
#Journalism_is_Not_a_crime #Democratic #student_of_journalism Reporter of @riaasat_pk Humanism is my faith. #stand_for_humain_rights Retweet not endorsement
Joined August 2024
- Tweets5.6K
- Following889
- Followers796
- Likes2.1K
Journalist PeeR Junaid retweeted
مطیع اللہ جان کے اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول میں تاریخی سوال کی تیسری سالگرہ ہے۔ لاپتہ شخص کا انٹرویو کرنے والے کو اب تو خیر سرکاری نوکری اور تمغہ امتیاز بھی مل چکا ہے۔ وقت کتنا بدل گیا ہے
Journalist PeeR Junaid retweeted
مریم نواز کے لاہور میں
جوہر ٹاؤن میں غریب شہری پر سر عام ڈنڈے، کلہاڑیوں کے وار
بے حسی عوام خاموش تماشائی
سی سی ڈی کو چاہیے کہ یہ کلہاڑی اس مظلوم نوجوان کو دیں اسی طرح اس کلہاڑی سے ان بدمعاشی کرنے والوں کی درگت بنائی جائے
کیا مریم نواز اس شہری کو انصاف دیں گی۔؟
@CCD_Punjab
Journalist PeeR Junaid retweeted
We need justice for Fakhra from your father.
@jannat_khar
Journalist PeeR Junaid retweeted
"بھڑیا اور میمنا" بمقابلہ "خیبر پختون خواہ میں گورنر راج"۔
ایک جنگل تھا، جہاں قاعدہ قانون نافذ تھا۔ قانون یہ تھا کہ طاقتور کو کمزور کا شکار کرنے سے پہلے کوئی وجہ بتانا پڑتی تھی۔ یعنی شکار کا فیصلہ پہلے ہوتا، پھر اس کے مطابق جواز تراشا جاتا اور دلیل ایجاد کی جاتی۔
جنگل کے قانون و ضوابط کا اعجاز کہ شیر اور بھڑیا کو کمزور نہتوں کا شکار کرنے کے لئیے قانون وضابطوں کا سئارا لینا پڑتا تھا۔
مثلا" ایک دفعہ ایک میمنا ندی سے پانی پی رہا تھا۔ بہاؤ کی اوپر والی جانب کھڑے بھیڑیے کی نظر اس پر پڑی تو وہ اسے کھانے کا بہانہ ڈھونڈنے لگا۔
بھیڑیا غرایا: ’’تمہاری جرات کیسی ، تم میرا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو؟‘‘
میمنا منمنایا:: "بزرگو! پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف آ رہا ہے، میں آپ کا پانی کیسے گدلا کر سکتا ہوں؟‘‘
بھیڑیا غصہ سے لال پیلا:: ’’اچھا تم بتاؤ، تم نے پچھلے سال مجھے گالی کیوں دی تھی!‘‘
میمنے پھر منمنایا: ’’میری عمر تو ابھی آٹھ ماہ ہے، پچھلے سال تو میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔‘‘
"او ہو مجھے یاد آ گیا تو پھر وہ تمہاری ماں ہو گی!‘‘ یہ کہہ کر بھیڑیا میمنے کو کھا گیا۔
پاکستانی مقتدرہ کو بہرحال داد دینی پڑے گی کہ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت ہڑپ کرنے، گورنر راج لگانے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے ایسے ایسے دلائل تراشے ہیں کہ حکایت کا بھیڑیا اپنی دلیل پر شرمندہ، بلکہ دلیل سمیت منہ چھپائے پھرتا ہے!
