Pinned Tweet
پنجاب کا کاروبار کس کے ہاتھ میں جا رہا ہے ذرا سوچئیے !!!
اگر مزید ایک دو سال پنجابیوں نے اپنا کاروبار نہ سنبھالا تو صرف ایک ہی بات کرنے کو رہ جائےگی۔۔۔
یہاں کوئی حالات نہیں، باہر چلو۔۔۔
مریم نواز کا کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ، جس سے عوام کو روزگار ملا ہو، مہنگائی کم ہوئی ہو، ایکسپورٹ بڑھی ہو۔ کسی کے علم میں ہو تو مجھے بھی مستفید فرمائیں۔ آجکل نیوز سے آوٹ ہوں۔
اور ناظرین اس وقت ریاست پاکستان میں مریم نواز شریف ہی وہ واحد وزیراعلی ہیں جو روزانہ بنیاد پر مختلف شہروں تحصیلوں قصبوں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیل عوام تک پہنچا رہی ہیں اور صادق آباد سے اٹک تک ہوئی کارکردگی عوام کے سامنے رکھ رہی ہیں اور یہی وہ بنیادی فرق ہے جو آپ کو کسی اور صوبہ میں دکھائی نہیں دے گا اور اسی بنیاد پر آزاد کشمیر کی عوام نے نوازلیگ کو ووٹ دیا اور اسی وجہ سے وسیم اختر اور شاہزیب خانزادہ نے پنجاب کو خوش نصیب صوبہ قرار دیا کیونکہ مریم نواز اس صوبہ میں حقیقی تبدیلی لائی ہیں اور آج پنجاب کا لاء اینڈ آرڈر دیگر صوبوں سے بہت بہتر ہو گیا ہے کیونکہ اب پنجاب کی پولیس کسی سیاسی اثرو رسوخ کو تسلیم کئے بغیر میرٹ پر کام کررہی ہے اور اسی وجہ سے آپکو گجرات کے ایک صاحب نالاں دکھائی دیتے ہیں
مریم نواز تینوں رب دیاں رکھاں
پِچھے میرے میرا سایا
اگّے میرے میرا نھیرا
کِتے جائے نہ باہیں چھڈ
وے تیرا بِرہڑا
نہ اِس وِچ کِسے تن دی مٹی
نہ اِس وِچ کِسے من دا کُوڑا
اساں چاڑھ چھٹایا چھج
وے تیرا بِرہڑا
عکس retweeted
Replying to @farmingabsurd
بار بار دیکھا اور پڑھا ورنہ افسانوں سے مجھے چڑ 🫣پر آیسے افسانے امر ہیں کوئی نہیں لکھ سکتا ❣️
عکس retweeted
محترم ! آپ خود استاد ہیں۔
روز ازل سے لکھا گیا سارا بڑا ادب کھنگال لیں۔
کسی بھی تہذیب کی عشقیہ لوک داستانوں کو پڑھ لیں۔
عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سارا سفر دیکھ لیں۔
ولیوں سے لے کر پیغمبروں کی سیرت اٹھا لیں۔
ہر بڑی داستان ہر بڑے عشق کا ابدی کائناتی وسعت رکھنے والا ایک ہی آفاقی معیار ہے ایک ہی کسوڑی ہے۔ وفا کا ایک اصول ہے۔
کہ ہجر کیسے کاٹا ۔۔۔۔جس کا ہجر جتنا بڑا تھا وہ اتنا ہی بڑا عاشق تھا۔ اسکا عشق اتنا ہی آفاقی وسعت والا تھا۔
جس کی تنہائی پر معنی ہے اسے خلوت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جس کا ہجر کمال ہے وہ وصل سے بے نیاز ہوتا ہے۔
سدھارتھ ۔۔۔ فاقہ کاٹتا ہے تو گوتم بدھا بنتا ہے۔
کہیں لکھا پڑھا سنا ہو ۔۔۔ وہ عشق اس لئے لازوال تھا کہ وصل بہت لا جواب تھا۔
نہیں ملے گا۔ مل ہی نہیں سکتا۔
وہ جو رب سے عشق رکھتے ہیں یہ زندگی یہ دنیا انکا ہجر ہی تو ہے۔ رب سے وصل کا ہجر۔۔۔ سو یہی معیار ٹھہرا۔
یہی سوال ہوگا۔۔۔ بتاو ہجر کیسے کاٹا۔ !
