میں X پر ایک دہائی سے موجود ہوں
بہت سے اچھے ساتھی ملے اور بہت سے برے اور گھٹیا لوگوں سے واسطہ پڑا لیکن میں نے اپنی ہر جنگ خود لڑی
(چند قریبی ساتھیوں کو نکال کر جنہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا اور ہر برے وقت میں میرے ساتھی رہے اور آج تک ہیں )
کسی کو کہیں جانے سے نہیں روکا کسی کی ساتھ بیٹھنے سے منع نہیں کیا
میرے ساتھ بیٹھنے والے لوگ دوسری محفل میں میرے خلاف گھٹیا زبان سُن کر دانت نکال کر میری سپیس میں آتے اور میں پھر بھی اپنی اوقات کے مطابق اُن کو عزت دیتی
لیکن میری سمجھ سے باہر ہے کہ کسی بھی انسان کا دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ختم ہوتا ہے تو مجھ سے کس بات کی امید کہ میں اپنا تعلق آپ کی دشمنی کی وجہ سے خراب کروں؟
آپ نے تعلق بناتے وقت میری رضامندی لی تھی ؟
یا قطع تعلق کرتے وقت مجھ سے صلاح کی ؟
یا پھر کل کو آپ دوبارہ اپنا تھوکا چاٹیں گے/ گی تو مجھ سے پوچھیں گے/گی
اگر نہیں تو میں کسی سے بھی اپنا تعلق کسی کے لیے بھی خراب نہیں کروں گی اور نہ ہی مجھ سے کوئی ایسی امید رکھے
خاص طور پر وہ لوگ جو اس وقت بلکل خاموش رہے اور چسکے لیتے رہے جب میرے خلاف زہر اگلا جا رہا تھا ۔
ایمان retweeted
The most beautiful space for Shayari on all of X (Twitter). Truly lucky and blessed to be a part of this wonderful family ❤️✨
Seher-e-Bayan — where words meet hearts and poetry finds its home. 🌹 @_imaan_n @BabaMaier @Sana____Sweet @shah__zad987 @rajaikram19 @malikafra1989
🤖 Made with AI
عشق نماز ادا نئہیں ہندی
ہتّھ چُکیاں دُعا نہئیں ہندی
جد تک اندروں دل نہ منے
شرطاں نال وفا نہئیں ہندی
ماں جہیدے نال راضی نیں گی
اوہدی معاف خطا نہئیں ہندی
سب دُعاواں رد ہو جاندیاں
ماں دی رد دُعا نہئیں ہندی
سچ دا دیوا بلدا رہندا
اوہدے مگر ہوا نہئیں ہندی
دل دے زخم کدی نہ لُکدے
سیتی جے قبا نہئیں ہندی
ماں شمیم ایسی ہستی آ
جہڑی کدی خفا نہئیں ہندی
شمیم چودھری
یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں
قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردار
سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں
برا نہ مان اگر یار کچھ برا کہہ دے
دلوں کے کھیل میں خودداریاں نہیں چلتیں
چھلک چھلک پڑیں آنکھوں کی گاگریں اکثر
سنبھل سنبھل کے یہ پنہاریاں نہیں چلتیں
جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی
یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں
کیفؔ بھوپالی
تَو کیا ہوا جو آپ کے شمار میں نہیں رہا
میں مختلف سا شخص تھا ہزار میں نہیں رہا
یقین مانیے کہ جب سے آپ میرے ہو گئے
تَو یہ ہوا کہ ذائقہ انار میں نہیں رہا
فقط یہ آپ کا گلہ نہیں ہے میرے محترم
ہمارے ساتھ جو رہا قرار میں نہیں رہا
مجھے بھی عشق ہو دعائیں مانگتا تھا اور پھر
میں دائرے میں آ گیا قطار میں نہیں رہا
وہ سوکھ کر بتا مجھے خزاں سے کیا گلہ کرے
درخت جو ہرا بھرا بہار میں نہیں رہا
کبھی تو تِیس کو خوشی خوشی سے یہ بتاؤں گا
