
کوئی بھی مسل دےگا Founder @Chuntiyaa_PK
Lahore, Pakistan
Joined May 2023
- Tweets19.2K
- Following281
- Followers22.6K
- Likes17.6K
Azba Abdullah retweeted
“چلو نہیں کہتی میں “میرا جسم میری مرضی”:
کیپٹن صفدر نے "میرا جسم میری مرضی " کا اپنا سا ترجمہ کرکے جس گٹر سوچ کا مظاہرہ کیا اس پر ایک اس بچی کا کیپٹن صفدر کو جواب جس نے اپنے جسم کا اختیار اس معاشرے کو دیدیا --
چلو نہیں کہتی میں "
میرا جسم میرے اختیار کی مرضی"-
کہ دیتی ہوں میرا جسم زمیندار کی مرضی
سردار کی مرضی ' جاگیردار کی مرضی
بیوپار کی مرضی ' کاروکار کی مرضی
دور قریب کے ہر رشتے دارکی مرضی
کبھی نہ لکھی گیی ایف ای آر کی مرضی
راشی تھانیدار کی مرضی‘ مرعوب حوالدار کی مرضی
میرے باہر کھیلنے میں اس درندگی کا جو جواز ڈھونڈے
اس سماج کی مرضی ' سماج کے ہر ٹھیکیدار کی مرضی
شرم و حیا جو بس مرے ہی لفظوں میں پھرولے
اس پرچار کی مرضی ' ایسے استفسار کی مرضی
ماسٹرصاحب کی مرضی' پیر سرکار کی مرضی
نصیحت بیکار کی مرضی' بہروپیے فنکار کی مرضی
حکومت کے سا ہوکار کی مرضی ' نا اہل اہلکار کی مرضی
میری میت پر بھی جو رشوت مانگے اس گندے کاروبار کی مرضی
نہ زینب ' فرشتہ ' دعا کی مرضی' نہ قندیل اور مائی مختار کی مرضی
نہ میرے کسی اقرار کی مرضی ' نہ اس کے کسی انکار کی مرضی
سب تیری مرضی 'تیرے سماج تیرے ہی افکار کی مرضی
ظلم کے منجھدار کی مرضی ' اس روح مردار کی مرضی
چلو! نہیں کہتی میں کہ ”میرا جسم میرے اختیار کی مرضی"
بربریت کے انگار کی مرضی' بےحسی کے انبار کی مرضی
چلو کچھ نہیں کہتی ہوں میں- ----
بس اب چپ ہی رہتی ہوں میں --!
#Dedicated_to_all_the_Victims_of_Rape_HonorKilling_and_Karokari
#قلم_کی_جسارت_وقاص_نواز
Azba Abdullah retweeted
محترمہ مریم نواز صاحب
معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے
خواتین کے بارے میں جو نادر خیالات آپ کے شوہر نامدار کے ہیں اس طرح کے خیالات کا اظہار آپ کے والد گرامی بھی 80 اور 90 کی دہائی میں کثرت سے کرتے رہے ہیں، یہ جنگ آج کی نہیں 50 سال پرانی ہے
Azba Abdullah retweeted
میرا جسم میری مرضی
ایک تو وہ فیمنزم ہے مغرب والی ، خواتین اپنی نسوانی خوبصورتی کو کٹوا کر مرد بن رہی ہیں۔ زبان اور ناف میں اور پتہ نہیں کہاں کہاں سٹیل کی مرکیاں پھیر رکھی ہیں۔ ایل جی بی ٹی کیو پلس مائنس وغیرہ وغیرہ والا فیمنزم۔ موٹے سول والے کالے کالے اونچے اونچے جوتے ، سکاٹش سکرٹ ، پرپل رنگ کے بال بوائے کٹ اور جسم ٹیٹوز سے بھرا ہوا فیمنزم ۔ پھر اسکی اتنی جہتیں اور اتنی تفصیلات کہ انسان سمجھ نا پائے۔ یہ سب آپ کے معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اِس معاشرے کے لیے یہ کیسا ہے یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔
اب ایک ہے آپ کا معاشرہ ، جہاں پیدائش سے پہلے ہی تعصب شروع ہوجاتا ہے۔ الٹرا ساونڈ رپورٹ ہی چہرے چڑھا یا لٹکا دیتی ہے۔ ( آپ کے بابا نے کیا کیا یہ معاشرے کی عکاسی نہیں )۔ پھر پیدائش پر بیٹی کے لیےتسلیاں اور بیٹے کے لیے اور۔ پھر بیٹی کے لیے صرف تعلیم بیٹے کے لیے بہترین تعلیم۔ بیٹی کے لیے درس نظامی بیٹے کے لیے یونیورسٹی ۔ بیٹا چھبیس ستائیس کا بھی والدین پر بوجھ اور بیٹی پیدا ہوتے ہیں پرایا دھن اٹھارہ کی ہوتے ہی کسی کے کھاتے فٹ۔ اور درمیان میں پوری کوشش کرنی ہے کہ وراثت میں بھی حصہ نہ ملے۔
