Gul Zafar Khan retweeted
پشاور- انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے رہنما عامر خان چمکنی @Amir_Chamkani و اعجاز وزیر صدر وزیرستان سٹوڈنٹ فیڈریشن کو اقراء نیشنل یونیورسٹی سے نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا ہے۔
#PakistanUnderFascism
Gul Zafar Khan retweeted
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى
Gul Zafar Khan retweeted
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى
Gul Zafar Khan retweeted
گلگت بلتستان کے بہادر سپوت خالد خورشید 34 سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا واحد ”جرم“ عمران خان سے وفاداری اور ایک جمہوری پاکستان کے لیے ان کا عزم ہے! #VoicesCantBeJailed
#PakistanUnderFascism
Gul Zafar Khan retweeted
نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہ احد کے گھر نامعلوم افراد کا چھاپہ.
شاہ احد گھر پر موجود نہیں تھے.
چھاپے کے دوران توڑ پھوڑ بھی کی گئی.
@SyedshahAhad
Gul Zafar Khan retweeted
پہلے میری تقریباً 800 کنال زرعی اراضی نیلام کی گئی، اسلام آباد اور اٹک میں میرے گھر سیل کیے گئے اور اٹک کی زمین بھی نیلام کر دی گئی۔ اب جنڈ میں مزید 377 کنال زمین نیلامی کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
اگر عمران خان سے وفاداری کی یہی قیمت ہے تو میں ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن خان صاحب کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ دباؤ، دھمکیاں اور جائیداد کا نقصان میرے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ میں کل بھی عمران خان کے ساتھ کھڑا تھا، آج بھی کھڑا ہوں اور ہمیشہ کھڑا رہوں گا۔
عمران خان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰
Gul Zafar Khan retweeted
The aftermath of the raid on my house last night. No one is intimidated however, not even the little ones.
ہماری جرأت سے لرزتے ہیں ایوانِ جبر،
ہماری استقامت ہے شکستِ ظلم کی نوید !
#ReleaseAllPoliticalPrisoners
#ReleaseAllMissingPersons
Gul Zafar Khan retweeted
ظلم جبر اور اخلاقی گراوٹ کی انتہا!
چئرمین عمران خان کی بہن نورین نیازی کو دل کی تکلیف ہوئی ان کو ہسپتال لایا گیا آئی سی یو کے باہر پولیس نے تالے لگا دئیے۔ فیملی کو نہیں ملنے دیا جارہا نہ ان کی خیریت بتائی جارہی۔
یہ بے شرمی کی انتہا ہے ایسی فسطائیت ایسی گھٹیا مخالفت تاریخ میں نہیں دیکھی ایک قومی لیڈر کی غیرسیاسی بہنوں کو ایک طرف ایک ماہ سے بے جرم قید رکھا ہوا دوسرا آج بیمار ہونے پر اخلاقی گراوٹ کی انتہا کردی گئی ہے۔
عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کی جیل میں طبیعت خراب ہونے اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقلی پر پاکستان تحریک انصاف کا شدید اظہارِ تشویش؛ اہلِ خانہ کو اطلاع نہ دینا قابلِ مذمت
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے قائدِ تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ، 70 سالہ نورین نیازی کی دورانِ حراست طبیعت خراب ہونے اور انہیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق نورین نیازی کو جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا، تاہم انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک امر یہ ہے کہ ان کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں اہلِ خانہ کے کسی فرد کو اطلاع نہیں دی گئی۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ طرزِ عمل انسانی ہمدردی، شفافیت اور زیرِ حراست افراد کے بنیادی حقوق کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ 70 سالہ نورین نیازی کی مبینہ غیر قانونی نظر بندی، ان کی صحت کو لاحق خطرات اور اہلِ خانہ کو اعتماد میں لیے بغیر ہسپتال منتقلی انتہائی سنجیدہ معاملات ہیں، جن پر حکومت پنجاب اور متعلقہ حکام کو فوری وضاحت پیش کرنی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ نورین نیازی کو ماہر امراضِ قلب کی نگرانی میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، تمام ضروری تشخیصی ٹیسٹ اور علاج بلا تاخیر یقینی بنایا جائے اور ان کی صحت سے متعلق مستند معلومات فوری طور پر اہلِ خانہ کے ساتھ شیئر کی جائیں۔ اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات اور ان کی خیریت دریافت کرنے کی اجازت بھی دی جائے۔
پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اور انتقامی کارروائیوں کی بنیاد پر کسی شہری، بالخصوص معمر خواتین، کی صحت، زندگی اور بنیادی حقوق کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری زیرِ حراست افراد کی جان اور صحت کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ ان کے اہلِ خانہ کو بے خبری، پریشانی اور ذہنی اذیت میں مبتلا رکھنا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عمران خان کی ہمشیرہ سمیت دیگر زیرِ حراست بے گناہ خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر پاکستان تحریک انصاف کو شدید تحفظات ہیں۔ خواتین کی عزت و حرمت، انسانی وقار اور آئینی حقوق کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ سیاسی وابستگی کو جرم بنانا اور خواتین کو سیاسی دباؤ کے لیے زیرِ حراست رکھنا کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت پنجاب اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ نورین نیازی کی موجودہ طبی حالت، تشخیص اور علاج سے متعلق مکمل تفصیلات فوری طور پر اہلِ خانہ کو فراہم کی جائیں، ان کی مناسب طبی دیکھ بھال یقینی بنائی جائے، اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کی مبینہ غیر قانونی نظر بندی سمیت دیگر بے گناہ خواتین کی غیر ضروری حراست فوری ختم کرکے انہیں رہا کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت اور متعلقہ حکام یاد رکھیں کہ انسانی جان، صحت اور بنیادی آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی معمر خاتون کی صحت کو سیاسی کشمکش کی نذر کرنا اور اس کے اہلِ خانہ کو بنیادی معلومات سے محروم رکھنا انتہائی غیر انسانی رویہ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے عوام، کارکنان اور تمام اہلِ وطن سے نورین نیازی کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل بھی کی۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریک انصاف
خیبرپختونخوا میں غنڈا راج۔
خیبرپختونخوا میں سیاسی انتقام کے نام پر جو خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے، وہ نظام کی موت کا کھلم کھلا ثبوت ہے۔
وزیراعلی @SohailAfridiISF ، صوبائی اسمبلی کا سپیکر @BabarSaleemSwat ملک کی سب سے بڑی جماعت کا صوبائی صدر @JunaidAkbarMNA سابق وزیراعلی @AbdulKhalidPTI اور ایم این اے @IqbalAfridiPTI آج پندرہ دن سے اغواء ہیں اور عدالتیں سو رہی ہیں اس سے اندازہ لگا لیں اس وقت پاکستان میں آئین و قانون کی کس شدت سے پامالی ہورہی ہے۔ جس دہشتگردی کو بہانہ بنا کر ایک عوامی حکومت کو طاقت کے زور پر ختم کیا گیا پندرہ روز میں اس کے خلاف ایک کاروائی نہیں ہوئی۔
خواتین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ قانون، انصاف اور انسانی وقار کا تقاضا ہے کہ خان صاحب کی بہنوں کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر خواتین کو قید رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
پی ٹی آئی قیادت کو اغوا اور پابندِ سلاسل کرنا، کارکنوں کی گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے اور سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوششیں جمہوری اقدار اور بنیادی حقوق پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو جرم بنا کر خوف کی فضا قائم کرنا فسطائیت کی علامت ہے۔
یاد رکھیں! قید و بند، جبر اور طاقت کے ہتھکنڈے نظریات کو ختم نہیں کر سکتے۔ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ظلم کا ہر حربہ بے نقاب ہوگا، اور انصاف و جمہوریت کی پُرامن جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی(@SohailAfridiISF )، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی(@BabarSaleemSwat )، صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان(@JunaidAkbarMNA ) اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کا مبینہ اغوا سیاسی جبر اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے۔ یہ واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے بجائے طاقت کے ذریعے سیاسی اختلاف کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یاد رکھیں طاقت، جبر اور گرفتاریوں سے تحریکِ انصاف کو ختم کیا جا سکتا ہے، نہ ہی عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کی جدوجہد کو دبایا جا سکتا ہے۔ یہ جدوجہد اپنے آئینی اور جمہوری مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔
Gul Zafar Khan retweeted
عجب انتظام ہے
عام انتخابات میں ٹانک سے 42 ہزار 629 ووٹ لینے والے محمد عثمان اب معطل ہیں
جبکہ
عرفان اللہ کنڈی 8 ہزار 794 اور نوابزادہ عبدالوہاب 61 ووٹ لینے کے بعد اب مشاورتی کونسل کا حصہ ہیں اور ٹانک کے مستقل کا فیصلہ کرینگے
عرفان اللہ کنڈی عام انتخابات میں پرویز خٹک کی جماعت کے امیدوار تھے

































