Pinned Tweet
Thank you, Qirtaas, for believing in my words. This recognition will always hold a special place in my journey. 🤍🤌🏻
@QirtasWrites
@halfaehalfhuman
@AribHashmi
@dilawar_azar
@mohsin39231079
@crescent7765
@naqsh_e_khamosh
@MohsinZafar888
@Z_a_r_i_16
@lostinnovel
@_SUM_786_
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
❀❣️✰﷽✰❣️❀
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللھم صل علی محمد وعلی وآل محمد
غلـــط ہو کــــر خُــــــود کو صحیــــح ثابــــت کرنـــا اُتنــــا مشکـــل نہیـــں جتنـــا صحیــــح ہو کــــر خُــــــود کو صحیــــح ثابــــت کرنـــا
صـــــــبح بخـــــیر
ہیپــی شیپـــی سنــــڈے
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
اے میرے محبوب
جب تیرا در میرے لیے بند ہو
تو مجھے اسکے در کی راہ مل جائے
جس نےتجھے حسن دیا
جس نےتجھے مجھ سے ملایا
اور جس نےتیرے دل میں
میرے لیے محبت نہیں رکھی
مجھے دعائیں دے
وفائیں بیشک نہ دے
میں اب کسی در سےخالی لوٹنے کے لیے نہیں
بلکہ اسی ایک در پر
اپنا سب کچھ لٹانے کے لیے ہوں
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
جب کوئی مرد ان روکے ہوئے آنسوؤں کو چھپانے کے لیے نظریں جھکا لیتا ہے،
تو دراصل وہ اپنے اندر کسی پوری کائنات کے ٹوٹنے کی آواز کو دبا رہا ہوتا ہے۔
#Dewtee #tee_vtp #ZeeNuNew #GMMTV #poetrycommunity #KGFChapter2
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
Replying to @QirtasWrites @Elaf_Writes
محترمہ ایلاف صاحبہ، آپ کی یہ قسط "نرگس کا سایہ" پڑھ کر دیر تک ایک گھٹن سی محسوس ہوتی رہی، کیونکہ آپ نے گھریلو جبر کو نہ نعرے کے ساتھ لکھا، نہ شکایت کے انداز میں، بلکہ صبح کی چائے، نمک کی مقدار، جوتوں کے ٹیڑھے پڑے ہونے اور بچے کے دو نمبروں جیسی معمولی لگنے والی تفصیلات میں اتار دیا۔ اور یہی آپ کی تحریر کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ ظلم یہاں چیخ کر نہیں، بلکہ ہر روز معمول بن کر آتا ہے۔
"تمہاری پرورش میں کوتاہی ہے ثمینہ۔ یہ لڑکا بڑا ہو کر کچھ نہیں بنے گا" یہ جملہ پڑھ کر یہی محسوس ہوا کہ سکندر کا ظلم صرف غصہ نہیں، ایک ایسا نظام ہے جو ماں کو بچے کے خلاف اور بچے کو ماں کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ اور ثمینہ کا جواب نہ دینا، "وہ جانتی ہیں کہ جواب دینے سے صرف شور بڑھتا ہے" یہ آپ نے بہت باریکی سے لکھا ہے، کیونکہ خاموشی یہاں کمزوری نہیں، بقا کی حکمت ہے۔ مگر اسی خاموشی میں بچے بھی بڑے ہو رہے ہیں اور وہی خاموشی ورثے میں لے رہے ہیں۔
آپ نے چائے کی تفصیل کو بہت خوبصورت علامت بنا دیا۔ سکندر کے لیے خاص چینی، اپنے لیے کم چینی کیونکہ "سکندر کو لگتا ہے کہ ثمینہ موٹی ہو رہی ہیں" یہ ایک جملہ پوری شادی کی تصویر کھینچ دیتا ہے۔ یہاں محبت نہیں، حساب ہے، اور وہ بھی وہ حساب جو ایک شخص دوسرے کے جسم، وقت اور خود اعتمادی پر لگاتا ہے۔ "پہلے تم بہتر بناتی تھیں" جیسے جملے دراصل تعریف نہیں، پرانی یادوں کا ہتھیار ہوتے ہیں جن سے انسان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