یہ معاشرے کی منفی تصویر ہے؟ ارے میاں یہ تو کچھ بھی نہیں۔ پانچ چھ سال کی بچی کو خطرہ ہے۔ دس گیارہ سال کی ہر لڑکی کو نامناسب دست درازیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چودہ پندرہ کی اپنے جسم میں پیوست نگاہوں کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ اسے ایک ایک آنکھ کی میل دکھائی دیتی ہے بس بولتی نہیں۔ اسکے رکشے کے ڈرائیور سے لیکر دفتر کے چپڑاسی تک ، اپنے کولیگ اور باس سے لیکر اپنے رشتہ داروں تک اس ایک ایک نظر دکھائی دیتی ہے۔ ارے میاں ابھی بھی بہت کم بتایا ہے۔ ماموں نے زیادتی کردی ، چچا نے زیادتی کردی ، تھانے شکایت کرنے گئی تھانیدار نے زیادتی کردی۔ پاس سے گزر گئی تو کہا میری دوست ہے۔ مسکرا کر گزر گئی تو کہا دیتی ہے۔ انگور کٹھے ہوئے تو کہا گشتی ہے۔ گستاخی معاف ، اس میں کہیں کچھ غلط ہو تو ٹوک دیجیے۔
ڈومیسٹک وائلنس الگ ، میریٹل ریپ الگ ، جی ہاں نکاح کے باوجود زبردستی جنسی تعلق زیادتی ہی کہلائے گا۔ پہلے تعلیم نہیں دی ، پھر جائیدار نہیں دی ، پھر اعتماد نہیں دیا ، جب ہر طرف سے دبا دی تو پھر کہا تم مجھے چھوڑو گی تو کس کے ٹکڑوں پر پلو گی یعنی مجبورکرکے باندھ لی۔ چخ چخ پخ پخ الگ اور دھمکیاں الگ ۔
زیادہ ہوگیا ؟ ہاں ، ہماری بیٹیاں برابر بھی ہیں ، پر اعتماد بھی ہیں ، بہت بڑی تعداد کی زندگیاں متوازن ہیں۔ وہ خوش ہیں۔ لیکن یہاں نشاندہی مسائل کی ہے۔ یہ مسائل ہیں اور انکی شرح خطرناک ہے۔ یہاں میرا جسم میری مرضی یہاں فیمنزم کا مطلب اعضاء کٹوا کر چمڑہ لٹکوا لینا نہیں ہے۔ یہاں فیمنزم کا مطلب برابری اور حقوق ہیں۔ یہاں میرا جسم میری مرضی کا مطلب میرے جسم کی بھوکے درندوں سے حفاظت ہے ، لالچ اور بہتان سے حفاظت ہے۔ ہاں کچھ ایسی طبقات فیمنزم کا چہرہ ضرور بن گئے جن کے یہ مسائل نہیں ہیں۔ لیکن آپ ان کی آڑ میں لاکھوں کروڑوں دیگر لوگوں کو اگنور مت کیجیے۔
میری بیٹی کی سوچ میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی وراثت میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی تعلیم میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کی شادی میری بیٹی کی مرضی۔ میری بیٹی کا جسم میری بیٹی کی مرضی۔ اعلان ختم۔
Azba Abdullah retweeted
عمران خان کی بہنوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بولتی ہیں، احد خان
Azba Abdullah retweeted
کینسر کسی گناہ کی وجہ سے نہیں ہوتا یہ کسی کو بھی کسی بھی وقت ہوسکتا ہے یہ ایک بیماری ہے
Azba Abdullah retweeted
عاصمہ جہانگیر کے بارے اس جاہل انسان کیپٹن صفدر کے ریمارکس انتہائی قابل مذمت ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اب صرف نام عاصمہ جہانگیر گروپ ہے ورنہ اس گروپ میں کوئی عاصمہ جہانگیر والی بات نہیں ہے اور عابد ساقی صاھب سمیت عاصمہ جہانگیر کے بیشتر نظریاتی ساتھی اس گروپ کو چھوڑ چُکے ہیں
Azba Abdullah retweeted
چینل فائیو کی رپورٹر صدف نعیم ایک دلیر صحافی خاتون آج کے روز خان صاحب کے 2022 لانگ مارچ کی کوریج کے دوران کنٹینر کے نیچے آکر فوت ہوئی تھیں اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔🤲🏻❤️
Azba Abdullah retweeted
حلقہ این اے 154: کہروڑپکا کی اہم شاہراہیں برسوں سے خستہ حالی کا شکار، شہری مشکلات سے دوچار، عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر سوالات!
