
کوئی بھی مسل دےگا Founder @Chuntiyaa_PK
Lahore, Pakistan
Joined May 2023
- Tweets19.2K
- Following281
- Followers22.6K
- Likes17.6K
Pinned Tweet
A thread on:
“Talk, Not War”: Non PTI politicians & military Pushed for Taliban Dialogue since 2007 but Imran Khan is a terrorist.
2007 Agenda of Talks with Taliban to be discussed (interior minister Aftab Sherpao was part of it). 2008 When Pakistan calls truce with Taliban after SECRET talks
Azba Abdullah retweeted
“چلو نہیں کہتی میں “میرا جسم میری مرضی”:
کیپٹن صفدر نے "میرا جسم میری مرضی " کا اپنا سا ترجمہ کرکے جس گٹر سوچ کا مظاہرہ کیا اس پر ایک اس بچی کا کیپٹن صفدر کو جواب جس نے اپنے جسم کا اختیار اس معاشرے کو دیدیا --
چلو نہیں کہتی میں "
میرا جسم میرے اختیار کی مرضی"-
کہ دیتی ہوں میرا جسم زمیندار کی مرضی
سردار کی مرضی ' جاگیردار کی مرضی
بیوپار کی مرضی ' کاروکار کی مرضی
دور قریب کے ہر رشتے دارکی مرضی
کبھی نہ لکھی گیی ایف ای آر کی مرضی
راشی تھانیدار کی مرضی‘ مرعوب حوالدار کی مرضی
میرے باہر کھیلنے میں اس درندگی کا جو جواز ڈھونڈے
اس سماج کی مرضی ' سماج کے ہر ٹھیکیدار کی مرضی
شرم و حیا جو بس مرے ہی لفظوں میں پھرولے
اس پرچار کی مرضی ' ایسے استفسار کی مرضی
ماسٹرصاحب کی مرضی' پیر سرکار کی مرضی
نصیحت بیکار کی مرضی' بہروپیے فنکار کی مرضی
حکومت کے سا ہوکار کی مرضی ' نا اہل اہلکار کی مرضی
میری میت پر بھی جو رشوت مانگے اس گندے کاروبار کی مرضی
نہ زینب ' فرشتہ ' دعا کی مرضی' نہ قندیل اور مائی مختار کی مرضی
نہ میرے کسی اقرار کی مرضی ' نہ اس کے کسی انکار کی مرضی
سب تیری مرضی 'تیرے سماج تیرے ہی افکار کی مرضی
ظلم کے منجھدار کی مرضی ' اس روح مردار کی مرضی
چلو! نہیں کہتی میں کہ ”میرا جسم میرے اختیار کی مرضی"
بربریت کے انگار کی مرضی' بےحسی کے انبار کی مرضی
چلو کچھ نہیں کہتی ہوں میں- ----
بس اب چپ ہی رہتی ہوں میں --!
#Dedicated_to_all_the_Victims_of_Rape_HonorKilling_and_Karokari
#قلم_کی_جسارت_وقاص_نواز
Azba Abdullah retweeted
محترمہ مریم نواز صاحب
معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے
خواتین کے بارے میں جو نادر خیالات آپ کے شوہر نامدار کے ہیں اس طرح کے خیالات کا اظہار آپ کے والد گرامی بھی 80 اور 90 کی دہائی میں کثرت سے کرتے رہے ہیں، یہ جنگ آج کی نہیں 50 سال پرانی ہے
انڈین بچے فزیکل ایکٹوٹی اسکولز تک میں کرتے ہیں اور اس کے اثرات آپکو اپنے حقوق کیلئے کھڑے ہونے کی صورت میں نظر آتے ہیں یہاں یہ کہہ رہے ہیں ہم نے پلے گروپ کے بچوں کو ٹیب دیکر پڑھانا ہے تاکہ وہ سکول میں بھی بس اسکرین ٹایم پر ہی رہے اور گھر جاکر والدین کو ڈنڈا دے کہ ٹیب لیکر دو ۔ یہ ہوتی ہے ماں جیسی ریاست
