Sharafat Rana retweeted
معصوم سا سوال دل میں ہے، کیا بیوراکریسی سیاسی قیادت سے زیادہ سیانی ہوتی ہے؟ جہاں تک میرا جواب ہے — ہر گز نہیں!
پھر پنجاب حکومت چار وزرا اور چالیس بیوراکریٹس پر کیوں انحصار کرتی ہے ؟
Sharafat Rana retweeted
وفاقی حکومت نے وزیر خزانہ اورنگ زیب رمدے کے برادر نسبتی اور چچا زاد بھائی، مصطفی رمدے کو پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) بورڈ کا چیئرمین مقرر کر دیا۔ مصطفی رمدے سابق جسٹس سپریم کورٹ خلیل الرحمن رمدے کے صاحبزادے، سابق چئیرمین پی آئی اے چوہدری احمد سعید کے داماد، وفاقی سیکرٹری عامر علی احمد اور سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم کے ہم زلف ہیں۔ اس سے پہلے 2013 میں شہباز شریف نے انہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی مقرر کیا تھا۔
Sharafat Rana retweeted
سرجی آپ اس خوش قسمت لاڈلے بزنس مین/فرنٹ مین کو ڈھونڈیں جسے اس بلڈنگ کا کنٹرول دینا ہے جو اسے ہوٹل بنا کر چلائے گا۔ حیرانی ہے جو عمارت سیکورٹی خدشات پر غیرقانونی تھی وہاں اب فائیو اسٹار ہوٹل چلے گا۔ ہزاروں لوگ آیا جایا کریں گے۔
عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں کہ اس کے پیچھے لاہور کے کون سے گروپ اور پارٹیاں ہیں۔ کچھ دن صبر۔۔ سب کچھ سامنے آجائے گا۔
”اصل سوال یہ ہے کہ اگر عمارت کی اجازت غلط دی گئی تھی تو یہ اجازت کس نےدی اور کیوں دی؟ حکومت کی منظوری دیکھ کر عام شہری اپنی زندگی کی جمع پونجی سرمایہ کاری میں لگا دیتے ہیں لیکن بعد میں جب تعمیرات غیر قانونی قرار پاتی ہیں تو سارا نقصان سرمایہ کاروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کراچی کے نیسلہ ٹاور سمیت کئی عمارتیں اس کی مثال ہیں، جہاں لوگوں کو معاوضہ بھی نہیں ملا۔ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی اور حکومت پہلے ایسی منظوریوں کو روکنے میں ناکام کیوں رہتی ہے؟“
سینیٹر علی ظفر
#TeamAliZafar
Sharafat Rana retweeted
ٹکرز
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قادر مندوخیل کا وزارتِ صحت میں ساڑھے 10 ارب روپے کے مبینہ ویکسین ٹھیکہ اسکینڈل پر شدید ردعمل
وزارتِ صحت میں ساڑھے 10 ارب کا میگا کرپشن اسکینڈل وفاقی حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے، قادر مندوخیل
ساڑھے 10 ارب روپے کے میگا اسکینڈل
Sharafat Rana retweeted
Often mocked for not conforming to a colonial elitest, Senator Sehar Kamran is raising one of the most important issues at the most appropriate forum. Cotton output has fallen from its 14 bales during the last PPP federal government by about 60% under successive PMLN, PTI Ladla regimes.
Sindh has overtaken Punjab in cotton output since 2023.
In today’s National Assembly Question Hour, I asked why 391 seed company registrations were cancelled yet the Ministry could not cite a single conviction or penalty collected. I also highlighted that, as per various market surveys, around 90% of cotton continues to be sown with unapproved and substandard seed.
The reply completely ignored this reality and offered no explanation for why farmers are still not receiving certified seed. On fertiliser, the Parliamentary Secretary only blamed the Middle East crisis for high DAP and urea prices, while remaining silent on the billions in profits earned by fertiliser companies that continue to receive heavily subsidised gas, yet no relief for farmers.