حامد اقبال راؤ / ریاست ڈاٹ پی کے
کہروڑپکا: حلقہ این اے 154 سے تعلق رکھنے والے وزیرِ مملکت برائے پاور اینڈ پبلک افیئرز عبدالرحمان خان کانجو طویل عرصے سے اس حلقے کی نمائندگی کرتے آ رہے ہیں، تاہم کہروڑپکا شہر کی متعدد اہم شاہراہوں کی خستہ حالی آج بھی ایک سنگین عوامی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
شہر کی اہم ترین شاہراہ میلسی چوک سے چوک میجر اسلم شہید تک گزشتہ کئی برسوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ چند ماہ قبل اس سڑک کی مرمت کا کام شروع کیا گیا، جس سے شہریوں کو امید پیدا ہوئی کہ شاید اب ان کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، لیکن تین ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مرمت کا کام دوبارہ شروع نہیں ہو سکا۔
یہی نہیں، کہروڑپکا کا پرانا میلسی روڈ بھی گزشتہ کئی سالوں سے خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ شہر کی دیگر اہم شاہراہوں کی صورتحال بھی توجہ طلب ہے۔ جگہ جگہ گڑھے، اکھڑی ہوئی سڑکیں اور اڑتا ہوا گردوغبار شہریوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
ان سڑکوں سے روزانہ بڑی تعداد میں شہری، موٹر سائیکل سوار، طلبہ، تاجر اور مسافر گزرتے ہیں، جنہیں آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے باعث نہ صرف سفر دشوار ہو چکا ہے بلکہ گردوغبار سے شہریوں کی صحت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وزیرِ مملکت عبدالرحمان خان کانجو بھی اپنے دورۂ کہروڑپکا کے دوران میلسی چوک سے چوک میجر اسلم شہید والی اسی شاہراہ سے گزرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوامی نمائندے خود ان راستوں سے گزرتے ہیں تو پھر ان کی خستہ حالی دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نظر نہیں آتے؟
عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ شاید لگژری گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کو ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور عام شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا مکمل اندازہ نہیں ہو پاتا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل ہے کہ خدارا کہروڑپکا کی خستہ حال شاہراہوں کا فوری نوٹس لیں۔ متعلقہ محکموں سے سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں تاخیر کی رپورٹ طلب کی جائے اور وزیرِ مملکت عبدالرحمان خان کانجو سے بھی ان کے حلقے میں درپیش بنیادی عوامی مسائل اور ان کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات لی جائیں۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ میلسی چوک سے چوک میجر اسلم شہید تک زیرِ التوا مرمتی کام فوری بحال کیا جائے، پرانے میلسی روڈ کی تعمیر و مرمت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور شہر کی دیگر خستہ حال شاہراہوں کی بحالی کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی کی جائے۔
آخر کب تک کہروڑپکا کے شہری ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، گردوغبار اور سفری مشکلات کا سامنا کرتے رہیں گے؟ کیا حلقے کے عوامی نمائندے اور متعلقہ انتظامیہ ان دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائیں گے یا شہریوں کو مزید کئی سال انتظار کرنا پڑے گا؟