معمول بنالے تو چھوڑ دیں کسی اور سے شادی کرلیں۔ اسلام نے منع تو نہیں کیا آپکو کسی کو چھوڑنے سے؟ معمول تبھی بنےگا جب اُسکی مرضی نہیں ہوگی۔ جمیلہ بنت سلول نبی(ص) کے پاس آئیں اور کہا کہ مجھے اپنے شوہر کےکرداریااور کسی بات سے مسئلہ نہیں میں بس اْسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی(مجھے وہ شکل نہیں پسند) یا اس میں وہ اٹریکشن نہیں رہی تو نبی نے انکو اجازت دی کہ وہ اسکو چھوڑدیں۔اب اگر انسانی نسل بڑھانے کا سوچا جاتا تو وہ زیادہ اس بات کو سوچتے۔ لیکن انسانی نسل بڑھنے کی فکرہماری نہیں نہ خاندانی نظام(جوکہ ہمارےہاں رائج ہی غلط ہے) ہمارا مسئلہ ہے قرآن نےبھی کہیں ایموشنل اور مینٹل ہیلتھ کو نگلیکٹ نہیں کیا پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس نعرے کو یہاں جوڑرہےہیں؟ دوسری بات کہ بچہ چونکہ عورت نے اپنے جسم سے پیداکرنا ہے تکلیف اٹھانی ہے لہذا اسکی مرضی کے بغیر پیدا کیسے ہوگا؟ باقی آپ نےجو اسقاط حمل کی بات کی وہ وہاں اسلئے تھا کہ شادیوں کےبغیر بچے پیدا کرکے جو ذمہ داری نہیں لیتے اس وجہ سے اسقاط حمل کی اجازت پر تحریک چلی۔ لیکن اسکا باقی اوپر کہی چیزوں سےکوئی تعلق نہیں۔باقی یہ کہ
پمزاسپتال کی آگ میں جل کرمرنےوالےبچوں میں سےایک کی لاش بہت دن پڑی رہی تھی پھر بس دفنا دی گئی اور وہ بچہ بہت عرصے سے نرسری میں لاوارث پڑا تھا کوئی پیدا کرکے چھوڑگیا تھا۔ میرا سوال ہے کیا اُس بچے کو پیدا ہونا چاہیے تھا؟
ہم نے کبھی یہ نہیں کہا میرا جسم اور کسی اور کی مرضی مسلہ نعرہ نہیں ہے ہر نعرہ اپنے پیچھے ایک ایجنڈا رکھتا ہے
آپ نے جو حوالہ دیا وہ نعرہ ہے
My body my property
مگر یہاں بات جس نعرے کی ہو رہی ہے وہ نعرہ ہے
My body my choice
اس نعرے کی ابتدا 1969 میں امریکہ سے ہوئ میسا چوسٹس میں ایک احتجاجی مظاہرہ تھا استقاط حمل کے حق کے لیے خواتین کا مطالبہ تھا انہیں حمل گرانے کا قانونی حق دیا جائے اس وقت پہلی دفعہ جو نعرہ لگا وہ It’s my body it should be my decision تھا اسی دہائ میں امریکہ میں استقاط حمل کی تحریک زور پکڑ رہی تھی 1978 میں وسکونسن میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران یہ نعرہ بدل کر my body my choice ہوگیا اور اس کے بعد آج تک یہی ہے اس نعرے کے پیچھے بنیادی ایجنڈے تھے
1- اسقاط حمل کا حق
2- اسقاط حمل کے ذرائع تک رسائ
3- میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات بیوی کی مرضی سے
4- بچے پیدا کرنے کا حق عورت کو ہو
ہمیں اس بیناد سے اعتراض ہے ہم کسی اور کے جسم پر اپنی مرضی تسلیم نہیں کروانا چاہتے ہیں
مسلہ یہ ہے اگر یہ ساری چیزیں مان لی جائیں تو گراؤنڈ ریلٹی یہی ہے خاندان کا ادرہ قائم نہیں رہ سکتا خاندان کا ادرہ ہمارے مذہب میں غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے اور نسل انسانی کی بقا کا ضامن ہے اگر اس کو ختم کر دیا جائے تو نسل انسانی ختم ہو جائے گی آپ ان تمام بتاؤ کہ تصدیق کہیں سے بھی کر سکتی ہے
نوٹ : ان پوائنٹس میں سے میں بذات خود سمجھتا ہوں 3 نمبر کسی حد تک درست ہے مگر یہ ایک میاں اور بیوی کا ذاتی مسلہ ہے اگر بیوی کی کسی دن رضا مندی نہیں ہے تو زبردستی کرنا بالکل درست عمل نہیں ہے مگر اگر بیوی یہ معمول بنا لے تو شادی کیسے چلے
جنسی خواہش انسان کی فطرت میں رکھی گی ہے اگر بیوی معمول بنا لے گی تو مرد باہر منہ مارے گا یا دوسری شادی کرے گا پھر ہمارے لبرل دوست کہیں گے یہ عورت پر جبر ہے
