Pinned Tweet
میں کون ہوں ؟
ذہن سے ہوکر چھوٹی بڑی کئ ندیاں دل میں جا گرتی ہیں
ان میں ایک وہ ہے جس میں میرا دین ہے، جس نے مجھے مسلمان ہونے کا شرف دیا ہے
ایک ندی وطن کی مٹی بہا لاتی ہے۔ اس میں مٹی کی خوشبو ہے پہچان ہے جذبہ ہے۔ روایات ہیں، تہذیب ہے
👇
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
مغرب، بالخصوص امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی، ہر مرتبہ جب ان کے معاشروں میں کہیں کسی الیکشن وغیرہ کے نتیجیے میں کوئی ایک آدھ اپ-سیٹ ہو جاتا ہے تو تھوڑا مہذب، مگر کف اڑاتے ہوئے وہ بہت آرام سے یہ بھول جاتے ہیں کہ عین انہی معاشروں میں انتہا پسندی کے درجات کیا ہیں اور ان معاشروں میں دائیں بازو اور پھر انتہائی دائیں بازو کی سیاست کیسی ہے۔
پاکستان میں تو ویسی سیاست اور بات کرنے والے موجود ہی نہیں کہ جیسی باتیں، تقاریر اور میڈیا کھلے عام کر جاتے ہیں۔ ہر روز دیہاڑے مسلمانوں، اسلام اور دیگر اقوام کے بارے میں جو سننا پڑتا ہے وہ ہمارے ہاں بڑے سے بڑا اور انتہاپسند ترین کوئی مسلمان مولوی کہہ تو کیا، سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ اگر رائے کی آزادی ہے تو اسی دھکے میں وہ اک چھوٹے سے مشرق وسطیٰ کے ملک اور اس کے لوگوں کے بارے میں بات تو کیا، ذرا چوں بھی کر کے دکھا دو۔ اور یہ بھی کہ ٹرمپ اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں کو الیکٹ وغیرہ کون کرتا ہے: وہاں کے شہری یا پاکستانی؟
اپنی طرز کی انتہاپسندی کے بھوسے کی اک ڈھیری میں کہیں عبدل السید یا رشی سوناک کی اک آدھ سوئی جو نمودار ہو جائے تو بھائیو، آپ کو مبارک۔ ہمیں آپ کے تبروں اور تبصروں کی کوئی ضرورت اس لیے بھی نہیں کہ آپ بھلے پاکستانی اوریجن کے ہوں، اب آپ ان معاشروں کے شہری ہیں تو برائے مہربانی، انہی معاشروں کے شہری بھی بن کر رہیں۔ آپ کے سوشل میڈیائی سینس جو بھی ہوں، وطن اپنی بساط کے مطابق بہتر کر رہا ہے، گو کہ خوشی اور ناخوشی اپنی اپنی مرضی کی ہی ہوتی ہے۔
ان شارٹ: مافی دیو تے جتھے ہیغے او، اوتھے ای رہؤ۔
تو وہ اسلامی بھائی چارہ ، امت مسلمہ ، محسن نقوی کی آنی جانی۔۔۔ اسلام کا مشترکہ دشمن وغیرہ وغیرہ اس کا کیا بنے گا۔
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
Replying to @kashifch
کدی تاں ساتھوں شبد رنگاوے
کدی تاں ساتھوں گیت اُناوے
سانوں لکھ سِکھا گیا چج
وے تیرا بِرہڑا
بجا فرمایا میری سرکار۔۔۔
بالکل بجا۔۔۔
محترم ! آپ خود استاد ہیں۔
روز ازل سے لکھا گیا سارا بڑا ادب کھنگال لیں۔
کسی بھی تہذیب کی عشقیہ لوک داستانوں کو پڑھ لیں۔
عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سارا سفر دیکھ لیں۔
ولیوں سے لے کر پیغمبروں کی سیرت اٹھا لیں۔
ہر بڑی داستان ہر بڑے عشق کا ابدی کائناتی وسعت رکھنے والا ایک ہی آفاقی معیار ہے ایک ہی کسوڑی ہے۔ وفا کا ایک اصول ہے۔
کہ ہجر کیسے کاٹا ۔۔۔۔جس کا ہجر جتنا بڑا تھا وہ اتنا ہی بڑا عاشق تھا۔ اسکا عشق اتنا ہی آفاقی وسعت والا تھا۔
جس کی تنہائی پر معنی ہے اسے خلوت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جس کا ہجر کمال ہے وہ وصل سے بے نیاز ہوتا ہے۔
سدھارتھ ۔۔۔ فاقہ کاٹتا ہے تو گوتم بدھا بنتا ہے۔
کہیں لکھا پڑھا سنا ہو ۔۔۔ وہ عشق اس لئے لازوال تھا کہ وصل بہت لا جواب تھا۔
نہیں ملے گا۔ مل ہی نہیں سکتا۔
وہ جو رب سے عشق رکھتے ہیں یہ زندگی یہ دنیا انکا ہجر ہی تو ہے۔ رب سے وصل کا ہجر۔۔۔ سو یہی معیار ٹھہرا۔
یہی سوال ہوگا۔۔۔ بتاو ہجر کیسے کاٹا۔ !
