Hina retweeted
❝Every act of goodness is charity.❞
Prophet Muhammad ﷺ (Sahih al-Bukhari 6021, Sahih Muslim 1005)
Hina retweeted
اس دنیا میں اکثر لوگ اپاہج ہیں۔ معذوری جسمانی نہ بھی ہو تو کبھی مجبوری اور کبھی روایات ان کو اپاہج کر دیتی ہیں۔
Hina retweeted
Ashab-e-Kahf did not live long after they woke up.
According to classical Tafsir, including Imam Ibn Kathir, they passed away almost immediately , within the same day.
But what happened in those few hours is one of the most powerful lessons on seeking knowledge in the Quran.
They woke up thinking they had slept a day or part of a day. Hungry, they sent Yamleekha to the town with their silver coins to buy food, and be careful, lest the tyrant Decius finds us.
They did not know 300 years had passed.
When Yamleekha reached the market, the city had changed. His ancient coins shocked the shopkeeper. People thought he had found a hidden treasure. He was taken to the king.
And here is the point most people miss:
That king — Baydroos, a righteous, believing king — was at that exact moment locked in a deep debate with his people: Will human bodies physically be resurrected on the Day of Judgement?
And at that exact moment, Allah sent them men who had slept for 309 years and woken up alive.
That is not coincidence. That is a sign!
Ashab-e-Kahf did not want to bow to a tyrant. They left everything, and Allah saved them not by changing the world for them, but by moving them through time.
Time does not always remain the same. Tyrants fall. Empires change. Debates end.
But when you sincerely seek knowledge, when you sincerely seek truth, Allah will give you signs , sometimes 300 years later, at the exact moment the world needs to see them.
Seek. Ask. Allah shows.
#AshabEKahf #SurahKahf #Islam #Quran
Hina retweeted
❝Charity does not decrease wealth, and no one humbles himself for Allah except that Allah raises him.❞
Prophet Muhammad ﷺ (Sahih Muslim 2588)
Hina retweeted
مسٹر پتلو کا تماشا… اور ہمارا خاموش تماشا دیکھنا
سیالکوٹ کے ایک اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔ وجہ؟ ایک ٹک ٹاکر کی مہندی۔ مسٹر پتلو نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ کار ملے گی، پچاس موٹر سائیکلیں ملیں گی، دو کروڑ روپے تقسیم ہوں گے۔ غریب لوگ لالچ میں آ گئے۔ گیٹ کھلا اور بھگدڑ مچ گئی۔ دو جانیں چلی گئیں۔ کئی زخمی ہو گئے۔
یہ کوئی عام حادثہ نہیں۔ یہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے ہمارے معاشرے کے ساتھ کیا کر دیا ہے۔
مسٹر پتلو جیسے کردار اچانک آسمان سے نہیں گرتے۔ یہ ٹک ٹاک، فیس بک اور ایکس کی پیداوار ہیں۔ یہ پلیٹ فارم انہیں شہرت دیتے ہیں، پیسہ دیتے ہیں، اور پھر انہیں اتنا طاقتور بنا دیتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کر سکیں۔ لیکن جب کوئی سانحہ ہو جائے تو یہی پلیٹ فارم خاموش ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی ذمہ داری، نہ کوئی جوابدہی۔ صرف منافع۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ پچیس کروڑ کی آبادی والی مارکیٹ میں یہ کمپنیاں کیسے آزادانہ گھوم رہی ہیں؟ وہ ہمارے نوجوانوں کا وقت، ہماری اقدار، ہماری اخلاقیات سب کچھ استعمال کر کے پیسہ کما رہی ہیں۔ اور بدلے میں کیا دے رہی ہیں؟ ایسے کردار جو غریبوں کی غربت کا مذاق بنا کر انعامات کے لالچ میں انہیں ہجوم میں دھکیل دیں۔
یہ صرف لالچ کی بات نہیں۔ سوشل میڈیا نفرت اور تشدد بھی پھیلا رہا ہے۔ غلط معلومات، اشتعال انگیز مواد، اور اخلاقی اقدار کو توڑنے والی ویڈیوز روزمرہ کی بات بن چکی ہیں۔ جب کوئی شخص اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگوں کو جمع کر کے جانوں کا نقصان کروا دے تو یہ آزادی اظہار نہیں، تباہی ہے۔
دنیا اس بات کو سمجھ چکی ہے۔ یورپی یونین نے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ بنا کر ان بڑی کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور سنگاپور نے بھی مواد کی نگرانی کے سخت قوانین بنا لیے ہیں۔ وہاں خلاف ورزی پر بھاری جرمانے لگتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہ ٹیک کمپنیاں اب بھی آزاد ہیں۔ یہ ڈیجیٹل نوآبادیات (ڈیجیٹل کلونیلزم) کی ایک نئی شکل ہے۔ وہ ہماری مارکیٹ سے منافع کماتے ہیں، لیکن ہماری اقدار اور قوانین کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا آزادی اظہار کا ذریعہ ہے۔ لیکن آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کی جان لے سکیں، نفرت پھیلا سکیں، یا پورے معاشرے کو اخلاقی طور پر کھوکھلا کر دیں۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت سخت فیصلے کرے۔ ان پلیٹ فارمز پر سخت قوانین لگائے۔ پاکستانی مارکیٹ میں داخلے کے لیے بھاری ٹیکس وصول کرے۔ مواد کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کرے۔ ورنہ مسٹر پتلو جیسے کردار آتے رہیں گے، لوگ مرتے رہیں گے، اور ہم صرف تماشا دیکھتے رہیں گے۔
