tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu) header
tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu) profile picture

خاموشی خطیبِ اعظم ہے، اس کا خطبہ بہرے کو بھی سنائی دیتا ہے 🔥

Where are you now
Joined March 2025
Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)Photo by tishnagi 🪡 عنایہ (@_5Anu)
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
Replying to @_5Anu
قصۂ غم ہے، کہیں اور سنانے کا نہیں ہم کو درکار ہے دیوار، جو خاموش رہے #اردو_زبان
1
4
2
29
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
افواہیں نفرت کرنے والے بناتے ہیں احمق پھیلاتے ہیں اور بے وقوف ان پر یقین کرتے ہیں
37
89
2
288
4,143
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
جب وہ آپ کو دھوکہ دیتے ہیں تو گویا وہ آپ کے بازو کاٹ دیتے ہیں آپ اُنہیں معاف کر سکتے ہیں لیکن آپ اُنہیں گَلے نہیں لگا سکتے
31
67
2
166
2,028
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
نفرت بھی کوئی کرنے کی چیز ہے بھلا صبر کیجئے، رحم کیجئے، معاف کیجئے اور جانے دیجئے
45
76
1
285
3,057
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
بیٹیاں اپنی ماں جیسی زندگی نہیں گزارنا چاہتی ہیں کیونکہ اُنہوں نے ماں کی آنکھوں کے اَدھورے خواب اور قربانیاں دیکھی ہوتی ہیں جبکہ بیٹے اپنی ماں جیسی بیوی چاہتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے ماں کو ہر حال میں گھر اور رشتے سنبھالتے ہوئے دیکھا ہوتا ہے
30
57
2
173
2,396
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
اِتنے مضبوط ہو جائو کہ جو ہو رہا ہے اُسے ہونے دو جو جا رہا ہے اُسے جانے دو اور جو ٹھہر گیا ہے اُسے ٹھہرنے دو
29
65
192
2,216
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
فارغ بیٹھے لوگ چیونٹی کا بھی راستہ روک دیتے ہیں بول اب کدھر جائے گی اور تمہیں لگتا ہے، تُم یونہی چلے جائو گے اپنی مزل تک
22
60
3
178
2,055
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
وقت وہ ترازو ہے جو بُرے وقت میں اپنوں کا وزن بتا دیتا ہے
20
69
2
222
2,567
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
اپنے اندر کے بچے کو کبھی مرنے نہ دیں کیونکہ حد سے زیادہ سمجھدار رہنا آپ کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتا ہے
29
80
312
2,842
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
آج تک انسان ایسا کچرا دان نہیں بنا سکا جس میں وہ اپنی نفرتیں، عداوتیں، تعصب اور جہالت کو پھینک سکے
25
88
1
275
3,192
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
اگر روٹی میں نمک کم ہو تو موبائل چارج کر لینا کیونکہ بارش میں بھیگا ہوا طوطا کبھی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر امتحان نہیں دیتا
24
40
1
100
1,748
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
جب انسان نے پہلی مرتبہ پرندوں کو ڈرانے کے لیے پُتلا بنایا تو وہ سمجھ گیا تھا کہ وہم، حقیقت سے زیادہ خوف پیدا کرتا ہے
20
57
1
172
2,081
خاموش محبت کا بھی اپنا ہی مزہ ہے، آنکھوں سے بات ہوتی ہے، لب خاموش رہتے ہیں #اردو_زبان
1
5
11
51
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