The ground reality is stark: cotton area has already fallen over 12% in just one year and overall production is down nearly 60% in the last decade. Textile mills are closing and thousands of jobs are at risk.
Farmers are paying higher input costs and getting lower yields. The reply offered no accountability, no data on enforcement outcomes, and no concrete plan to protect either the farmer or the textile value chain.
We need answers, not excuses.
@NAofPakistan @GovtofPakistan @APTMAofficial
@FoodSecurityPK
@PresOfPakistan @CMShehbaz
#CottonCrisis #FarmersRights #TextileIndustry #NationalAssembly
Sharafat Rana retweeted
دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت 489 ارب سے بڑھ کر 1121 ارب، داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت 486 ارب سے بڑھ کر 1740 ارب روپے ہو چکی ہے
تاخیر اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کا خمیازہ عوام ٹیکسز اور مہنگی بجلی کی صورت میں بھگت رہے ہیں، کسی کو کچھ خبر؟
راول پنڈی رنگ روڈ کی بھی کہیں کوئی خبر نہیں ملتی جس کی لاگت میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے اور چھ مرتبہ افتتاح کی تاریخ بھی آگے بڑھی ہے، لاگت کا ابتدائی تخمینہ 26 ارب تھا اب 58 ارب پر ہے
اربوں روپے کی یہ نااہلی اور لاگت میں اضافہ کس کا قصور ہے؟ سندھ حکومت کا نہیں ہے اس لئے انسانی اور مشینی اسکرینوں پر خاموشی چھائی ہے
سادہ تختیوں پر جب کوئی درج کرے گا تب شور ہو گا۔
سینئر صحافی اکرم خان کی فیس بک وال سے لی گئی تحریر۔
@AKRAMJANG
Sharafat Rana retweeted
جب پنجاب میں پہلے خواتین تہمبند پہنتی تھی۔ وقت کے ساتھ کھیتی باڑی میں مردوں کی مدد اور گھریلو کام کاج میں شلوار قمیض ذیادہ بہتر لگی تو وہ کلچر بنا۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے لگی تو عبایا ایک حصہ بن کر سامنے آیا۔ اب سکوٹی والی بچیاں ٹروزر اور کھلی شرٹس کو prefer کر رہی تو یہ خواتین کا کمفرٹ زون ہے وہ کام کے لحاظ سے جو مناسب لگتا وہ کپڑے پہن رہی
Sharafat Rana retweeted
مجھے اگر کسی بات یا اس کے مختلف پہلوؤں کا علم نہ ہو تو میں نہیں لکھتا جب تک کہ جان سمجھ نہ لوں
لیکن تقریبا تمام ہی معروف تجربہ کاروں میں یہ گنگا الٹی بہتی ہے
خالی ڈبہ زور کی آواز
ساکھ اور وقار گیا تیل لینے
Sharafat Rana retweeted
یہ دلیل تو آپ نے رد کر دی تھی جب ملتان میں بچے کو کچلنے والے کو راتوں رات سی سی ڈی سے مروادیااس نے کہا تھا کہ اس کی نیت بچہ مارنے کی نہی تھی صرف پیچھا کر رہا تھا وہ نہی مانی گئی
آج اس کو سی سی ڈی سے مارنے کی حمایت کرنے والے کہہ رہے پتلو کی نیت لوگ مارنے کی نہی تھی
قانون نیت نہی نتائج پر چلتا ہے
اسٹیبلشمنٹ کے نمک میں اثر نہیں ؟ اسٹیبلشمنٹ یہ نمک گھر سے لائی تھی ؟ یہ نمک کس کا تھا ؟ یہ نمک اس غریب قوم کی کمائی ہے یا اس پر چڑھا قرض، جو وہ اتارتی رہے گی۔
حیرت کا لفظ چھوٹا ہے کہ وہ قوم زیر بحث ہی نہیں نہ کوئی ماتم کرنے کو باقی ہے کہ دراصل یہ قوم ہے جس کے نمک میں برکت نہیں۔ اس قدر لاعلمی، اس قدر بے حسی، اس درجے کی بے بسی ؟
رسمی طور پر بھی اب قوم کا کوئی مسلہ زیربحث نہیں، مہنگائی ایسی کہ سبزی دال تک خواب ہوئی، بیروزگاری، بجلی کے بل، آتی سردی میں غریب کا بچاو ؟ کوئی خبر نہیں۔ بس اشراف کی خبریں، چیختی چلاتی تقریریں جو ایک طاقتور دوسرے کے خلاف کرتا ہے یا اس کا جواب۔
قوم کا پیسہ ہے یہ جو مالک ہے اس ملک کی مگر اب یہ کس کو یاد ہے ؟ اس قوم تک کو نہیں جو حق ملکیت کھو چکی۔
Sharafat Rana retweeted
کتابوں سے علم نہیں تصویر بنانا سکھایا ہے
مریم نے کالج کو بھی دربار بنایا ہے!