ہانی کا دروازے کے پیچھے کھڑے سننا، اس کے ہاتھوں کا کانپنا، اور وہ فون کا خوف جہاں وہ صرف اسائنمنٹ کا میسج کر رہی تھی، یہ آپ نے بہت نفسیاتی سچائی سے لکھا ہے۔ گھر میں جہاں ہر بات ثبوت مانگتی ہو، وہاں بچے سچ بولنا بھول جاتے ہیں، اور یہی سب سے بڑا نقصان ہے۔
"گوریا اپنے بچوں کے لیے دانہ لاتی ہے، پھر اڑ جاتی ہے۔ ہانی سوچتی ہے کہ گوریا کا گھر کتنا پرسکون ہے۔ کوئی چیختا نہیں۔ کوئی ڈانٹتا نہیں" یہ پیراگراف آپ کی تحریر کا سب سے نازک اور سب سے تکلیف دہ حصہ ہے۔ ایک بچی پرندے کے گھونسلے کو دیکھ کر اپنے گھر کا موازنہ کرے، یہی وہ خاموش المیہ ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
استاد رحمت کا کردار آپ نے بہت خوبصورت رکھا ہے۔ "پودوں کو زیادہ پانی نہیں دینا چاہیے۔ ورنہ جڑیں گل جاتی ہیں۔ انسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ حد سے زیادہ دباؤ محبت نہیں ہوتا" یہ جملہ آپ کی قسط کا فلسفیانہ مرکز ہے۔ آپ نے دکھایا کہ محبت اور دباؤ میں فرق کرنا کتنا ضروری ہے، اور یہ فرق اکثر وہ لوگ نہیں سمجھ پاتے جو اپنے دباؤ کو محبت کا نام دے دیتے ہیں۔ ثمینہ کا اس بات کو سوچنا مگر بات بدل دینا، یہاں آپ نے دکھایا کہ وہ جانتی تو ہے، مگر ابھی بولنے کی ہمت نہیں۔
سکندر کا کردار آپ نے یک رخا شیطان نہیں بنایا، اور یہی آپ کی تحریر کی پختگی ہے۔ "شادی کے پہلے سال وہ ہنس مکھ تھے۔ پھر کاروبار بڑھا، اور سکندر بدلتے گئے۔ وہ اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں" یہاں آپ نے ایک بہت ضروری نفسیاتی نکتہ چھیڑا کہ کچھ لوگ کامیابی کے ساتھ بدلتے ہیں، نہ کہ ناکامی کے ساتھ۔ اور ثمینہ کا یہ سوچنا کہ "سب کہتے ہیں کہ سکندر بہت کامیاب آدمی ہیں" یہ ظلم کی سب سے بڑی ڈھال ہے، باہر کی دنیا کی رائے۔
آپ کی قسط کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ گھریلو جبر اکثر ہلکی آواز میں آتا ہے، چائے کی کمی اور نمک کی مقدار میں۔ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ثمینہ اس اجنبی پر بھروسہ کرے گی؟ یہ سوال پڑھ کر یہی محسوس ہوا کہ آپ نے قاری کو نہ صرف کہانی میں باندھا ہے، بلکہ اسے ثمینہ کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ بہت گہری، ضروری اور خاموشی سے جھنجھوڑنے والی تحریر۔
#AdhouraAks
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
دھل گئی ایک اور شام، مگر خاموشی کا سایہ وہی رہا۔
کچھ شامیں واقعی اتنی بوجھل ہوتی ہیں کہ لگتا
ہے سورج کے ساتھ دل کا آخری حوصلہ بھی ڈوب رہا ہے۔
جب درد کا سفر لمبا ہو جائے تو دن کا ختم ہونا راحت کے بجائے ایک نیا سناٹا لے کر آتا ہے...
