یہ ڈی ایچ ایل کا کیا حساب ھے ؟
کسی نے چین سے ایک مشین بھجی ھے کہ اس کی ایپ پر ھمارا ڈیویلپر کام کر رھا ھے انہوں نے ڈور ٹو ڈور کے پیسے دئیے ڈی ایچ ایل کو مشین پاکستان آ گئی ڈیوٹی اور ٹیکسز پے کر دئیے اب ڈیوٹی اور ٹیکسز سے ذیادہ ڈی ایچ ایل والے مانگ رھے کہ یہ ھماری فیس بنتی ھے ؟
مسئلہ یہ ھے کہ وھاں سے بھیجنے والے نے کیا دیا تھا پھر ؟
ایک بات صاف بتا دوں اس عمل میں اسٹیبلشمنٹ بالکل شامل نہیں ھے
موجودہ نظام کو ڈس کریڈٹ کرنے والی جو پاورز ہیں، وہ موجودہ نظام کو ڈس کریڈٹ کرکے فوری طور پر پنجاب میں حکومت تبدیل کرنے کی خواہش نہیں رکھتیں بلکہ وہ آئندہ 2029 کے لیے اپنی صف بندی کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں جائز طریقے سے کوشش کرنا ہر کسی کا حق ہے، لیکن ناجائز طریقے سے عہدہ یا مقام حاصل کرنا چاہے تو ایسی سازش اور چور دروازے کا راستہ رکنا چاہیے۔خواہشات اور کوششیں اپنی جگہ، لیکن ان کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس کا فیصلہ آنے والا وقت اور زمینی حالات کریں گے۔
اس ایک عمل سے پاکستان کو جو سٹریٹیجک ڈیپتھ ملی ھے اس سے پاکستان کے بڑے بڑے مخالفین کے پچھواڑے میں آگ لگی ھوئی ھے تو چھوٹے چمونوں کا تو جلنا بنتا ھی ھے
پاکستان اس وقت جنگی جہاز ایکسپورٹ کرنے والا ملک ھے
تین ملکی اتحاد کے تحت پاکستان کی آرمی، پاکستان کی ائیر فورس، پاکستان کی آرٹلری، میزائل ڈیفینس فورس اور میزائل لانچنگ فورس سعودیہ میں قائم سہہ فریقی دفاعی اڈوں پر طعینات ھے۔
اور کچھ بے عقل لوگ پوچھ رھے کہ شہباز شریف نے کیا کیا ھے؟
یہ بات اسٹیبلشمنٹ کا ھر فرد جانتا ھے جیسے شہباز شریف نے اپنی اور اپنے بھائی بلکہ پوری جماعت کی سیاست داو پر لگا کر اس ملک کی حفاظت کی ھے ویسے کوئی اور نہیں کر سکتا تھا اور اس بات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے۔
اب اس پر پی ٹی آئی اور پی پی پی سایے روئیں یا دھاڑیں ماریں فرق نہیں
جب کوئی گ پرائم منسٹر ھاوس سے ڈائری اٹھا کر بھاگا تھا تب اس نے باھر جاتے ھیں اس نے تقریر کر کے بتایا تھا کہ ملک تو دیوالیہ ھونے جا رھا ھے اور شہباز شریف نے بہت بڑی غلطی کر لی ھے اس وقت حکومت میں آ کر ملک سنبھالنے کی۔
اگر اس کے فالور اب بھول گئے ھیں وہ دن تو ان کی پیدائش پر لعنت
نئے صوبے، نئے صوبے، نئے صوبے روز کرتے ھیں
اس کا مقصد صرف ایک ھی ھوتا ھے کہ نوازشریف کے خاندان کو سیاست میں محدود کرنا
یہاں تک بات ٹھیک ھے کہ سیاست کاندانی نہیں ھونی چاھیے لیکن ھمارے ملک میں کسی اور نے کام ھی کیا کیا ھے جو کہا جائے کہ واحد کام کرنے والے خاندان کو بھی ھٹا دو ؟
مروڑ اٹھتے نہیں ھیں اٹھوائے جاتے ھیں۔
مسئلہ یہ ھے کہ جب کام کرنے والے کام کرتے ھیں تو عوام ان کے ساتھ جڑتی جاتی ھے یہی نوازشریف نے کیا تھا یہی مریم نواز کر رھی ھیں۔ اور جب عوام کسی کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے جڑتی ھے تو وہ جوڑ پکا والا ھوتا ھے اس سے سب ڈرتے ھیں کہ اب تو ھماری سیاست ھی ختم ھو جانی ھے۔
پھر وہ لوگ حیلے بہانے کر کے ایسی باتیں کرتے ھیں کہ ان کو کہیں نہ کہیں میدان میں لایا جا سکے باتوں سے لڑائیاں ھوتی ھیں اور پھر دوستی یاری رشتے داری وغیرہ وغیرہ آگے لا کر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا جا سکتا ھے۔
جناب مجھے معلوم ھے اس وقت آپ اس کاروائی کے پیچھے نہیں ھیں لیکن آپ ان لوگوں کو چپ بھی نہیں کرا سکتے جو یہ کاروائی کرنا چاھتے ھیں؛ انہیں چپ نہیں کرائیں گے تو حالات پھر وھیں چلے جائیں گے جہاں سے ملک نکلا تھا۔
کب تک یہ سرکل چلانا ھے ؟
جانتے ھیں ایک صوبے میں بہترین کام ھوا ھے اسے چلنے دیں








