نقوی صاحب تصحیح کا شکریہ۔ آپ کی بات صحیح ہے۔ مجھے جہاں سے غلطی لگی وہ انہیں سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا موذنوں کا سردار کہنا ہے۔
غیر دانستہ غلطی تھی اللہ معاف کرے۔
البتہ امیر المومنین علیہ السلام نے امام سجاد علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے ان کے بڑے مناقب بیان کیے ہیں۔
Replying to @Vesimeer
Bht zbrdst likha hai. Bs aik tasih krlen. Habshi bhi jannat ka sardar ni haqdar hai. Bcz sardar sir or sirf Imam Hasan imam Hussain a.s hain. Huzur pak s.a.w.w k farman se
آخری جملے پر دو سوالات
یہ اکیلا ہے؟
سات لاکھ بندوق بردار مرد نما مخنس بھی لائے گئے ہیں؟
یہ خلا سے وارد نہیں ہوتے۔ ہمارے ہی دائیں بائیں گھروں سے نکلتے ہیں۔ افلاس محرومی اور طاقات سے دبائے گھروں میں تشکیل پانے والی نفسیات کو سامنے رکھ کر ان کی تربیت ہوتی ہے۔ پھر یہ تمام عمر اپنی بندوق کے بل پر معاشرے سے بدلے لیتے ہیں۔
یہ مافیا ہیں جس پر پنجابیوں کا قبضہ ہے۔ چیف جسے بھی بنادیں، طاقت کور کمانڈروں اور فارمیشن کمانڈروں کے ہاتھ میں رہتی ہے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر اور ممبران قومی اسمبلی میں سے ہے کسی میں جرات سوال پوچھیں کہ بریگیڈیئر سے فیلڈ مارشل تک افسران کی نسلی تقسیم کیا ہے؟ کتنے پنجابی ہیں اور کس کس کمان کے انچارج ہیں؟
سینٹ میں سیٹیں ہر صوبے کی برابر ہیں کہ وفاق کا نظم کنٹرول میں رہے۔ فوج میں افسران برابر کیوں نہیں ہوسکتے؟
ہے کوئی سیاسی جماعت جو اعلان کرے کہ حکومت ملی اکثریت ملی تو فوج میں سٹار افسران پانچ صوبوں اور کشمیر سے برابر ہونگے؟
باب وڈ ورڈ کی کتاب ہے اوباماز وارز۔ یہ وہی کتاب ہے جس میں کئی شاندار انکشافات ہوئے جس میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آصف زرداری نے امریکہ کو کہا ڈرون حملے جاری رکھو ہم نمائشی مذمت کرتے رہیں گے۔ خیر اس کتاب کے پہلے دوسرے تیسرے صفحے پر ہی ذکر ہے کہ کیسے صدر بننے کے بعد حلف اٹھانے سے پہلے ٹرانزیشن کے وقت اوباما کو پہلی بریفنگ دی جانے لگی تو کہا گیا کہ افغانستان میں یہ یہ یہ مسئلہ ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ ہے پاکستان کی فوج۔ پھر جگہ جگہ افغانستان کے ہر مسئلے کو پاکستان کی فوج کیساتھ منسلک کیا گیا۔ دہشتگردی کو فوج کیساتھ منسلک کیا گیا۔ ڈبل گیمز کو فوج کیساتھ منسلک کیا گیا۔ وجوہات بھی بیان ہوئیں کہ فوج افغانستان میں بھارتی اثر نہیں چاہتی۔ فوج پوسٹ وار سناریو کو ہمیشہ ذہن میں رکھتی ہے اور وغیرہ وغیرہ۔
بغیر کم و کاست کچھ چیزیں پڑھتے ہوئے خوشی بھی ہوئی کہ فوج ملکی مفادات کا ، پاکستان کی جیو سٹریٹجک اہمیت کا اپنے مستقبل کا احساس کرتی رہی اور پالیسیز بناتی رہی۔ نتائج درست نکلے یا غلط یہ الگ بحث۔ اب اسی ساری صورتحال کو موجودہ تناظر میں دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ کیا یہ وہی فوج ہے؟ جسے پاکستان کے مستقبل ، تحفظ اور امن و امان کی کوئی پرواہ نہیں۔ جو ہر طرح کے نتائج سے بے پرواہ بدمست ہاتھی بنی ہوئی ہے۔ ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
مجھ سے یہ گتھی سلجھتی نہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ وقار ملک کا صرف ایک جملہ ہے جو اس سب کی سینس بنا دیتا ہے۔
“ یہ آیا نہیں ہے یہ لایا گیا ہے “
O T I S retweeted
آج گیس سیلینڈر بھروانے گیا تو دوکاندار نے کہا 1999 سے یہ کام کر رہا ۔ 2021 میں جو چول پانچ روپے بڑھنے پر ٹویٹیں کرتے تھے وہ آجکل نظر نہیں آتے
اس دوندے خنزیر کی ٹائم لائن پر دنیا جہان کی باتیں ہونگی لیکن کشمیر قتل عام کا ذکر نہیں ملے گا۔