Journalist PeeR Junaid retweeted
وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اپنی اور اپنی پولیس کی نالائقی چھپانے کیلئے غیرملکی خاتون کو Rape Victim ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ حقیقت تو یہ نکلی کہ غیرملکی خاتون نے مریم نواز صاحبہ اور پولیس کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے بے نقاب کر دیا کہ پولیس اور حکومت نے نمبر ٹانگنے کیلئے خاتون سے زبردستی 164 ض ف کا بیان ریکارڈ کروایا، سنو ٹی وی پر عمران ثنا اللہ کے ساتھ گفتگو
Journalist PeeR Junaid retweeted
رضا ڈار کیس
غیر ملکی خواتین سے زیادتی کے مقدمہ کا ٹرائل آج سے شروع ہوگا، تمام 8 ملزمان کو آج کینٹ کچہری میں پیش کیا جائیگا۔ رضا ڈار کیس کا چالان جمع کروایا جاچکا ہے۔
Journalist PeeR Junaid retweeted
جہانگیرہ پرائیویٹ اسکول ٹیچرز 8 ہزار ماہانہ تنخواہ مل رہی آرٹیکل 37 کی خلاف ورزی ہے
اس پہ پہلے شکایت کر چکے مگر کوئی کارروائی نہیں
کیا پرائیویٹ ٹیچر پاکستانی نہیں ہیں کیا؟
آرٹیکل 37 پہ عملدرآمد کروائیں گے۔۔؟
@fkkundi
@BBhuttoZardari
@dcnowshera
🤖 Made with AI
اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ محمد آفتاب منیر کا مختلف پیٹرول پمپس کا اچانک معائنہ۔ صفائی کی ناقص صورتحال پر 2 پمپ مالکان کے کارڈز ضبط، مالکان کو دفتر طلب کر کے قانونی کارروائی کا فیصلہ۔
@CSKPOfficial
Journalist PeeR Junaid retweeted
ڈیجیٹل ڈیزائنر حنا جاوید قتل کیس لرزہ خیز انکشافات کا سلسلہ جاری۔ حنا جوید موت سے قبل بہیمانہ تشدد کی مزید لرزہ خیز تصاویر اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔تصاویر میں مقتولہ کے جسم پر تشدد اور مبینہ درندگی کے بہت سے شواہد سامنے آئے ۔ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی سنگین زخموں کی تصدیق ہوگئی۔حنا جاوید کے چہرے، گردن، بازوؤں اور ہاتھوں پر تشدد اور گہرے زخموں کے نشانات پائے گئے، رپورٹ۔مقتولہ کے ہونٹ پھٹے ہوئے تھے، جسم کے مختلف حصوں پر نیل کے نشانات موجود تھے، حنا جاوید کے سر کے پچھلے حصے پر 27 سینٹی میٹر طویل گہرا زخم پایا گیا،مقتولہ کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی، چہرے پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے، مقتولہ حنا جاوید کی کوہنیوں میں اسکرو ڈرائیور سے سراخ کئے گئے تھے، حنا جاوید کے دائیں اور بائیں بازو پر تشدد اور نیل کے نشانات موجود تھے،
مقتولہ کے پھیپھڑوں میں خون بھرا ہوا تھا دل کے گرد موجود پیراکارڈیم، میں بھی خون جمع تھا،
حنا جاوید کو 20 اگست کو سسرال میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھامقتولہ کی لاش کو قتل کے بعد باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکایا گیا تھاحنا جاوید قتل کیس کا مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج ہےکیس میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیںمقتولہ کے اہلخانہ نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کررکھا ہے۔۔۔۔۔
Journalist PeeR Junaid retweeted
جیسے ہی پنجاب میں سنگین جرائم کے واقعات میڈیا اور سوشل میڈیا پر رپورٹ ہونا شروع ہوتے ہیں تو عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے اگلے ہی دن جرائم کی بیخ کنی کیلئے ایک ڈمی اجلاس بلایا جاتا ہے، گزشتہ دو برسوں سے ایک ہی طرح کی پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے اور پیشہ ور گھوس خور میڈیا پرسنز اور سوشل میڈیا پرسنز کو اس ڈمی اجلاس کی تشہیر کرنے کی ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔۔
پھر نیا واقعہ ہوتا ہے، پھر نیا اجلاس ہوتا ہے، پھر گھوس خور گھوس کھاتے ہیں، پھر اگلے واقعہ اور اجلاس کا انتظار ہوتا ہے۔
اڑھائی برسوں ایسے کتنے ہی اجلاس ہوئے لیکن نتیجہ صفر۔۔
آج کے اجلاس کے بعد آئندہ دو تین ماہ بعد دوبارہ ایسا ہی اجلاس ہوگا اور ایسی ہی ڈمی گفتگو جاری کر دی جائے گی۔
بس اتنی سی ہی پنجاب حکومت ہے۔
Journalist PeeR Junaid retweeted
میرے پیارے بیٹے حسان خان خان نیازی!
