاسی نمائندگی کے لیے ہیں یا خاندانی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے؟ یہ سوال اب مزید اہم ہو گیا ہے۔
‼️جمعیت کو پہلے اپنے اندرونی فیصلوں اور امیدواروں کے ساتھ سلوک کا حساب دینا چاہیے۔
‼️خواتین کے حقوق پر بیانات دینا آسان ہے، جب معاملہ اپنی جماعت کی خاتون کی سیاسی نمائندگی کا ہو تو منافقانہ رویہ بھی دیکھا جاتا ہے۔
@ziaurrehman76
@MoulanaOfficial
خواتین کے حقوق پر تقاریر کرنے والوں کا اپنا دوہرا معیار ننگا ہو گیا، عدالت نے صدف احسان کے خلاف جے یو آئی کی درخواستیں خارج کر دیں۔ اپنی ہی امیدوار کا سیاسی حق مارنے اور خاندانی اجارہ داری قائم کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی۔
#ڈیزل_کو_شکست
پریس ریلیز: ترجمان ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، ریجن پونچھ
#AJK
احتجاج حق ہے، مگر شہریوں کو یرغمال بنانا ناقابلِ قبول! آزاد کشمیر کے عوام انتشار پسندوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ پُرامن حکمتِ عملی سے امن بحال کرنے پر ریاستی اداروں کو خراجِ تحسین۔
#عوام_کو_ریلیف #عوامی_حقوق_کا_تحفظ #پرامن_آزاد_کشمیر











