Ahmed Omair retweeted
پنجاب میں اس وقت کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ مسلم لیگ ن کی ہماری قیادت کے خلاف بدزبانی کی وجہ سے این اے 77 میں ن لیگ نہیں بلکہ مرکزی مسلم لیگ کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ پریس کانفرنس مسلم لیگ ق گوجرانولہ کے صدر اسحاق گجر نے کی تھی۔ جس کے بعد مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کا شکریہ بذریعہ ٹیلی فونک کال ادا کیا تھا۔
Ahmed Omair retweeted
ترکی کے تیل اور گیس کے لیے سایزمک سروے کرنے والیے جہاز کی دو مہینے کی تاخیر کے بعد آمد کی خبریں ہیں۔ ہم تو ترک پیٹرولیم منسٹری کے اس بیان کے بعد نا امید یو چلے تھے کے پاکستان میں تیل و گیس کے کام میں 6 ماہ کی تاخیر ہو گئی ہے۔
یہاں وزارت پیٹرولیم کا یہ حال ہے کہ جہاز کے آنے پر یوں خوش ہیں جیسے تیل نکل آیا ہو۔ اس شعبے میں گوورننس کی بدحالی کے سبب متعدد ناکامیوں کے بعد ان کا یوں بغلیں بجانا بنتا،ہے۔
گہرے سمندروں میں
سفر کر رہے ہیں ہم
Ahmed Omair retweeted
پاکستان کے حالات کا اندازہ لگا لیں۔۔
فیصل آباد میں ٹی سی ایس کے ملازم نے پولیس کو کال کی کہ نامعلوم ڈاکو اس سے 70 ہزار روپے اور موبائل فونز چھین کر لے گئے ہیں۔
پولیس آئی تو موقع کے حالات مشکوک محسوس ہوئے تو ملازم سے پوچھ گچھ کی، تھوڑا دباؤ ڈالا تو وہ مان گیا کہ اس نے ڈکیتی کا ڈرامہ کیا کیونکہ اس کا بجلی کا بل 30 ہزار روپے آیا ہے اور ابھی تک تنخواہ نہیں ملی۔
پولیس نے موٹر سائیکل میں چھپائی گئی رقم اور موبائل فونزبرآمد کیے اور مقدمہ درج کر لیا۔
جرنیلوں کا سیاسی میرٹ خود اذیت ناک حد تک selective ہے۔ یحییٰ خان کا پروجیکٹ "جنرل رانی" کی سرپرستی اس کی تیسری نسل تک جاری ہے جبکہ عوامی فلاحی والا مشرف کا بلدیاتی پروجیکٹ کوڑے دان کی زینت بنا ہوا ہے۔
Ahmed Omair retweeted
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں افسوسناک، تشویشناک صورتحال
لاہور کے سرکاری تھلییسمیا سینٹر میں 4 ماہ سے ادویات دستیاب نہ ہونے کا انکشاف، اب تک 7 بچوں کی جانیں جا چکی ہیں۔
Ahmed Omair retweeted
یہ جو بتایا جا رہا ہے کہ پیٹرول ریفائنری والے روزانہ ستر روپے لیٹر پیٹرول فالتو لے رہے تھے پاکستان میں روزانہ 21,583 میٹرک ٹن پیٹرول فروخت ہوتا ہے اس کا مطلب ہے ستر روپے کے حساب سے یہ روز کا دو ارب بنتا اورمہینہ کا ساٹھ ارب بنتا اتنی بڑی رقم کس کی جیب میںُ جا رہے تھے ؟
Ahmed Omair retweeted
Netanyahu, in desperation to stay in power, begs for a national unity government but the genocidal maniac is mostly responsible for not only dividing Israel but making it an international pariah!
Ahmed Omair retweeted
The World Bank has downgraded the implementation progress of its USD 100 million public sector reform programme in Sindh to “moderately satisfactory”.
1/2
brecorder.com/news/40447963/…
Ahmed Omair retweeted
سالک نے مریم حکومت پر کرپشن کے الزامات لگائےاس کے پیچھے محسن نقوی بطور بھائی موجود ہے سونے پر سہاگہ چند ہفتے قبل محسن نقوی کا پیٹی بھائی واوڈا کا شہباز کو 6 ماہ نوٹس ٹھیک ہو جاؤ ورنہ چھٹی یہ سب بحران آدم میڈ، کُُھرا پکڑیں تو نقش پا یعنی ڈانڈے ایک ہی جگہ جا کر ملیں گے - بقلم نیازی
Ahmed Omair retweeted
BREAKING: Israeli President Herzog has announced that he will task Yashar party leader Gadi Eisenkot with forming a new government.
Eisenkot will formally receive the mandate on November 8 at 5 p.m. and have 28 days to form a government, with a possible 14-day extension.