الحمدللہ، ہر گزرتے دن کے ساتھ تم مجھے فخر اور امید کی نئی وجہ دیتے ہو۔ تمہارا ایمان مزید پختہ، تمہارا عزم مزید مضبوط، اور تمہارا صبر اللہ پر تمہارے گہرے بھروسے کا آئینہ دار ہے۔ علم سے تمہاری لگن، تمہارا وقار اور تمہاری بڑھتی ہوئی حکمت ایک بامقصد زندگی، بامعنی خدمت اور عمل سے قیادت کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے۔
میرے پیارے بیٹے، سچی عزت دیانت، علم اور کردار سے جنم لیتی ہے۔ یہ قران اور سنت سے کے بتائے سچائی کے اصولوں پر استوار ہے جن پر تم چلنے قائم رہنے کے لئیے کوشاں ہو۔ اور دلجمعی سے ل تم اپنے ساتھی قیدیوں تک پہنچاتے ہو، اور اس اخلاص سے جس سے تم انے والے دنوں میں مخلوق خدا کی خدمت کرنی ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ سے تمہاری وابستگی تم میں شفقت، حسنِ تدبیر اور پختگی کو پروان چڑھا رہی ہے جو یقینا" تمہیں اعلیٰ مقاصد کی جانب لے جائے گی۔
جیل کے ان اڑتیس (38) مہینوں میں تم نے اپنے لئیے جو راستہ چنا ہے وہ علم و روحانیت کا ایک شاندار باب ہے جو اپ نے رقم کرنا ہے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز، دین میں غور و فکر اور کتاب سے اپکے گہرے تعلق اور مسلسل مطالعے کے ذریعے اپ نے ہر دن کو اپنی شخصیت کی تعمیر میں سرمایہ بنایا ہے۔ علم سے تمہاری محبت نے تمہاری فکر میں گہرائی، تمہارے مقصد میں وضاحت، اور زندگی کے بارے میں تمہاری سمجھ بوجھ میں جو وسعت پیدا کی ہے، اس کا تصور جیل سے باہر ہرگز ممکن نہ تھا۔
جیل سے پہلے جو بوجہ تمہارا مزاج اور لاپرواہی، بے اعتنائی اور غیر منظم زندگی جس برح تمہاری خُو اور عادت بن گئی تھی، میں شرطیہ کہتا ہوں جہاں اج اپ کھڑے ہو یہاں تک تمہارا پہنچنا ناممکن تھا
سچ بتاو کیا جیل کے باہر یہ ممکن تھا؟ کہ آپ تفہیم القرآن کی چھ جلدیں پڑھ پاتے، تین سال تو درکنار تیس سال میں بھی دلجمعی کے ساتھ نہ پڑھ پاتے؟ کیا یہ ممکن تھا کہ پورا تیسواں پارہ، سورہ مزمل، سورہ یسین، سورہ ملک اور کئی رکوع حفظ کر پاتے؟، درجنوں موضوعات پر بیسوں کتابیں پڑھ لیں جو مطالعہ جیل کے اندر کیا ہے وہ جیل سے باہر ہرگز " ممکن نہ تھا
میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری زندگی کو مکمل طور پر ضائع ہونے سے بچانے کے لیے، تمہاری دینی و دنیاوی تعلیم اور تربیت کے لیے تمہیں آج ایک مشکل وقت میں ڈالا ہے جو بظاہر ایک ڈراؤنا خواب ہے، مگر ان شاء اللہ یہی وقت تمہاری باقی کی انشاءاللہ لمبی زندگی کا ایک سہانا، پرلطف اور بامقصد سفر بنے گا اور ضرور بنے گا۔اسی بنیاد پر اپنے کردار اور افکار کی تعمیر جاری رکھو۔
میرے پیارے بیٹے! تمہارا ایمان تمہاری امنگوں کو جِلا بخشے، تمہارا علم تمہارے عمل کی رہنمائی کرے، اور تمہاری شفقت تمہاری کامیابیوں کو بامقصد بنائے۔ اللہ تمہاری کاوشوں میں برکت دے، ہر گزرتا دن تمہیں بہترین صحت سے نوازے، ہر گزرتا دن تمہاری حکمت میں اضافہ اور پختگی عطا فرمائے، اور تمہیں دوسروں کے لیے خیر اور دین و دنیا میں بھلائی کا سرچشمہ بنائے۔
میرے آسودگی کے لئیے یہی کافی ہے کہ تمہاری جیل کے اندر صحیح سمت میں پروان چڑھتی یہ نشوونما ہے جو میرے دل کو مسرت سے بھر دیتی ہے۔ میں پوری امید اور اعتماد کے ساتھ زندگی کے ہر شعبے میں تمہارے اس کردار کا منتظر ہوں جو ان شاء اللہ تم سرانجام دو گے۔ اور آنے والے دنوں میں بھی نہ تو ذاتی مفادات کی خاطر اصولوں پر سمجھوتہ کرو گے اور نہ ہی ڈرو گے اور دبو گے۔ ان شاء اللہ مستقبل تمہارا ہے۔
آج جو سیاستدان، جج اور جرنیل تمہارے ساتھ زیادتی میں ملوث ہیں، وہ چند سالوں بعد یا شاید اس سے بھی پہلے، میرے ہمراہ قبروں میں ہوں گے، اور اللہ کے حضور جب ہم سب پہنچیں گے ان کا گریبان ہوگا اور میرا ہاتھ ہوگا، اور اللہ تعالی سب بڑا منصف اور انصاف اور حق پر فیصلہ دینے والا ہے۔