🙏
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
میں نے سوچا کہ اسی بلاگ کو یہاں دوبارہ کچھ اضافی تفصیلات کو مختصر کرتے ہوئے تھریڈ میں لکھوں اور اپنی طرف سے ایک تائید کر سکوں ۔
آدم اورحواء کی کھوئی ہوئی جنت!!
زندگی کے ان بھاگتے قدموں کو اک لمحے کے لئے روک کر دل چاہا آج خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ جاؤں اور واپس وہیں سے شروعات
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
یا آدم و حوا کا تعلق اور اس کو بیان کرنے کے لئے سچ کہوں تو میرے پاس کوئی دلائل نہیں جن سے میں کسی کو قائل کر سکوں ۔۔۔ نہ ہی کوئی فلسفہ مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ اماں نے ہمیشہ بابا کے کام خود کیے اور بابا نے آج تک کسی اور کے ہاتھ کی پکی روٹی نہ کھائی اور صحن میں لگے موتیے اور گلاب کو
آپ کے سامنے ایک دودھ کا گلاس ہے اور ایک شراب کا۔ یہ کہہ دیا گیا دودھ بہتر ہے شراب نقصان دہ۔ پھر آپ کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا جو چاہئے اٹھا لیں۔ جو اٹھائیں گے اسی کے مطابق حساب لیں گے۔ جس کا جو دل کیا اس نے اٹھا لیا۔
ایک سیدھا سا حکم ہے۔ لیکن آپ دودھ پینے اور شراب نہ پینے کی منطقی دلیل ڈھونڈنے نکل کھڑے ہوئے۔ پھر دوسری طرف سے دلائل بھی آئے کہ شراب اتنی بھی عیب والی نہیں ہے۔ ہاتھ روک کر پی لیں کوئی حرج نہیں۔
یہ سن کر کچھ کے دل میں کچھ آیا یہ ٹھیک ہے اور کچھ کہ شاید وہ بھی ٹھیک۔ کچھ نے سوچا معافی مانگ لیں گے۔
اور رولا شروع ہو گیا۔
کبھی یہ کیوں سوال نہیں پوچھا کہ اس مرتبہ ۴۰ روزے رکھ لیتے ہیں یا فرض نماز کی چار چھ اضافی رکعتیں پڑھ لیتے ہیں کوئی گناہ کی چیز تو نہیں۔
لیکن حکم ہے جو حد ہے اس کے اندر رہنا ہے۔ ہاں دو رکعتوں میں پورا قرآن پڑھ لیں آپ کی ہمت۔ پانی سے روزہ رکھ لیں آپ کا مجاہدہ۔
کچھ یہی حال شادیوں کا ہے۔ ایک بھی حلال چار بھی حلال۔ جب ایک کی دلیل نہیں پوچھی تو چار کی دلیلیں ڈھونڈنے نہ نکل پڑیں۔ ہمت استعداد ہے کر لیں نہیں ہے تو نہ کریں۔آپ کو ایک کا بھی حساب دینا ہے چار کا بھی۔
باقی رہا یہ سوال مرد کو اجازت ہے عورت کو کیوں نہیں۔ تو عورت چاہئے ۲۰ کر لے طلاق لیتی جائے کسی اور سے کر لے ۔ پابندی تو اس پر فقط یہی ہے کہ ایک وقت میں فقط ایک اور اسکی سائنسی منطقی سب دلیلیں موجود ہیں۔
اصل رولا انا کا ہے۔ عورت کو لگتا ہے کہ دوسری کی موجودگی سے اسکی انا کو ٹھیس پہنچی یا اسے رد کر دیا گیا ۔ اب مرد واجب قتل ہے۔ یہی حال مرد کا بھی ہے کہ عورت نے مجھ سے طلاق کیوں طلب کی اب غیرت کا تقاضہ یہ اب واجب قتل ہے۔
اصل رولا انا کا ہے۔
ویسے کم اوکھا ای اے
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
جہاں آج ہوں وہاں نہ ہوتی اور اگر
میرا شریک سفر میرا ساتھ نہ دیتا تو شاید میں کھبی اتنی پر اعتماد نہ ہوتی اگر ایک کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے تو میں برملا کہوں گی کہ عورت کا وقار ، عزت اور اعتماد اسکے مرد کیوجہ سے ہے ۔
عورت وفا اور محبت ہے اگر مرد اسکو طاق پر رکھ کر
مرد ہو یا عورت اگر کردار سوچ معاشی معاملات میں خود مختاری کی مضبوطی محض دکھاوے کے لئے ہے یا کسی کو متاثر کرنے کے لئے ہے یا کسی مجبوری کے تحت ہے تو بہت جلد یہی شے کمزوری بن جاتی ہے۔