یہ زندگی بونے اور کاٹنے کا نام ہے یہ قطعاً ممکن ہی نہیں کہ ہم زمین میں خود غرضی کا بیج بوئیں اور ہمیں تعاون کا پھل ملے
25
66
2
184
2,376
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
Replying to @_5Anu
بحیثیت انسان ہمارا ایمان ہے کہ ایک دن جانا ہے۔۔ اور یہ زندگی کی سنت ہے۔۔ ہم نے آہستہ آہستہ اپنے سب بڑوں کو کھو دیا۔۔ وہ اپنا وعدہ وفا کرنے اوپر چلے گئے ۔۔ یہی زندگی ہے
1
1
1
9
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
#اردو_زبان جب مجھے 23 سال کی عمر میں پہلی تنخواہ ملی تو میرے والد نے مجھ سے کہا: ”ہر مہینے مجھے 100 بھیج دیا کرنا۔“ میں نے پوچھا: ”ابو، کیوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”تمہاری پرورش کے بدلے۔“ میں ہنس پڑا، لیکن وہ نہیں ہنسے۔ اس دن سے ہر مہینے کی 27 تاریخ کو، جب میری تنخواہ آتی، میں انہیں 100 بھیج دیتا۔ اور رقم بھیجتے وقت ٹرانزیکشن کے ریفرنس میں لکھتا: ”آپ کی پرورش کے بدلے۔“ اور ہر بار ان کا جواب ہوتا: ”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں رزق عطا فرمائے۔“ وہ کبھی اس کے علاوہ ایک لفظ بھی نہیں کہتے تھے۔ میں نے غیر شادی شدہ ہونے کے زمانے میں بھی پیسے بھیجنا جاری رکھا۔ شادی کے مہینے میں بھی بھیجے، حالانکہ میرے سر پر قرضوں کا بوجھ تھا۔ میرے بیٹے کی پیدائش کے مہینے میں بھی بھیجے، جب میرے اکاؤنٹ میں صرف 140 باقی بچے تھے۔ میری بیوی پوچھتی: ”آپ کے والد ریٹائر ہو چکے ہیں اور ان کا اپنا گھر بھی ہے، انہیں ان 100 کی کیا ضرورت ہے؟“ میرے دوست مذاق اڑاتے ہوئے کہتے: ”کیا تمہارے والد نے تم پر کوئی ٹیکس لگا رکھا ہے؟“ میں بس اتنا کہتا: ”میرے والد ایسے ہی ہیں، ان کے اپنے ہی کچھ طریقے ہیں۔“ ایک مرتبہ مجھ سے رقم بھیجنے میں ایک دن کی تاخیر ہوگئی۔ صبح سات بجے والد کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا: ”سب خیریت تو ہے؟ میں نے پیسے بھیج دیے اور دل ہی دل میں ہنستے ہوئے سوچا: ”واقعی، پیسوں کے معاملے میں تو بہت پابند ہیں۔“ یہ سلسلہ پورے 12 سال جاری رہا۔ تین ماہ پہلے کمپنی نے مجھے ملازمت سے فارغ کر دیا میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا، یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں۔ ہر روز صبح سات بجے میں اپنا ثوب پہنتا، گھر سے نکلتا اور ایک کافی شاپ کے قریب اپنی گاڑی میں بیٹھا رہتا۔ دوپہر تک وہیں گزارتا، پھر گھر واپس آ جاتا، جیسے دفتر سے لوٹ رہا ہوں۔ پھر 27 تاریخ آ گئی، لیکن اس بار تنخواہ نہیں آئی۔ 12 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اپنے والد کو پیسے نہیں بھیجے۔ رات کے کھانے کے بعد میرا فون بجا۔ والد تھے۔ انہوں نے کہا: ”پیسے نہیں آئے۔“ میں نے جواب دیا: ”ابو، بھول گیا تھا۔ ان شاء اللہ، کل بھیج دوں گا۔“ وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہے، پھر بولے: ”ابھی میرے پاس آؤ، اکیلے۔“ میں ان کے مجلس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے ایک پرانی نوٹ بک اور ایک لفافہ رکھا ہے۔ انہوں نے نوٹ بک میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ”اسے کھولو۔“ نوٹ بک کے ہر صفحے پر ایک تاریخ، رقم ”100“ اور میرا نام درج تھا۔ ہر اندراج کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ رقم کہاں خرچ کی گئی: ”واٹر کولر۔