Ahmed Omair retweeted
امریکہ کے قدم سے قدم ملاتے، جوتے چاٹتے ، کافروں سے مل کر مسلمانوں کا قتل کرتے کیا دہشت گردی ختم ہوگئی ؟ کیا معیشت سنبھل گئی ، کاروبار چمک گئے , بے روزگاری دور ہوگئی؟ بھوک مٹ گئی ؟ کیا آج پاکستان پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گیا؟
جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز
اقتباس ؛ #یہ_خاموشی_کہاں_تک
جماعت کی قیادت کی تشخیصِ بیماری تو درست ہے مگر تجویزِ علاج میں وہی پرانی قباحت موجود ہے، گزشتہ طریقہ علاج دہرانا -پرانے نتائج ہی حاصل کرنا ہے۔نعیم الرحمٰن صاحب کے ’سیاسی پلیٹ فارم‘ کے ساتھ ساتھ لیاقت بلوچ صاحب کا ’ختم نبوت پلیٹ فارم‘ بھی ضروری ہے، جس سے کہا
+
گیا تھا:
"مولانا فضل الرحمٰن سے میرا تعلق گزشتہ 55 سال سے ہے۔ میں نے اس شخص کو مخلص پایا ہے۔ اللہ کے دین کا مجاہد پایا ہے۔ تم یہ ناں سمجھو وہ تنہا نہیں ہم اس کے دست و بازو ہیں۔۔۔"
#ماخوذ
Ahmed Omair retweeted
مری قبیلے کی انتہائی بااثر شخصیت جسٹس محمد نواز مری کو 7 جنوری سن 2000 ہزار جمعے کے روز قتل کیا گیا ۔ ان کے بھتیجے شاہ جمال مری نے نواب خیر بخش مری اور اس کے پانچ بیٹوں کو نامزد کیا ۔ 12 جنوری کو نواب خیر بخش مری کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اسی روز بالاچ مری کو الہام ہوا کہ وہ ناراض بلوچ ہیں اور بلوچوں کو حقوق میسر نہیں ہیں اس لئے انہوں نے ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھالئے ۔
نواز مری کا تعلق مری قبیلے کی بجارانی شاخ سے تھا ان کا نواب خیر بخش مری سے پرانا تنازعہ تھا ۔ دراصل دسمبر 1991 میں بجارانی مریوں نے نواب خیر بخش مری کی قبائلی قیادت کو چیلنج کیا۔ بجارانی عمائدین نے ایک جرگے کے بعد حکومت کو اپنے علاقوں میں تیل کی تلاش کی دعوت دی، جبکہ خیر بخش مری اس کے سخت مخالف تھے۔ اس سے دونوں شاخوں کے درمیان زمین، سرداری کے اختیارات اور قدرتی وسائل پر تنازع مزید بڑھا۔
جسٹس نواز مری بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر جج تھے۔ ان کے بڑے بھائی جسٹس خدا بخش مری بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور بلوچستان کے گورنر رہ چکے تھے، جبکہ چھوٹے بھائی میر محبت خان مری صوبائی وزیر تھے۔
جسٹس نواز مری کی بطور چیف جسٹس بلوچستان تقرری ہوچکی تھی اور افتخار چوہدری کی فروری میں مدت پوری ہونے پر انہوں نے حلف اٹھانا تھا ۔ لیکن 7 جنوری 2000، جمعہ کے روز، صبح تقریباً دس بجے کوئٹہ کی زرغون روڈ پر سینٹ فرانسس گرامر اسکول کے قریب نامعلوم نقاب پوش حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ان کے جسم پر چار گولیاں لگیں۔
ان کے قتل کیس میں خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادوں بالاچ مری، حیربیار مری اور گزین مری کے نام بھی واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔
پولیس نے نواب خیر بخش مری کو 12 جنوری 2000 کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا۔ 13 جنوری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے پر ان کا دس روزہ پولیس ریمانڈ منظور ہوا۔ اپریل 2000 میں بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی کیونکہ اس مرحلے پر استغاثہ کے الزامات کو سنجیدہ سمجھا گیا تھا۔
خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد نام نہاد بلوچستان لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے دوبارہ منظرعام پر آئی اور اس نے بم دھماکوں، تخریب کاری اور راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنا شروع کی۔ اور اس کا سرخیل تھا بالاچ مری ۔
جنوری 2000 کی گرفتاری کے بعد نواب خیر بخش مری تقریباً اٹھارہ ماہ قید رہے اور جولائی 2001 میں ضمانت پر رہا ہوئے۔
یہاں تک کہ بالاچ مری سے مزاکرات ہوئے ۔ نرمی دکھائی گئی ۔ اس کو بلوچستان اسمبلی کا رکن تک بنادیا گیا ۔ لیکن بالاچ مری نے جب حلف اٹھایا تو اس نے پاکستان کے آئین کی وفاداری کا حلف لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ بلوچ وطن کا وفادار رہے گا ۔
حلف اٹھانے کے اگلے روز بالاچ مری نے ایک بار پھر پہاڑوں کا رُخ کرلیا ۔
Ahmed Omair retweeted
یہ اچھی بات کی ہے خالد صاحب نے،اس سے بڑھ کر صورتحال یہ ھیکہ سفید پوش طبقہ پس گیا ہے نہ مانگ سکتا ہے نہ کسی کو حال دل سنا سکتا ہے ، تمام فلاحی اداروں کو سفید پوش لوگوں کے بچوں کی فیسوں میں کھانے میں یوٹیلیٹز اور گھروں کے کرایوں کی مد میں مدد کرنے کا ایمرجنسی پلان بنانا چاھیئے
