#DEWTEE
#BLYMPIC2026 #poetrycommunity
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
قسط ۱: نرگس کا سایہ
از قلم ایلاف
@Elaf_Writes
صبح کی پہلی کرن نے نیم کے درخت کے پتوں کو چھوا تو پرندے چہچہانے لگے۔ ثمینہ نے آنکھیں کھولیں اور گھڑی دیکھی۔ چھ بجے ہیں۔ سکندر صاحب اسی وقت اٹھتے ہیں۔ وہ جلدی سے چائے بنانے باورچی خانے کی طرف بڑھیں۔ راستے میں علی کا کمرہ پڑتا ہے۔ وہ ابھی سو رہا ہے۔ ثمینہ نے دروازے سے جھانکا تو دل بھر آیا۔ کل رات پھر سکندر نے علی پر چیخا تھا، صرف اس لیے کہ اس کے جوتے دروازے پر ٹیڑھے پڑے تھے۔
"تمہاری پرورش میں کوتاہی ہے ثمینہ۔" سکندر نے کل کہا تھا۔ "یہ لڑکا بڑا ہو کر کچھ نہیں بنے گا۔"
ثمینہ نے جواب نہیں دیا تھا۔ وہ جانتی ہیں کہ جواب دینے سے صرف شور بڑھتا ہے۔ وہ چائے بناتی ہیں۔ دو کپ۔ ایک سکندر کے لیے، خاص چینی کی مقدار کے ساتھ۔ ایک اپنے لیے، جس میں چینی کم ہے کیونکہ سکندر کو لگتا ہے کہ ثمینہ موٹی ہو رہی ہیں۔
سکندر آتے ہیں۔ کرسی کھینچتے ہیں۔ اخبار اٹھاتے ہیں۔ ثمینہ چائے رکھتی ہیں تو وہ بغیر دیکھے پی لیتے ہیں۔
"آج کل مجھے تمہاری چائے میں کچھ کمی لگتی ہے۔" سکندر کہتے ہیں۔ "پہلے تم بہتر بناتی تھیں۔"
ثمینہ مسکرانے کی کوشش کرتی ہیں۔ "کل سے دھیان دوں گی۔"
"دھیان؟ تمہارا دھیان تو ہانی کی شادی پر ہونا چاہیے۔ وہ ابھی تک اپنے کمرے میں سو رہی ہے۔ لڑکیوں کو جلدی اٹھنا چاہیے۔"
ہانی دروازے کے پیچھے کھڑی سن رہی ہے۔ وہ سولہ سال کی ہے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ اگر وہ ابھی سامنے آئی تو باپ پوچھیں گے کہ رات کو دیر تک فون پر کس سے بات کر رہی تھی۔ حالانکہ وہ کل رات اپنی سہیلی کو اسائنمنٹ کے بارے میں میسج کر رہی تھی۔
گھر کے باہر پرانا درخت ہے۔ اس پر ایک گوریا نے گھونسلا بنایا ہے۔ ہانی کو وہ گوریا بہت پسند ہے۔ وہ روز صبح اسے دیکھتی ہے۔ گوریا اپنے بچوں کے لیے دانہ لاتی ہے، پھر اڑ جاتی ہے۔ ہانی سوچتی ہے کہ گوریا کا گھر کتنا پرسکون ہے۔ کوئی چیختا نہیں۔ کوئی ڈانٹتا نہیں۔
اسی گلی میں استاد رحمت رہتے ہیں۔ ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ وہ روز صبح درختوں کو پانی دیتے ہیں۔ انہوں نے ثمینہ کو کئی بار دیکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس گھر میں کچھ ٹھیک نہیں۔ ایک دن انہوں نے ثمینہ سے کہا تھا: "بیٹا، پودوں کو زیادہ پانی نہیں دینا چاہیے۔ ورنہ جڑیں گل جاتی ہیں۔ انسانوں کا بھی یہی حال ہے۔ حد سے زیادہ دباؤ محبت نہیں ہوتا۔"