سوال یہ ہے: ہم کب تک تماشا دیکھتے رہیں گے؟
Hina retweeted
اگر آپ کے پاس تنقید، غصہ ، لعن طعن ، حوصلہ شکنی کا رویہ موجود ہے اور اس کے اظہار کے لئے مناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں
تو
تعریف، احسان مندی ، محبت ، شکر گزاری کے لئے لفظوں کی معذوری چہ معنی ؟
مثبت اظہارِ رائے کے لئے کنجوسی کس بات کی۔۔؟
نظر اندازی کیوں؟
Hina retweeted
فری کی روٹی، مفتا ، داء ، شارٹ کٹس ، آسان راستہ، کمفرٹ زون، سستی، نااہلی،
بھی اتنے ہی بڑے اخلاقی جرائم ہیں جیسے
حسد، جلن ، غصہ ، بے ایمانی ، دھوکہ یا چوری و لوٹ مار۔۔۔
Hina retweeted
بھیڑیا اگر پیچھے ہٹنا شروع کر دے تو اُسے شکست نا سمجھو
شاید وہ اگلی چال کے لیے فاصلے ناپ رہا ہو ۔
Hina retweeted
جنگل میں کوئی اچّھا یا برا نہیں ہوتا ، صرف طاقتور یا کمزور ہوتا ہے۔
بھیڑ کی اخلاقیات بھیڑیے کی رائے کو نہیں بدلتی ۔
Hina retweeted
❝Whoever takes a path seeking knowledge, Allah makes easy for him a path to Paradise.❞
Prophet Muhammad ﷺ (Sahih Muslim 2699)
Hina retweeted
Imagine the pain of someone like Anwar Maqsood a man who has spent over 50 years exposing politics through satire, now feeling compelled to tell people to stay quiet in this day and age. Just imagine what it must have taken for him to say that.
Hina retweeted
پاکستان کا مستقبل stunted ہو رہا ہے — کیا ہم اسے روک سکتے ہیں؟
حال ہی میں شیئر کیے گئے اس نقشے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لا دیا ہے جسے ہم برسوں سے نظر انداز کر رہے ہیں۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً دو میں سے ایک بچہ (40 فیصد) stunted ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں یہ شرح 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ کچھ اضلاع میں 60 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں۔ یہ نقشہ ہمیں بتا رہا ہے کہ 2040 اور 2060 کی دہائی میں ہمارے کھیتوں، دفاتر، فیکٹریوں اور معیشت کو چلانے والے لوگ آج ہی اپنے قد، دماغ اور صحت کے لحاظ سے کمزور ہو رہے ہیں۔ ایک بچے کی دو سال کی عمر میں اونچائی ایک ایسا لیجر ہے جو بعد میں اپیل نہیں ہو سکتا۔ جو کمی آج ہو گئی، وہ اکثر زندگی بھر رہتی ہے۔
Stunting کیا ہے اور یہ کیوں خطرناک ہے؟
یہ دائمی غذائی کمی، بار بار بیماریوں (خاص طور پر اسہال)، ناقص صفائی اور ماؤں کی کمزور صحت کا نتیجہ ہے۔ اس سے صرف قد نہیں چھوٹا رہتا، بلکہ دماغی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت، مدافعتی نظام اور بعد کی زندگی کی پیداواریت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک stunted بچہ بڑا ہو کر کم کمائی کرتا ہے، زیادہ بیمار پڑتا ہے، اور معیشت پر بوجھ بنتا ہے۔
برازیل نے کیا کیا؟
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے “بولسا فیملیا” پروگرام کو مشروط بنایا۔ غریب خاندانوں کو نقد رقم دی جاتی تھی، لیکن شرط یہ تھی کہ:
• بچے باقاعدگی سے اسکول جائیں
• تمام ضروری ویکسین لگوائیں
• حاملہ خواتین قبل از پیدائش چیک اپ کروائیں
• بچوں کی باقاعدہ نشوونما کی نگرانی ہو
نتیجہ؟ غربت کم ہوئی، تعلیم اور صحت کے اشارے بہتر ہوئے، اور stunting سمیت کئی مسائل میں نمایاں کمی آئی۔ یہ ثابت ہو گیا کہ نقد امداد جب شرط کے ساتھ دی جائے تو وہ صرف پیٹ نہیں بھرتی، بلکہ مستقبل بھی سنوارتی ہے۔
پاکستان میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو فعال کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
BISP پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ پروگرام ہے۔ اسے stunting کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار بنایا جا سکتا ہے اگر اسے nutrition-sensitive اور مشروط بنایا جائے۔ مثلاً:
1. نقد امداد کی شرط: بچوں کی باقاعدہ نمو کی پیمائش (growth monitoring)، ضروری ویکسینیشن، اور 6 ماہ تک خصوصی دودھ پلانا۔
2. ماؤں کے لیے: حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے اضافی غذائی سپلیمنٹس اور antenatal care لازمی کرنا۔
3. تعلیم سے جوڑنا: لڑکیوں کی اسکول میں باقاعدہ حاضری کو ترجیح دینا (کیونکہ تعلیم یافتہ مائیں stunting کم پھیلاتی ہیں)۔