عورت اگر مضبوط ہے اور اسے ہی لگتا ہے اس کی مضبوطی اس کی خواہشات اور ضروریات کے راہ میں دیوار بھی ہے تو کہیں تو غلطی ہے۔
سر کسی طرح انکے نانا دادا کا تعلق پاکستان سے ثابت نہیں کیا جا سکتا؟
اگر یہ ممکن ہو تو سوشل میڈیا کی خوشیاں دو بالا ہو جائیں گے کچھ وی لاگز بن جائیں گے چار پیسے بن جائیں گے۔
مشی گن سے منتخب ہونے والے پہلے مسلم سینیٹر عبدالرحمان السید امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انکے والدین کا تعلق مصر سے ہے۔
جب کہ انکی اھلیہ ڈاکٹر سارا جاکاکو کا تعلق انڈیا سے ہے۔ سارہ کا خاندان کرناٹکا کے شہر بھٹکل سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے والد، ڈاکٹر جکاکو طیب، بھٹکل میں پیدا ہوئے، اور ان کے دادا، جکاکو شمس الدین، ریاستِ میسور میں نائب وزیرِ خزانہ کے عہدے پر فائز رہے۔
ایک بات بتاؤں۔۔۔
زندگی میں اگر کبھی آپ کو حقیقی طور پر لاہور کا جیتا جاگتا بازارِ حسن یعنی ہیرا منڈی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو۔ ان کا رہن سہن، بناؤ سنگھار، کاروبار کا طریقہ کار دور سے ہی سہی لیکن قدرے واقفیت رہی ہو۔ تو یقین مانیں جن فیملی ٹک ٹاکرز اور انسٹا ریلیوں کی غیر اخلاقی پر آپ اچھل رہے ہوتے آپ کو بالکل بھی حیرت نہ ہوتی۔
زمانے کے ساتھ جگہ تبدیل ہوئی ہے کردار نہیں۔ انداز بدلے ہیں سوچ نہیں۔ شخصی آزادی اس وقت بھی تھی آج بھی ہے۔ وہ بھی اپنی مرضی کرتے تھے یہ بھی کرتے ہیں۔
جو کبھی ہم جیسے وہاں جاتے ڈرتے تھے کہ کسی نے دیکھ لیا تو وہیں جوتی اتار لے گا وہ ڈر آج کی نسل کے لئے ختم ہو چکا۔ لہذا جہاں انکی ۵۰۰-۱۰۰۰ کی کمائی ہوتی تھی اب وہ لاکھوں میں ہے کہ گاہکی جو بڑھ گئی ہے۔
اتنا سا فلسفہ ہے اتنی سے داستان ہے۔
ہم بنیادی طور پر تماشبین قوم ہیں۔ ہمیں تماشہ لگانا، تماشہ دیکھنا بہت پسند ہے۔
سڑک پر کچھ ہو جائے سارے جہاں کا کام چھوڑ کر تماشہ دیکھیں گے۔
یہاں کچھ ہو جائے تو ساری خلقت اس کے محرکات و وجوہات ڈھونڈنے لگ جاتی ہے۔
گرگٹ اتنے جلدی رنگ نہیں بدلتا جتنی جلدی ہم مفتی سے ملحد، ملحد سے ڈاکٹر، ڈاکٹر سے دائی اور دائی سے حکیم اور حکیم سے وکیل ، وکیل سے پروفیسر، پروفیسر سے ماہر نفسیات، ماہر نفسیات سے ماہر معاشیات، ماہر معاشیات سے ماہر جنسیات، ماہر جنسیات سے کچھ بھی بن جاتے ہیں۔
ہم کمال قوم ہیں۔
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
If u like to read fiction and u have not read, the girl with the dragon tattoo trilogy.....u are missing big time. Watch movie laterz.
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
You never realize how permanent death is until somebody you love dies.
Excerpt From
Hollywood, Ending
John Green
Kashif Chaudhary 🇵🇰 retweeted
تمام انسانوں کی ذہنی سطح برابر نہیں ہوا کرتی، اس وجہ سے جب کوئی غلطی کرے تو اسے مارجن دے دیں....
اس سے بھی بڑھ کر۔۔۔۔ اپنی غلطی پر خود کا احتساب ضرور کیجئیے مگر خود کو بھی مارجن دیجئیے۔۔
🖊عکس🌹
#عکس_جابجا 🌷
#شہر_وفا 🌷
📸 Today's Photo Challenge
Nature's Patterns
No two patterns are quite the same🌿
Let's see yours 📸
#DailyPhotoChallenge
📸 Today's Photo Challenge
Nature's Patterns
No two patterns are quite the same🌿
Let's see yours 📸
#DailyPhotoChallenge