@NadeemAfzalChan
Sharafat Rana retweeted
سر سکول ایجوکیشن میں کام قطعا باقی محکموں کی طرح نہیں ہوتا۔ وہاں مجموعی بجٹ ذیادہ لگتا لیکن سکولز کے حصے میں جا کر وہ بہت کم ہو جاتا ۔ وہاں گنجی نہائے کیا نچوڑے کیا والا حساب یے۔کوٹیشن لینا بیچارے ہیڈز کو دی گئی مالیاتی گائیڈ لائن کے مطابق ہے۔ وہاں کام ایسے ہوتے جیسے روزمرہ گھر میں عموما اس کو پھر بیچارے ہیڈز کوٹیشن میں مینج کر دیتے کبھی پانی کی ٹوٹی بچے توڑ آئے۔ کبھی فلش خراب ، کبھی جھاڑو فنیائل منگوا لی۔
کبھی سوئچ ٹوٹ گیا کبھی پنکھا جل گیا۔ کبھی موٹر چوری ہوگئی۔ کبھی بچوں کو رکشے کروا کر مقابلے پر بھیجنا پڑ گیا۔
کبھی فرنیچر توڑ دیا
کبھی امتحان کے لئے سنٹر جانا پڑ گیا کبھی کتابیں لانے کے لئے رکشہ کروانا پڑ گیا
کبھی بیچارے فوٹو کاپی کرو کر ڈیٹا دینے چل پڑے۔ اب ان کاموں کے وہ ٹینڈر دیا کریں؟۔ کرپشن نہ کہا کریں اس کو ہمارا دل دکھتا۔ کبھی 14 اگست کبھی تھیم آف دا منتھ کے بارے خریدنے چل پڑے
@AhmadIqbalCh
Sharafat Rana retweeted
مسک فراڈی کا ٹویٹر پہلے کرپٹو کے فراڈی اشتہاروں سے بھر ا ہوتا تھا ، گھنٹے بعد نیا کوائن لانچ ہوتا تھا ، اب ووہی حال اے آئی والوں نے کر دیا ہے۔ گولڈن ٹک کے ساتھ ہر دس سیکنڈ بعد نیا انقلابی ٹول ایجاد ہوتا ہےاور اشتہار ہوتا ہے۔
سب کرپٹو انفلوئنسر ساتھ اب اے آئی انفلوئنسر بن گئے۔
Sharafat Rana retweeted
جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفے کا فیصلہ یقیناً پہلے کر لیا ہوگا، مگر سپریم کورٹ بار کی پولنگ سے محض 20 گھنٹے پہلے استعفیٰ دینا انتہائی معنی خیز ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹائمنگ محض اتفاق ہے یا پی ٹی آئی کے سینئر وکلا کو مشتعل کرکے پولنگ پر اثرانداز ہونے کی کوشش؟ آج شام نتائج واضح کر دیں گے کہ یہ چال کامیاب ہوئی یا الٹی پڑ گئی!