ثمینہ نے صرف مسکرا کر بات بدل دی تھی۔ لیکن وہ اکثر استاد رحمت کی بات سوچتی ہیں۔
شام کو سکندر گھر آتے ہیں تو موڈ خراب ہوتا ہے۔
"آج اسٹاف نے پھر غلطی کی۔ میں نے سب کو ڈانٹا۔ یہ لوگ کام کرنا نہیں جانتے۔"
ثمینہ کھانا لگاتی ہیں۔ سکندر پہلا نوالہ لیتے ہیں اور کہتے ہیں: "نمک کم ہے۔"
ثمینہ کہتی ہیں: "میں نے آپ کے والدہ کے نسخے کے مطابق ہی ڈالا ہے۔"
"میری والدہ کو کیا پتہ کھانا کیسے بنتا ہے؟ بس تم بہانے بناتی ہو۔"
علی دھیرے سے کہتا ہے: "ابو، کھانا اچھا ہے۔"
سکندر کی نظر علی پر پڑتی ہے۔ "تم سے کس نے پوچھا؟ تمہارا کام پڑھائی ہے۔ کل تمہاری ٹیسٹ رپورٹ آئی ہے۔ تم نے دو نمبر کم لیے ہیں۔ مجھے شرمندہ کرتے ہو۔"
علی کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ وہ کھانا چھوڑ کر اٹھ جاتا ہے۔ ثمینہ کچھ کہنے لگتی ہیں مگر سکندر غصے سے دیکھتے ہیں تو وہ خاموش ہو جاتی ہیں۔
رات کو ثمینہ چھت پر جاتی ہیں۔ آسمان پر تارے ٹمٹما رہے ہیں۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ سکندر پہلے ایسے نہیں تھے۔ شادی کے پہلے سال وہ ہنس مکھ تھے۔ پھر کاروبار بڑھا، اور سکندر بدلتے گئے۔ وہ اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی ان کی بات نہ مانے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ ثمینہ نے کئی بار سوچا کہ وہ کسی سے بات کریں، مگر کس سے؟ سب کہتے ہیں کہ سکندر بہت کامیاب آدمی ہیں۔
اچانک نیچے سے سکندر کی آواز آتی ہے: "ثمینہ! تم وہاں کیا کر رہی ہو؟ دیر ہو گئی ہے۔ کل ہانی کو کالج لے جانا ہے، ٹھیک سے تیار کرنا۔"
ثمینہ اٹھتی ہیں۔ پرندے اب خاموش ہیں۔ رات کے اندھیرے میں درخت ایک سائے کی طرح کھڑا ہے۔
اگلی قسط میں: سکندر کے دفتر میں ایک نیا منیجر آتا ہے جو سکندر کی اصلیت پہچان لیتا ہے۔ اور ثمینہ کو ایک اجنبی کا فون آتا ہے جو کہتا ہے: "میں جانتا ہوں تمہارے شوہر کیوں ایسے ہیں۔" کیا ثمینہ اس شخص پر بھروسہ کرے گی؟
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
مجھے وہ لوگ بہت اچھے لگتے ہیں
جو ہر حال میں اپنے ہی رہتے ہیں
نہ وقت کے ساتھ بدلتے ہیں
نہ مطلب کے ساتھ جن کی باتوں میں سچائی اور دل میں اخلاص ہوتا ہے
ایسے لوگ زندگی کا خوبصورت سرمایہ ہوتے ہیں ۔
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
"جب تم مجھے چھوڑ دو گی ناں!
تو میں اپنی اور تمہاری کہانی لکھوں گا"
"تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں چھوڑ دونگی؟"
"ہاں ہوتا تو ایسا ہی ہے ناں!