🙏
یاد ہے، ایک دن جب میں نے تمہیں کہا ’’ہر روز ہمارے یہاں آیا کرو‘‘ تو جواب ملا تھا۔’’یہ کیونکر ہو سکتا ہے‘‘! پھر میں نے کہا تھا۔’’اچھا، ایک دن چھوڑ کر سہی‘‘ تو تم نے اس پر بھی مجبوری ظاہر کی۔ پھر میں نے کہا ’’وعدہ کرو کہ… لیکن تم نے بات کاٹ کر کہاتھا کہ میں وعدہ کیسےکروں‘‘۔ اس پر
نہ کہو۔ مجھے موت سے ڈر لگتا ہے۔ میں زندگی کی عزت کرتی ہوں۔ مجھے زمانہ کے بڑے سے بڑے مصائب موت کے سامنے ہیچ معلوم ہوتے ہیں۔ موت یقینی سہی۔ لیکن اس کی آمد سے پہلے اس کا نام میرے دل پر ہول طاری کر دیتا ہے۔ نہ ! نہ! مجھے ڈرائو نہیں‘‘۔ پر میں تو اس کے متعلق ہی سوچتا رہا اور اس
میں نے اتنا بھی تو کہہ دیا تھا کہ بہتر ہو اگر تم اس دنیا میں ہی نہ رہو تاکہ میں آزادی سے تمہاری قبر پر آ سکا کروں اور وہاں تم سے وہ ساری باتیں کہہ سکوں جو اَب تک تم سے نہ کہہ سکا۔ تمہارے پہلو میں اتنی دیر بیٹھ سکوں جس کی تمنا ہر لمحہ جوان ہوتی جا رہی ہے…لیکن تم نے کہا تھا۔’’ایسے
میری سالگرہ کی آخری تقریب جسے میں نے اپنی بساط سے بڑھ کر بڑی دھوم دھام سے منایا تھا کس قدر سوگوار تھی جب تم نےمجھےکوئی تحفہ نہ دیا۔ گو میں جانتا تھا تم نہ آسکو گی، تم مجبور ہو، مگر میرا دل چاہتا تھاکہ تم ایک بار آ جاتیں، صرف ایک بار اور پھر پلک جھپکنےمیں لوٹ جاتیں۔ لیکن مجبوریاں
نہ اُلٹ جاتا جہاں ریشم کے زرد تاگوں سے ایک ننھا سا نرگس کا پھول کڑھا ہوا تھا جس کے نیچے تمہارے نام کا پہلا حرف بھی کشیدہ کیا ہوا تھا۔ وہ پھول تو شاید اس قدر خوبصورت نہ ہوتا جس قدر حسین اس کا سہارا تھا مجھے سالگرہ کا اس سے بہتر کوئی تحفہ نہ ملا تھا اور نہ آئندہ توقع تھی۔ اس لیے وہ
سردیوں کی پیداوار، نرگس کے پھولوں سے کتنا پیار تھا۔ ایک دن جب تم آپی کے کمرے میں گلدانوں میں پڑے ہوئے نرگس کے پھولوں کو نئی ترتیب دے رہی تھیں تو تم نے پتہ نہیں ہر پھول کو کتنی مرتبہ چوما تھا اور جب میں دہلیز پر آکر کھڑا ہو گیا تو تم نے اپنا سویٹر نیچے کھینچ کر کتنی حسرت سے کہاتھا
تمہارے غم کو اپنا غم بنا لوں تو قرار آئے
تمہارا درد سینے میں چھپا لوں تو قرار آئے
وہ ہر شے جو تمہیں دکھ دے مجھے میرے صنم دے دو
ان آنکھوں میں نہ اب مجھ کو کبھی آنسو نظر آئیں
سدا ہنستی رہیں آنکھیں، سدا یہ ہونٹ مسکائیں
مجھے اپنی سبھی آہیں، سبھی درد و الم دے دو
عظیم محبت کے شجر پر ہمیشہ رنگ برنگ پھول نہیں کھلتے ہیں۔۔۔ پت جھڑ ان پر بھی آتی ہے۔۔۔ روزینہ نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔ میں نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔۔۔ اور قدرے پرسکون ہو گیا۔۔۔ اتنی گہرائی ہے تمہارے خیالات میں۔۔
تحریر سید صداقت حسین
youtu.be/4Fi-NxYzqWY?si=b9U0…