Journalist PeeR Junaid retweeted
نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے، صوبوں کی تقسیم سر پر کھڑی ہے، کرنا ہی پڑے گا۔ خبر یہ ہے کہ اسکول پرنسپلز کو احکامات بھیجے گئے ہیں کہ طلبا کو بتایا جائے کہ نئے صوبے ملکی ترقی کیلئے کتنے زیادہ ضروری ہیں، کل سے اسکولوں میں لیکچر شروع ہوں گے۔
Journalist PeeR Junaid retweeted
Another 12 years old girl allegedly was killed after sexual assault in Dhoke Naju of Khayaban e Sir Syed, Rawalpindi.
Police chief ordered arrest of culprits. Cases of child abuse are on rise in Pakistan.
Journalist PeeR Junaid retweeted
🚨🚨
The situation has worsened in Faisalabad and adjoining towns — a hub of power looms and allied industries, including sizing — where thousands of workers have lost their jobs. Around 40 per cent of units have shut down in a sector comprising nearly 800,000 looms, Dawn has learnt.
“This small industry is in great trouble these days because it is no longer competitive in a market dominated by Chinese yarn, grey cloth and even finished cloth being imported in bulk,” Textile, Power Loom and Garment Workers Union Faisalabad President Aslam Meraj told Dawn on Tuesday.
He said imported textile products were cheaper than locally produced goods, while rising utility bills and taxes had made it increasingly difficult for power loom operators to survive.
“More than 100,000 power loom workers have become jobless. Power looms are being closed on a daily basis and workers are being terminated,” he claimed, criticising the government for failing to protect the local industry.
Faisalabad, often described as the Manchester of Pakistan because of its concentration of textile and allied industries, has nearly 800,000 power looms operating in establishments ranging from small workshops to factories housing between 1,000 and 5,000 looms. Power looms manufacture grey cloth from yarn after it is processed at sizing units.
Industry representatives said yarn imported from China was largely polyester-based and was being used by exporters to manufacture grey cloth, some of which entered the domestic market when exports declined. They argued that cheaper imported yarn, grey cloth and finished products had put local power loom operators at a disadvantage.
dawn.com/news/2035310
Journalist PeeR Junaid retweeted
ویڈیو کے پیچھے وہ گانا لگاتے ناں ’’بندے ڈک لینے آں، گھروں چک لینے آں‘‘ فیئر وائرل ہو جانی سی
Chaired an important security meeting with @CSKPOfficial Shahab Ali Shah, IGP @KP_Police1 Zulfiqar Hameed, and other senior officials. The province cannot afford complacency when terrorism, crime and law-and-order challenges continue to threaten our people. At a time when Khyber Pakhtunkhwa is facing a serious security challenge, the provincial government must make the safety of its people its foremost responsibility. Political activity cannot come at the expense of security, and every institution must focus on protecting lives and maintaining peace.