عموما لوگ چھوڑ ہی جاتے ہیں اپنا عادی بنا کر"
"اچھا! لیکن میں تو تمہیں مر کر بھی نہیں چھوڑنے والی، مجھے تو وہاں بھی تم ہی چاہیے ہوگے" 💔
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
Replying to @QirtasWrites @AribHashmi
لدا ہوا تھا محبت کے بار سے آرب
ثمر گرے تو شجر کا جھکاؤ ختم ہوا
محترم آرب ہاشمی صاحب کا لکھا یہ شعر اپنے اندر ایک بہت گہری اور نرم سی حقیقت رکھتا ہے ( سمجھنے والوں کے لیے )۔
درخت جب پھل سے لدا ہوتا ہے تو اس کا جھکاؤ اس بوجھ کی نشانی ہوتا ہے۔ عاجزی نہیں، بلکہ وہ جھکاؤ جو محبت اور ذمہ داری سے آتا ہے۔ اور جب پھل گر جاتے ہیں، تو درخت سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے، مگر اس کی وہ جھکی ہوئی شان بھی ختم ہو جاتی ہے۔
آپ نے محبت کے بار سے لدے انسان کو اسی درخت سے تشبیہ دی ہے۔ محبت کا بوجھ انسان کو جھکا دیتا ہے، اسے نرم، عاجز اور دوسروں کے لیے سایہ دار بنا دیتا ہے۔ اور جب وہ محبت ہی ختم ہو جائے، تو انسان سیدھا کھڑا تو ہو جاتا ہے، مگر وہ جھکاؤ، وہ نرمی اور وہ سایہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
کبھی کبھی محبت کا بوجھ ہی انسان کو خوبصورت بناتا ہے، اور اس بوجھ کا اتر جانا ایک ایسی سیدھی کمر ہے جس میں وہ بات ہی نہیں رہتی جو جھکے ہوئے درخت میں تھی۔
اللہ کرے آپ کے دل پر محبت کا بوجھ ایسا ہو جو آپ کو جھکا کر بھی سایہ دار بنائے، اور اگر وہ اترے بھی تو آپ کی نرمی اور عاجزی اس کے ساتھ نہ اترے۔
آمِیْن ثم آمِیْن یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ یااللّه یا غَفُورُ الرَحِیم یا ارحم الراحمین بجاہ یا شفیع المذنبین آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
#AdhouraAks
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
Replying to @QirtasWrites
"روزنِ قرطاس" کی یہ تحریر پڑھتے ہوئے دل میں ایک عجیب سی خاموشی اتری اور خاموشی کے ساتھ اُس گہرائی کو محسوس کیا جہاں الفاظ فقط سیاہی نہیں احساس چھوڑتے ہوئے جذبات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
واقعی کچھ سوال کاغذ پر نہیں اترتے، وہ انسان کے رویے میں چھپ جاتے ہیں، اس کی خاموشی میں بس جاتے ہیں، اور کبھی اُن رشتوں کے بیچ چھوڑ دیے جاتے ہیں جہاں الفاظ کی کمی کبھی نہیں ہوئی۔
اور یہ بات بھی سچ ہے کہ ہم دوسروں کے چہروں پر لکھی اداسی پڑھ لیتے ہیں، مگر اپنی ذات کے اندر اترنے سے گھبراتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ دوسروں کا دکھ سہل ہوتا ہے، اور اپنا دکھ آئینہ ہوتا ہے۔
آپ کا سوال بہت گہرا ہے: اگر زندگی کا کوئی ایک لمحہ دوبارہ جینے کا موقع ملے تو کون سا چنیں گے؟ شاید سب سے پہلے وہ لمحہ چنیں گے جب ہم خود کو پہچانتے تھے، اور پھر وہ ادھورا مکالمہ پورا کریں گے جو آج تک خاموشی میں دبا ہوا ہے۔
قرطاس! الفاظ سے احساس تک، یہ سفر خوبصورت ہے، اور یہ تحریر اس سفر کا ایک روشن صفحہ ہے۔
#AdhouraAks
_ 𝐸𝑙𝑎ف _ ⟅𓆪 retweeted
آنسو سے بھیگے پلکوں پہ جو خواب ادھورے رہتے ہیں
لفظوں سے بیاں جو ہو نہ سکے، وہ درد سنبھالے رہتے ہیں
#bbtvi #2026MAMAVOTE️ #Urdu #Poetry
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہیں
کبھی ہم نے ان کے ہیں صدقے اتارے
کسی کو تھا دعویٰ وفا کا، سو ہم نے
درِ یار پہ اپنے سر بھی کٹائے
نہ تھی ہم کو دنیا کی رغبت کبھی بھی
تمہاری ہی خاطر تھے دامن پھیلائے
میں نے دیکھا تھا اس کو جاتے ہوۓ
بس وہ ،، منظر،، ٹھہر گیا مجھ میں
اب تو میں اس سے روٹھتا بھی نہیں
ہاۓ اک شخص ،، مر ،، گیا مجھ میں