Sharafat Rana retweeted
حسن بھائی ایک عاجزانہ اور مخلصانہ تجویز ہے کے ڈاکٹر فرید الظفر جیسے سینیئر سینزنڈ شخصیت کو پیپلز ڈاکٹرز فورم کا پنجاب کا صدر بنا دیں یقین جانیں پیپلز ڈاکٹرز فورم میں پارٹی کی سب سے متحرک تنظیم بن جائیگی اور ان رہنمائی میں ہم پنجاب کے ڈاکٹرز کے مسائل احسن طریقے سے حل کر سکتے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی سے جنرل سیکرٹری پی پی لاہور ڈاکٹر عائشہ شوکت،ڈاکٹر سردار فرید الظفر کی ملاقات
ملاقات میں پارٹی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال سیکرٹریٹ میں تزئین و آرائش کا جائزہ لیا
@BBhuttoZardari
@HassanMurtaza96
@SurgeonAyesha
Sharafat Rana retweeted
طلعت حسین کا سرفراز بگٹی پر اعتراض کے بعد پتا لگ جانا چاہیے یہ کس کی ڈائریکشن لیتا ہے۔۔۔
صحافت بس ایسی ہی رہ گئی ہے۔۔۔
صوبے کا چیف ایگزیکٹو کسی پر بھی تنقید کا حق تو رکھتا ہے، میں اتنا کوئی فین سرفراز بگٹی کا بھی نہیں۔۔۔کیوں کے بلوچ لوگ ان کو پسند نہیں کرتے۔۔۔
Sharafat Rana retweeted
ملک کے وفاقی اداروں کو شہریوں کو معلومات کی فراہمی کے احکامات جاری کرنے والا پاکستان انفارمیشن کمیشن اپنے دفتر کی معلومات دینے سے خوفزدہ ہے۔
دو بنیادی سوالات تھے۔
موجودہ کمیشن کی مدت جنوری 2027 میں ختم ہورہی ہے۔ کیا کمیشن نے تحریری طور پر وزارت اطلاعات کو اس حوالے سے آگاہ کردیا ہے؟ تاکہ کمیشن کے نئے ممبران کی تقرری کا عمل بروقت شروع کیا جاسکے۔
جواب صرف ہاں یا نہیں تھا🤣
سابقہ کمیشن ممبران نے اپنی مدت پوری ہونے سے قبل وزارت اطلاعات کو جو خطوط لکھے تھے ان کی کاپیاں فراہم کی جائیں۔
جبکہ یہ لیٹر ریکارڈ کا حصہ ہے 😁
پاکستان انفارمیشن کمیشن کا جواب،
یہ سوالات معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت پبلک ریکارڈ نہیں ہے۔ اور کمیشن کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ موجودہ کمیشن سابق وفاقی سیکرٹری شعیب احمد صدیقی اور سابق جج اعجاز حسن اعوان پر مشتمل ہے ۔
Sharafat Rana retweeted
🚨 حامد میر کا گلبرگ گرینز میں چھ کنال کا فارم ہاؤس: ثبوت ،دستاویزات، مبینہ فوائد اور چند اہم سوالات!