“ ”ایک یتیم بچے کی کفالت۔“ ”رمضان کا راشن پیکج۔“ ”مزدوروں کے لیے پانی کا انتظام۔“ کل 144 اندراجات تھے۔ انہوں نے کہا: ”تمہاری بھیجی ہوئی رقم کا ایک ریال بھی کبھی میری اپنی جیب میں نہیں گیا۔“ پھر انہوں نے اپنا فون مجھے دیا۔ اس میں مسجد کے باہر لگے ایک واٹر کولر کی تصویر تھی۔ اس پر لگی ایک چھوٹی سی تختی پر لکھا تھا: ”میرے بیٹے کی طرف سے صدقہ، اللہ اسے سلامت رکھے۔“ میں نے اسے فوراً پہچان لیا۔ یہ وہی واٹر کولر تھا جو میری جائے ملازمت کے قریب مسجد کے باہر لگا ہوا تھا۔ وہی جس سے میں ہر روز دوپہر کو پانی پیا کرتا تھا۔ برسوں سے میں اپنے والد کے دیے ہوئے صدقے کا پانی پی رہا تھا، اور مجھے اس بات کا ذرا بھی علم نہیں تھا۔ پھر انہوں نے لفافہ میری طرف بڑھایا اور کہا: ”اور یہ میری طرف سے ہے۔“ میں نے لفافہ کھولا تو اس میں 72,000 کی رقم تھی۔ انہوں نے بتایا: ”جب سے تمہیں پہلی تنخواہ ملی تھی، میں ہر مہینے 500 روپے الگ رکھتا رہا ہوں۔“ ”مجھے معلوم تھا کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تمہاری طرف سے پیسے نہیں آئیں گے، اور اس دن تمہیں میری ضرورت ہوگی۔“ میں نے پوچھا: ”ابو، آپ کو کیسے معلوم تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”12 سال تک تم نے کبھی رقم بھیجنے میں ناغہ نہیں کیا، سوائے آج کے۔ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔“ میرے پاس کہنے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا: ”مجھے کبھی ان 100 کی ضرورت تھی ہی نہیں۔ ”میں تو بس ہر مہینے یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم خیریت سے ہو۔ میں تم سے پوچھے بغیر یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم ٹھیک ہو یا نہیں۔ بس تم خود مجھے یہ کہہ دیا کرو کہ ’میں ٹھیک ہوں‘، چاہے حقیقت میں تم ٹھیک نہ بھی ہو۔“ دو ماہ بعد مجھے ایک نئی ملازمت مل گئی۔ 27 تاریخ کو، جب مجھے پہلی تنخواہ ملی، تو میں نے والد کو 100 بھیجے اور ساتھ لکھا: ”آپ کی پرورش کے بدلے۔“ ان کا جواب آیا: ”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں بے حساب رزق عطا فرمائے۔“ ایک منٹ بعد، ان کی طرف سے پہلی بار دوسرا پیغام بھی آیا: ”اور آئندہ مجھ سے کوئی بات مت چھپانا۔“ یہ کہانی اپنے اندر ایک سبق رکھتی ہے، لیکن بہت کم لوگ اس کی گہرائی کو سمجھ پائیں گے۔۔۔!! اے اللہ! میری، میرے والدین کی اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما، خواہ وہ زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔ ( عربی ادب سے مترجم )
2
12
17
464
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
✨ صبح کی روشنی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل ہو، روشنی ضرور آتی ہے #اردو_زنان
5
5
17
203
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
Replying to @urdu_zuban
وعلیکم السلام #اردو_زبان
6
5
18
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
Replying to @urdu_zuban
گل بستر ستارے بن گئے ہیں ترے ماتھے سے جب افشاں جھڑی ہے #اردو_زبان
8
4
11
tishnagi 🪡 عنایہ retweeted
Replying to @urdu_zuban
زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرائش بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے #اردو_زبان
9
6
19