باقی آپ بے فکر رہیں ہم کسی اور کے جسم پر کسی کی زبردستی چلنے کے حق میں نہیں ہیں
Azba Abdullah retweeted
میرا جسم میری مرضی
ایک تو وہ فیمنزم ہے مغرب والی ، خواتین اپنی نسوانی خوبصورتی کو کٹوا کر مرد بن رہی ہیں۔ زبان اور ناف میں اور پتہ نہیں کہاں کہاں سٹیل کی مرکیاں پھیر رکھی ہیں۔ ایل جی بی ٹی کیو پلس مائنس وغیرہ وغیرہ والا فیمنزم۔ موٹے سول والے کالے کالے اونچے اونچے جوتے ، سکاٹش سکرٹ ، پرپل رنگ کے بال بوائے کٹ اور جسم ٹیٹوز سے بھرا ہوا فیمنزم ۔ پھر اسکی اتنی جہتیں اور اتنی تفصیلات کہ انسان سمجھ نا پائے۔ یہ سب آپ کے معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اِس معاشرے کے لیے یہ کیسا ہے یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔
اب ایک ہے آپ کا معاشرہ ، جہاں پیدائش سے پہلے ہی تعصب شروع ہوجاتا ہے۔ الٹرا ساونڈ رپورٹ ہی چہرے چڑھا یا لٹکا دیتی ہے۔ ( آپ کے بابا نے کیا کیا یہ معاشرے کی عکاسی نہیں )۔ پھر پیدائش پر بیٹی کے لیےتسلیاں اور بیٹے کے لیے اور۔ پھر بیٹی کے لیے صرف تعلیم بیٹے کے لیے بہترین تعلیم۔ بیٹی کے لیے درس نظامی بیٹے کے لیے یونیورسٹی ۔ بیٹا چھبیس ستائیس کا بھی والدین پر بوجھ اور بیٹی پیدا ہوتے ہیں پرایا دھن اٹھارہ کی ہوتے ہی کسی کے کھاتے فٹ۔ اور درمیان میں پوری کوشش کرنی ہے کہ وراثت میں بھی حصہ نہ ملے۔
یہ معاشرے کی منفی تصویر ہے؟ ارے میاں یہ تو کچھ بھی نہیں۔ پانچ چھ سال کی بچی کو خطرہ ہے۔ دس گیارہ سال کی ہر لڑکی کو نامناسب دست درازیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چودہ پندرہ کی اپنے جسم میں پیوست نگاہوں کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ اسے ایک ایک آنکھ کی میل دکھائی دیتی ہے بس بولتی نہیں۔ اسکے رکشے کے ڈرائیور سے لیکر دفتر کے چپڑاسی تک ، اپنے کولیگ اور باس سے لیکر اپنے رشتہ داروں تک اس ایک ایک نظر دکھائی دیتی ہے۔ ارے میاں ابھی بھی بہت کم بتایا ہے۔ ماموں نے زیادتی کردی ، چچا نے زیادتی کردی ، تھانے شکایت کرنے گئی تھانیدار نے زیادتی کردی۔ پاس سے گزر گئی تو کہا میری دوست ہے۔ مسکرا کر گزر گئی تو کہا دیتی ہے۔ انگور کٹھے ہوئے تو کہا گشتی ہے۔ گستاخی معاف ، اس میں کہیں کچھ غلط ہو تو ٹوک دیجیے۔
ڈومیسٹک وائلنس الگ ، میریٹل ریپ الگ ، جی ہاں نکاح کے باوجود زبردستی جنسی تعلق زیادتی ہی کہلائے گا۔ پہلے تعلیم نہیں دی ، پھر جائیدار نہیں دی ، پھر اعتماد نہیں دیا ، جب ہر طرف سے دبا دی تو پھر کہا تم مجھے چھوڑو گی تو کس کے ٹکڑوں پر پلو گی یعنی مجبورکرکے باندھ لی۔ چخ چخ پخ پخ الگ اور دھمکیاں الگ ۔
زیادہ ہوگیا ؟ ہاں ، ہماری بیٹیاں برابر بھی ہیں ، پر اعتماد بھی ہیں ، بہت بڑی تعداد کی زندگیاں متوازن ہیں۔ وہ خوش ہیں۔ لیکن یہاں نشاندہی مسائل کی ہے۔ یہ مسائل ہیں اور انکی شرح خطرناک ہے۔ یہاں میرا جسم میری مرضی یہاں فیمنزم کا مطلب اعضاء کٹوا کر چمڑہ لٹکوا لینا نہیں ہے۔ یہاں فیمنزم کا مطلب برابری اور حقوق ہیں۔ یہاں میرا جسم میری مرضی کا مطلب میرے جسم کی بھوکے درندوں سے حفاظت ہے ، لالچ اور بہتان سے حفاظت ہے۔ ہاں کچھ ایسی طبقات فیمنزم کا چہرہ ضرور بن گئے جن کے یہ مسائل نہیں ہیں۔ لیکن آپ ان کی آڑ میں لاکھوں کروڑوں دیگر لوگوں کو اگنور مت کیجیے۔