4. صفائی اور پانی: جہاں ممکن ہو، صاف پانی اور بنیادی صفائی کی سہولتوں تک رسائی کو بھی شرائط میں شامل کرنا۔
5. ڈیجیٹل نگرانی: موبائل یا بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے شرائط کی تکمیل کو شفاف طریقے سے چیک کرنا۔
یہ اقدامات نئے بجٹ کی بہت زیادہ ضرورت نہیں رکھتے۔ موجودہ BISP کے وسائل کو درست سمت میں موڑنے سے فرق پڑ سکتا ہے۔ دنیا بھر کے تجربات بتاتے ہیں کہ مشروط نقد امداد (Conditional Cash Transfers) stunting کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
آخر میں ایک سوال
ہم روزانہ سیاسی بحثوں میں الجھے رہتے ہیں، لیکن جو بچے آج stunted ہو رہے ہیں، وہ کل کے ٹیکس دہندہ، کسان، ڈاکٹر اور انجینئر ہیں۔ اگر ہم آج ان کے پہلے ہزار دنوں میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے، تو کل کوئی بھی معاشی منصوبہ مکمل کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
برازیل نے ثابت کیا کہ سیاسی ارادہ ہو تو تبدیلی ممکن ہے۔ پاکستان میں بھی BISP کو stunting کے خلاف ایک فعال اور مشروط پروگرام بنایا جا سکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم واقعی چاہتے ہیں؟
آج کے بچے کل کا پاکستان ہیں۔ ان کا قد چھوٹا رہ گیا تو ملک کا قد بھی چھوٹا رہ جائے گا۔
What we have already decided
We speak of the future as if it were open. This map suggests otherwise.
The children on it were under five when they were measured. In the 2040s they will run our farms, offices and factories; in the 2060s they will be the parents and taxpayers on whom an ageing country leans. Two in five of them are stunted. Whatever we choose to do now, for them this part of the future has already been decided, before they could choose anything.
A child’s height at two is a kind of ledger. It records, with no possibility of appeal, whether her mother ate, whether the water was clean, whether someone helped when she had diarrhoea, whether anyone thought she mattered enough to reach. The ledger in Gujrat reads one way. In Thatta it reads another. In Haripur and Kohistan, a hundred and fifty kilometres apart, the same province records two different countries.
We like to believe this is history, or geography, or poverty, things that happen to us. But the greenest districts were never the richest land. They were the places where girls went to school, where men found work beyond the village, where the state and the market arrived. The map is not a record of what nature gave us. It is a record of whom we chose to reach.
We are a society that discounts the future heavily. We defer, we borrow, we promise. But children cannot be deferred. The first thousand days do not wait for a better budget year.
Somewhere in Jamshoro a girl stunted in 2018 will be a mother by 2045. What we failed to give her, she will not be able to give her child.
The question this map asks is not about them. It is about us.
Hina retweeted
They will tell you the Arab world is divided because of tribalism.
Because of sectarianism.
Because of ancient hatreds between Sunni and Shia, Arab and Persian, dynasty and republic.
All of these divisions are real.
None of them are natural in the sense of being inevitable or ungovernable.
The Ottoman Empire governed the region for four centuries with more internal coherence than the post-colonial arrangement has managed in one.
What changed?
The borders changed.
The borders were redrawn, after the First World War, by Britain and France, building on the Sykes-Picot Agreement of 1916, a document explicitly designed to divide the region into spheres of external control rather than units of internal coherence.
The "ancient hatreds" were then poured into those new containers and sealed.
Tribalism didn’t fracture the Middle East.
Tribalism was the tool used to justify a fracture that was engineered for someone else’s benefit.
That someone else is still benefiting.
Hina retweeted
Parh lo warna parhana par jaye ga
! پڑھ لو ورنہ پڑھانا پڑ جائے گا
@ZindagiTrust @durbeenPK
Hina retweeted
A Public Service message
As a matter of principle never pick up or use a data USB which you accidentally find on a roadside. This can either corrupt your files/data or land you in trouble big time.
Thank you for your attention.





