حامد میر صاحب نے صحافیوں پر خفیہ اداروں سے مالی فوائد حاصل کرنے اور ان کے ایجنڈے کے مطابق لکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اگر صحافت میں مالی مفادات، ادارہ جاتی تعلقات اور مراعات سوالات اٹھانے کا موضوع ہیں، تو پھر یہی اصول ہر صحافی پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
حامد میر صاحب اس وقت مبینہ طور پر تقریباً ایک ارب روپے مالیت کے چھ کنال کے فارم ہاؤس میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حوالے سے دستیاب دستاویزات پر چند اہم سوالات سامنے آتے ہیں، جن کے جوابات عوام کے سامنے آنے چاہییں۔
معاملہ کیا ہے؟
گلبرگ گرینز، اسلام آباد میں واقع سول خفیہ ایجنسی انٹیلجنس بیور کی ہاوسنگ سوسائٹی ہےدستیاب دستاویزات کے مطابق، حامد میر صاحب نے 12 مار 2014 کو چھ کنال کا ایک فارم ہاؤس پلاٹ الاٹ ہوا ، جو سیکٹر ڈی میں واقع تھا۔ یہ سیکٹر نسبتاً غیر آباد بتایا جاتا ہے۔
بعد ازاں، عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں، 23 ستمبر 2022 کو مبینہ طور پر یہ پلاٹ سیکٹر ڈی سے منتقل کرکے سیکٹر اے میں کر دیا گیا۔ سیکٹر اے کو سوسائٹی کا اہم اور مہنگا علاقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں اعلیٰ فوجی افسران کی رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ اسی علاقے کے قریب سابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی رہائش گاہ ہے
اس معاملے میں درج ذیل سوالات کے جواب ضروری ہیں:
1۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینے کی بنیاد کیا تھی؟
حامد میر صاحب، اگر آپ خود کو اصول پسند اور آزاد صحافت کا علم بردار سمجھتے ہیں، تو ایک ایسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھ کنال کا پلاٹ خریدنے کی ضرورت اور اس کی بنیاد کیا تھی، جس کا تعلق خفیہ ایجنسی سے ہے؟ کیا یہ پلاٹ عام کمرشل یا اوپن مارکیٹ خریداری کے ذریعے حاصل کیا گیا، صحافیوں کے کسی مخصوص کوٹے کے تحت ملا، یا کسی خصوصی رعایت یا تعلق کی بنیاد پر حاصل ہوا؟ اگر کوئی خصوصی کوٹا یا رعایت تھی، تو اس کی شرائط کیا تھیں؟
2۔ پلاٹ کی اصل قیمت اور منی ٹریل کیا ہے؟
یہ پلاٹ کس قیمت پر خریدا گیا؟ خریداری کے وقت اس کی سرکاری اور مارکیٹ ویلیو کیا تھی؟ ادائیگی کس ذریعے سے کی گئی، اور کیا اس کی مکمل مالی دستاویزات اور منی ٹریل موجود ہیں؟ اگر آج اس فارم ہاؤس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے، تو اس مالیت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا؟ پلاٹ کی قیمت اور اس پر تعمیرات کی لاگت کو الگ الگ واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
3۔ سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقلی کیسے ہوئی؟
یہ اس معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔ سیکٹر ڈی اور سیکٹر اے کی زمین کی قیمت، محلِ وقوع اور اہمیت میں نمایاں فرق بتایا جاتا ہے۔ یہ فرق تقریباً ایسا ہے جیسے اسلام آباد میں کسی شخص کا پلاٹ آئی ٹین سے منتقل کرکے ایف 6 مارگلہ روڈ میں دے دیا جائے۔
اگر پلاٹ واقعی سیکٹر ڈی سے سیکٹر اے میں منتقل کیا گیا، تو اس منتقلی کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟ کیا یہ معمول کی پالیسی کے تحت ہوئی یا کسی خصوصی منظوری سے؟ کیا دونوں سیکٹرز کے درمیان قیمت کے فرق کی ادائیگی کی گئی؟ کیا اس منتقلی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری، بورڈ کی کارروائی اور دیگر ضروری دستاویزات موجود ہیں؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہی سہولت عام الاٹیز کو بھی دستیاب ہے، یا یہ کسی خاص فرد کے لیے خصوصی رعایت تھی؟