حرامی پہچاننے کے لئے ڈی این اے سے زیادہ قابل اعتماد چیز یہ دیکھنا ہے کہ بندہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے یا ظالم کے ساتھ۔
یہ حرامی ہے یہ فوجی خنزیروں کے ساتھ کھڑا ہے۔
کینیا کے ایک کلٹ لیڈر نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ اپنے بچوں سمیت تامرگ فاقہ کریں اسطرح وہ دنیا ختم ہونے سے پہلے جنت میں پہنچ جائینگے پیروکاروں نے مرشد کے حکم کی تعمیل کی حکم عدولی کرنے والے کو مار پڑتی، اس دوران 200 کے قریب بچے مر گئے کچھ کو زندہ دفن کر دیا گیا اب عدالت میں مرشد نے یہ موقف اختیار کیا کہ میں نے انہیں فاقہ کشی پر مجبور نہیں کیا تھا عدالت نے اس کو دو سو سال قید کی سزا سنائی ہے
dawn.com/news/2042752
پاکستان میں اس وقت دو صحافی ہیں جو ایسٹیبلشمنٹ کے انتہائی قریب ہیں وہ بڑا عہدہ چاہتے ہیں۔ ایک تو کسی مجبوری میں خاموش ہے جبکہ دوسرا صحافی مکار بھی ہے جھوٹا بھی ہے اور اس نے اپنا میڈیا سیل بھی بنا رکھا ہے۔
خبر——بُنڈتار نیوز نیٹورک
پنجاب میں عورتوں کو ذلیل کرنے والوں کی بڑی عزت ہے۔ سو سو وکیل ساتھ چلتا ہے۔ سرکاری پروٹوکول ملتا ہے۔
اس حرامزادے کو دیکھ لیں رجب بٹ کو دیکھ لیں چٹھے لعنتی کو دیکھ لیں خواجہ آصف کو دیکھ لیں رضی دادا سور کو دیکھ لیں
O T I S retweeted
کوئی آج کل کا ریٹ بھائی کو بتا دے
O T I S retweeted
IDF knew in advance about settlers stealing Jericho homes.
Showed up to give them "security" instead of stopping them.
Thou shalt not steal -- לא תגנב
Thou shalt not covet thy neighbor's house -- לא תחמד
מקורות: בלוט שוחח עם מתנחלים לפני שנכנסו לבתים ביריחו ודרש שלא לעדכן את המפקדים בשטח
haaretz.co.il/news/politics/…
O T I S retweeted
دو پاکستانی شہری دو سال سے متحدہ عرب امارات میں قید، وزارتِ خارجہ جواب دہی سے قاصر!
متحدہ عرب امارات میں گزشتہ دو سال سے بغیر کسی واضح جرم کے زیرِ حراست دو پاکستانی شہریوں، سید سلمان رضا اور محمد جنید جہانگیر، کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ نے سیکریٹری خارجہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی باآخر تین سال کی حراست کے بعد شروع کر دی۔
عدالت نے وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
عدالت کے بارہا احکامات کے باوجود وزارتِ خارجہ تین بنیادی سوالات کے جواب دینے میں ناکام رہی:
- سلمان اور جنید کو آخر کس جرم یا الزام کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے؟
-ان کی حراست کو کس عدالتی حکم یا قانونی جواز کے تحت درست قرار دیا گیا ہے؟
- پاکستانی سفارتی مشن نے اپنے شہریوں کو قونصلر رسائی اور قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات کیے ہیں؟
عدالت نے وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام کی مسلسل غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ افسر کو آئندہ دس روز میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
یہ محض دو شہریوں کی حراست کا معاملہ نہیں، ریاست کی اپنے شہریوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی ذمہ داری کا امتحان ہے۔
دو پاکستانی شہری دو سال سے بیرونِ ملک قید ہیں، مگر افسوس کہ وزارتِ خارجہ آج تک ان کی حراست کی بنیادی قانونی وجوہات تک عدالت کے سامنے پیش نہیں کر سکی۔ سوال یہ ہے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کے لیے جواب دہی اور سفارتی تحفظ یقینی نہ بنا سکے تو وہ شہری انصاف اور تحفظ کے لیے کس دروازے پر دستک دیں؟
#JusticeForJunaidandSalman
#TransnationalRepression