Journalist PeeR Junaid retweeted
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا @SohailAfridiISF کی قیادت میں کوہاٹ میں لانگ مارچ کے ناقابلِ فراموش مناظر
#سر_بکف_میدان_میں
Journalist PeeR Junaid retweeted
#بڑی #خبر
نیو انٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد سے متصل ٹاپ سٹی ون سی ای او/انتظامیہ پر اپنی سوسائٹی کے ساتھ ملحقہ 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے قیمتی پلاٹ پر قبضہ کرنے کا الزام
کنور معیز کے مسلع غنڈوں کی پلاٹ مالکان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں
جنرل فیض حمید کے آرڈر پر “گولی” سے بچ جانے والے کنور معیز اب نے گناہ و کمزور شہریوں کو گولی کی دھمکیاں دینے لگے
متائثرہ شہری نے پولیس کی مدد طلب کر لی
اسلام آباد نیو انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے متصل ٹاپ سٹی ون کے سی ای او و دیگر انتظامیہ بشمول ڈائریکٹر لینڈ غلام یاسین پر سوسائٹی ساتھ ملحقہ کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی پلاٹ پر قبضہ کا کیس منظر عام پر آگیا
جبکہ پلاٹ کے اصل مالکان نے طاقتور و بااثر سی ای او ٹاپ سٹی ون کنور معیز خان و دیگر ٹیم خلاف قانونی کارووائی و قبضہ واگزار کروانے لیے تھانہ نیو ائیرپورٹ میں تحریری شکایت درج کروا دی ہے
پولیس نے شکایت پر ٹاپ سٹی ون انتظامیہ خلاف تفتیش شروع کر دی
دلنواز نامی شہری نے تھانہ نیو ائیرپورٹ کو بتایا کہ وہ 3 کنال 2 مرلے کے پلاٹ (جوکہ ملحقہ ہے TopCity1 کے) کے مالک ہیں مگر اس پلاٹ پر سی ای او ٹاپ سٹی ون معیز خان اور ان کے دست راست غلام یاسین نے قبضہ کر لیا ہے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
مدعی نے پولیس کو بتایا کہ ہم اس پلاٹ کے 2017 سے با قبضہ مالک ہیں اور اس وقت اس پلاٹ کی 70 کروڑ قیمت ہے اور سوسائٹی والے قبضہ کر کے ضم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ہم پر ہر روز دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اپنے مشترکہ بیان میں حماد خالد، جواد خالد ، شوزب خان ،محبیب الرحمان نے کہا ہے کہ یہ پلاٹ انکی ملکیت ہے اور ٹاپ سٹی سوسائٹی والوں نے رات کے اندھیرے میں ہمارے پلاٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور ہمارے چوکیدار پر ٹاپ سٹی والوں کے 25 سے 30 سکیورٹی گارڈز نے حملہ بھی کیا ہے اور ان گارڈز کے پاس بھاری اسلحہ بھی موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ سوسائٹی مالکان بہت طاقتور لوگ ہیں
ٹاپ سٹی کے مالک کنور معیز خان،لینڈ ڈائریکٹر غلام یاسین اور ارشد سیکورٹی انچارج کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے با اثر لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ہم نے اس سوسائٹی کے خلاف مختلف محکموں میں درخواستیں بھی دی ہیں جن میں آر ڈی اے راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ، چیف جسٹس اف پاکستان، اور وزیر اعظم کے نام پر درخواست دی گئی ہیں مگر ان با اثر شخصیات کے خلاف ابھی تک کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی
Journalist PeeR Junaid retweeted
یا تو رج کے منحوس ہیں یا رج کے نالائق ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ معاشی بدتری کے نئے سے نئے ریکارڈ بنتے چلے جا رہے ہیں، توجہ ہٹانے کیلئے محاذ پر غیرضروری محاذ گرم کر رہے ہیں۔ منحوس اتنے نالائق ہیں کہ سونا بھی حوالے کیا جائے تو اگلی دن مٹی ہوا پڑا ملے گا
Journalist PeeR Junaid retweeted
عثمان بزدار کا یہ خاتون ورژن ہم سب کے گناہوں کا نتیجہ ہے۔۔۔ آج پنجاب کی تباہی اور عوام پر ظلم کو دیکھا جائے تو عثمان بزدار کی نالائقی اچھی لگتی ہے۔۔ وہ کم از کم عوام کا خون تو نہیں نچوڑتا تھا
لوگ دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں مہنگائی بے روزگاری نے عام آدمی کو مار کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ دوسری طرف لاہور کی ٹریفک پولیس بجٹ میں دیئے گئے چالان ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لیے جھنڈ کے جھنڈ سڑکوں پر موجود ہیں ۔۔۔۔۔ عوام کا سوچیں تو یہ ظلم لگتا ہے حکومت کا سوچیں تو ٹریفک چالان کے بغیر پنجاب کا نظام حکومت نہیں چل سکتا ۔۔۔ آپ بتائیں کیا کیا جائے




