4۔ مختلف ادوار میں مبینہ فوائد اور طاقت ور حلقوں سے تعلقات کی وضاحت کیا ہے؟
حامد میر صاحب، آپ کے ناقدین آپ اور آپ کے خاندان کے مختلف فوجی ادوار میں مبینہ فوائد اور سرکاری اداروں سے وابستگیوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے:
* آپ کی اہلیہ مشرف دور میں پی ٹی وی سے وابستہ تھیں، اور آپ کی بیٹی کے بھی موجودہ دور میں پی ٹی وی پر آنے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان تقرریوں یا مواقع کی نوعیت اور بنیاد کیا تھی؟
* آپ کے بھائی نگران حکومت کے دور میں وزیر بنے۔ ان کی تقرری کا پس منظر کیا تھا؟
* آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ جنرل قمر جاوید باجوہ سے طویل ملاقاتیں کرتے اور انہیں مشورے دیتے تھے، حتیٰ کہ ایک ملاقات آٹھ گھنٹے جاری رہنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقصد کیا تھا؟
* ان تمام معاملات کی روشنی میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ نے کسی دور میں کسی قسم کی خصوصی رعایت، سہولت یا فائدہ حاصل کیا؟
آزادیٔ صحافت کا تقاضا صرف دوسروں سے سوال کرنا نہیں، بلکہ اپنے بارے میں اٹھنے والے جائز سوالات کا جواب دینا بھی ہے
Sharafat Rana retweeted
اس پارک کو یر صورت بچانا چاہیے۔ اس درخت کے علاوہ کچھ اور ڈویلپمنٹ کرنے کی اجازت امید ھے نہی دی جاے گی۔
تحریر/ خواجہ مظہر اقبال
اسلام آباد F-9 فاطمہ جناح پارک جنوبی ایشیا کا تیسرا سب سے بڑا شہری پارک ہے اس کا رقبہ 750 ایکڑ ہے .میرے تجربے کے مطابق یہاں پر 250 سے زائد اقسام کے پودے موجود ہیں اور کم از کم تخمینے کے مطابق 2 لاکھ سے زائد درخت پودے نباتات موجود ہیں۔
اس پارک کا 90 فیصد حصہ گرین ہے۔ اور قدرتی ایکو سسٹم کی وجہ سے انسانی رسائی سے محروم بھی ہے اور یہ ایک نیچرل ہیبٹاٹ ہے۔
اسلام آباد شہر کی آبادی 10 لاکھ ہے لیکن صرف اسلام اباد کے ایف نائن پارک میں دو لاکھ سے زائد درخت اور نباتات ہیں اور 50 ہزار سے زائد پرندے اور دیگر جانور موجود ہیں۔ شہد کی مکھیوں تتلیوں اور ماحول دوست حشرات کی تعداد تو کروڑوں میں ہے۔
پرندوں کی 100 سے زائد اقسام انداز تعداد 10 ہزار حشرات شہد کی مکھیاں تتلیاں وغیرہ 1,400 اقسام اندازا تعداد 3 کروڑ سے زائد ممالیہ 35 اقسام اندازا 8000 رینگنے والے 34 اقسام 5,400 سے زائدمینڈک ، پانی کے جاندار 50 اقسام تعداد 10 ہزار ۔ یعنی کل ملا کر 1600 سے زائد پرندوں اور جانوروں کی اقسام کے 50 ہزار سے زائد تعداد میں زندگیاں موجود ہیں۔
حشرات اور تتلیاں اور شہد کی مکھیاں تو کروڑوں میں ہیں۔
اسلام اباد کا F-9 Park ان لاکھوں کروڑوں جانداروں کا گھر ہے۔جب اس پارک میں رات کو روشنی ہوگی تو یہ جاندار ہجرت کر جائیں گے۔ جب درختوں کی کچی زمین پر انسان زیادہ چلیں گے تو حشرات مریں گے۔ درختوں کی سالانہ ری جنریشن اور بڑھوتری ختم ہو جائے گی۔
جب آپ زمین کھود کے کنکریٹ ڈالیں گے تو اس پارک کے 90 فیصد حصے کو بارش کا پانی لگتا ہے اور یہ پارک زندہ رہتا ہے ان میں پانی کہاں سے جذب ہوگا۔
کہانی مختصر اگر انسانوں کے لیے نہیں تو کم از کم خدا کی اس بے زبان مخلوق کے لیے اس پارک کو اکیلا چھوڑ دیں ۔
Khawaja Mazhar
Save the trees
Save the water
@CDAthecapital @CMShehbaz @MohsinnaqviC42 @SohailAshrafGor @sherryrehman @PalwashaKhan18 @betterpakistan @DrMusadikMalik @PakEPAIslamabad