میری بیٹی کی سوچ میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی وراثت میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی تعلیم میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی شادی میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کا جسم میری بیٹی کی مرضی۔ اعلان ختم۔
Azba Abdullah retweeted
عمران خان کی بہنوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بولتی ہیں، احد خان
Azba Abdullah retweeted
کینسر کسی گناہ کی وجہ سے نہیں ہوتا یہ کسی کو بھی کسی بھی وقت ہوسکتا ہے یہ ایک بیماری ہے
Azba Abdullah retweeted
عاصمہ جہانگیر کے بارے اس جاہل انسان کیپٹن صفدر کے ریمارکس انتہائی قابل مذمت ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اب صرف نام عاصمہ جہانگیر گروپ ہے ورنہ اس گروپ میں کوئی عاصمہ جہانگیر والی بات نہیں ہے اور عابد ساقی صاھب سمیت عاصمہ جہانگیر کے بیشتر نظریاتی ساتھی اس گروپ کو چھوڑ چُکے ہیں
آؤ بحث کریں😁
لیکن شروعات ہوگی آپکا جسم میری مرضی سے اوکے؟
نوٹ: اس میں پھر آپکے جسم کو نوچا جائے کاٹا جائے چھانٹا جائے یا دبوچا جائے آپ نے چپ رہنا ہے اوکے؟
دوسرا نوٹ: میرا جسم میری مرضی کا معرہ پہلی بار مردوں کیلئے استعمال ہواتھا نہ کہ عورتوں کیلئے وہ بھی اُسوقت جب مزارعوں کے حقوق کیلئے صنعتکاروں نے کھیل کھیلنا شروع کیاتھا۔ آپ اچھی طرح اسکو سرچ کرلیں اُسکے بعد اگلی بات کرتے ہیں۔ یہ نعرہ ہی مردوں سے شروع ہوا تھا۔سترہویں اٹھارویں صدی کی بات تھی یہ جبکہ جو حوالہ آپ مغرف کا دے رہے ہیں وہ تو ابھی 1969کی بات ہے۔
شادی کیلئے مان جاتے بھائی صاحب تو نہ بھاگتی😁
اسلام میں اپنی مرضی کی چیزوں کو نہ چنا کریں نہ۔جب نبی(ص) نے اپنی بیٹی سے اجازت لیکر انکی شادی کی پھر آپ کیوں بپھرجاتے ہیں؟ غیرت کے نام پہ قتل کردیتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کچھ۔ اسلام کو مکمل فالو کیا کریں تاکہ ایسی نوبت نہ آئے۔وہ بیٹی بعد میں ایک جیتی جاگتی انسان پہلے ہے۔
جب اک بیٹی گھر سے بھاگ گئی کئی سال بعد باپ سے ملنے ای باپ منہ پھیر کر روتا رہا ۔۔
ایسی بیٹی سے جس نے اسے زمانے میں رسوا کیا جس کی وجہ سے وہ معاشرے کے طعنہ سہتا رہا ۔۔ جب بیٹی سامنے اس کی کیا حالت ہوی ۔۔
کاش ہر بیٹی یہ قدم اٹھانے سے پہلے باپ کے بارے میں سوچ سکے ۔۔ دیکھیے باپ نے اس بیٹی کے ساتھ کیا کیا نہایت جذباتی کر دینے والی ویڈیو
لو جی ایک اور مسوجنسٹ آگئی۔ بہن آج سے تمہارا جسم اور ہماری مرضی اوکے؟
نوٹ:خون کھولے تو سمجھ لینا خود غلط ہو
کیپٹن صفدر کے بیان کو کینسر میں مبتلا خواتین کیخلاف بناکر پیش کیا جارہا ہے لیکن انھوں نے تو ایسا کچھ کہا ہی نہیں۔۔ انکا مدعہ تو میرا جسم مرضی کے نعرے کیخلاف تھا ۔۔ پھر اسے توڑ مروڑ کر خواتین کی بے حرمتی سے جوڑنا ۔۔۔ خواتین کے حقوق سے جوڑنا ۔۔ معاشرے میں خواتین پر ہونے والے ظلم سے جوڑنا ۔۔۔
قابل افسوس اور بیمار ذہنیت کا عکاس ہے ۔۔۔
@MaryamNSharif
@pmln_org @CaptSafdarAwan






