میں اِس مہینے دیکھ ماں ادھار میں نہیں رہا
کسی کے روٹھنے سے رنگ زرد پڑ گیا مِرا
وگرنا دو گھڑی بھی میں بخار میں نہیں رہا
ستارہ ہو یا اشک ہو یہ طے شدہ سی بات ہے
وہ ٹوٹ کر گرے گا جو مدار میں نہیں رہا
ندیم راجہ
ایمان retweeted
کوشش کریں زندگی ایک درخت کی طرح گزاریں،
لوگ آئیں جائیں آپ چھاؤںدیتےرہیں
کوئی ٹہنی توڑکےمسواک بنائے
یا پھراپنےچولہےمیں آگ جلائےسب کوان کی ضرورت کےمطابق اپنے حصےتوڑکےدیتےجائیں
خیربانٹتے رہیں
سایہ دیتے رہیں
لکڑی مہیاکرتےرہیں
ایک وقت آئےگاجب انہیں چتاجلانےکےلیےواپس آپ کےپاس آناپڑےگا
اداس پیڑوں کہ ٹہنیوں پہ لکھی کہانی کا درد کیا ہے
کبھی ملو تم تمہیں بتائیں کہ رائیگانی کا درد کیا ہے
*ہم ایسے بنجر مزاج لوگوں کے خواب گروی خیال گروی*
*ہم ایسے بزدل ہی جانتے ہیں کہ زندگانی کا درد کیا ہے*
حسین لڑکی تمہارے خوابوں کو شک کی دیمک نگل گئی ہے
حسین لڑکی تمہی بتاؤ کہ بدگمانی کا درد کیا ہے
یہ میری عمر شباب دیکھو یہ میری عمر خراب دیکھو
تبھی تو جانو گے میری بکھری ہوئی جوانی کا درد کیا ہے
کوئی تو دیکھے ہمارے چہرے پہ زرد رت کی لکھی کہانی
کوئی تو پوچھے ہماری آنکھوں سے بہتے پانی کا درد کیا ہے
آغر ندیم سحر
ایمان retweeted
نہ راز ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو
نظر والوں تمہیں کرنا ہے اب دنیا میں کیا سمجھو
طلب میں صدق ہے تو ایک دن منزل پہ پہنچو گے
قدم آگے بڑھاؤ خود کو اپنا رہنما سمجھو
یہ کیا انداز ہے اتنا گریز اہل تمنا سے
خدا توفیق دے تو اہل دل کا مدعا سمجھو
تمہارے ہر اشارے پر سر تسلیم خم لیکن
گزارش ہے کہ جذبات محبت کو ذرا سمجھو
ہو کوئی موج طوفاں یا ہوائے تند کا جھونکا
جو پہنچا دے لب ساحل اسی کو ناخدا سمجھو
جسے دیکھو وہی بدمست ہی مغرور ہے ہمدم
کوئی بندہ نہیں دنیا میں کس کس کو خدا سمجھو
یہاں رہبر کے پردے میں بہت رہزن ہیں اے اخترؔ
رہو دور اس سے تم جس کو وفا نا آشنا سمجھو
ایمان retweeted
اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہم
کل جس سے خوش تھے آج اسی سے خفا ہیں ہم
تجھ سے جدا نہیں ہیں جو تجھ سے جدا ہیں ہم
تیرے ہی ہیں اگرچہ ترے نقش پا ہیں ہم
کہتے ہیں ہم کو نیک بھی بد بھی ہزار ہا
اس کی خبر نہیں ہے کہ دراصل کیا ہیں ہم
رتبہ بڑھا دیا ہے جنون فراق نے
ہم سے جدا ہیں آپ تو سب سے جدا ہیں ہم
تاثیر اشک و آہ نے بدلا نہیں مزاج
مدت ہوئی کہ شاکیٔ آب و ہوا ہیں ہم
لاکھوں جفائیں سہہ کے اب آیا ہے یہ خیال
ملتے ہی کیوں ہیں اس سے جو بے مدعا ہیں ہم
وہ یاس بن گئی جو زمانے کی آس تھی
آزردہ آج اپنے سے بے انتہا ہیں ہم
جمتا ہے اپنے ذکر سے اب محفلوں کا رنگ
رہتے ہیں اپنے گھر میں مگر جا بجا ہیں ہم
کیا کیا عنایتیں ہیں بس اے چرخ پیر بس
تیرا تصدق اب بھی کسی سے جدا ہیں ہم
اب اتفاق اہل وفا تم کو کیا دکھائیں
محشر میں دیکھنا کہ یہ سب ایک جا ہیں
منظور امتحان دل عشق باز ہے
اب اپنے واسطے بھی تو صبر آزما ہیں ہم
اس پر مٹے ہوئے ہیں مٹاتا ہے جو صفیؔ
دشمن کی گا رہے ہیں بڑے خوش نوا ہیں ہم
صفی اورنگ آبادی