@MaryamNSharif @CMComplaintCell
Azba Abdullah retweeted
Replying to @AzbaAbdullah @AliTallat1
علیمہ خان کو نہیں بلکہ نورین نیازی کو منتقل کیا گیا ہے۔
Azba Abdullah retweeted
Replying to @Kh4n_saab @AzbaAbdullah
پہلی خبر جو کہ دو مختلف ذرائع سے کنفرم کی گئی تھی وہ علیمہ خانم کے بارے میں تھی۔
لیکن لیگل ایڈوائزر نے نورین خانم کا نام لیا ہے تو ابھی تک یہ ہی ہے ۔
Azba Abdullah retweeted
اسلام آباد کے ان صحافیوں کی موجیں ہیں،
جنہیں ایک ایک ٹویٹ کے لاکھوں روپے ملتے ہیں،
جن کے کیفے چلتے ہیں،
جن کے پاس سرکاری کھوکھے ہیں،
تازہ انکشاف اتوار بازار کے سٹالز سے متعلق ہوا ہے کہ وہ بھی آدھے سے زیادہ ان کے ہیں۔
Azba Abdullah retweeted
لاہور کے علاقے ڈیفنس (چڑڑ پنڈ) سے 7 روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے کمسن احمد احسن کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہ لگایا جا سکا۔ پولیس کی روایتی سست روی پر غمزدہ والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کا فوری نوٹس لینے اور بچے کی باحفاظت بازیابی کے احکامات جاری کرنے کی دہائی دی ہے۔
Azba Abdullah retweeted
چوک سرور شہید کے نواحی علاقے میں تین سالہ معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے سے متعلق منظر عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس میں معصوم بچی کی دلخراش چیخ و پکار صاف سنی جا سکتی ہے۔ جس کے انسان کا ضبط ٹوٹ جاتا ہے اور آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکتے ۔
سماجی و عوامی حلقوں نے واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے انسانیت سوز اور وحشیانہ عمل قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور پنجاب پولیس کے لیے یہ واقعہ ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لا کر نشانِ عبرت بنانا ناگزیر ہے۔
قانونی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ تفتیش کو سائنسی بنیادوں اور فرانزک شواہد کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ ملزم کو سخت ترین سزا دلوائی جا سکے۔
دوسری جانب سماجی ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں ہرگز غفلت نہ برتیں اور انہیں ہمیشہ اپنی براہِ راست نگرانی میں رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے محلوں اور گلی کوچوں میں مشکوک و اجنبی افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار اور اندوہناک سانحات سے بچا جا سکے۔ اس ساتھ ہی عوام الناس کا کہنا ہے کہ عدالت اس کیس کو تیز رفتاری سے سنے اور سزا سرے عام شہر کے وسعت میں سب کے سامنے دی تاکہ باقی جرائم پیشہ عناصر کو اس ظالم کے عبرت ناک انجام کےساتج ایک سبق بھی ملے۔
ویڈیو کریڈٹ سمن ڈار۔
@summandar01
@kotadupolice
@kotadupolice
@rpodgkhan
@RpoDgk
@OfficialDPRPP
@PunjabGovtpk
@AzmaBokhariPMLN
@MaryamNSharif
Azba Abdullah retweeted
پاکستان میں غربت اتنی ہے کہ بچوں کے لیے سو گرام چکن گھر میں نہیں پکا سکتے اور جہالت اتنی ہے کہ پیروں کے گھر بکرے دے آتے ہیں۔💔
#اردو_زبان
Azba Abdullah retweeted
خاندانی شخص وہ ہوتا ہے جس پہ زوال آئے یا عروج وہ ہواؤں کا رخ دیکھ کے کبھی تعلق اور لوگ نہیں بدلتا
#قومی_زبان






















